دہشت گردی، دہشت گردی کے خلاف جنگ،اسی نام پر دوسرے ملکوں میں مداخلت اور یہ نئی کہانی شروع ہوئی امریکہ کے شہر نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاورز پر دو جہازوں کے ایک حملے سے اور امریکہ نے ایک نیا طرزِ حکمرانی ایجاد کر لیا۔امریکہ اپنی تاریخ کے زیادہ تر عرصہ جنگوں اور قتل وغارت گری میں مصروف رہا ہے۔1861 سے1865تک یہ خود شمالی اور جنوبی ریا ستوں میں بٹ کرشدید خانہ جنگی کا شکار رہا اور غلامی کے خلاف جنگ کے نام پرطرفین کے اندازََپندرہ لاکھ افراد مارے گئے، قسم قسم کا اسلحہ ایجاد کیا گیا ،مختلف مشین گنیں بنیں،سٹیم پاوڈر استعمال ہوااورفضائی غبارے استعمال کر کے ہوئی جنگ کی ابتداء کی گئی یہ سب کچھ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لیے ہواتو امریکہ دوسروں پر کیسے رحم کر سکتا ہے۔اُس کے لیے جنگ میں سب جائز ہے اور اسی لیے اس کی تاریخ جنگی جرائم سے بھری پڑی ہے۔اس ملک کا وہی رویہ آج بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دہشت گردی کر رہا ہے اور لاکھوں افراد اس کی خواہشات کے نذر ہو چکے ہیں۔وہ اپنی خانہ جنگی سے تو فارغ ہوالیکن دوسرے ممالک میں اپنا شوقِ خونریزی پورا کرتا رہا اسی دوران اُس کی سپین،فلپائن، کیوبا،پانامہ،ہیٹی غرض بے شمار ممالک سے بے شمار جنگیں ہو چکیں اور پھر پہلی جنگِ عظیم کا زما نہ آیا،امریکہ نے کچھ عرصہ تو پس منظر میں رہ کر کام کیا لیکن پھر اس سے پس پردہ کا ڈرامہ مزید برداشت نہ ہو سکاپہلے اس نے 1915میں برطانوی مدد کا اعلان کیا اور پھر اپریل1917 میں جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے براہ راست جنگ میں چھلانگ لگا دی اور جنگ کی ہولنا کیاں کئی گنا بڑھ گئیں اور اس کے لیے بہانہ وہ برطانوی کشتی بنی جسے جرمنی نے ڈبویا تھا جس میں کچھ امریکی سوار تھے اور چند امریکیوں کا بدلہ لینے کے لیے اُس نے ہزاروں لاکھوں مارنے میں کسر نہ چھوڑی۔ پھر دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آیامغربی اقوام کی ’’تہذیب یا فتگی‘‘کا ایک اور نمونہ۔امریکہ نے دونوں جنگوں کے درمیانی عرصہ میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کامیاب کوشش کی تھی، جنگ شروع ہوئی تو ایک بار پھر اُس نے براہ راست حصہ لینے سے گریز کر کے یہ تاثر دیا کہ وہ غیر جانبدار ہے مگر درپردہ مسلسل اتحادی افواج کا ہمدرد اور معاون رہا لیکن ایک بار پھر زیادہ دیر وہ اپنی فطرت پر قابو نہیں پا سکااور1941میں جنگ میں براہ راست کود پڑا اور پھر اُس نے ہر وہ کام کیا جو چنگیز خان نے بھی نہیں کیا تھا۔ 6اور9اگست1945 کواُس نے تاریخ کا ایک سیاہ باب رقم کیا کہ جس کی تلافی ممکن ہی نہیں اور وہ تھا جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانا جس نے لمحوں میں ڈیرھ لاکھ انسانوں کو جلا کر راکھ کر دیا،لاکھوں دائمی بیمار اور معذور چھوڑے اور آنے والی نسلوں تک میں متاثرہ بچے پیدا ہوتے رہے۔امریکہ جو بھی کہے اُسے اپنے اس فعل پر کوئی پشیمانی نہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ مدتوں دوسرے انسانوں کا خون بہانے سے احتراز کرتا لیکن ایسا نہیں ہو ا ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو تباہ کر کے اُس نے اپنی معیشت مضبوط کی ، تباہ حال دنیا کا بادشاہ بنا، اُس نے اُسے مزید خونی کر دیا اور وہ مسلسل دوسرے ملکوں میں مداخلت کرتا رہا۔کوریا،ایران،جنوبی امریکہ سب اُس کے کسی نہ کسی موقع پر زیر عتاب آتے رہے۔ امریکہ نے ویتنام میں بیس سال تک اُسی ملک کے اپنے لوگوں کے خلاف جنگ لڑی اور جنگ کے ساتھ جنگی جرائم کی ایک لمبی فہرست رقم کی،مسلح فوجیوں کے ساتھ لاکھوں عام شہری، کسان ،بچے اور بوڑھے مارے گئے۔ 1955 میں شروع ہونے والی جنگ 1975تک چلتی رہی اور اس کے اختتام پر بھی امریکہ فارغ نہیں بیٹھا اور روس کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد امریکہ اس جنگ کا حصہ بنا۔ یہاں اُس نے افغان مجاہدین کو مکمل مدد فراہم کی، انہیں تربیت دی، اسلحہ دیا اور جنگ لڑائی۔ لاکھوں افغانی اور پاکستانی اس جنگ کی نذر ہوئے اور جب جنگ ختم ہوئی تو بغیر اندرونی معاملات درست کیے اور خلفشاریں ختم کیے امریکہ واپس چل پڑا ۔اس نے یہاں پھر دنیا کو سکون سے بیٹھنے نہ دیا اور اب کے عراق اُس کا نشانہ بنا۔ساتھ ہی اس کے ممدوح افغان مجاہدین اور اُن کی گلی نسل اُس کے لیے قابل نفرت بنتے چلے گئے جو اب طالبان کہلائے اور امریکہ کے مطابق جب انہی میں سے کچھ نے اُٹھ کر اُس کے ورلڈٹریڈ سنٹر کے ٹوئن ٹاورز پر فضائی حملہ کیا اور بقول اس کے پانچ ہزار افراد ہلاک ہوئے تو ایک بار پھر امریکہ بپھر اٹھا اور چونکہ اُس کی افواج بڑے محاذوں سے کچھ فارغ تھیں لہٰذا افغانستان پر چڑھ دوڑیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عظیم دہشت گردی شروع ہو گئی جس نے اب تک ہزاروں نہیں لاکھوں افراد کی جان لے لی ہے جن میں ٹوئن ٹاورز کے امریکی ہلاک شدگان کے علاوہ شاید چند سو کا تعلق امریکہ سے ہو ورنہ باقی سب وہ ہیں جو امریکی خواہشات پر قربان ہو ئے اور اب تک ہو رہے ہیں۔ امریکہ نے یوں تو دنیا کے ہر کونے میں پہنچ کر قتل و غارت گری کی ہے لیکن اس کی موجودہ جنگی سرگرمیوں کی اکثریت بلکہ اگر دیکھا جائے تو تمام کی تمام مسلمان ممالک کے خلاف ہے اور یہ صلیبی جنگوں کا ایک جدید سلسلہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آرہا ۔9/11 کے واقعے کو تمام دنیا پر یوں مسلط کیا گیا گویا دنیا میں دہشت گردی کا یہی ایک واقعہ ہوا ہو۔امریکہ اس کے بدلے بے شمار انسانوں کی جان لے چکا ہے لیکن اب بھی اس کے مطالبات میں کمی نہیں آئی ہے سترہ برس پہلے اُس نے اس واقعے کی آڑ لے کر افغانستان پر حملہ کیا تھااور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور پھر افغانستان میں ہی رہ گیا۔ پاکستانی حکمرانوں نے پاکستان کو اس جنگ میں ایسا جھونکا کہ ہم اب تک اس سے نکل نہیں سکے۔میں یہ ہرگز نہیں کہوں گی کہ امریکہ نے ہماری قربانی کو تسلیم نہیں کیا میرا سوال تو یہ ہے کہ آخر ہم نے یہ قربانی دی ہی کیوں، کیا امریکیوں کو بچانے کے لیے اپنے لوگوں کو قربان کرنا جائز بھی تھا یا نہیں، کیا ہم نے صرف امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا اتنا خون بہا یا اور وہ پھر بھی خوش نہیں ہے اور ہر مدد و تعاون کے بعد وہ ’’ڈو مور‘‘ کا ایک اور نعرہ بلند کر دیتا ہے۔ اس بار تو اُس کے انتہائی غیر سنجیدہ صدر،ٹرمپ نے جس طرح پاکستان اور بھارت کے بارے میں تبصرہ کیا وہ بذاتِ خود انتہائی قابلِ اعتراض ہے لیکن اب ہو نا یہ چاہیے کہ ہم 9/11 کے حصار سے نکل آئیں اور اپنے ملک کی حفاظت اور اپنے لوگوں کے تحفظ کو کسی قیمت پس پُشت نہ ڈا لیں اور امریکہ کو یہ احساس دلائیں کہ وہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستان اُس کی مدد کرنا بند کر دے تو امریکہ یہاں چار دن بھی نہیں رہ سکتا لہٰذا9/11کو ایک طرف رکھ کر ہمیں پاکستان کے دو چار ہزار نہیں لا کھوں سروں کا حساب مانگنا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مزید دہشت گردی سے اُسے روکنا چاہیے یا اُس سے الگ ہو جا نا چاہیے۔اس جنگ نے ہی ہمارے ملک میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کو پروان چڑھایا ہمارا معاشرہ، ادارے، مدرسے حتیٰ کہ یونیورسٹیاں بھی اس سے محفوظ نہیں۔امریکہ نے افغانستان میں فیکٹری لگا رکھی ہے جہاں سے وہ شدت پسند اور دہشت گرد بنا بنا کر بھیجتا ہے اور پھر الزام پاکستان کے اوپر لگا کر مزید کاروائی کا مطالبہ کرتا ہے ۔ہماری حکومتوں نے اب تک بے شمار غلط فیصلے کر کے ملک کو نقصان پہنچایا ہے لہٰذا تجربے ہی کے لیے سہی ایک یہ فیصلہ بھی کر کے دیکھ لینا چاہیے کہ امریکہ اور اِس کی’’ بھیک نما امداد‘‘کے بغیر پاکستان کیسے پنپتا ہے اور اپنے زورِبازو پر اُٹھ کر کھڑے ہو جانا ہی زیادہ پائیداری اور مضبوطی کا اظہار ہے ساتھ ہی امریکہ کو بھی یہ احساس دلانا ہے کہ جس طرح ہم نے اُس کی مدد کے بغیر پاکستان بنایا تھا ہم اسے قائم بھی رکھ سکتے ہیں بس وہ ہماری صفوں سے نکل جائے تو ہم خود ہی پُر سکون اور پُر امن ہو جائیں گے۔

165
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...