27 اکتوبر 1947 وادئ کشمیر کی تاریخ میں سیاہ ترین دن شمار کیا جاتا ہے۔اِس دن بھارتی فوجیں ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں اور کشمیری مسلمانوں کی آذادی کی اُ منگوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ سری نگر ہوائی اڈے پر قبضے کو ممکن بنانے کیلئے بھارتی فضائیہ کےD.C-3 طیارے سکھ رجمنٹ کے فوجیوں اور ضروری جنگی ساز و سامان کے ساتھ 26 اکتوبر 1947 کو ہی سر ی نگر کے ہوائی اڈے پر اُتر نے شروع ہوگئے تھے جبکہ 27 اکتوبر کے دن ریاست جموں و کشمیر کے بھارت کیساتھ نام نہاد عارضی الحاق کے اعلان کے بعد بھارتی فضائی اور زمینی فوجوں نے حملے کر کے ہزاروں نہتے بے گناہ کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا ۔ بھارتی فوج کے اِس ظالمانہ قتل عام کا مقصد وادئ کشمیر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر کے کشمیریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور کرنا تھا۔ کشمیر میں کی جانے والی اِس ظالمانہ کاروائی کی پیشگی منصوبہ بندی چناکیہ صفت بھارتی عبوری وزیراعظم جواہر لال نہرونے آخری برطانوی وائسرائے ہند لارڈ لوئی ماؤنٹ بیٹن کی ساز باز سے کی تھی جب نہرو نے اُنہیں برصغیر ہندوستان میں برٹش راج کے ختم ہونے پربھارت کا پہلا گورنر جنرل بنانے کا عندیہ دیکرمسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کی سازش کی۔چنانچہ بطور برطانوی وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پہلے تو ریڈکلف ایوارڈ کے تحت مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کشمیر لنک کی تین تحصیلیں بھارت میں شامل کراکے بھارت کیلئے کشمیر میں داخلے کو ممکن بنایا اور پھر بھارت کا پہلا گورنر جنرل بننے کے بعد جواہر لال نہرو کے اِشارے پرنہ صرف کشمیر میں بھارتی فوجیں اُتارنے کے احکامات جاری کئے بلکہ ماؤنٹ بیٹن کے حکم پر ہی تمام بھارتی مسافر بردار طیاروں کو ہنگامی بنیاد پر مسافروں کو ہوائی اڈوں پر چھوڑ کر کشمیر میں فوجی کمک پہنچانے کے کام پر لگا دیا جبکہ مسافروں کو منزلِ مقصود پر پہنچانے کی ذمہ داری اپنے ذاتی رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے برطانوی ائیر لائن کے سپرد کر دی گئی۔ سابق وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن چاہے وہ بھارتی گورنر جنرل کے طور وزیراعظم نہرو کی ہدایت پر ہی کیوں نہ کام کر رہے ہوں کا یہ اقدام حیران کن تھاکیونکہ جب برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے تقسیم ہندوستان کا اعلان کیا گیا تھا تو اس کے ساتھ ہی برطانوی سیکریٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی آذاد مملکتوں کے قیام کے بعد ہندوستان میں قائم 560 برطانوی زیر حفاظت ریاستوں بشمول ریاست جموں و کشمیر کو آزاد و خودمختار ریاستوں کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گابلکہ یہ ریاستیں اپنی جغرافیائی اور فرقہ وارانہ حیثیت کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کر سکتی ہیں جبکہ جغرافیائی طور پر پاکستان کیساتھ منسلک اور فرقہ وارانہ حیثیت کے حوالے سے مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناتے ریاست جموں و کشمیر کا فطری الحاق بھی پاکستان کیساتھ ہی ہونا تھالیکن نہرو ماؤنٹ بیٹن سازش کے تحت ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔
مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کشمیر مسلمان اکثریتی ریاست ہے اور ریاست کی مسلمان آبادی پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش مند ہے۔ کشمیر مسلم کانفرنس اس سے قبل 19 جولائی 1947 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کشمیر کی قرارداد سری نگر کے ایک نمائندہ اجتماع میں پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کر چکی تھی چنانچہ مہاراجہ کشمیر اپنے وزیراعظم رام چندر کاک کی مشاورت سے کشمیر کا الحاق پاکستان یا بھارت کیساتھ کرنے کے بجائے کشمیر کو آزاد و خودمختار ریاست بنانے کے مشن پر کام کر رہے تھے۔ چونکہ رام چندر کاک کی نہرو دشمنی کشمیر کے بھارت کیساتھ الحاق میں رکاوٹ تھی لہذا تقسیم ہند کے بعد پہلے مرحلے میں نہرو کی ایما پر ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کشمیر پر اپنااثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے رام چندر کاک کی جگہ بھارت نواز مہاجن کو مہاراجہ کا وزیراعظم بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔دریں اثنا، ریاست جموں و کشمیر کو آزاد و خودمختار ریاست بنانے کیلئے مہاراجہ کشمیر نے بھارتی فوج کے کشمیر پر قابض ہونے سے قبل ریاستی ڈوگرہ ملیشیا کی طاقت کو راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ( RSS) کے ہزاروں مسلح رضاکاروں اور سکھ انتہا پسند جتھوں کی مدد سے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی اُمنگوں کو دبانے کیلئے وادئ کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔ کشمیری مسلمانوں کے اِس بے دریغ قتلِ عام کے خلاف پٹھان قبائلیوں نے غم و غصہ کا اظہار کیا کیونکہ کشمیر میں افغانوں کی کچھ نسلیں صدیوں سے آباد تھیں چنانچہ RSS کے مسلح اضاکاروں ، سکھ جتھوں اور ڈوگرہ ملیشیا کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتلِ عام روکنے کیلئے پٹھان قبائل کشمیر میں داخل ہوئے تو کشمیری مسلمانوں نے بھی مہاراجہ کشمیر کی مسلم کشُ پالیسیوں کے خلاف علَم بغاوت بلند کیا اور 24 اکتوبر 1947میں آذاد علاقوں میں سردار محمد ابراہیم کی قیادت میں آذاد کشمیر کی حکومت کے قیام کا اعلان کیا گیا ۔
حقیقت یہی ہے کہ نہرو ۔ ماؤنٹ بیٹن سازش کے باعث کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت کو دھویں کے بادلوں میں چھپایا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 24 اکتوبر کو پٹھان قبائل کے سری نگر کے مضافات میں پہنچتے ہی بھارتی حکومت سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی قطعی غلط بات ہے کیونکہ مہاراجہ کے صا حبزادے کرن سنگھ نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ مہاراجہ نے سالانہ دربار پروگرام کے مطابق 24 اکتوبر کو دریائے جہلم کے کنارے سری نگر کے شہری محل میں ہی منعقد کیا تھا۔ جبکہ ماؤنٹ بیٹن کے پریس سیکریٹری ایلن کیمبل جانسن نے اپنی کتاب مشن ود ماؤنٹ بیٹن میں لکھا ہے کہ 24 اکتوبر کی رات ماؤنٹ بیٹن تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ کے اعزاز میں ایک سرکاری ڈنر میں مصروف تھے جب نہرو نے اُنہیں غلط بیانی سے بتایا کہ پٹھان قبائل نے سری نگر پر حملہ کر دیا ہے ۔ اگلے دن (25 اکتوبر) بھارتی کابینہ ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں کشمیر میں فوری فوجی امداد بھجنے کی بات کی گئی۔ ماؤنٹ بیٹن نے مشورہ دیا کہ ایسا کرنے سے پاکستان بھی کشمیر میں فوجی مداخلت کریگا اور دونوں ملکوں کے مابین جنگ چھڑ جائے گی اس لئے پہلے کشمیر کے عارضی الحاق کی بات کی جائے۔ دریں اثنا یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعظم نہرو کے نمائندے و ی۔پی۔ مینن کو فوری طور پر حالات کا جائزہ لینے کیلئے بذریعہ طیارہ سری نگر بھیجا جائے۔مینن 25 اکتوبر کو سری نگر پہنچ کر ہندوستانی ریاستوں کی یکجہتی نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے مہاراجہ کو حالات سے بے پرواہ ہونے کی کیفیت میں پایا جبکہ پٹھان قبائل سری نگر نہیں بلکہ بارہ مولہ کے مضافات میں پہنچ چکے تھے ۔ مینن نے مہاراجہ کے وزیر اعظم مہاجن سے ملاقات کی اور مہاراجہ کو سری نگر چھوڑ کر جموں جانے کا مشورہ دیا ۔ مہاراجہ کی بذریعہ روڈ جموں کیلئے روانگی کے بعد مینن مہاراجہ کے وزیر اعظم مہاجن کے ہمراہ بذریعہ طیارہ نئی دہلی پہنچے اور صورت حال کی وضاحت کی کہ مہاراجہ بھارتی فوجی مدد کے تو متلاشی تھے لیکن ریاست کا الحاق بھارت سے نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ مہاراجہ 26 اکتو بر کو رات گئے جموں پہنچے تھے لہذا 26 اکتوبر کو عارضی الحاق کی دستاویز پر دستخط بے معنی بات تھی ۔ جموں میں مینن کی مہاراجہ سے ملاقات معنی خیز تھی کیونکہ مہاراجہ جموں پہنچتے ہی سمجھ گئے کہ وہ کشمیر گنوا بیٹھے ہیں۔مینن کے مطابق کہ اُنہوں نے مہاراجہ سے دہلی سے لائے ہوئے عارضی الحاق کشمیر اور فوجی امداد کی کچھ دستاویزات پر دستخط کرائے جبکہ بھارتی دہشت گرد تنظیم RSS کے سابق چیف سدھرشن جی دعویٰ کرتے ہیں کہ مہاراجہ کشمیر بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے کیلئے تیار نہیں تھے چنانچہ اُس وقت RSS چیف گروجی کے مجبور کرنے پر مہاراجہ نے عارضی الحاق کی دستاویز پر دستخط کئے ۔ بظاہر یہ دستاویزات نئی دہلی میں تیار کرائی گئیں تھیں جس کا تذکرہ معروف برطانوی مصنفہ وکٹوریہ شو فیلڈ نے عارضی الحاق کشمیر کے حوالے سے اپنی کتاب Kashmir in Conflict میں بھی کیا ہے۔ دراصل دھوکہ دہی اور دباؤ کی بنیاد پر حاصل کی گئی ان دستاویزات کی بنیاد پر ماؤنٹ بیٹن نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے عارضی الحاق کا اعلان کیا اور بھارتی فوجی مداخلت کو جائز قرار دینے اور دھویں کے بادلوں میں چھپانے کے لئے یہ کہا گیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بعد میں کشمیری عوام کی رائے سے کیا جائے گالیکن ایسا آج تک نہیں کیا گیا۔
حقیقت یہی ہے کہ بھارتی وزیراعظم آنجہانی جواہر لال نہرو نے خوبصورت دھوکہ بازی سے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے تاریخی حقائق کو دھویں کے بادلوں میں چھپانے اور ریاست پر بھارتی فوجی قبضے کو ممکن بنانے کیلئے ریاست کے عارضی الحاق کے نام پر آخری وائسرائے ہند اور پہلے بھارتی گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی شخصیت کو بڑی خوبصورتی سے کشمیر پر قبضے کیلئے استعمال کیا ۔ نہرو جانتے تھے کہ جموں و کشمیر کی ریاست مسلم اکثریتی تشخص کی حامل ہے اور صورت حال بگاڑ کی جانب جاسکتی ہے لہذا انہوں نے نام نہاد الحاق کشمیر میں پاکستانی تحفظات کے پیش نظر 31 اکتوبر 1947 کو نہرو نے پاکستان کو دھوکے میں رکھنے کیلئے ٹیلی گرام کے ذریعے وزیراعظم لیاقت علی خان کو مطلع کیا اور وعدہ کیا کہ ’’جونہی کشمیر میں امن قائم ہو جائیگا بھارتی فوجیں واپس بلا لی جائیں گی اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا موقع دیا جائیگا ۔ یہ میر اوعدہ صرف آپکی حکومت سے ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام اور دنیا سے بھی ہے ‘‘۔ قائد اعظم محمد علی جناح چونکہ جواہر لال نہرو اور ماونٹ بیٹن کے سازشی تعلقات کی نوعیت کو سمجھتے تھے لہذا اُنہوں نے یکم نومبر 1947 میں لاہور میں مسئلہ کشمیر پر گورنر جنرل بھارت لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کی اور بھارتی وزیر اعظم کے ٹیلی گرام کے مندرجات کو مد نظر رکھتے ہوئے کشمیر میں منصفانہ استصواب رائے کرانے کیلئے تین نکاتی تجویز پیش کی ۔ (1)دونوں ملکوں کے گورنر جنرل ایک مشترکہ اعلامیہ میں 48گھنٹوں کے اندر دونوں متحارب قوتوں کو کشمیر میں جنگ بندی کا نوٹس جاری کریں اور قبائلیوں کو وارننگ دی جائے کہ اگر وہ اس حکم کی عدولی کرتے ہیں تو پھر دونوں ملکوں کی فوجیں ان سے جنگ کریں گی ۔ (2) کشمیر سے بھارتی فوجیں اور قبائلی لشکر بیک وقت واپسی اختیار کریں گے ۔ (3) دونوں گورنر جنرلوں کو امن قائم کرنے، ریاست کی انتظامیہ چلانے اور استصواب رائے کرانے کا مکمل اختیار دیا جائیگالیکن ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے اچھائی کی آواز پر لبیک نہیں کہا اور قائداعظم کی تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لہذاکشمیر میں بھارتی بدنیتی آشکار ہوگئی ۔
درج بالا تناظر میں نہرو۔ ماؤنٹ بیٹن سازش کی تائید معروف مصنفہ وکٹوریہ شو فیلڈ نے بھی اپنی تحقیق میں برطانیہ کی جانب سے مقرر کئے جانے والے وائسرئے ہند کے سیاسی مشیر سر کو نارڈ کو رفیلڈ (1945-947) کے حوالے سے کی ہے جن کا کہنا تھا کہ ’’ ماؤنٹ بیٹن برطانوی حکومتِ ہند کے محکمہ سیاسی امور کی ہدایت کی نسبت انڈین نیشنل کانگریس کے سیاسی رہنماؤں کی بات زیادہ سنتے تھے ۔انہیں پاکستان و بھارت کی آزاد مملکتوں کے قیام سے قبل یہ تجاویز دی گئی تھیں کہ پاکستان وبھارت کی سیاسی لیڈر شپ کو ریاست حیدر آباد اور ریاست جموں و کشمیر کی بھارت اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے سودے بازی کاموقع دیا جائے کیونکہ ریاست حیدر آباد مسلمان حکمران کے ساتھ ہندو اکثریت والی حکومت تھی جبکہ ریاست جموں و کشمیر ہندو حکمران کے ساتھ مسلمان اکثریت والی ریاست تھی لیکن ماؤنٹ بیٹن نے میری بات نہیں سنی کیونکہ میں نے جو کچھ بھی کہا جواہرالال نہرو کی جانب سے کشمیر کو بھارت میں رکھنے کی خواہش کے سامنے میری ایک نہ چلی‘‘ ۔ لارڈ برڈ وڈ نے اپنی کتاب،، دو قومیں اور کشمیر،، میں لکھا کہ اگر مسلم اکثریت کا تمام ضلع گرداسپور پاکستان کے حوالے کر دیا جاتا توبھارت کبھی بھی کشمیر میں جنگ نہیں لڑسکتا تھا ۔ بھارتی صحافی ایم ۔ جے ۔اکبر اپنی کتاب Behind the vale کے حوالے سے ضلع گرداسپور کی تیں تحصیلیں بھارت کے حوالے کرنے کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نہرو کیلئے یہ ایک مفاد پرستانہ سیاسی ضرورت تھی کیونکہ گرداسپور کے بغیر بھارت جموں وکشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس لئے نہرو نے ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ اپنی پرائیویٹ ملاقاتوں میں منوایا کہ وہ ریڈ کلف باؤنڈری ایوارڈ میں گرداسپور لنک بھارت کے ہاتھوں میں چھوڑ دے ۔ کیمبل جانسن اپنی کتاب ’’مشن ودماونٹ بیٹن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ نہرو۔ ماونٹ بیٹن کی پہلی ملاقات 1944ء میں ملایا (ملائیشیا) میں ہوئی تھی ۔ جبکہ کتاب ’’ دی گریٹ ڈیوائڈ‘‘ کے انگریز مصنف ہڈسن کے مطابق نہرو اور ماونٹ بیٹن کے درمیان ایک اور اہم ملاقات دسمبر 1946ء میں لندن میں ہوئی چنانچہ اِس ملاقات کے بعد نہرو نے ہندوستان میں عبوری حکومت کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے برطانوی لیڈر شپ کو آخری وائسرائے ہند کے طور پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے نام پر قائل کیا ۔ مائیکل بریچر نے جواہر لال نہر و کی سیاسی آب بیتی میں لکھا ہے کہ جہاں تک لیڈی ماونٹ بیٹن کا تعلق ہے یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نہرو کی ذاتی زندگی کا خلاء پر کر دیا تھا ۔ یادرہے کہ جواہر لال نہرو کی شریک حیات کملا دیوی 28فروری 1936ء میں سوئٹرز لینڈ کے ایک سینی ٹوریم میں انتقال کر گئی تھیں جسکا نہروکی زندگی پر گہرا اثر پڑا تھا چنانچہ اِس دوران گول میز کانفرنس کے انعقاد کے بعد لندن کی تقاریب میں نہرو کی لیڈی ماؤنٹ بیٹن سے دانشورانہ ملاقاتیں ہوئیں جو قریبی دوستی میں تبدیل ہو گئیں۔
یہ بھی درست ہے کہ بھارتی حکومت 1948 میں جموں وکشمیر میں اپنے منافقانہ عزائم چھپانے کیلئے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گئی لیکن سلامتی کونسل میں بحث ہوئی تو کشمیر کے بارے میں بھارتی بدنیتی دنیا کے سامنے آشکار ہوئی جہاں کشمیریوں کے حق خوداردیت کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر میں رائے شماری کی بات کی گئی لیکن بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود کشمیر میں آزادانہ رائے شماری کرانے سے گریز کیا چنانچہ بھارت وادئ کشمیر میں چھ لاکھ فوج کیساتھ آج بھی براجمان ہے اور کشمیریوں پر بدستور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں مصروف ہے ۔ البتہ سابق صدور پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور میں کشمیر کے دونوں حصوں میں تقسیم شدہ کشمیری خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور سرحدوں کو نرم کرنے سے وادئ کشمیر میں جو بہتری کی لہر آئی تھی، سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالتے ہوئے شریف فیملی نے نریندرا مودی اور اُن کے دست راست بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال سے ذاتی دوستی قائم کرکے بظاہر تجارتی مفادات سے تو فائدہ اُٹھایا ہے لیکن کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر آنکھیں بند کئے رکھی ہیں اور وادئ کشمیر میں بہتری کی جو لہر مشرف ۔ زرداری دور میں آئی تھی سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں کشمیر میں حالات بد سے بدتر ہوگئے جہاں نواز مودی دوستی کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں مودی حکومت نے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کئے رکھا ہے ، پیلٹ گنوں سے ہزاروں کشمیری نوجوانوں اور طالبات کے چہرے اور آنکھوں کو داغدار کیا گیا ہے جبکہ خواتین اور بزرگ کشمیریوں کی تواتر سے بیحرمتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مصروف ہے جبکہ کشمیر کنٹرول لائین پر نرم سرحدوں کو بھارت نے سیز فائر کی روز مرہ خلاف ورزی کرتے ہوئے حالت جنگ میں تبدیل کردیا ہے جس کا پاکستان آرمی بھرپور دفاع کر رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر پر امریکی تھنک ٹینکس بشمول دہلی جواہر لال یونیورسٹی میں 80 کی دھائی میں فل برائیٹ پروفیسر جوزف ای شوارِزی برگ اور 2005 میں امریکی ادارے ورلڈ سیکورٹی نیٹ ورک کے چیف راڈ لیتھم کی چار نکات پر مبنی تحقیقی فکر سے متاثر ہو کر سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو اِس اَمر پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ کشمیر کنٹرول لائین کے آر پار کشمیریوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے، وادئ کشمیر میں کشمیریوں کو داخلی خودمختاری اور سیلف گورننس دی جائے ، کشمیر سے مرحلہ وار فوجوں کی واپسی کی جائے اور بین الاقوامی تعاون سے وادئ کشمیر کی مشترکہ نگرانی کا نظام وضح کیا جائے جسے بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کے نمائندے مانیٹر کریں۔امریکی تھنک ٹینکس کی رائے کیمطابق : ” بھارت کو کنٹرول لائن کے مغرب میں آذاد جموں و کشمیر کے علاقے کو پاکستان کا علاقہ تسلیم کر لینا چاہئے جبکہ پاکستان کو کنٹرول لائن کے مشرق میں وادئ کشمیر کو چھوڑ کر بقایا تمام علاقے کو بھارت کا علاقہ تسلیم کر لینا چاہئے کیونکہ گذشتہ ستر برس میں یہ علاقے ثقافتی طور پر بھارتی ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کو یہ جان لینا چایئے کہ بھارت وادی کشمیر کا پورا کنٹرول رضاکارانہ طور پر چھوڑنے پر کبھی تیار نہیں ہو گا اس لئے وادی میں اختیارات میں شراکت داری کیلئے بین الااقوامی تعاون سے ایسا نظام دقیق نظام وضع کیا جا سکتاہے جس میں سرحدوں کو نرم کرنے سے مسئلہ کشمیر کے حل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔ جو بھی معاہدہ کیا جائے اُس میں کشمیریوں کی جمہوری گورننس کو اہمیت دی جانی چائیے جبکہ کشمیریوں کو بھی یہ جان لینا چاہئے کہ دونوں میں سے کوئی بھی ملک اُ ن کی آذادی کو تسلیم نہیں کرے گا لہذاکشمیر میں سول آذادیوں کوبحال کیا جائے ، بھارتی فوجوں کو بتدریج کم کیا جائے اور آخری معاہدے سے قبل وادی میںآذادانہ اور بے داغ انتخابات کرائیں جائیں” ۔اندریں حالت کشمیر کی موجودہ تحریک آزادی پر توڑے جانے والے مظالم کا نوٹس لیا جانا چاہیے تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کو مہمیز دی جاسکے۔

42
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...