قارئین کرام ! قومی دانشوروں کیلئے یہ اَمر انتہائی ناقابل فہم ہے کہ میاں محمد نواز شریف جنہیں بانیان پاکستان کی جماعت مسلم لیگ کا وارث کہلانے کا شرف حاصل ہے لیکن تین مرتبہ وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے کے باوجود غیر قانونی و غیر آئینی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث بل آخر عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے متفقہ طور پر وزیراعظم کے منصب کیلئے نااہل قرار دیئے گئے۔ اشرافیہ اور سول سوسائیٹی کیلئے یہ بات اور بھی زیادہ حیران کن ہے کہ نااہل وزیراعظم نواز شریف کے عدالت عظمیٰ کی جانب سے نا اہل ہو جانے کے بعد اُن کی جماعت نے انتہائی باریکی سے ایک ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے حکمران جماعت کا سربراہ بننے کا غیر آئینی راستہ کیونکر کھولا ہے جبکہ اِسی حوالے سے ایکٹ آف پالیمنٹ میں انتہائی باریکی سے ناموس رسول سے متعلقہ آئینی حلف نامے میں بھی بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کیلئے ترمیم کی گئی جسے شدید عوامی ردعمل کے سبب تاویلیں پیش کرنے کے بعد چند روز میں ہی بحال کر یا گیا لیکن اِس ٖغیر اسلامی اور آئینی سے ماورأ فعل میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کے بجائے اِن افراد کی تاحال پردہ پوشی کی جا رہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چنانچہ عوامی احتجاج جس نے وفاقی دارلحکومت میں احتجاجی دھرنے کی شکل اختیار کی، کے سبب ملک بھر میں بے یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔قومی اسمبلی سے یہ متنازع ایکٹ پاس کرائے جانے سے قبل سینٹ میں اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود جس باریکی سے یہ بل پاس کرایا گیا بھی ایک حیران کن اَمر تھا جسے بہرحال سینٹ نے اسکینڈل کے ظاہر ہونے پر وسیع تر اکثریت سے ناموس رسول کی حمایت میں اور نااہلیت کو اہلیت میں بدلنے کے خلاف قرارداد پاس کی ہے لیکن جب یہ قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی تھی تو اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومتی اکثریت نہ ہونے پر غیر جانبداری کا لبادہ اُتار کر اسمبلی کا جلاس ہی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا تھا۔
اندریں حالات، عوام حیران پریشان ہیں کہ شریف فیملی سے متعلقہ صوبائی اور ملکی سطح پر مالی معاملات میں بدعنوانی کے حوالے سے میڈیا میں یکے بعد دیگرے مزید اسکینڈل کیونکر سامنے آ رہے ہیں جبکہ اُن کے حاشیہ نشین اور میڈیا میں موجود اُن کے حاشیہ بردار دن رات اُن کے گُن گانے میں ہی مصروف رہتے ہیں ؟ گو کہ شریف فیملی نے اربوں روپوں کی دولت اور پراپرٹی بیرونی ممالک میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپائی ہوئی تھی جس میں مبینہ طور پر کرپشن سے ماورأ کچھ پراپرٹی کا تذکرہ پاناما پیپرز میں آنے کے بعد حکومتی دباؤ کے باوجود مستند شہادتوں کی موجودگی میں عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم نواز شریف کے قول و فعل میں تضاد کے سبب اُنہیں آئین کیمطابق نااہل قرار دینے سے گریز نہیں کیا۔عوام الناس کیلئے یہ اَمر بھی حیران کن ہے کہ ہر نام نہاد احتساب کے بعد جس کا شریف فیملی نقصانات کے حوالے سے بار بار تذکرہ کرتی رہتی ہے ، شریف فیملی کی دولت اور پراپرٹی میں غیر معمولی اضافہ ہی کیوں ہوتا رہا ہے ؟ بہرحال یہ بھی نظام خداوندی ہے اور ایک اُردو محاورے کیمطابق کسی نہ کسی دن اونٹ کو پہاڑ کے نیچے گزرنا ہی پڑتا ہے جب اُسے اپنی کم مائیگی کا بخوبی ادراک ہو جاتا ہے چنانچہ عوام الناس کے سامنے یہی تاثر پاناما کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دئیے جانے اور نیب کورٹ میں شریف فیملی کے مقدمات میں پیش ہونے کے حوالے سے سامنے آ رہا ہے۔ کرپشن و بدعنوانی کے حوالے سے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے بھی قرضوں کی ادائیگی متعلقہ بنک کو نہ کرنے پر اتفاق ٹیکسٹائل ملز کی پراپرٹی نیلام کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ حیرت ہے کہ شریف فیملی پاکستان میں دودھ پینے والے مجنوؤں کی طرح سرکاری دباؤ پر قرضے حاصل کرتی ہے اور پھر قرضوں کو شیر مادر سمجھتے ہوئے ہضم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اِس پر شریف فیملی کی نام نہاد بے گناہی پر اُن کے حاشیہ نشینوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کہ شریف فیملی کو نتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ناقابل فہم ہے؟ حیرت ہے کہ محترم شہباز شریف جو سابق صدر ایوب خان کے دستور پاکستان کے حوالے سے حبیب جالب کی نظم لہک لہک کر پڑھتے ہیں ، اُنہیں کبھی جوش ملیح آبادی کے اِن اشعار پر بھی کبھی غور و فکر کرنے کی ضرورت کا احساس نہیں ہوا۔۔۔۔
کیا اُن کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روحِ ملت کو
اک روز اِسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں
کیا اُن کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھے
اک روز اِسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریں
قارئین کرام ، درج بالا منظر نامے میں اِسی نوعیت کی صورتحال حدیبیہ پیپرز کیس کھلنے سے بھی سامنے آئی ہے جس کا دروازہ مبینہ طور پر ماضی میں شہباز شریف اور نواز شریف فیملی پر منی لانڈرننگ اور بنکوں سے غیر قانونی قرضوں کے حصول کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے سلطانی گواہ بننے پر سامنے آیا ہے یاد رہے کہ اسحاق ڈار نواز شریف کے سمدھی ہیں اور پہلے ہی شریف فیملی کی منی لانڈرننگ کے حوالے سے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان حلفی دے چکے ہیں جس سے ہٹنے کا مطلب بظاہر اب اُن کے ملزم بننے کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ گو کہ چند روز حدیبیہ کیس کی سماعت کے موقع پر جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حدیبیہ کیس کے تین رکنی بنچ سے یہ کہتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی تھی کہ وہ اِس کیس کو کھولنے کے حوالے سے پہلے ہی اپنی آبزرویشن اور نواز شریف کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حدیبیہ کیس میں ملزم بن جانے کے بارے میں فیصلہ 14 پیراگراف میں دے چکے ہیں لہذا اخلاقی طور پر اب اِس کیس کی سماعت کرنے سے قاصر ہیں۔جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بنچ سے علیحدگی پر گو کہ حدیبیہ پیپرز تین رکنی بنچ ٹوٹ گیا ہے لیکن مقدمہ اپنی جگہ موجود ہے کیونکہ بظاہر چیئرمین نیب نے اِس آبزرویشن کی موجودگی میں حدییہ پیپرز کرپشن کیس کو کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بہرحال یہ اَمر مزید حیران کن ہے کہ شریف فیملی کے حاشیہ نشین اور میڈیا میں موجود اُن کے حامی حدیبیہ کیس نہ کھولنے کے حوالے سے گفتگو کرتے وقت ملک میں سیاسی صورتحال کی بہتری کے حوالے سے صلح حدیبیہ کی ضرورت کا صیغہ استعمال کر رہے ہیں جو ناقابل فہم ہے۔ کیونکہ عدالت عظمیٰ عظیم پیغمبر اسلام کی منصفی کی عشرِ عشیر تو نہیں ہے لیکن آئین کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدل و انصاف کی داعی ضرور ہے جبکہ نہ تو تخت لاہور والے کفار مکہ ہیں اور نہ ہی اُن کی کرپشن اور منی لانڈرننگ کا صلح حدیبیہ کی ویژن سے کوئی تعلق ہے لہذا حدیبیہ پیپرز کیس کی آڑ میں شریف فیملی کے حاشیہ نشینوں کو صلح حدیبیہ کا تذکرہ کرنے سے گریز ہی کرنا چاہیے اور ملکی آئین و قانون کو موم کی ناک بنانے کے بجائے اپنا راستہ خود ہی متعین کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ سول سوسائیٹی اِس اَمر پر بھی فکر مند ہے کہ شریف فیملی یا اُس کے حواری جب آئین و قانون کی خلاف ورزی کے حوالے سے اپنی گردن پھنستے دیکھتے ہیں تو اُنہیں اسٹیٹس کو اور ڈیل کی سیاست یاد آ جاتی ہے اور بیرونی دوستوں کی حمایت سے سزائیں معاف کرا کر بیرون ملک پناہ حاصل کر لیتے ہیں ۔ چنانچہ اِسی عمل کو پھر سے دھرانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اب قوم جاگ رہی ہے اور ایسی کسی بھی غیر آئینی ڈیل کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ قوم واضح طور پر عدالت عظمیٰ کیساتھ کھڑی اور چاہتی ہے کہ پاکستان کو جناح و اقبال کی فکر کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی رفاعی ریاست بنایا جائے اور کرپشن و بدعنوانی کو پاکستان کی سرزمین سے آہنی ہاتھ سے اُکھاڑ پھینکا جائے۔ بہرحال شریف فیملی او ر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے حواریوں اور اسحاق ڈار کی مبینہ کرپشن و بدعنوانی اور ناقابل فہم معاشی پالیسی کے باعث پاکستان کو بیرونی قرضوں کے ایک ایسے جال میں پھانس دیا ہے جس سے ایک طویل مدت تک چھٹکارا مشکل ہوگا ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

42
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...