صد افسوس کہ 2 اکتوبر 2017 کا دن پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہی کہلایا جائیگا کیونکہ مستقبل سے بے پرواہ اور جھوٹ مکر و فریب سے آراستہ چند سیاست دانوں نے قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر اپنے مخصوص سیاسی مفادات کو جِلا بخشنے کیلئے پاکستانی آئین و قانون میں جرائم کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے نا اہل اور سزا یافتہ سیاست دانوں کیلئے ملکی سیاست میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ انتخابی اصلاحات بل پر ایک چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی گزشتہ چند برسوں سے کام کر رہی تھی لیکن اِس بل میں نہ صرف سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کو چور دروازے سے سیاست میں داخل کرنے کیلئے جبکہ سپریم کورٹ اُنہیں وزیراعظم کے عہدے کیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے اُنکے ممبر پارلیمنٹ بننے پر پابندی عائد کر چکی ہے بلکہ اِسی بل میں انتہائی عجلت میں ناموس رسالت سے متعلقہ متنازع دفعات کا اضافہ کرتے ہوئے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود اِس بل کو منظور کرا لیا گیا ۔ صدر مملکت نے بھی دیر نہیں لگائی اور فوری طور پر رات کی خاموشی میں اپنے دستخطوں سے اِس متنازع بل کو نوازتے ہوئے اِسے ایکٹ کی صورت میں پورے ملک میں نافذکر دیا ہے۔ یہ اَمر بہرحال خوش آئند ہے کہ عوامی سطح پر ناموس رسالت کی انتہائی احمقانہ ترمیم پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر دو دن تک تو حکومتی وزرأ ناموس رسالت کے حوالے سے تاویلیں پیش کرتے رہے لیکن جب معاملہ حد سے آگے نکلنے لگا تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اِس ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ناموس رسالت کی متنازع دفعات نکال کر اِس کی پُرانی قانونی حیثیت بحال کر نی پڑی ۔ کیا یہ واردات بھی بیرونی آقاؤں کے مطالبے پر نااہل سابق وزیراعظم و موجودہ صدر مسلم لیگ کے اَبرو کے اشارے پر کی گئی تھی جو اِس ترمیم سے اب فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ یہی تو وہ متنازع قانون ہے جس کی بنیاد پر سابق نااہل وزیراعظم کو مسلم لیگ (ن) کا فوری طور پر دوبارہ صدر منتخب کر لیا گیا ۔ حیرت ہے کہ میاں نواز شریف، اُنکی صاحبزادی اور وزرأ کی فوج ظفر موج نے ملکی سلامتی کو لاحق بیرونی خطرات کے خلاف قوم کو تیار کرنے کے بجائے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ صدر بنانے کے بعد بھی عدالت عظمیٰ اور فوج کے خلاف جھوٹ اور مکر و فریب پر مبنی ناپاک پروپیگنڈہ مہم کو عوامی سطح پر بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کی جرمن نازی فاشسٹ حکومت کے پروپیگنڈہ وزیر جوزف گوئبلز نے جھوٹ و فریب پر مبنی فلاسفی یعنی جھوٹ کو اتنے تواتر سے بولو کہ اِس پر سچ کا گمان ہو جائے میں اِس قدر مہارت حاصل کر لی تھی کہ جرمن عوام کو اتحادی فوجوں کے جرمنی میں داخل ہونے تک یہی محسوس ہوتا رہا کہ نازی جرمنی کی فوجیں پورے یورپ اور روس پر قابض ہوچکی ہیں ۔ دریں اثنا، کچھ ایسی ہی متنازع فکر کو عوامی ذہنوں میں بٹھانے کیلئے سابق نااہل وزیراعظم اور اُن کے حاشیہ نشینوں پر مبنی پروپیگنڈہ ٹیم پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے بے نیاز ہو کر پاکستانی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم جوئی میں مصروف ہے جس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔چنانچہ عوام کو ریاستی اداروں سے بدظن کرنے کی اِس غیر ذمہ دارانہ روش کے پیش نظر گزشتہ روز پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے چیف میجر جنرل آصف غفور نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بڑی وضاحت سے کہا کہ تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے کیونکہ کوئی فرد یا ادارہ پاکستان سے بالاتر نہیں ہے ، مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے کیونکہ اگر پیچھے مڑ کر دیکھا تو پیچھے ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ پاکستان کے خلاف چار غیرملکی ایجنسیاں دہشت گردی کے منصوبے بنا رہی ہیں ، سرحدوں پر خطرات ہیں اگر بھارت نے جنگ کرنے کی کوشش کی تو اُس کا بھرپور جواب دینگے۔ مارشل لاء کی بات غیر ضروری ہے جبکہ فوج آئین پر چلنے کی پابند ہے البتہ ناموسِ رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ، احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئی تھی جس کیلئے ایس ایس پی اسلام آباد کے خط کی کاپی چھٹی کے دن رینجرز کو وصول ہوئی تھی۔ جس رینجر اہلکار نے غیر متعلقہ افراد کو جوڈیشل کمپلیکس میں آنے سے روکا اُس کی تعریف کی جانی چاہیے تھی کیونکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اگر آرمی چیف بھی متعلقہ ادارے میں بلائے بغیر بلائے آئیں گے تو اہلکار اُن کو بھی روکنے کا پابند ہوتا ہے ۔
درحقیقت، ایک ایسے مرحلے پر جبکہ غیر ملکی ایجنسیاں پاکستان کی سلامتی کے خلاف کام کر رہی ہیں اور پاکستان کا ازلی دشمن بھارت انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی کی قیادت میں بیرونی قوتوں کی حمایت سے اپنی ایجنسیوں اور ایجنٹوں کی مدد سے پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا کرکے پاکستان کے خلاف محدود جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے ، ہماری سیاسی قیادت بل خصوص نااہل وزیراعظم نواز شریف کی فیملی کا پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے کے بجائے پاکستان میں جائز ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت بیرون ملک منتقل کرکے لندن اور دبئی میں ذاتی رہائشی سہولتوں کے حصول کے بعد ایم کیو ایم لندن کے الطاف حسین کی طرز پر گوئبلز پروپیگنڈے کی مانند پاکستانی عوام کو ذاتی انتقام کے نام پر فوج اور عدلیہ کے خلاف اُبھارنا کوئی احسن اقدام نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ میڈیا ذرئع کیمطابق چند دن قبل ہی نئی دہلی میں بھارتی ائیر چیف مارشل بی ایس دھنوا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ انڈین ائیر فورس پاکستان کے نیوکلئر اثاثوں کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ انڈین ائیر فورس پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے غیر مسلح کرنے سے گریز نہیں کریگی جبکہ بھارتی فضائیہ ، نیوی اور آرمی کیساتھ مل کر انتہائی مختصر نوٹس پر پاکستان سے جنگ لڑنے کیلئے تیار ہے۔ اندریں حالات، پاکستان کی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات کی موجودگی میں نااہل وزیراعظم جنہیں اب سپریم کورٹ کے فیصلے سے متصادم متنازع قانون کی مدد سے حکمران جماعت کی قیادت سونپ دی گئی ہے کو بھی قومی سلامتی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن اُن کا ٹریک ریکارڈ قومی سلامتی کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے کے حوالے سے ہمیشہ ہی متنازع رہا ہے۔
درج بالا تناظر میں میجر جرنل آصف غفور کا تمام اداروں کیساتھ مل کر قومی سلامتی کو مربوط بنانے کا اعلان قابل قدر ہے چنانچہ حکمران جماعت کے اراکین و سیاسی رہنماؤں کی یہ مسلمہ ذمہ داری ہے کہ وہ نواز شریف کی جانب سے عدالت عظمی اور پاکستان فوج جنہیں پاکستانی آئین بھی تحفظات فراہم کرتا ہے کو محض ذاتی انتقام میں گھناؤنی تنقید کا نشانہ بنانے سے روکیں۔ نواز شریف کا فوج اور عدلیہ کے خلاف تواتر سے یہ کہنا کہ گزشتہ ستر برس میں کسی وزیراعظم کو ٹرم پوری نہیں کرنے دی گئی گزشتہ پندرہ برس کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے انتہائی ناقابل فہم ہے کیونکہ ا،س پروپیگنڈے سے محض نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جا رہا ہے جبکہ 1958 تک حکومتوں کی تبدیلی میں کسی فوجی مہم جوئی کا ہاتھ نہیں تھا۔ البتہ 1951 سے 1958 تک سات برس کی مدت میں دستور ساز اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی غیر ذمہ دارانہ سیاسی مہم جوئی کے سبب یکے بعد دیگرے متعدد وزارتوں کا تبدیل کیا جانا عوام الناس کیلئے حیران کن اور پریشانی کا باعث تھا جبکہ بھارت کشمیر میں اپنے پنجے گاڑھنے میں مصروف تھا چنانچہ سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش نے جنرل محمد ایوب خان کو ملک میں مارشل لاء لگانے کا موقع فراہم کیا۔البتہ 1972 میں پاکستان میں جمہوریت بحال ہونے کے بعد جمہوری اداروں کو ناکام بنانے اور وزارتوں کو تبدیل کرانے یا کرنے میں خود میاں نواز شریف کا کردار ہر پہلو سے متنازع ہی رہا ہے جس کی تلخ سیاسی تجربات کی روشنی میں اصلاح احوال کرنے کے بجائے وہ اپنی بے حکمتی سے قومی سیاست میں بھی سیدھے راستے کو چھوڑ چکے ہیں ۔ سوال یہی ہے کہ جھوٹ ، مکر و فریب کی پالیسی آخر کب تک پاکستان کو اپنے گھیرے میں لئے رکھے گی ؟
بلاشبہ پاکستان میں جمہوری ریاستی نظام (state crafts)کو جس قدر نقصان سابق نا اہل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پہنچایا ہے اُس کی مثال دنیا بھر کی دیگر جمہوریتوں میں نہیں ملتی۔ چنانچہ انتخابی اصلاحات ایکٹ کے تحت جرائم میں ملوث افراد کو ملکی سیاسی منظر نامے میں داخل کرکے پاکستانی جمہویت کو فاشسٹ حکومت کے درجے پر فائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ پاناما پیپرز نے نوے کی دھائی میں مبینہ طور پر نواز شریف کی بچوں کے نام پر آف شور کمپنیوں میں چھپائی گئی دولت کے آشکار ہونے پر مبینہ طور پر نواز شریف حکومت کا کرپشن آلود چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ اِس سے قبل ملکی اور غیر ملکی حالات سے باخبر لکھنے والے دانشور سابق صدر جنرل ضیأ الحق کی حادثاتی موت کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیساتھ ہی اقتدار کی غلام گردشوں میں پلنے والی کرپشن اور بدعنوانی کا بخوبی تذکرہ کرتے رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی پروپیگنڈہ ٹیم عوام الناس کی ڈِس انفارمیشن کیلئے نواز شریف کو بدستور ملک کا نجات دہندہ بنا کر پیش کرتی رہی ہے۔ اگست 2002 میں شائع ہونے والی کتاب ” قیادت کا بحران” کے مصنف جنرل جہانداد خان نے لکھا ہے: ” اگر اہل اقتدار سچے قومی جذبۂ خدمت سے محروم ہوں بلکہ ذاتی اور اجتمائی مفادات کیلئے کوشاں ہوں تو ملکی حالات کا سنبھلنا اور سنورنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اِس کی تازہ مثال 1988سے 1999 تک بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوارِ حکومت ہیں جب اُن کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے قوم کو مایوس کیا بلکہ ان کے گیارہ سالہ عہد حکومت میں ملک کی معاشی تباہی ، رشوت ، بدنظمی ، اقربہ پروری اور قومی اداروں کی بیخ کنی عروج پر تھیں جس کے نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے” ۔ جنرل جہانداد کی تائید لندن میں مقیم پاکستانی نژاد مصنف طارق علی نے نیو یارک سے شائع ہونے والی کتاب ، دی ڈوئل، میں لکھا ہے :” کرپشن نے پاکستان کو پانی کی چادر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مرحوم بے نظیر بھٹو اور اُنکے شوہر آصف علی زرداری نے دو مرتبہ وزیراعظم بننے پر 1.5 بلین ڈالر کے اثاثہ جات بنائے جبکہ دو مرتبہ وزیراعظم بننے پر نواز شریف اور اُنکے بھائی جنہیں تجارتی دائرہ کار کا اچھا علم تھا اِس سے دوگنی ( تین بلین ڈالر) دولت کمائی” ۔
چنانچہ جب جائز ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرکے آف شور کمپنیوں میں چھپانے والے طاقت ور افراد کی بدنیتی کا
انکشاف ہونے لگتا ہے تو وہ نہ صرف بیماری کی آڑ لیتے ہوئے بیرون ملک کوچ کر جاتے ہیں بلکہ میڈیا میں اُنکے حمایت یافتہ صحافی اور سیاسی حاشیہ نشین ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت عوام کی ڈِس انفارمیشن کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف اکثر و بیشتر مقدمات سے پہلو تہی کرتے ہوئے علاج کیلئے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جس کا تذکرہ غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں بھی کیا جاتا ہے جو پاکستان کی شہرت کو داغدار کرنے کا سبب بنتا ہے۔ کتاب دی پاناما پیپرز کے صفحہ 334 پر لکھا ہے: ” شیل کمپنیز نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ہونے اور یہ کہ وہ لندن میں کئی ملین پاؤنڈ کی پراپرٹی کے مالک ہیں کے انکشاف ہونے پروزیراعظم نواز شریف علاج معالجے کی غرض سے لندن روانہ ہوئے تو اِن افواؤں نے بھی جنم لیا کہ وہ مقدمے کے اختتام تک وطن واپس نہیں آئیں گے”۔ دریں اثنا ، عمرانی علوم کی ایک ماہر بروک ہیرنگٹن پاناما پیپرز کے حوالے سے معاشی ماہرین کومتنبہ کرتی ہیں کہ دولت کے ارتکاز کے حوالے سے نیو فیوڈل طبقہ پیدا ہو رہا ہے کیونکہ کچھ انتہائی دولت مند افراد نہ صرف (آف شور کمپنیز) کے ذریعے دولت کو چھپا رہے ہیں بلکہ وہ قانون کو بھی چکما دے رہے ہیں۔دولت چھپانے کے اِس فن کی تشریح برطانوی مصنف لیوک ہارڈنگ نے مئی 2016 میں شائع ہونے والی کتاب “How the Rich & Powerful Hide Their Money” میں صفحہ 349 سے 352 پر بخوبی کی ہے جس میں شیل اور دیگر آف شور کمپنیز کی آڑ میں اصل مالک کا نام مختلف فرنٹ مین کے ذریعے چھپایا جاتا ہے۔چنانچہ جھوٹ اور مکر و فریب کی آف شور دنیا میں نواز شریف فیملی کی جانب سے دولت کو چھپانا ہی پاکستانی عوام کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
دریں اثنا، نااہل وزیراعظم نواز شریف پاناما پیپرز تحقیقات میں حقائق بیان کرنے کے بجائے پاکستان آرمی اور سپریم کورٹ کو ٹارگٹ کرتے ہوئے تواتر سے الزام لگاتے رہے ہیں کہ گزشتہ ستر برس میں کسی وزیراعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ۔ لیکن ستر کی دھائی میں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کو غیر قانونی طور پر برطرف کیا گیا تو خوشیاں منانے میں نواز شریف پیش پیش تھے چنانچہ اسّی کی دھائی میں جنرل ضیأ الحق کی فوجی نرسری میں ہی نواز شریف کی پرورش کی گئی۔ مخصوص مفادات نے پہلے اُنہیں پنجاب حکومت میں وزیرخزانہ کے طور پر تعینات کیاجہاں دولت کی ریل پیل نے اُنکی آنکھیں خیرہ کر دیں۔ 29 مئی 1988 میں محمد خان جونیجو کی حکومت کی برطرفی میں نواز شریف سیاسی سازش میں پیش پیش رہے اور پنجاب میں اُبھر کر سامنے آئے۔ 17 اگست 1988 میں جنرل ضیأ الحق کی حادثاتی موت کے بعد ضیاء لابی کی سرپرستی کرنے میں بھی میاں نواز شریف جنرل ضیأ کے صاحبزادے کے ہمراہ پیش پیش رہے جبکہ غلام اسحاق خان جنہیں قدرت نے صدر مملکت بننے کا موقع دیا، نے بھی بے نظیر بھٹو پر نواز شریف کو ترجیح دی اور پنجاب میں نواز شریف کو حکومت بنانے کا موقع دیالیکن بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو سیاسی طور پر برداشت کرنے کے بجائے ریاستی نظام حکومت کے دائرہ کار کو توڑتے ہوئے نواز شریف نے اکتوبر 1989 میں بے نظیر حکومت کو عدم اعتماد سے گرانے کیلئے مبینہ طور پر بن لادن کے پیسوں سے (جس کا تذکرہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب Reconciliation میں کیا ہے) پیپلز پارٹی کے 11 اراکینِ اسمبلی کو فوج کے چند جونئیرافسران کی مدد سے خریدنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے دو
آرمی افسران کی غلطی ثابت ہونے پر فوج سے لازمی ریٹائرڈ کر دیا تھا۔ فوج سے نکالے جانے پر اِن افسران کو نواز شریف نے پنجاب میں اہم عہدوں پر فائز کردیا تھا ۔ چنانچہ ملیحہ لودھی سابق ایڈیٹر جو آجکل اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں نے جنرل مرزا اسلم بیگ سے ایک انٹرویو کے دوران سوالات پوچھے جن سے نواز شریف سیاسی بدنیتی کی وضاحت سے ظاہر ہو جاتی ہے :
“Q: Are you certain they were not acting for you. A: No, they were not. Q: In that case didn’t it bother you that, as COAS, you had no controlover the free-wheeling activities of your officers. A: That is why they were prematurely retired. Q: Is it true you wrote to then Punjab Chief Minister Nawaz Sharif, asking him not to employ them as his aides? A: In one of my meetings with him I had pointed out that this would not be proper since they were retired on fault and a doubt had been raised about their discipline.
البتہ 1990 میں نواز شریف نے بے نظیر حکومت کو صدر غلام اسحاق خان کی مدد سے برطرف کرا دیا اور نئے انتخابات میں متنازع کامیابی کے ذریعے وزیراعظم بن گئے لیکن پھر اُنہوں نے جب کرپشن میں غیر معمولی ہاتھ پیر پھیلانے کی کوشش کی تو غلام اسحاق خان جو بظاہر ذاتی طور پر دیانت داری کا نمونہ تھے ، اُنہیں اپنا دامن صاف رکھنے کی ہدایت کی لیکن نواز شریف نے اچھائی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اور اُس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کو تجویز پیش کی کہ اگر غلام اسحاق خان منصب صدارت سے مستعفی ہوجائیں تو وہ بھی وزیراعظم کے منصب سے مستعفی ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اندریں حالات وقت آ گیا ہے کہ جھوٹ اور مکر و فریب کی سیاست کو ختم کرکے پاکستان کی سربلندی اور عوام کی یکجہتی کیلئے کام کیا جائے۔ البتہ بقول شاعر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو چاہو ہو سو آپ کرو ہو ہم کو عبث بدنام کیا۔

22
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...