تاریخ گواہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ہندوستان میں ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد تھے ۔ تحریک پاکستان کو کسی بھی زاویے سے جانچا یا پرکھا جائے تو یہی حقیقت کھل کر سامنے آ تی ہے کہ برّصغیر ہندوستان میں ملّت کی یکجہتی کو ممکن بنانے اورقومی ریاست کی عملی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے عظیم قائد محمد علی جناح ہی تھے جنہوں نے اپنی جہد مسلسل سے نظریاتی بنیادوں پر بّرصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی مملکتِ خداداد کی بنیاد رکھی۔ یہ درست ہے کہ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور انگریز ہندو گٹھ جوڑ کے بعد ملّت اسلامیہ کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے ابتدائی طور پر بل خصوص سرسید احمد خان اور سید امیر علی کی تعلیمی کاوشوں نے مسلمانوں کی سیاسی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ۔ گو کہ سیاسی جماعت کے طور پر مسلم لیگ کا قیام 1905 میں عمل آیا جبکہ مسلم زعمأ کے ایک وفد نے 1906 میں سر آغا خان کی قیادت میں وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی جداگانہ نمائندگی کے اصول کو تسلیم کیا گیا۔ اِسی دوران محمد علی جناح برّصغیر کی سیاست میں داخل ہوچکے تھے نے 1916 میں لکھؤ پیکٹ کے ذریعے ہندو کانگریس سے مسلمانوں کیلئے جداگانہ انتخاب کے اصول کو تسلیم کرانے میں کامیابی حاصل لیکن 1928 میں انتہا پسند ہندوؤں کی تحریک پر کانگریس نے موتی لال نہرو رپورٹ کے ذریعے لکھؤ پیکٹ کو مسترد کر تے ہوئے ہندوستان میں اکھنڈ بھارت کے تصورکو مہمیز دی۔ نہرو رپورٹ کے جواب میں جناح کی جانب سے مشہور 14 نکات پیش کئے گئے لیکن ہندو کانگریس نے مسلمانوں کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیاتب قائداعظم نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ہندو کانگریس کی جانب سے مسلم رہنماؤں میں اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے کچھ عرصہ کیلئے لندن چلے گئے جہاں اُنہوں نے برطانوی حکومت کی جانب سے بلائی گئی پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کی اور مسلم ملّت کا مقدمہ پیش کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد علی جوہر ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، لیاقت علی خان اور دیگر اہم مسلم زعمأنے قائداعظم کو ہندوستان واپس آ کرملّت اسلامیہ کی قیادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ چنانچہ قائداعظم لندن سے واپس آئے، مسلم لیگ کو نئے سرے سے منظم کیا اور 1940 میں مرحوم علامہ اقبال کی خواہش پر لاہور کے منٹو پارک میں مسلمانوں کے مستقبل کے تعین کیلئے قرارداد لاہور جسے تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے منظور کی گئی تو اِس میں خیبر سے لیکر بنگال تک کے تمام مسلم زعمأ بشمول بیگم محمد علی جوہر نے اِس قرارداد کی تائید کی چنانچہ تحریک پاکستان اپنی منزل کی طرف آگے بڑھی۔
تحریک پاکستان کی جدوجہد میں ایک اہم مرحلہ اپریل 1946 میں پیش آیا جب قائداعظم نے اکھنڈ بھارت کے حوالے سے ہندو انگریز سازش کو محسوس کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلم لیگ کے کامیاب اراکین کا کنونشن دہلی میں منعقد کیا جس میں تمام اراکین بشمول قائداعظم نے حصول پاکستان کی جدوجہد کا اعادہ کرتے ہوئے ایک وجدانی حلف نامے پر دستخط کئے جس کا آغاز اِس آئت مقدسہ سے کیا گیا: ” کہہ دو کہ میری نماز، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا اللہ رب العالمین کیلئے ہے ” اور جس کا اختتام درج ذیل آئت مقدسہ سے کیا گیا: ” اے پروردگار ہمیں استقامت سے ثابت قدم رکھ اور قوم کفّار پر ہمیں فتح و نصرت عطا فرما” ۔اِس موقع پر قائداعظم نے ہندو اکھنڈ بھارت کے فلسفے پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر ہندو اکھنڈ بھارت بنانے کے بعد مسلمانوں کے سیاسی حقوق کو ختم کرنے پر تل جائیں اور پانچ دس برس کے بعد کہیں کہ ہم جداگانہ انتخاب کو ختم کرتے ہیں تو اُنہیں کون روک سکے گا ؟ وہ روز افزوں طاقت ور ہوتے جائیں گے اور جن تحفظات کی وہ بات کر رہے ہیں وہ نیست و نابود ہو جائیں گے۔ قائداعظم کو ہندو فکر کا بخوبی ادراک تھا چنانچہ سازشوں اور بے پناہ مشکلات کے باوجود قائداعظم کی بے لوث جدوجہد پاکستان بنانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ حقیقت یہی ہے کہ جن خدشات کے تحت قائداعظم نے اکھنڈ بھارت کے تصور کو مسترد کیا تھا اُس کا مظاہرہ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی انتہا پسند ہندو پالیسیوں سے بخوبی اخذ کیا جا سکتا ہے جہاں بی جے پی کی انتہا پسند حکومت نے ہندوستان میں گؤ ماتا کے تحفظ کے نام پر بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کیساتھ ساتھ بابری مسجد کی تباہی کے بعد جنوبی ایشیا کی تاریخ سے مسلم سلاطین اور مغلیہ بادشاہوں کے دور کے خاتمے کا پروسس بھی شروع کر دیا ہے جس کیلئے پاکستانی میڈیا اور ریاستی اداروں کو چوکس رہنے اور عوام الناس کو باخبر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
اِس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ گذشتہ کئی برسوں سے تحریک پاکستان کی جدجہد کے عظیم مقاصد کوسبوتاژ کرنے اور اکھنڈ بھارت کے مخصوص مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے موجودہ بھارتی حکومت جس شد و مد سے پاکستان میں تخریب کاری پھیلا رہی ہے اُسے ہمارے اربابِ اختیار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ صد افسوس کہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر قائداعظم کی جانشین جماعت کے کچھ عاقبت نااندیش مسلم لیگی سیاسی رہنما جن میں نااہل وزیراعظم بھی شامل ہیں ، ذاتی مفادات اور بھارتی انتہا پسند وزیراعظم مودی سے ذاتی دوستی کو مہمیز دینے کیلئے بھارتی لابی کے پروپیگنڈے کے زیر اثر تحریک پاکستان کی ویژن کو شعوری یا غیر شعوری طور پر نقصان پہنچانے کیلئے افواج پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے میں پیش پیش ہیں جس کا بنیادی مقصد عوام کو تصادم کی راہ پر لگانا ہے جس کا بروقت تدارک کرنے کی ضرورت ہے ۔دریں اثنا ، بھارتی سیاسی و سماجی دانشوروں کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششیں تو کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صد افسوس کہ اِس منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا منہ توڑ جواب دینے اور نئی نسل کو تحریک پاکستان کے حقائق سے آگاہ کرنے کیلئے قائداعظم کی جانشین جماعت کی جانب سے ریاستی سطح پر نہ تو مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں نہ ہی پاکستان کے صوبوں، ضلعوں اور تعلقہ و تحصیلوں میں ریاستی سطح پر ایسے سرکاری یا نیم سرکاری فورم تشکیل دئیے گئے ہیں جو سول سوسائیٹی میں مملکت پاکستان کی اساس کے بارے میں تیزی سے پھیلنے والے بیرونی پراپیگنڈے کا مناسب توڑ کر سکے۔ نظریہّ پاکستان کے حوالے سے لاہور میں جناب مجید نظامی مرحوم کی فکر سے وابستہ نظریہ پاکستان کی تنظیم تو آج بھی متحرک نظر آتی ہیں لیکن سرکاری اداروں میں پاکستان کی اساس کے حوالے سے خاموشی طاری ہے جبکہ بھارتی سرکاری و غیر سرکاری دانشور نہ صرف نجی و سرکاری میڈیا میں منظم ڈِس انفارمیشن کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستانی نئی نسل کے ذہنوں کو مسخر کرنے کیلئے متحرک ہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں بھارتی سیاسی و سماجی دانشوروں کی جانب سے قائداعظم کو سیکولر قرار دینے اور بّرصغیر جنوبی ایشیا کو ایک سیاسی اکائی (اکھنڈ بھارت) قرار دیتے ہوئے پاکستانی نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بدستور مصروف ہے لیکن مسلم لیگی پاکستانی سویلین حکومت ریاستی سطح پر بھارتی ڈِس انفارمیشن کے اِس تاثر کو ذائل کرنے کی کوشش میں کہیں فعال نظر نہیں آتی ہے ۔ اِس حقیقت کو نہیں بھلانا چاہئیے کہ بھارت نے آئینی طور پر تو سیکولر ریاست کا لبادہ اُوڑھا ہوا ہے لیکن بنیادی طور پر بھارت ایک متعصب ہندو ریاست ہے جہاں مودی حکومت نہ صرف اقلیتوں، بل خصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کر رہی ہے بلکہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور کنٹرول لائین پر فائرنگ کو بھی روز مرہ کا معمول بنا لیا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جن کا نام تقسیم ہند کے وقت بھارتی دہشت گرد تنظیم راشتریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس آیس) کے نوجوان فدائین میں ہوتا ہے اور جن کا نام مبینہ طور پر آر ایس ایس کے اُن چند انتہا پسند ہندوؤں میں ہوتا ہے جو ماسٹر تارا سنگھ کے سکھ دہشت پسندوں کیساتھ مل کر یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر کراچی میں بم دھماکے کر کے قائداعظم کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث تھے ۔ اِس سازش کا انکشاف پاکستان کی آزادی سے چند ہفتے قبل برطانوی پولیس سپیشل برانچ پنجاب کے چیف جیرالڈ سیوج نے کیا تھاچنانچہ اِس سازش کے انکشاف کے بعد جب معاملہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن تک پہنچا تو اُنہوں نے ایک ٹاپ لیول کانفرنس میں سے سردار پٹیل کو بھی اِس انکشاف سے آگاہ کر دیا جو مبینہ طور پر اِس سازش کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ چنانچہ آر ایس ایس کے فدائین اور ماسٹر تارا سنگھ کے سکھ دہشت گرد یوم آزادی سے چند روز قبل تھر پارکر بارڈر عبور کر کے بھارت فرار ہو گئے تھے۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارتی لابی کچھ پاکستانی سیاسی و سماجی دانشوروں کی حمایت سے آجکل بھی قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتِ گرامی کو سیکولر ثابت کرنے کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی میں 11 اگست 1947 کی تقریر کو سیکولرازم کے حوالے سے معنی پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے ، بل خصوص اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قائداعظم کی ذات کو سیکولر بنیادوں پر اچھالنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ برصغیر میں مسلم تہذیب و تمدن سے نابلد یہ ثقافتی دوغلے جناح کی ذات پر کیچڑ اُچھالتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ11 اگست کی تقریر میں قائداعظم نے وہی باتیں دھرائی تھیں جن کا تذکرہ وہ 1937 سے شروع ہونے والی تحریک پاکستان کے دوران اقلیتوں کے حقوق کیلئے اسلامی فکر کے حوالے سے کرتے رہے تھے اور جنہیں اب غلط معنی پہنانے میں روشن خیالی کے نام پر میڈیا میں موجود بھارتی سیاسی و سماجی لابی سے متاثر یہ ثقافتی دوغلے آج بھی پیش پیش ہیں حتیٰ کہ اِسی فکر کو آگے بڑھانے کیلئے بی جے پی کے سابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ جو ایل کے ایڈوانی (سابق بھارتی ڈپٹی وزیراعظم) کے ہمراہ پاکستان کی آزادی سے چند روز قبل تھر بارڈر عبور کرکے بھارت چلے گئے تھے، نے چند برس قبل لکھی اپنی کتاب: ” جناح ، بھارت ، تقسیم اور آزادی” کے ذریعے جو اِس کتاب کی رونمائی کیلئے خاص طور پر پاکستان آئے تھے نے بھی اِس پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے میں خاص کردار ادا کیا ۔ اِس کتاب اور دیگر بھارتی سیاسی دانشوروں کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر کچھ پاکستانی طالب علم اور سیاسی دانشور قیام پاکستان کے حوالے سے غلط نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی تشفی کیلئے سیاق و سباق کیساتھ جواب دیا جانا ضروری ہے ۔
جسونت سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی اکھنڈ بھارت پالیسی کے پیش نظر کرپس تجاویز اور 1946 کے کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے قائداعظم کے تقسیم ہند کے اصولی موقف کو نئے معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہوئے سیاسی طور پر قائداعظم کو متحدہ ہندوستان کا حامی قرار دینے اور تقسیم ہند کی ذمہ داری BJP کی مخالف سیاسی جماعت کانگریس کی لیڈرشپ یعنی نہرو ، گاندہی اور سردار پٹیل پرڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ بلاشبہ جسونت سنگھ انتہا پسند ہندو دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں جس کی سربراہی اب انتہا پسند ہندو لیڈر نریندر مودی کر رہے ہیں ۔ کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان جس پر 1946 میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی تھی ، ایک ایسا موضوع ہے جس پر جسونت سنگھ سے قبل دیگر بھارتی سیاسی دانشور بشمول مولانا ابولکلام آزاد ، راج موہن گاندہی اور ایچ ایم سیروائی سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں چنانچہ پاکستانی مصنفہ عائشہ جلال بھی انڈیا آفس لائبریری کے متنازع ریکارڈ اور اِن مصنفوں کی کاوشوں سے متاثر ہوکر ایسے ہی متنازع امور پر بھارتی فکر کو مہمیز دیتی رہی ہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان کے حوا لے سے قائداعظم کے اصولی موقف کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر یہ تاثر دینے کی کوشش کرنا کہ قائداعظم نے تقسیم ہند کے تصور کو قطعی طور پر پس پشت ڈال دیا تھا ، انتہائی لغو خیال ہے ۔ تقسیم ہند کے موقع پر موجود ہندوستانی کانگریسی لیڈرشپ بشمول گاندہی جی ، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل اپنے دور کے شاطر ترین سیاست دان تھے۔ اُنہوں نے کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے قائداعظم کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کا نوٹس ضرور لیا تھا ۔ گاندہی اور نہرو کو درج بالا برطانوی تجاویز پر جناح کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کے پس پردہ دس سالہ طویل المعیاد منصوبے کے تحت ہندوستان میں چھ مسلم اکثریتی صوبوں / علاقوں یعنی مکمل پنجاب ، سرحد، سندھ ، بلوچستان ، مکمل بنگال اور مکمل آسام پر مشتمل ایک گریٹر پاکستان بنتا نظر آ رہا تھا لہذا ، اُنہوں نے جنوبی ایشیا میں ایسی کسی بھی اسکیم کو ہندو مفادات کے منافی سمجھتے ہوئے بلاآخر اِن تجاویز کو مسترد کردیا تھا چنانچہ اِس برطانوی اسکیم سے راہ فرار اختیار کرنے کے باوجود کانگریسی لیڈر شپ ہر قیمت پر قائداعظم کو تقسیم ہند کے مطالبے سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ جناح کو مسلم قومی ریاست کے اصولی موقف سے ہٹانے اور قائد کی قیادت میں مسلمانوں کی یکجہتی ختم کرنے میں ناکام رہے ۔ کانگریسی لیڈر راج گوپال اچاریہ نے تقسیم ہند کے مطالبے سے قائداعظم کو پاکستان کے مطالبے سے ہٹانے کیلئے اُنہیں کانگریس کی جانب سے مکمل اتھارٹی کیساتھ متحدہ ہندوستان میں وائسرائے کی کابینہ کے وزیراعظم کے طور پر قبول کرنے کا اعلان بھی کیا تھاجبکہ تحریک پاکستان کے آخری مرحلے پر اِسی حربے کو استعمال کرتے ہوئے مہاتما گاندہی نے متحدہ آزاد ہندوستان کے وزیراعظم کا عہدہ قائداعظم کو پیش کرنے کی کوشش کی لیکن قائداعظم نے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت یعنی پاکستان سے کم کسی تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔
جسونت سنگھ اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں اور اُنہوں نے قیام پاکستان کے 60 برس کے بعد یہ کتاب لکھی ہے ۔اُن کا تعلق عمر کوٹ سے رہا ہے اور وہ سابق وفاقی وزیر رانا چندر سنگھ کے فسٹ کزن ہیں لیکن وہ اکھنڈ بھارت کے ایک اور فدائی ایل کے ایڈوانی کے ہمراہ تقسیم ہند سے کچھ روز قبل ہی ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے ۔ جسونت سنگھ نے مبینہ طور پر بھارت جاتے ہوئے عمرکوٹ میں راجپوت قبیلے کے چیف رانا چندر سنگھ کو بھی بھارت جانے کیلئے کہا لیکن رانا چندر سنگھ جو پاکستان میں وفاقی وزیر بھی رہے ہیں یہ کہتے ہوئے اُن کیساتھ جانے سے انکار کر دیا کہ اُنہیں قائداعظم پر مکمل بھروسہ ہے۔ یہ اَمر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد مارچ 1972 میں جب ایل کے ایڈوانی ہندو فرقہ پرست جماعت جن سنگھ کے صدر تھے تو اُنہوں نے نئی دہلی میں پاکستانی صحافی محمود شام کوانٹرویو دیتے ہوئے یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ اُن کی پارٹی واقعی اکھنڈ بھارت کی حامی ہے اور بنگلہ دیش و پاکستان کو پُرامن طریقے سے بھارت میں شامل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتی ہے ۔ ایڈوانی کا کہنا تھا کہ وہ ابتدائی طور پر پاکستان و بنگلہ دیش میں عوامی مباحثہ کے ذریعے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر کسی کارن کوئی ملک دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہو جیسے مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی ، اگر کوئی اُنہیں ملانے کی بات کرے تو اُسے غلط نہیں سمجھا جاتا ۔ آپس کے تصادم کی پالیسی پر ہمار کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے جبکہ جغرافیائی طور پر ہم ایک اکائی ہیں اور ہمارا موقف یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر بّرصغیر پُرامن طور پر سیاسی وحدت بن جائے ۔ہم اِسے کنفیڈریشن سے شروع کرینگے ، قدرتی وسائل کو یکجا کیا جائے گا ، تینوں ملکوں کی فیڈریشن قائم کی جائے گی اور اکھنڈ بھارت بن جائے گا ۔ دراصل جسونت سنگھ کی کتاب کا مقصد بھی ایڈوانی کی اِسی فکر کو عوامی مباحثہ کیلئے پاکستان تک پہنچانا مقصود تھا تاکہ قائداعظم محمد علی جناح کو سیکولر اور تقسیم ہند کو بے معنی قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام کو قائل کرنے کیلئے جنوبی ایشیا کو سیاسی وحدت قرار دیتے ہوئے نئے عوامی مباحثے کو جنم دیا جائے اور پاکستان میں ہم خیال افراد کی مدد سے اکھنڈ بھارت کے تصور کی دبی ہوئی چنگاریوں کو جگانے کی کوشش کی جائے لیکن یہ کوشش پاکستان میں جسونت سنگھ کی کتاب کی رونمائی کرنے کے باوجود عوام الناس میں متوقع بحث کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکی ۔ کیا نریندر مودی اب پاکستانی نا اہل وزیراعظم کے ذریعے عوامی تصادم کو مہمیز دیکر اِسی فکر کو ہوا دے رہا ہے، اِس پر ہمارے فکر و نظر رکھنے والے اداروں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے؟
آئیے ایک نظر اِس اَمر پر ڈالتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے حوالے سے قائداعظم کے سیکولر ہونے کے پراپیگنڈے کی کیا حقیقت ہے ۔ یہ درست ہے کہ ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند کے زمانے میں قائداعظم نے اپنا سیاسی سفر اُس وقت کی واحد سیاسی جماعت کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہی شروع کیا تھا لیکن جب وہ کانگریس میں تھے تب بھی اور بعد میں جب وہ مسلم لیگ میں آئے تب بھی اُن کی بہترین صلاحیتیں ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی بحالی کی آواز بلند کرنے کے حوالے سے ہی سامنے آتی رہی ۔ یہ درست ہے کہ قائداعظم 1929 میں مسلم زعماء کی آپس کی چپقلش کے باعث چند سال کیلئے لندن چلے گئے تھے لیکن اُن کی غیرموجودگی میں علامہ اقبال کو 1930 کے خطبہ الہ آباد میں ہندوستان میں مسلمانوں کی مستقبل کی مملکت کے بنیادی خدوخال کی وضاحت کرنے کا موقع ملا ۔ بہرحال علامہ اقبال چونکہ فلسفی شاعر ہونے کے ناطے قومی ویژن کے خالق تھے ، لہذا ، اُنہوں نے مسلم لیگ کی صدارت کے دوران محسوس کیا کہ مسلمانانِ ہند کی قیادت قائداعظم سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا چنانچہ علامہ اقبال نے قوم کا درد رکھنے والے چند دیگر قائدین بشمول لیاقت علی خان قائداعظم کو ہندوستان واپس آ کر قوم کی قیادت سنبھالنے کا مشورہ دیا ۔ قائداعظم واپس آئے ، مسلم لیگ کی تنظیم ء نو کی اور 1937 میں تحریک پاکستان کی ابتدا کی ۔ تحریک پاکستان کی دس سالہ تاریخ گواہ ہے اور تحریک کے دوران قائداعظم کے سینکڑوں بیانات اُن کی فکر و نظر کے شاہد ہیں لہذانوجوان نسل کی تشفی کیلئے قائد کی تقریروں کے چند اقتباسات ہی کافی ہیں جن کے مطالعہ سے ہندوستان میں قائداعظم کے اسلامی فکر و نظر اور تشخص کے بارے میں کسی اور وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی :
(1) 15 اکتوبر 1937 میں لکھنؤ کے خطبہ صدارت میں قائداعظم نے فرمایا ، آٹھ کروڑ مسلمانوں کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اُن کی تقدیر اُن کے اپنے ہاتھوں میں ہے اور وہ ایک متحد ، ٹھوس ، اور منظم طاقت کی حیثیت سے ہر خطرے اور مزاحمت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، مسلمانوں ، تمہارے اپنے ہاتھوں میں ساحرانہ قوت موجود ہے ، اب تمہیں اپنے اہم فیصلوں پر ڈٹ جانا چاہئیے ۔
(2) 26 دسمبر 1938 میں ہندو واردھا سکیم پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پٹنہ میں قائداعظم نے فرمایا کہ ہندو ذہنیت اور ہندو نظریہ کی ترویج کی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں اِسے قبول کرنے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔کیا مسلمانوں نے کہیں بھی ہندوؤں کو اسلامی ثقافت پڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن اِس کے باوجود اگر مسلمان کہیں خفیف سی آواز بھی بلند کرتے ہیں کہ ہندو ثقافت کیوں ہمارے سر منڈھے جا رہی ہے تو اُنہیں فرقہ پرست اور اور شورش انگیز ٹھہرایا جاتا ہے ۔
(3) 22 جون 1939 میں مسودہء قانون مال گزاری پر ہندو اکثریت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوا کرے اور تم سمجھا کرو کہ سروں کی گنتی ہی آخری فیصلہ ہے لیکن تم ہماری روح کو کبھی فنا کرنے میں کامیاب نہیں ہو گے ، تم اس تہذیب کو مٹا نہ سکو گے ، اُس اسلامی تہذیب کو جو ہمیں ورثہ میں ملی ہے ۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے ، زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا ، تم ہمیں مغلوب کرو ، ہمارے ساتھ بدترین سلوک کرو ، ہم ایک نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر مرنا ہی ہے تو ہم لڑتے لڑتے مر جائیں گے۔
(4) 13 نومبر 1939 میں یوم عید کے موقع پر قائداعظم نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ہمیں قرآنی دلائل کی روشنی میں اپنے اخلاق و عقائد کو درست کرنا چاہئیے اور اِسی روشنی میں حق و صداقت کی جستجو بھی کرنی چاہئیے ، اگر ہماری صداقت پرستی بے لاگ ہے تو ہم ضرور اپنی منزل کو پا لیں گے ۔ صداقت کے راستے پر چلتے ہوئے ہمیں اتنے ہی حصے پر قناعت کرنی چاہئیے جس کو ہم دوسروں کی حق تلفی کئے بغیر حاصل کر سکتے ہیں ، آخر میں میری یہ تاکید نہ بھولنا کہ اسلام ہر مسلمان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی قوم کیساتھ مل کر اپنا فرض ادا کرے ۔
(5) 25 فروری 1940 میں قائداعظم نے مسلم لیگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا مقصد کیا ہے ، اگر اب بھی تم نے ہمارا مقصد نہیں سمجھا تو میں کہونگا کہ تم کبھی نہ سمجھ سکو گے ، یہ بالکل صاف ہے ، برطانیہ عظمیٰ ہندوستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے ، مسٹر گاندہی اور کانگریس مسلمانوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ہم نہ برطانیہ کو اور نہ مسٹر گاندہی کو مسلمانوں پر حکومت کرنے دیں گے ، ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں ۔
(6) 23 مارچ 1940 میں لاہور میں تاریخی خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : قومیت کی تعریف چاہے کسی انداز میں کی جائے ، مسلمان ہر طرح سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور اِس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کی علیحدہ اور خود مختار ریاست ہو ۔ ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسائیوں کیساتھ امن و امان کی زندگی بسر کریں ، ہماری تمنا ہے کہ کہ ہماری قوم اپنی روحانی ، اخلاقی ، اقتصادی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو نما بخشے اور وہ طریق عمل اختیار کرے جو اُس کے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے عطیاتِ قدرتی اور نصب العین سے ہم آہنگ ہو ۔ اے خادمانِ اسلام ، اپنے اربابِ ملت کو اقتصادی ، سیاسی ، تعلیمی ، اور معاشرتی تمام پہلوؤں سے منظم کرو ، پھر تم دیکھو گے کہ تم یقیناًایسی قوت بن گئے ہو جس کی طاقت ہر شخص تسلیم کرے گا ۔
(7) 2 مارچ 1941 پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : اسلامیان ہند کیلئے یہی ایک حل ہے جو آزمائش ، تجربہ اور وقت کی کسوٹی پر پورا اُترتا ہے کہ ہندوستان کو تقسیم کر دیا جائے تاکہ ہندو اور مسلمان ، اقتصادی ، معاشرتی ، سیاسی اور تمدنی لحاظ سے اپنی اپنی قومی روایات اور خدائی عطیات کے مطابق نشونما پائیں ۔ ہماری جدوجہد کا مقصد مفید مواقع کا حصول ہے تاکہ مسلمان اپنے قومی ارادوں کو عملی جامعہ پہنا سکیں ۔ یہ زندگی اور موت کا معرکہ ہے کیونکہ ہماری سعی صرف مادی فوائد کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ تو مسلمانوں کی بقائے روح کیلئے بھی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ مسلمانوں کو اِس حقیقت کا پورا احساس ہے کہ اگر ہم شکست کھا ئیں گے تو سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔
(8) اپریل 1941 میں مدراس میں اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : اقلیتیں جہاں بھی ہوں اُن کے تحفظ کا انتظام کیا جائے گا کیونکہ کوئی حکومت اور کوئی مملکت اپنی اقلیتوں کو اعتماد اور تحفظ کا یقین دلائے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ مجھے یقین ہے کہ جب وقت آئے گا تو ہمارے ملکی خطوں کی اقلیت کو ہماری روایات ، ثقافت ، اور اسلامی تعلیم سے نہ صرف انصاف و صداقت ملے گی بلکہ اُنہیں ہماری کریم النفسی اور عالی ظرفی کا ثبوت بھی مل جائے گا ۔
(9) یکم جولائی 1942 میں ایسوسی ایٹ پریس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ ہم مسلمان اپنی تابندہ تہذیب اور تمدن کے لحاظ سے ایک قوم ہیں ، زبان و ادب ، فن تعمیر ، شعورِ اقتدار و تناسب ، قانون و اخلاق ، رسم و رواج ، تاریخ و روایات ، اوررجحان و مقاصد ، ہر لحاظ سے ہمارا زاویہ نگاہ اور فلسفہ حیات موجود ہے اور بین الاقوامی قانون کی ہر تعریف ہماری قومیت کو سلامی دینے کیلئے تیار ہے ۔
(10) 15 نومبر 1942 میں قائداعظم نے جالندھر میںآل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : آپ ہندوستان کے مسلمان طلباء کی اِس طرح تنظیم کیجئے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں اور ملت اسلامیہ کی معاشرتی ، اقتصادی اور ترقی و ارتقا کیلئے تعمیری لائحہ عمل ترتیب دیں ۔ ثقافت اسلامی اور تعلیمات محمدی کا احیاء کریں اور ہندوستان کی مختلف اقوام کے درمیان بھائی چارے اور خیر سگالی کے احساسات کو آگے بڑھائیں ۔
(11) 18 دسمبر 1943 میں برطانوی صحافی بیورلے نکولس نے قائداعظم سے انٹرویو کے دوران یہ سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو ایک قوم کہتے ہیں تو کیا آپ کے پیش نظر مذہب ہوتا ہے ۔ قائداعظم نے اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : کسی حد تک آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ اسلام صرف مذہبی عبادات یا اعتقادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل طریقِ حیات ہے ۔ میں جب مسلمانوں کو ایک قوم کہتا ہوں تو زندگی کے تمام شعبے اور زندگی کی تمام ضروریات میرے پیش نظر ہوتی ہیں ۔ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ، ہر اعتبار سے ہماری تاریخ علیحدہ ہے ، ہمارے ہیرو الگ ہیں ، ہمارا آرٹ مختلف ہے ، ہمارا فن تعمیر ، ہماری موسیقی ، ہمارے قوانین ، ہمارا آئین سب کچھ یکسر مختلف ہے ۔ ہندو گائے کو مقدس دیوی گردانتے ہیں ہم گائے کا گوشت کھاتے ہیں ، ہم اصل میں ہندوؤں سے ایک الگ وجود ہیں ، زندگی میں ہماری کوئی قدر مشترک نہیں ہے ، ہمارا لباس ، ہمارے کھانے ، ہماری معاشی زندگی ، ہمارے اصولِ تعلیم ، ہمارا خواتین کیساتھ رویہ ، ہمارا جانوروں کے متعلق نظریہ سب کچھ ہی مختلف ہے ۔
(12) 21نومبر 1945 میں پشاور میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : میں نو سال کے بعد پشاور آیا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ مسلم لیگ اب پٹھانوں میں مقبول ہو گئی ہے ، یہاں مسلمان کانگریس کی ریشہ دوانیوں کا شکار تھے ، مسلمان ایک خدا ، ایک کتاب اور ایک رسول میں یقین رکھتے ہیں ، مسلم لیگ کی کوشش یہی ہے کہ ان کو ایک پلیٹ فارم اور ایک پرچم تلے جمع کیا جائے اور یہ پرچم پاکستان کا پرچم ہے ۔ہمارا کوئی دوست نہیں ہے ، ہمیں نہ انگریز پر بھروسہ ہے اور نہ ہندو پر ہم دونوں کا مقابلہ کریں گے خواہ وہ آپس میں متحد ہی کیوں نہ ہو جائیں ۔
(13) 11 جولائی 1946 میں حیدرآباد دکن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا: اِس وقت ہندو مسلمان کی جنگ ہو رہی ہے ، لوگ پوچھتے ہیں کون فتح یاب ہوگا ، علمِ غیب خدا کو ہے لیکن میں ایک مسلمان کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم قرآن مجید کو اپنا آخری اور قطعی رہبر بنا کر شیوہء صبر و رضاِ خداوندی پر کاربند رہیں اور اِس ارشاد خداوندی کو فراموش نہ کریں کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت یا کئی طاقتوں کا مجموعہ بھی مغلوب نہیں کر سکتا ۔ ہم تعداد میں کم ہونے کے باوجود فتح یاب ہونگے جس طرح مٹھی بھر مسلمانوں نے ایران و روم کی سلطنتوں کے تختے اُلٹ دئیے تھے ۔
(14) 30اگست 1946 میں قیصر باغ بمبئی میں جشن عید کے موقع پر عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : بلاشبہ آج اسلامی دنیا کیلئے مسرت و شادمانی کا دن ہے لیکن ہم حقائق سے چشم پوشی نہیں کر سکتے ، ہمارے سروں پر سیاہ بادل کا ایک ٹکڑا منڈلا رہا ہے ، ایسے نازک حالات میں میں اسلامیان ہند سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آنے والے خطرات کو محسوس کریں اور اپنے اختلافات بھول کر سارے ملک میں متحد و منظم ہو جائیں ۔ میں خاص طور پر جمعیت العلماء ہند ، مجلس احرار ، خاکسار ، اور مسلم مجلس سے اپیل کرتا ہوں کہ اسلام کی فلاح و سربلندی کی خاطر متحد ہو جائیں اور مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہو جائیں ۔ ہمارے مخالفین اِس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ہم میں اتنی قوت نہیں ہے کہ ہم حالات کا مردانہ وار مقابلہ نہ کر سکیں ، ہمیں اُنہیں احساس دلانا ہے کہ اُنہوں نے اسلامیانِ ہند کے عزم کا کتنا غلط اندازہ لگایا ہے ۔اگر ہم متحد و منظم ہو کر مقابلہ کریں تو مخالفین کی تمام طاغوتی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے ۔
(15) 27 مارچ 1947 میں بمبئی چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں ہندو قوم کی بہت عزت ہے ، اُن کا اپنا دھرم ہے ، اپنا فلسفہ ہے ، وہ اپنا تمدن رکھتے ہیں عین اُسی طرح جس طرح مسلمان اپنا ایمان ، فلسفہِ حیات اور تمدن رکھتے ہیں لیکن دونوں الگ الگ قومیں ہیں اور میں پاکستان کیلئے لڑ رہا ہوں کیونکہ ہمارے مسائل کا یہی حل ہے ۔ ہم ہندوؤں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کیساتھ منصفانہ اور برادرانہ سلوک کیا جائے گا ، اِس کے ثبوت میں ہماری تاریخ شاہد ہے ، اسلامی تعلیمات نے ہمیں یہی سکھایا ہے ۔
مندرجہ بالا تناظر میں کیا قیام پاکستان سے قبل قائداعظم کی سینکڑوں تقریروں میں سے مندرجہ بالا چند اقتباسات سے کہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ایک سیکولر ریاست کی جدوجہد کر رہے تھے ؟ یقیناً ایسا نہیں تھا ۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو مملکتِ پاکستان کے خدوخال واضح کرنے کیلئے زیادہ وقت نہیں مل سکا ۔ پاکستان ایک نیا ملک تھا اُس کا دارلحکومت ابھی تشکیل دیا جانا تھا اور ہر کام الف ب سے ہی شروع کرنا تھا جبکہ بھارت کو نئی دہلی میں سجا سجایا دارلحکومت ملا تھا لیکن پھر بھی قائداعظم نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام اور لاکھوں لٹے پٹے مہاجروں کی آباد کاری کے مسائل کو اخوت اسلامی کے جذبے سے حل کیا ، کشمیر میں بھارتی مداخلت کا مقابلہ کیا ، آزاد کشمیر کی حکومت قائم ہوئی ، وزیرستان اور بلوچستان سے فوجوں کو واپس بلا کر خسارے کے صوبوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور مشکل ترین مسائل کے باوجود مملکتِ پاکستان کا پہلا ہی بجٹ منافع کا بنا ۔ کشمیری مہاجروں کی آمدسے پیدا ہونے والے مسائل کا مقابلہ کیا اور شدید بیماری کے باوجود اپنی جہد مسلسل سے بّرصغیر جنوبی ایشیا میں ایک آزاد اسلامی ملک کی بنیاد رکھ دی جو آج ہماری کرپشن ، بداعمالیوں ، غفلتوں اور کوتاہیوں سے دولخت ہونے کے باوجود محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بے پایاں صلاحیتوں کے باعث ایک ایٹمی ملک ہے ۔ اسلامی فلاحی ریاست کے حوالے سے قائداعظم کا ویژن بہت واضح تھا ۔ اُنہوں نے ظلمات کے اندھیروں میں مسلمانوں کیلئے آزادی کی قندیل روشن کی اور ہندوستان میں ایک منتشر و شکست خوردہ قوم کو قومی یکجہتی کی لڑی میں پُرو کر آزادی کی فضا میں جینے کا قرینہ سکھایاجودنیا کی تاریخ میں یقیناًبے مثال اَمر ہے ۔ قائداعظم جلد ہی اِس بے ثباتی دنیا سے چلے گئے لیکن قوموں کی زندگی میں پاکستان کی ایک بے مثال یادگار چھوڑ گئے ۔ اُن کی بے وقت موت پر ملکی اور غیر ملکی شخصیتوں نے اُن کی شخصیت کے بارے جن خیالات کا اظہار کیا وہ بھی اب تاریخ کا سنہری باب ہے ۔
ممتاز عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی جنہوں نے قائداعظم کی نماز جنازہ کی امامت بھی کی تھی نے کہا کہ ہندوستان نے اورنگزیب عالمگیر کے بعد اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس نے مسلمانانِ ہند کی بربادی اور مایوسی کو فتح میں بدل دیا ۔ مجلسِ احرار کے سربراہ سید عطا اللہ شاہ بخاری جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد لاہور کے ایک جلسہ عام میں یہ کہہ کر اپنی جماعت توڑنے کا اعلان کیا تھا کہ متحدہ ہندوستان کی حمایت اُن کی غلطی تھی ، قائداعظم کی وفات پر اُنہوں نے کہا کہ قائداعظم ایک عہد آفریں شخصیت تھے ، اسلامی تاریخ میں اُنہوں نے بیش بہا اضافہ کیا ہے جوپاکستان کے نام سے رہتی دنیا تک یادگار رہے گا ۔ خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ مشرقی نے کہا کہ قائداعظم کا عزم پائندہ اور راسخ تھا ، وہ بہادر اور بیباک سپاہی تھے جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے ۔ مشہور ہندوستانی سیاسی دانشور مسز سروجنی نائیڈو کا کہنا تھا کہ جناح کی جسمانی ناتوانی کے پیچھے ذہن اور کردار کی غیر معمولی قوتیں پوشیدہ تھیں ۔سروجنی نائیڈو نے تقسیم ہندوستان سے قبل بمبئی کے ایک اجتماع میں کانگریسی مسلمان لیڈر کی جانب سے قائداعظم کو انگریزوں کا زر خرید کہنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے ، میرے دوست تم بک سکتے ہو ، میں بک سکتی ہوں ، گاندہی جی اور جواہر لال نہرو کا سودا بھی شاید ہو سکتا ہے مگر جناح کو خریدا نہیں جا سکتا ۔ جواہرلال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈٹ نے کہا کہ جناح ناقابل شکست تھے ، اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندہی ہوتے لیکن کانگریس کے پاس صرف ایک جناح ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں بنتا ۔ سر فرانسس موڈی سابق انگریز گورنر پنجاب نے کہا کہ جناح کا مقابلہ محض ہندوؤں کی دولت اور قابلیت سے ہی نہیں تھا بلکہ تمام انگریز حکام او برطانیہ کے اکثر سیاستدان بھی اُن کے خلاف تھے لیکن اُنہوں نے دباؤ کے باوجود اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ۔ مشہور ہندو ایڈیٹر جگت نارئین لال نے لکھا کہ جناح کسی بھی طاقت کے آگے جھکنا نہیں جانتے تھے ، اُنہوں نے ہر محاذ پر ہندوؤں اور انگریزوں کا مقابلہ کیا اور اُنہیں شکست دی ۔ مشہور دانشور اور انگریز مصنف پروفیسر سٹینلے والپرٹ نے جناح کو دنیا بھر میں سیاسی و سماجی رہنماؤں کے مقابلے میں ممتاز ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے لکھا: “Few individual significantly altered the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Muhammad Ali Jinnah did all three”. ۔ ہندوستانی اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبیڈکر جو ہندوستان کے سیکولر آئین کے بانی تھے نے کہا کہ جناح اپنے ارادوں اور رائے میں پختہ تھے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہو ں کہ جناح کسی قیمت پر بھی انگریز کے آلہ کا ر نہیں بنے ۔ برطانیہ کے آخری اور متنازع وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو جواہر لال نہرو کی ایما پر بھارت کے متنازع گورنر جنرل بن گئے تھے نے کہا کہ جناح چٹان کی طرح اٹل اور مستحکم مگر انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ کے انسان تھے اور میرے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہو سکا کہ میں اُن کے سینے کی گہرائیوں میں اُتر سکوں اور اُنہیں متحدہ ہندوستان پر قائل کر سکوں ، بلاآخر مجھے جناح کے موقف کے سامنے جھکنا پڑ ا ۔ اندریں حالات، حامیوں اور مخالفوں کے اتنے سنہرے کلمات کی روشنی میں یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قائداعظم پاکستان میں میثاق مدینہ کی بنیاد پر اقلیتوں کو برابری کے سیاسی حقوق دینے کے ضرور حامی تھے کسی پہلو سے سیکولر نہیں بلکہ مسلم تمدن کے احیأ کیلئے ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد تھے۔ فروری 1948 میں قائداعظم نے امریکی عوام کے نام ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ دستور ساز اسمبلی کو ابھی پاکستانی آئین کی تشکیل کرنی ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ آئین جمہوری نوعیت کا ہوگااور اِس میں اسلام کے بنیادی اصول شامل ہونگے جو آج بھی اِسی طرح قابل عمل ہیں جیسے تیرہ سو سال پہلے تھے ۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت کا درس دیا ہے اور انسانوں کیساتھ مساوات اور انصاف کا سلوک کرنا سکھایا ہے۔ پاکستان کا آئین اِنہی زریں اصولوں پر مبنی ہوگا۔ قائداعظم آج اِس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اِس سے بہتر کوئی اور عمل نہیں ہوسکتا کہ ہم قومی یکجہتی کے حوالے سے اُن کی تعلیمات پر عمل کرکے پاکستان کو کرپشن ، بدانتظامی اور بدعنوانی کے موجودہ بحران سے نکال کر ایک عظیم تر مملکت بنا دیں ۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو ۔

81
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...