اِقامہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ میں کام کرنے کا وہ اجازت نامہ ہے جو غیر ملکی مزدوروں اور مختلف قسم کے روزگار کے حصول کے لیے آنے والوں کو درکار ہوتا ہے۔اِقامہ یا کفالہ میں کفیل ایک طرح سے آقا ہے اور اِقامہ حاصل کرنے والوں کو بین الااقوامی تنظیمیں جدید زمانے کا غلام کہتی ہیں جو اپنے آقا کی مرضی کے بغیر کوئی فعل سرانجام نہیں دے سکتا چاہے اُس کا موجودہ روز گار کتنا ہی تکلیف دہ ہو وہ دوسرا کام نہیں کر سکتا جب تک کہ اِقامہ کی مدت ختم نہ ہو یا مالک سے اجازت نامہ حاصل نہ ہو جائے۔اِن ممالک میں کام کرنے والے زیادہ ترمزدوروں کا تعلق پاکستان،بھارت،بنگلہ دیش،نیپال اور فلپائن سے ہے اور یہ لوگ اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے یہ پابندیاں سہنے پر مجبور ہیں یہاں تک کہ واپس اپنے ملک آنے کے لیے بھی انہیں کفیل کی اجازت درکار ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمران،سیاستدان ،وزراء اور امراء کو اس کی ضرورت کیوں پڑی لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایسا ہوا ہے اور ہمارے سابق وزیراعظم صاحب تک نے اس ” سہولت”کا فائدہ اٹھایا ہے اوراُن کے وزراء بھی اُن کے اس فعل میں ان کے ساتھ شریک رہے ۔نوکری کے اس پروانے کی بنیاد پر ہمارے محترم سابق وزیراعظم اپنے صاحبزادے کی کمپنی کیپٹل ایف زیڈای میں چیرمین کے عہدے پر فائزتھے اور انہوں نے اس کمپنی سے با قاعدہ تنخواہ وصول کی ہے جس کی رسیدیں کمپنی کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔نواز شریف نے 4فروری 2007کو اس کمپنی کے چیرمین بورڈ کی حیثیت سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا اس سے پہلے وہ’’مارکیٹیگ مینجر‘‘کے عہدے پر فائز تھے اور نئے عہدے پر ایک لاکھ درہم تنخواہ قرار پائی ان کے اِقامے کا نمبر 3209تھا اور اسی ملازمتی ویزے پر ہی اپنی 2012میں اِقامہ جاری کیا گیا جس کی معیاد 4جون 2015کو ختم ہوئی یعنی وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھی موصوف اس کمپنی کے ملازم تھے۔ ریکارڈکے مطابق انہوں نے فروری،مارچ،اپریل،جون اور جولائی کی تنخواہ نکالی بھی یعنی با قاعدہ عام ملازمین کی طرح اور ان ہی کی حیثیت میں ہی انہوں نے یہ نوکری کی۔ویسے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ یہ امراء اور روساء کوئی نوکری کریں لیکن یہ کہا ں کا انصاف ہے کہ ملک کی نیک نامی یا بدنامی کا اتنا بھی خیال بھی نہ رکھا جائے اور وزیراعظم بننے کے بعد بھی نوکری کی جائے اور وہ بھی صرف ایک اور ملک میں رہنے کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے اور کیا ایک ملک کا وزیراعظم کوئی دوسری نوکری کر بھی سکتا ہے۔ یقیناًاس کے دوسرے مقاصد بھی ہونگے ایک خیال اور رائے یہ بھی ہے کہ اس اِقامے کے ذریعے چونکہ آپ اُس ملک کے رہائشی بن جاتے ہیں لہٰذاگر سوئس بینکوں میں بے تحا شا دولت کے مالک ان لوگوں کے بینک اکاونٹس کی تفصیلات سوئس بینکوں سے مانگ لی جائیں تو چونکہ اُنہوں نے قطر، دوبئی وغیرہ کے شہری کی حیثیت سے یہ اکاونٹ کھولے ہوتے ہیں لہٰذا یہ بینک حکومتِ پاکستان کی درخواست پر جواب دینے کے پابند نہیں ہوتے اور یوں ہمارے امر اء پنی دولت کی حفاظت ایک اس طریقے سے بھی کر لیتے ہیں اور یقیناًایسے بے شمار طریقے اور بھی ہونگے بلکہ ہیں جس کا علم مجھ جیسے عام پاکستانی کو نہیں لیکن یہ امراء ضرور جانتے ہیں۔ یہی ذہانت ملکی خزانہ بڑھا دینے پر استعمال کی جائے تو یہ ملک اگر دنیا کا امیر ترین ملک نہ بھی بنے تو کم از کم غریب ترین ممالک کی فہرست سے تو نکل آنے میں کامیاب ہو ہی جائے گالیکن کاش کوئی اس ملک کی پرواہ بھی کرے۔آف شور کمپنیوں کے یہ مالکان اگر اپنی بے شمار دولت کا کچھ حصہ پاکستان کی ترقی کے لیے خرچ کر لیتے تو بھی بہت کچھ ہو سکتا تھالیکن ہوا یہ کہ عام امراء تو خیر ایک طرف ہمارے حکمران اپنے ہی دورِحکومت میں اس جرم کے مجرم بنے اور یہ جرم ثابت بھی ہوا۔کیا بہتر نہ ہوتا کہ کیوں نکالے جانے کے سوال کی بجائے اگر دیگر ممالک کے حکمرانوں کی طرح خود ہی اقتدار چھوڑ دیا جاتا تو شاید معاملہ اتنا نہ اُچھلتا جگ ہنسائی بھی نہ ہوتی اور اِن لوگوں کے دوسرے جرائم کی فائلیں بھی نہ بنتی لیکن ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جس کے عام آدمی سے لے کر خاص آدمی تک ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا اور حکمران تو اپنے زوربازو،زورِ دولت،زورِ شہرت اور معلوم نہیں کون کون سی زور آوری کے بل بوتے پر اپنے جرائم اور غلطیاں چھپا لیتا ہے۔یہاں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ احتساب کے ادارے بھی اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ حکمرانوں پر لگے الزامات سے اُن کو بری قرار دلواکر اِن کو پاک صاف کر دیا جائے۔عدالتوں کے نظریہ ضرورت قسم کے فیصلے بھی اِن کے لیے ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس بار کا فیصلہ ہضم نہیں کیا جارہا ۔رویہ صرف اِن حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر دور میں یہی چلن عام رہا ہے ۔عوام کو ایک حیرت یہ بھی ہے کہ کروڑوں، اربوں کے ان مالکوں کو آخر دوسرے ممالک کے حکمران اتنے بڑے تحفے تحائف کیوں دیتے ہیں اور کیا بحیثیت حکمران اِن تحائف کے مالک یہ ہوتے ہیں یا یہ ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں اُس ریاست کی جس کی بدولت اُن کو اتنی اہمیت دے دی جاتی ہے کہ انہیں یہ سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ہمارے یہ غریب حکمران لندن، دوبئی،قطر،جدہ میں عظیم الشان فلیٹوں کی مالک بن جاتے ہیں اور یہ فلیٹ کسی محل سے کم نہیں ہوتے۔میری بہت ساری درخواستوں کے ساتھ ساتھ ایک درخواست یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے حکمرانوں کو اپنی عزت کا کوئی خیال نہیں تو نہ ہو عوام کو کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ ملک کی عزت کا تو خیال کریں اور انہیں اس بات کا کوئی حق نہیں کہ وہ پاکستان کی بے تو قیری کا باعث بنیں اس بات پر انہیں ضرور پوچھا جانا چاہیے اوراگر سزا کے مستحق ہوں تو اُنہیں سزابھی دی جانی چاہیے اور اس سوال کا حق بھی نہیں دیا جانا چاہیے کہ اُنہیں کیوں نکالاگیا بلکہ ہر مجرم کو چاہے وہ حکمران ہی کیوں نہ ہو ہر بار جرم کی ایسی سزا دی جائے کہ وہ آئندہ ملک کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہ سکے۔

108
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...