انگریز اور ہندو نے بر صغیر میں مسلمان کے آگے گھٹنے ٹیکے اور مسلما نوں نے قائد اعظم کی قیادت میں ایک الگ ملک حاصل کر لیا۔اُس وقت تو گاندھی ،نہرو اور ان کے پیروکاروں کو شکست ماننا پڑ ہی گئی لیکن وہ اپنی مسلم دشمنی سے باز نہیں آئے اور پاکستان بنتے ہی اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ سب سے پہلے اثاثہ جات کا مسئلہ اٹھایا گیا پھرمہاجرین کے ساتھ دوران ہجرت انسانیت سوز سلوک اور قتل عام بھی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور ان سب مسائل کے ساتھ ساتھ جو بنیادی مسئلہ کھڑا کیا گیا وہ کشمیر کا مسئلہ تھا۔کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی لیکن اُس پر سازش کے ذریعے قبضہ کیا گیا، کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کر کے اس سازش کو مزید آگے بڑھایا اور یوں مسلم اکثریتی ریاست اور اس کی مسلمان آبادی کی آزادی کو غصب کر کے انہیں ہندو کی مکاری کے حوالے کر دیا گیا اور یہی کشمیر ایک لاینحل مسئلہ بن کر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی جنگوں کا باعث بنا۔1948 کی جنگ کشمیر پر پہلی جنگ تھی یہ کھلی جنگ محدود پیمانے پر کشمیر کے اندر لڑی گئی لیکن سازشوں کا سلسلہ پھیلتا ہی رہا اور بھارت کھلم کھلا پاکستان کے خلاف بر سر پیکار رہا اور جب اُس نے چھ ستمبر 1965کو پاکستان پر حملہ کیا تو اُس کے ذہن میں یہی تھا کہ وہ پاکستان کو اتنا کمزور کر چکا ہے کہ وہ اس حملے کی تاب نہ لا سکے گا اورخاکم بدہن بھارت ایک ہی ہلے میں اس کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا لیکن وقت اور تاریخ نے دیکھا کہ بھارت نہ صرف اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوا بلکہ بری طرح ناکام ہوا اور اسے ایسی ہزہمت اٹھا نا پڑی جسے وہ اپنی تاریخ کے صفحات سے مٹا نہیں سکتا ۔پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی رات جب اُس نے رات کے اندھیرے میں لاہور پر حملہ کیا تو اُس کا خیال تھا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے رات سونے کے لیے بنائی ہے لہٰذا پاکستانی فوجی سو رہے ہونگے اور اگرپاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور اس کا دل لاہور اس کے قبضے میں آجائے تو پاکستانی اپنا دل ہار دیں گے اور وہ لاہور کے جمخانہ میں دوپہر کا کھانا کھائیں گے لیکن لاہو اُس کے لیے اتنا دور ثابت ہو ا جہاں تک وہ کبھی نہیں پہنچ سکا اور انشاء اللہ نہ کبھی اس کا یہ خواب پورا ہو سکے گا ۔ اُس رات بھارت نے جب لا ہور پر حملہ کیا تو پاکستان کے ہر دم تیار فوجی اپنی تمام تر حسیات اور حواس کے ساتھ حملے کو روکنے اور انہیں پسپا کر نے کے لیے موجود تھے۔ اُن کی بندوقوں اور توپوں نے جب شعلے اُگلے تو وہ خدا کے دشمنوں پر خدا کا قہر بن کر گرے اور ان کو واہگہ کے پار دھکیل دیا۔ہماری فوج نے اپنے سے تین گنا بڑی فوج کو ایسا سبق سکھایا جس کا اُس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ عالمی اخبارات اور میڈیا نے اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان کو جتنا آسان ہدف سمجھا تھا وہ اتنا آسان نہیں بلکہ بہت ہی مشکل ثابت ہوا۔چھ ستمبر کو ایک طرف بھارت کا جنرل چوہدری تھا جس نے اپنی فوج کو یہ سبز باغ دکھایا تھاکہ پاکستان ایک انتہائی آسان ہدف ہے اور وہ جب صبح حملہ کریں تو سب لاہور کے جمخانے میں دوپہر کے کھانے پر ملیں گے اور دوسری طرف پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کی ایک للکار تھی کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑو اور دونوں کا فرق دنیا نے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح پاکستان کی شیر دل فوج اور عوام نے مل کر دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ۔ اس جنگ میں چاہے توپ خانہ تھا، آرمڈ کور تھی یا پیادہ فوج ہر ایک نے عظیم جرات کا مظاہرہ کیا اسی طرح ہماری بحری اور فضائی افواج نے بھی دفاع وطن کی وہ تاریخ رقم کی جس کی مثال نہیں ملتی۔میجر عزیز بھٹی،سرفراز رفیقی، ایم ایم عالم،سیسل چوہدری دوارکا مشن کے جانبازوں نے جنگ کے نتائج کو بھارت کی توقعات کے بالکل خلاف کر دیا۔1965کی جنگ کو پاکستان کے ہر فرد نے اپنی جنگ سمجھا ملک عزیز کا ہر فرد اس کا سپاہی بن کر اپنے اپنے محاذ پر ڈٹ گیااگر فوج محاذ پر لڑ رہی تھی تو عوام اپنی بہادر افواج کی پشت پر ایسے کھڑے ہوئے کہ گویا وہ ان کے محافظ ہوں عورتیں اپنا زیور لے کر فوج کی مدد کو پہنچ گئی، طلبہ اور نوجوان اپنا خون ،وطن کے اِن محافظوں کو دینے کے لیے حاضر تھے۔ایم ایم عالم کہتے ہیں میں جب بھارت کے پانچ طیارے گرانے کے بعد پہلی بار ڈھاکہ گیا تو لوگوں نے مجھے ایئر پورٹ پرکاندھوں پر اٹھا لیا۔غرض ایک ایسا جذبہ تھاجس کی مثال نہیں ملتی اور اسی جذبے نے قوم کو فتح مند کیا تھا اور اگر درحقیقت دیکھا جائے تو انہی غازیوں کا پسینہ اور انہی شہیدوں کا خون ہماری بقاء کی ضمانت بنا اور آج ہم جب اس فتح مندی کی بیالیسویں سالگرہ منا رہے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ ہمیں اپنے راستوں اور منزلوں کا تعین کرنا ہو گا کہ ہم نے قومی زندگی میں کس چیز کو فوقیت دینی ہے اور وہ کون سے مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے ہم نے جدوجہد کرنی ہے اور ظاہر ہے اِن سب میں سب سے پہلے بقائے وطن ہے اگر یہ وطن ہے تو ہمارا وجودہے اور اپنے وجود کی بقاء کے لیے تو ہر جاندار اپنی ہر کوشش کرتا ہے۔ اس ذمہ داری اور اس کی اہمیت سے ہم بخوبی آگاہ بھی ہیں اور ظاہر ہے بقاء کے لیے دفاع انتہائی ضروری ہے ورنہ دشمن ہر طرف سے ہمارے اوپر غالب آنے کی کو شش کرے گا۔پھر بھی چند ایک آوازیں ایسی ہیں جو دفاع کے لیے اقدامات پر اعتراض کرتی ہیں اور اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ملک کا آدھا بجٹ دفاع پر خرچ ہو رہا ہے جو اچھی خاصی مبالغہ آرائی ہے پھر بھی الحمداللہ کہ آج پاکستان نے دفاعی میدان میں خود کو اتنا مضبوط بنا لیا ہے کہ طالع آزما اس کی طرف آنکھ اُٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ ہمارے فوجی جوان 1965کی طرح اب بھی ہر دم بیدار اور ہر دم تیارہیں۔پاکستان کی سرحد پر موجود اس کا مکار دشمن اب بھی نچلانہیں بیٹھا ہے اور سرحد پر مسلسل چھیڑ چھاڑکرتارہتاہے۔ سرحد پر رہنے والے نہتے دیہاتی اب بھی اُس کا نشانہ بنتے ہیں لیکن سرحدوں بلکہ درحقیقت قوم کے محافظ اب بھی اسی جذبے سے اُس کی توپیں خاموش کرادیتے ہیں جس طرح انہوں نے چھ ستمبر1965 کو کی تھیں۔ہمارا دشمن صرف سرحدوں کے پارتک محدود نہیں اس کی سازشیں روز اول ہی سے سرحدوں کے اندر بھی جاری تھیں اور اب بھی دہشت گردی کی صورت میں جاری ہیں لیکن یہاں بھی ہماری بہادر افواج اُس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس جن پر کافی حد تک قابو پا چکی ہیں۔ پاکستان نے دفاع کے شعبے میں اس وقت ناقابل تسخیر حیثیت حاصل کر لی ہے یہ نہ صرف یہ کہ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں مضبوطی سے اپنے قدم جما چکا ہے بلکہ اُس کے سپاہی کی گرفت ایک عام بندوق سے لے کر ایٹمی میزائل تک ہر ایک پر مضبوط ہے کیونکہ وہ جا نتا ہے کہ یہ اسلحہ نہیں اُس کے ملک کی بقاء کی ضمانت اور حفاظت ہے جو اُس کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے اور ان کا یہ ایمان انہیں بے خوف اور بے لوث بناتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ کے وہ مجاہد ہیں کہ اس راہ میں مارے جائیں تو شہید اور زندہ رہیں تو غازی اور سودا ایک بھی بُرا نہیں۔

113
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...