قارئین کرام ! گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ تخریب کاری، دہشت گردی اور سبو تاژ کی کاروائیوں میں غیر معمولی اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ چنانچہ ، اِس صورتحال کو مہمیز دینے کیلئے یورپی ممالک اور برطانیہ میں آباد کچھ نامطمئن پاکستانی نژاد بلوچ حلقوں نے بھارتی سفارتی مشن کی پس پردہ سپورٹ سے بیرون ملک بھارتی ایجنسیوں سے منسلک بھارتی ہندو کمیونٹی جن میں بل خصوص سنگھ پریوار کی انتہا پسند ہندو نظیموں، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS)، بجرنگ دل (ہندو یونٹی)، شیو سینا اور ویشوا ہندو پریشد (World Hindu Organization) کے شدت پسند حامی شامل ہیں کی معاونت سے گزشتہ دنوں نام نہاد بلوچ لبریشن فرنٹ کے حوالے سے اشتہاری مہم جوئی کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو مہمیز دینے کی کوشش کی جس کا وزارت خارجہ کے افسران نے فوری نوٹس لیتے ہوئے میزبان حکومتوں سے احتجاج کیا اور یہ مہم جوئی ناکامی سے دوچار ہوئی ۔ مقتدر بیرونی میڈیا ذرائع کیمطابق اِس مہم جوئی کی ناکامی کے بعد چند بلوچ ناراض گروپس بھارتی اور اسرائیلی لابی سے مل کریورپ ، برطانیہ اور نارتھ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہروں کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ ایک جانب تو گریٹر بلوچستان موومنٹ اور بگتی ،مری ، مینگل قبائل سے تعلق رکھنے والے کچھ شدت پسند نوجوانوں جن کی حمایت میں کچھ بھارتی نژاد ہندو شدت پسند تنظیموں کے مسلح رضاکار شامل ہیں اور جنہیں مبینہ طور پر بھارتی ایجنسیوں کی حمایت سے مکتی باہنی کی طرز پر ” چکراتہ دیرہ دون کمانڈو پوسٹ″ میں مسلح تخریب کاری کی تربیت دی گئی ہے بلوچستان میں گیس و بجلی کی سپلائی لائین کو نشانہ بنانے کے علاوہ بلوچستان میں لسانی اور فرقہ وارانہ خلفشار کو ہوا دینے کیلئے بے گناہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اِسی حوالے سے چند روز قبل تربت کے مضافات میں 15 پنجابی نوجوانوں کو گاڑی سے اُتار کر قتل کیا گیا ہے جبکہ مزید پانچ افراد کے قتل کی اطلاع مورخہ 18.11.17 کو سامنے آئی ہے۔ دریں اثنا، کوئٹہ میں دہشت گردی کی ایک المناک واردات میں ایس پی محمد الیاس کو فیملی کیساتھ قتل کر دیا گیا ہے۔
درحقیقت بھارتی ایجنسیاں پاکستان چین تجارتی سی پیک منصوبے سے شاکی ہیں جبکہ اسرائیلی ایجنسیاں ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل کیلئے سم قاتل سمجھتی ہیں اور ایران میں گریٹر بلوچستان تحریک کو مہمیز دینے میں پیش پیش ہیں۔ اسرائیلی ایجنسیوں کیلئے پاکستانی جوہری پروگرام بھی قابل قبول نہیں ہے اور وہ بھارتی ایجنسیوں کیساتھ مل کر نہ صرف پاکستان کے جوہری پروگرام پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے میں مبینہ طور پر بھارتی ایجنسیوں کی در پردہ حمایت کر رہے ہیں ۔ دریں اثنا ، بھارتی ایجنسیاں (RAW/CIB/BSF) ذرائع ابلاغ میں ڈبل ایجنٹوں کی مدد سے یونیورسٹیوں اور ہائر ایجوکیشن اداروں میں بلوچ نوجوانوں کو مقتدر پاکستانی اداروں سے غیر مطمئن کرنے کیلئے سی آئی اے کی حمایت سے درج ذیل موضوعاتی پروپیگنڈے کو مہمیز دے رہی ہے: ” گوادر سی پیک میگا منصوبے میں چین کی شرکت بلوچ نوجوانوں کی موجودہ بغاوت (نام نہاد) کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ پاکستان آرمی چین کیساتھ مل کر بلوچوں کو غلام بنانے کے عمل میں شریک ہے”۔ حیرت ہے کہ بلوچستان میں تخریب کاری پھیلانے کیلئے بھارتی روپے اور امریلی ڈالر کی بارش کی جا رہی ہے جبکہ بلوچستان کے تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے بھارتی تھنک ٹینکس اور سیاسی رہنماؤں کا نفس مضمون بھی یہی ہے : کہ ” تقسیم ہند کے وقت (1947 ) میں بھی بلوچوں نے مہاتما گاندہی ، نہرواور کانگریس کا ساتھ دیا تھا(قطعی غلط ہے) لیکن 1948 میں خان آف قلات سے پاکستان میں شمولت کی دستاویز پر زبردستی دستخط کرائے گئے تھے اور اختلاف رائے رکھنے والی شخصیتوں کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا (قطعی غلط ہے)۔ یہی سخت گیر رویہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں فوجی ایکشن کیساتھ (1974) میں بلوچوں کیساتھ روا رکھا گیا چنانچہ بھارت بلوچوں کے قتل عام پر کس طرح خاموش رہ سکتا ہے۔ مصلحتیں اپنی جگہ لیکن بھارت کو بلوچوں کی حالت زار پر بین الاقوامی کمیونٹی کی توجہ دلانے کیلئے بھرپور کوششیں کرنی چاہیئے کیونکہ آزاد بلوچستان تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے(قطعی غلط)” ۔ بھارتی تھنک ٹینک ساؤتھ ایشین ریسرچ کی ایک دستاویز کیمطابق پاکستان مخالف بلوچ نوجوانوں کی نفسیاتی تربیت سیکولر بنیادوں پر کی گئی ہے جو بلوچستان میں پنے اہداف کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔بیرونی ممالک میں مقیم بھارتی نژاد ہندو انتہا پسندوں کی ایما پر ہی نارتھ امریکہ میں مقیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے اہم رہنما ڈاکٹر واحد بخش بلوچ نے چند برس قبل سنگھ پریوار کی انتہا پسند ہندو تنظیموں کو ایک خط میں لکھا تھا جس کی کاپی امریکی صدر، اسرائیلی اور بھارتی وزیراعظم کو بھی ارسال کی گئی تھی جس میں وہ کہتے ہیں : ” ہم نے پاکستانی فوج کے (نام نہاد) ظلم و ستم سے نجات کیلئے خدا سے بھی مدد مانگی تھی لیکن یہ خدا جسے وہ اللہ کہتے ہیں بھی (نعوزباللہ) پنجابی فوج سے مل گیا ہے۔ اب بلوچوں کا وہی خدا ہوگا جو اُنہیں پاکستانی فوج سے آزادی دلائے چاہے وہ ہندوؤں کا شیو خدا ہو ، یا حضرت عیسیٰ ہوں یا حضرت موسیٰ ہوں ، وہی ہمارا خدا ہوگا” ۔ کسی بلوچ مسلمان کا ایسا کہنا ناقابل یقین ہے کیونکہ بلوچ کسی اور صوبے کے مسلمان سے ادنیٰ نہیں ہیں البتہ بھارتی ایجنسی را کے کل بھشن یادیو جیسے بھارتی دہشت گرد ایجنٹ ہینڈلر بظاہر بلوچ نوجوانوں کو آزادی کا لالچ دیکر پیسے کے زور پر اُنہیں نفسیاتی طور پر اسلام سے برگشتہ کرکے اپنے ناپاک مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں ۔ چنانچہ بلوچستان کے سیاسی حقائق اِس اَمر کی ہی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان فوج بلوچستان میں نہ صرف پاکستان سے شاکی نوجوانوں کو پاکستانی بلوچ معاشرے میں بحال کرنے میں متحرک بلکہ متعدد بلوچ نوجوانوں کو پاکستان فوج کے علاوہ مقتدر قومی اداروں میں بھی بھرتی کیا گیا ہے۔ سی پیک منصوبے میں بیشتر بلوچ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں اور تربیت کیلئے باہر بھی بھیجا جا رہا ہے چنانچہ حالات کی آگہی سے یہی احساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں میں بلوچ نوجوانوں کا مستقبل روشن ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ بھارت جو افغان جہاد سے قبل سابق سوویت یونین کی حمایت میں روسی افواج کی افغانستان آمد کے بعد روسی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہا لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے پر بل خصوص نائین الیون کے بعد سیاسی چولہ بدل کر خطے میں امریکا کا دفاعی و سکیورٹی اتحادی بن گیا اور پاکستانی سیاسی رہنماؤں کی بے حسی اور ذاتی اغراض و کرپشن کو فوقیت دئیے جانے کے سبب بھارت امریکا و یورپی اتحادیوں کو خطے میں امن کے حوالے سے اِس اَمر پر قائل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگیا کہ کشمیر میں بھارتی ناانصافیوں اور بھارتی فوج کے ظلم و ستم کی وجہ سے امن کو کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ افغان جہاد کے بعد پاکستانی فوج کی جانب سے جہادی عناصر کی مبینہ سرپرستی اور کشمیر میں دہشت گردوں کی نام نہاد دراندازی کے باعث امن کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ چنانچہ بھارت چالاکی کیساتھ کشمیر میں نہ تو بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ختم کرنے پر تیار ہے اور نہ ہی بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے تیار ہے بلکہ کشمیر کنٹرول لائین اور ورکنگ باؤنڈری پر ایک تسلسل کیساتھ فائر بندی کی روزمرہ خلاف ورزی کرنے میں مصروف ہے جبکہ پاکستان میں تین مرتبہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے والے میاں نواز شریف اپنی تینوں حکومتوں میں ہی خطے میں پاکستان فوج کی پوزیشن مستحکم بنانے اور سویلین حکومت کے فوج سے تعلقات بہتر کرنے کے بجائے اکھنڈ بھارت کے داعی بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سے تو ذاتی دوستی قائم کرنے میں کامیاب رہے لیکن اندورن ملک قومی یکجہتی قائم کرنے اور پاکستان کو خطے کی قوت بنانے کے بجائے بظاہر بیرونی اثرات کے تحت فوج کو ہی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔ اِسی دوران پاناما پیپرز کیس کے بین الاقوامی میڈیا میں انکشاف ہونے پر میاں نواز شریف عدالت عظمیٰ کو دیانت امانت اور اخلاقی اقدار کی سربلندی کا مظاہر کرنے میں ناکام رہے چنانچہ گزشتہ ماہ وزارت عظمیٰ کے منصب کیلئے نا اہل قرار دے دئیے گئے۔
قارئین کرام ! دنیا بھر میں جمہوری ملک اپنی سلامتی کو مستحکم بنانے کیلئے نہ صرف فوجی قیادت کی مشاورت سے دفاعی وسائل کو مضبوط تر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ قومی سلامتی کے معاملات میں پارلیمنٹ کو بھی گاہے بگاہے اعتماد میں لیتے رہتے ہیں اور دفاعی تھنک ٹینکس کی رائے کو قومی پالیسی کے طور پر اُجاگر کرتے ہیں ۔ چنانچہ اِسی نوعیت کی قومی پالیسی کی بنیاد بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد رکھ دی تھی جب اُنہوں نے کراچی میں 23 جنوری 1948 کو پاکستان نیوی کی ایک تقریب میں وضاحت سے کہا تھا کہ ” اِس دنیا میں کمزور اور دفاعی قوت سے محروم قومیں دوسروں کو جارحیت کی دعوت دیتی ہیں لہذا قیام امن کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو یہ سمجھتے ہیں (بھارت) کہ ہم کمزور ہیں اور ہمیں ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے ، اُن کے ذہنوں سے یہ خوش فہمی نکال دیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مضبوط و طاقتور ہوں” ۔ اِسی طرح قائداعظم نے 13 اپریل 1948 میں پاکستان آرمڈ کور نوشہرہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” فوج کے جذبہ رفاقت کو فراموش نہ کیجئے، اپنی فوج پر ناز اور اپنے وطن پاکستان سے لگن لازم ہے ۔ پاکستان آپ پر انحصار کرتا ہے اور ملک کے محافظ کی حیثیت سے آپ کی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتا ہے” ۔ البتہ بانیِ پاکستان کی قومی دفاعی پالیسی کے برخلاف تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے باوجود میاں محمد نواز شریف نے بھارت کے خلاف کسی مربوط دفاعی پالیسی اختیار کرنے کا خیال نہیں رکھا چنانچہ بھارتی ریاستی ادارے اِس اَمر پر حیرت زدہ ہوگئے جب سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے پاکستان فوج کی قیادت پر اعتماد سے عاری خیالات کا اظہار کیا اور کچھ اِسی نوعیت کی گفتگو اُنہوں نے سابق صدر بل کلنٹن سے دورہ امریکا کے دوران کی جس کا منفی تاثر لیتے ہوئے بل کلنٹن نے اپنی کتاب ،مائی لائف، میں لکھا ہے “After the meeting, I thought perhaps Sharif had come (on US visit) in order to use pressure from United States to provide himself cover for ordering his military to defuse the conflict (with India). I knew he was on shaky grounds at home”. ۔ دریں اثنا ، سابق وزیراعظم نواز شریف جنہیں آج بھی نیب عدالت میں کرپشن مقدمات کا سامنا ہے، کیا بھارت میں اپنی فیملی کے تجارتی مفادات اور لندن میں اپنی فیملی کی آف شور کمپنیوں میں تحفظ کیلئے اقتدار کی غلام گردشوں میں متحرک رہنا چاہتے ہیں ؟ کیونکہ قومی اسمبلی میں پارٹی اکثریت کے بل بوتے پر وہ وزیراعظم کے طور پر نااہلیت کو اہلیت میں تبدیل کر کے خلافِ آئین پارٹی صدارت پر براجمان ہوگئے ہیں ۔جناب نواز شریف کی متنازع بھارت دوستی کے سبب اُن کی سیاسی پوزیشن اور بھی زیادہ متنازع ہو جاتی ہے جب وہ بلوچستان ، فاٹا ، کراچی اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ تحریک طالبان پاکستان، TTP، کی دہشت گردی اور بلوچستان سے گرفتار کئے جانے والے تخریب کاری میں ملوث سنیئر بھارتی ایجنٹ ہینڈلر کل بھشن یادیو کا کسی بین الاقوامی فورم پر تذکرہ کرنے سے پرہیز کرتے ہی نظر آتے رہے جبکہ بھارت ہر دہشت گردی کا الزام پاکستانی اداروں پر کھلم کھلا لگاتا رہا ۔
حیرت ہے کہ میاں نواز شریف نے نریندرا مودی سے دوستی کی خاطر بانیِ پاکستان کی دو قومی نظریہ کی پالیسی سے انحراف کرنے سے بھی گریز نہیں کیاجس کا تذکرہ اُس وقت بھی سامنے آیا جب سابق وزیراعظم نے بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال سے اپنی صاحبزادی کے سمدھی اور اپنے صاحبزادے حسین نواز شریف کی دوستی کے پس منظر میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے بعد نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں کشمیری سیاسی رہنماؤں سے شیڈول ملاقات کرنے کے بجائے سجن جندال کی رہائش گاہ پر چائے کی دعوت میں شرکت کو ترجیح دی اور پھر پاکستان واپسی پر 2 جون 2014 کو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے نام ایک خط میں اپنے آپ کو بھارتی اکھنڈ بھارت کی فکر کیساتھ منسلک کرتے ہوئے یہ لکھنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ ” دونوں ممالک میں غربت و افلاس میں رہنے والے لاکھوں لوگ ہماری توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ اُن کا مستقبل ہماری مشترکہ تقدیر سے وابستہ ہے” ۔بھارت کیساتھ مشترکہ تقدیر کا تذکرہ قیام پاکستان سے متعلق جناح و اقبال کی فکر سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ بھارت ہمیشہ اقتصادی طور پر پاکستان کو معذور کرکے بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کے حوالے سے قیام پاکستان کے پہلے دن سے ہی متحرک ہے۔ 14 اگست 1948 کو قوم کے نام ایک پیغام میں قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ” ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ حوصلہ و عزم کیساتھ کیا کیونکہ اِس نوزائیدہ مملکت کو پیدا ہوتے ہی گلا گھوٹنے کی ناکام کوشش کی گئی ،ہمارے دشمنوں کو اُمید تھی کہ اُنکی دلی منشا اقتصادی چالبازیوں سے پوری ہو جائیگی ، پاکستان دیوالیہ ہو جائیگا اور دشمن کی شمشیر و آتش جو مقصد حاصل نہ کرسکی وہ اِس مملکت کی مالی تباہی سے حاصل ہو جائیگی لیکن ہماری برائی چاہنے والوں کی پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں ” ۔
بہرحال بانیان پاکستان کی فکر کی روشنی میں ہمارے عوام کا مستقبل کسی طور بھی بھارت کیساتھ مشترکہ تقدیر سے وابستہ نہیں ہے۔ کیا نااہل وزیراعظم یہ سب باتیں محض اپنے تجارتی گروپ کے ذاتی مفادات کیلئے کرتے رہے ہیں اور کیا نااہل نواز شریف نے اِس پالیسی کا اعلان بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کی باہمی مشاورت سے کیا تھا کیونکہ سجن جندال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نریندرا مودی اور بھارتی سکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈوّل کے ذاتی دوست ہیں اور بھارتی انٹیلی جنس را کیلئے انٹیلی جنس لنک کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ سجن جندال کو نوازنے کیلئے سابق بھارتی حکومت نے بھارتی سرکاری اسٹیل کیساتھ افغانستان میں سابق صدر حامد کرزئی کی مدد سے افغان لوہے کے محفوظ ذخائر کے تین چوتھائی حصے کا کنٹریکٹ انتہائی کم قیمت پر دیا تھا جسے اب نریندرا مودی پاکستان میں اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کر رہے ہیں ۔ چنانچہ اِسی پس منظر میں میاں نواز شریف کی بھارتی وزیراعظم نریندر ا مودی سے دوستی اور نیپال میں سارک کانفرنس کے دوران خفیہ میٹینگ کرانے کا کریڈٹ بھی سجن جندال کو جاتا ہے کیونکہ نریندرا مودی نے کابل سے نئی دیلی جاتے ہوئے اچانک لاہور میں کچھ گھنٹوں کیلئے قیام کیا اور سجن جندال کی موجودگی میں نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کی۔ سجن جندال کی سابق وزیراعظم سے ذاتی دوستی اِس حد تک آگے بڑھ گئی کہ وہ نواز شریف کی نااہلیت سے چند ماہ قبل سپیشل طیارے میں اچانک اسلام آباد تشریف لائے جہاں سے اُنہیں بغیر کسی ویزے کے مری لے جایا گیا جہاں میاں صاحب نے اسلام آباد سے مری جا کر اُن سے ملاقات کی۔ صد افسوس کہ سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف نے اپنے گزشتہ چار سالہ دور میں بھارتی قیادت سے ذاتی دوستی تو قائم کی لیکن بلوچستان، فاٹا اور کراچی میں بھارت حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف کوئی لفظ نہیں کہا۔ وزیراعظم ہاؤس سے بھارتی ڈش انفارمیشن پر مبنی ڈان رپورٹ کے ذریعے افواج پاکستان کو بدنام کرنے کوشش بھی احسن اقدام نہیں تھا جبکہ افغان چیف ایکزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں TTP کی افغانستان میں موجودگی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے ۔ اگر یہ سب کچھ کافی نہیں ہے تو سابق وزیراعظم کو چند برس قبل جو کچھ TTP کے بارے میں ایک انڈین تھنک ٹینک (R. Prasannan) نے اپنے مقالے میں تحریر کیا ، پر ہی غور و فکر کر لینا چاہیے تھا: “In fact there are several leaders (in India) who openly state that the Tehrik-e-Taliban Pakistan, a conglomeration of lawless religious groups fighting the Pakistan Army in FATA, is actually being funded by the US and India”. ۔ اِسی حوالے سے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی انکشاف کیا ہے کہ سی آئی اے افغانستان میں داعش کو حساس اسلحہ اور فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ فیصلہ اب عوام خود ہی کریں کہ نااہل وزیراعظم کیونکر آف شور کمپنیوں کے ذریعے دولت کو بیرون ملک چھپاتے رہے ہیں اور کیا نریندرا مودی سے نواز شریف فیملی کی دوستی پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے کے مترادف نہیں تھی ۔

24
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...