قارئین کرام !بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 14 اگست 1947کو بطور گورنر جنرل پاکستان قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں امن و امان قائم کرنا ریاست کی پہلی اور اوّلین ذمہ داری قرار دیا تھا۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ایک ایسے موقع پر جبکہ افواج پاکستان دہشت گردی اور پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کیلئے مشرقی و مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں اور بھارتی جارحیت کے خلاف مصروف عمل ہیں تو موجودہ حکومت جو ملک میں نااہلیت کو اہلیت کے کالے قانون کے ذریعے بدلنے کیلئے تو متحرک رہی ہے لیکن ختم نبوت کے مسلمہ قانون کو چھیڑنے سے گریز نہیں کرتی ہے جس کے سبب تقریباً بیس روز قبل ناموسِ رسول کے متوالوں نے ختم نبوت کے حلف نامے کو غیر ضروری طور پر تبدیل کرنے پر راولپنڈی/ اسلام آباد کے جنکشن فیض آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ختم نبوت کے قانون کی ہرزہ سرائی کے مرتکب وزیر قانون کو برطرف کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے اصل مسئلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے راجہ ظفر الحق کمیٹی کے ذریعے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش تو کی کہ اِس گناہ میں واحد وزیر قانون ہی ملوث نہیں ہے بلکہ یہ غلطی 34 رکنی ٹیم سے سرزد ہوئی ہے۔ حیرت ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہی پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے چند ارکان نے اِسے جھوٹ قرار دیتے ہوئے اِس رپورٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے تو ذاتی وضاحت پر کہا کہ کمیٹی میں جو باتیں زیر بحث آتی تھیں منٹس میں اُس سے مختلف ہوتی تھیں جبکہ ذاتی وضاحت پر تحریک انصاف کے رکن نے کہا کہ آج مجھے اِس ہاؤس میں بیٹھ کر شرم محسوس ہو رہی ہے جہاں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔
حیرت ہے کہ فیض آباد دھرنے کے معاملات میں وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے فیض آباد دھرنے کے معاملات کو وفاقی اور پنجاب حکومت کی بنیادی ذمہ داری کے تحت سیاسی طور پر حل کرنے کے بجائے گفت و شنید کے ایک طویل دورانیہ میں ڈال دھرنے کی فکر کو ملک کے طول و ارض تک پھیلادیا ہے اور جب امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے 25 نومبر کو طاقت کے استعمال کے ذریعے دھرنے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو وفاقی حکومت نے میڈیا ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دھرنے پر پولیس ایکشن کی ذمہ داری عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے احکامات پر ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے کے حوالے سے حکومتی نااہلی کو دیکھتے یہ احکامات بھی صادر کئے تھے کہ دھرنے کو بخیر و خوبی کسی متبادل جگہ پر منتقل کیا جائے تاکہ عوامی مشکلات کو ختم کیا جا سکے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ دھرنے کے خلاف تشدد کی پالیسی اختیار کی گئی تو دھرنے میں شامل ختم نبوت کے متوالوں نے بھی پولیس کے خلاف جوابی تشدد کا حربہ استعمال کیاجس کے نتیجے میں نہ صرف دھرنے کے متوالوں بلکہ پولیس اہلکاروں کو بھی غیر ضروری جسمانی اور روحانی نقصانات کو برداشت کرنا پڑا حتیٰ کہ اِس پولیس آپریشن کے نتیجے میں ختم نبوت کی تحریک کا دائرہ اب ملک کے دیگر شہری علاقوں بشمول کراچی ، لاہور اور راولپنڈی پھیل گیا ہے جس میں آئندہ چند روز میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے جبکہ دھرنے کے مطالبات محض وزیر قانون کے مستعفی ہونے تک آ گئے تھے۔ چنانچہ دھرنے کے منظر نامے میں تشدد کا عمل داخل ہونے کے باعث حکومت کی طرف سے یہ عندیہ بھی دیا جا رہا ہے کہ اِس تحریک کو کچلنے کیلئے فوج کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ خدارا، فوج کو حکومتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ فوج پہلے ہی دہشت گردوں اور سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف متحرک ہے ۔ چنانچہ امن و مان قائم کرنے کیلئے فوج اور عدلیہ کو سیاسی موشگافیوں میں اُلجھانے سے پرہیز کرتے ہوئے ختم نبوت کے حلف نامے سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے افراد کے خلاف ایکشن لیا جانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں کافی وقت ضائع ہو چکا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کا پرچار کرنے والے پاکستان کی سلامتی کے دشمن بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی موجودگی میں جسے میاں نواز شریف نے اپنی خصوصی دوستی کے زمرے میں رکھا ہوا ہے ملکی سلامتی کی فکر کرنے کے بجائے حکومت ناقابل فہم پالیسی اپنائے ہوئے ہے ۔ کیا درج بالا حساس منظر نامے میں موجودہ صورتحال کو ہماری کرپشن آلود اور کالے قانون کی بیساکھیوں پر کھڑی سیاسی لیڈرشپ کی نااہلی سمجھا جائے جہاں اقتدار کی فصیلوں پر دو وزیراعظم ایک قانونی جنہیں قومی اسمبلی نے منتخب کیا لیکن یہ قانونی وزیراعظم اور اِن کی کابینہ کے بیشتر وزرأ ابھی تک میاں نواز شریف کو ہی حقیقی وزیراعظم کہنے پر مُصر ہیں جن کی نااہلیت کو کالے قانون کے ذریعے پارٹی صدارت کی اہلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صد افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت تواتر سے تاریخ کو بھلا دینے کی عادی ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ہمارے سیاسی رہنما اقتدار کے اونچے منصبوں پر بیٹھ کر” طاقت کے سرچشمہ عوام” کو ہی نہیں بلکہ ریاست کے اسلامی اور قومی سلامتی کے مفادات کو بھی بھول جاتے ہیں اور پھر اُنہیں اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنے ذاتی مفادات کی ناک سے آگے کچھ نظر نہیں آتا ہے ۔ حیرت ہے کہ تاریخ سے سبق لینے اور یہ سمجھے بغیر کہ ایسی بے حکمت لیڈرشپ عوام کی سادگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قوم کو جب سیاسی موشگافیوں کے چوہے دان میں قید کرکے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے سیاسی کارڈ کھیلنا شروع کر دیتی ہے تو پانی سر سے گزر ہی جاتا ہے۔ ماضی میں ایک صاحب صدر نے بھارت سے 1966 کے اعلانِ تاشقند پر ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن چند برس کے اندر ہی بھارت نے اگرتلہ سازش کے تحت مشرقی پاکستان میں اندرونی تخریب کاری کی تو ملک ہی دولخت ہوگیا۔اِسی طرح ایک سابق صدر نے بش و بلیئر کی ہمرکابی میں اپنی حکمرانی کو مضبوط کرنے کیلئے ریاستی اسٹیٹ کرافٹس کو پس پشت ڈالتے ہوئے زبانی فیصلوں پر ہی ملکی اقتدار اعلیٰ امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جراٗت انکار پر وکلاء تحریک نے عوامی آگہی کو مہمیز دی لیکن اِس مرحلے پر بھی نواز شریف پارٹی نے اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہونے کیلئے محض کالی پٹیاں باندھ کر اُسی عطار کے صاحبزادے کے ہاتھوں حلف لینے سے گریز نہیں کیا۔البتہ صدر مشرف کو بالاآخر جسٹس چوہدری کی جرأت انکار اور وکلأ کی تحریک کے باعث ہی اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ۔
اِس اَمر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خطے میں انسداد دہشت گردی کی جنگ تو نان نیٹو اتحادی کے طور پر پاکستان لڑتا رہا ہے جبکہ بھارت اِس مرتبہ روس نہیں بلکہ امریکہ کا دفاعی ، جوہری اور سیکیورٹی اتحادی بن گیا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو القاعدہ اور دہشت گردی میں ملوث چند طالبان گروپوں کے خلاف لڑی جا رہی تھی لیکن حکمرانوں کی بے حکمتی کے باعث بھارت امریکہ نیٹو اتحاد نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر اِس جنگ کے دائرے کو پاکستان کے طول و ار ض میں پھیلا دیا ہے چنانچہ بھارتی تربیت یافتہ طالبان درانداز اور دہشت گردوں سے ڈیورنڈ لائین پر موجود پاکستانی سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کرائے جا رہے ہیں جس کا دائرہ ایک مرتبہ پھر شہروں تک پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ مشرقی بارڈر پر کشمیر کنٹرول لائین اور ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ حملے کئے جا رہے ہیں گئے۔ کیا حکومت نہیں جانتی کہ دہشت گردی اور بھارتی جارحیت کے خلاف موثر دفاع کو ممکن بنانے کیلئے بیشمار فوجی اور پولیس افسران اور جوان پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے جبکہ نواز شریف قیادت اپنی حاشیہ نشینوں کے ہمراہ عدلیہ اور فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈے میں مصروف ہیں ۔ اندریں حالات ، وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت اور میاں نواز شریف کے حاشیہ بردار فوج اور عدلیہ کو اپنی سیاسی موشگافیوں میں اُلجھانے کے بجائے قومی یکجہتی کو ممکن بنانے کیلئے ختم نبوت کے حلف نامہ کی توہین کے مرتکب افراد کو اپنی صفحوں سے نکال باہر کریں تاکہ عوام کو ذہنی اذیت سے باہر نکالا جا سکے۔

24
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...