گوادر بلوچستان کا شہر اور پاکستان کی ایک اہم بندرگاہ تو ہے ہی لیکن اسکی بین الاقوامی اہمیت بھی کچھ کم نہیں بلکہ بہت زیادہ یوں ہے کہ ایک تو یہ تین اہم خطوں یعنی وسط ایشیا، مشرقی وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اورساتھ ہی دنیا کے دو تہائی تیل کے علاقے سے بھی قریب ترین ہے ۔ ایشیا میں اس طرح کی بندرگاہ اس لیے بھی اہم ہو جاتی ہے کہ بہت بڑا براعظم ہونے کی وجہ سے اس میں لینڈ لاکڈ ممالک کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔کیسپین کے ارد گرد واقع ریاستیں بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں ۔چین کے اندر ہی کا شغر کا فاصلہ شنگھائی کی بندرگاہ سے 4500 کلومیٹر ہے لیکن یہی فاصلہ گوادر سے 2800 کلومیٹر ہے جو اس بندرگاہ کو مزید اہم بنا دیتی ہے اس طرح یہ بندرگاہ ان علاقوں اور ملکوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی اہل ہے۔ گہرے پانی کی اس بندرگاہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہی پاکستانی نے اسے تعمیر کرنے اور اسے ترقی دینے کا فیصلہ کیااگرچہ اس کی نشاندہی 1954 میں ہی ہو گئی تھی اور جب1958میں پاکستان نے اسے مسقط سے خریدا تو تب سے ہی یہاں مچھلی بندر اور چھوٹی بندر گاہ کام کر رہی تھیں تاہم اس پر باقاعدہ وسیع پیمانے پر کام2007میں شروع ہوا۔یہ بندر گاہ 2012تک پورٹ آف سنگاپورکے پاس رہی تاہم اس کی غیر تسلی بخش کار کر دگی کے باعث اسے اس کمپنی سے لے کر2013میں چین کی اورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کو دے دیا گیا جس نے کام کی رفتار کو تیز کیا۔ جب سے یہ عمل شروع ہوا بھارت بھی انتہائی متحرک ہوگیا یہ بندرگاہ تجارتی اور دفاعی دونوں لحاظ سے اہم ہے اس کی تجارتی اہمیت کم کرنے کے لیے ہی بھارت نے اس کے مقابلے میں ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کوتعمیر کرنے اور اسے ترقی دینے کی مہم کا آغاز کیا یہ ایک چھوٹی سی غیر اہم بندرگاہ تھی لیکن گوادر پر کام شروع ہونے کے بعد بھارت نے ایران کو اس کی تعمیر کے لیے 85 ملین کی مدد دینے کا اعلان کیا چاہ بہار سے افغانستان تک سڑکیں بنوائیں جن میں 217 کلو میٹرلمبی زرنج دلارام روڈ بھی شامل ہے۔ گوادر کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس کی سیکیورٹی خاص توجہ کی طالب ہے اس بندرگاہ میں کئی خلیجیں اور جزائر موجود ہیں جن میں سے ہر ایک کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہے۔ اگر چہ پاک بحریہ پاکستان کی بحری سرحدوں پر انتہائی مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دیتی ہے اور گوادر پر بھی یہ اسی طرح چوکس وچوبند ہے تاہم اس سیکیورٹی کومزید سخت بنانے کے لیے مسلسل کوشش جاری ہے۔ پی این ایس اکرم 1983 سے گوادر میں اس ساحل کی حفاظت کے لیے موجود ہے جس پرریڈار بھی موجود ہے اور پٹرولنگ کرنے والی کشتیاں بھی تیار رہتی ہیں لیکن سی پیک کا اعلان ہونے کے بعد گوادر کی اہمیت بڑھ جانے کی وجہ سے ظاہر ہے دشمن کے ناپاک ارادوں میں بھی اضافہ ہوا ہے وہ ہر طریقے سے اس بندرگاہ کو ناکام کرنے کے لیے سرگرم ہے لہٰذا پاکستان نیوی نے بھی اپنی نفری اور انتطامات کا پھیلاؤ بڑھا دیا ہے اسی سلسلے میں پی این ایس صدیق اس وقت تربت میں موجود ہے اس پر جدید قسم کے جہاز ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اسی طرح پسنی میں پی این ایس مکران جدید جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہتا ہے اوریہ تمام کے تمام مسلسل میری ٹائم ہیڈکواٹرز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ۔ان بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پاک بحریہ نے میری ٹائم سیکیورٹی ٹاسک فورس88 دسمبر2016میں قائم کی،یونٹ 3اور4بھی بنائی گئی جبکہ کوسٹل سیکیورٹی اینڈ ہاربر ڈیفنس فورس بھی قائم کی گئی ہے۔یوں پاکستان نیوی نے گوادر کی بندر گاہ کو بڑی حد تک دشمن کی پہنچ اور مداخلت سے مکمل طورمحفوظ بنا لیا ہے۔سی پیک کا منصوبہ پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو گااور یہی بھار ت کے لیے باعث تشویش ہے وہ بحیرۂ عرب اور بحر ہند میں برتری کا جو خواب دیکھ رہا ہے وہ شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔سی پیک کا منصوبہ شروع ہونے کے بعد ان سمندری حدود میں بھار تی سرگرمیاں بھی رپورٹ کی گئیں اور ایسی ہی سازشوں کے توڑ کے لیے پاک بحریہ کو وسیع حفاظتی انتظامات کر نا پڑے۔ اس وقت پاک بحریہ کے متعد جوان جدید دفاعی انتظامات کے ساتھ بندرگاہ، مچھلی بندر، ہیمر ہیڈ اور کوہ باطل پر ہر طرف موجود ہیں اور دشمن کے ناپاک ارادوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ گوادر اگرچہ ایک خالصتاََتجارتی بندر گاہ ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر پاک بحریہ یہ تمام اقدامات اٹھارہی ہے ۔نیوی کے افسر اور سلیرز فی الوقت اس غیر آباد،غیر ترقی یافتہ بلکہ ترقی سے دور علاقے میں تمام شہری سہولیات سے دور رہ کر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، اسی سلسلے میں ایک نیول بیس بھی بن رہاہے جسے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی وہ یونٹیں استعمال کریں گی جو گوادر کی حفاظت کے لیے یہاں اپنے فرائض سرانجام دیں گی کسی بیرونی بحریہ کو یہ بیس استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم کسی بھی ملک کے بحری جہازوں کو یہاں آنے کی اجازت ہوگی یوں نہ صرف ان تمام حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری پاک بحریہ پر ہو گی بلکہ ان کا کنٹرول بھی ان کے ہاتھ میں رہے گا۔گوادر کی اہمیت اس وقت بین الاقوامی طور پر بھی بہت زیادہ ہے امریکہ کو اس پر اس لیے تشویش ہے کہ چین کے’’ سٹرنگ آف پرل‘‘ سلسلے کی اس کڑی کے ذریعے اس کی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ مختصرترین راستے سے چین تک پہنچے گا اور بھارت کو اس لیے فکرہے کہ یہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ اس کی تعمیر کے بعدکراچی کی بندرگاہ پر بوجھ بھی کم ہو گا اوروسط ایشیائی ممالک بھی اس بندرگاہ سے اپنی سمندری تجارت میں اضافہ کر سکیں گے جو پاکستان کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک بہترذریعہ ہوگا۔اگرچہ یہ ایک تجارتی بندرگاہ ہے لیکن دفاعی لحاظ سے اس کی اہمیت اپنی جگہ پر موجود ہے جنگ کے حالات میں اگر بفرض محال بھارت کراچی کی بندرگاہ پر نا خوشگوار صورت حال پیدا کرتا ہے یا اس کو بلاک کرتا ہے تو گوادر کی بندرگاہ اس کی پہنچ سے بہت دور ہے اوراس صورت میں پاکستان اپنی سمندری حدود کی بہتر طور پر حفاظت کر سکتا ہے۔یوں اس بندرگاہ پر بحری افواج کی موجودگی نہ صرف بہتر بلکہ ضروری ہے تاکہ ایک طرف تجارتی مفادات کا تحفظ ہو سکے اور دوسری طرف ملک کا سمندری دفاع بھی مضبوط ہو اور ساتھ ہی بحیرۂ عرب میں دشمن کی نقل و حرکت پر بھی مسلسل نظر رکھ کر انہیں محدود بھی کیا جا سکے۔

24
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...