مغرب نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا اور بڑی منصوبہ بندی کرکے جوڑا گیا۔امریکہ اور روس کی سرد جنگ اور افغانستان میں دونوں ملکوں کی مداخلت اور موجودگی بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ تھا نہ صرف افغان بلکہ پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمان ممالک سے نوجوان افغانستان پہنچے اور مجاہدین کہلائے۔امریکہ اور پورے مغرب نے انہیں دنیا کے امن کا پیغامبر مانا اور جانا اور انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔یہ مسلمان آئے بھی جہاد کے جذبے سے تھے لیکن جہاد ختم ہو گیا تو تب بھی پوری دنیا سے آئے ہوئے یہ نوجوان اپنے ملکوں کو واپس نہ ہوئے بلکہ یہی رہ گئے انہوں نے مقامی لڑکیوں سے شادیاں کر لیں یوں مقامی آبادی پر ان کے اثرات پختہ تر ہوتے گئے اور اندر ہی اندر انہیں امداد کا سلسلہ بھی مختلف ملکوں سے جاری رہااور شدت پسندی کا منصوبہ بھی مکمل ہوتا رہا لیکن اب کی بار منصوبے کو ذرا مختلف انداز میں لیا جانے لگااور ان کا نام مجاہدین سے بدل کر طالبان اور طالبان سے شدت پسندہو گیااور یہی شدت پسند دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگے اور دہشت گرد بن گئے۔منصوبہ کافی کامیابی سے چلتا رہاان لوگوں کو اسلام کے نام پر اسلام کے خلاف استعمال کیا جانے لگااور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیااور یوں منصوبہ آگے بڑھتا رہا لیکن افسوس کہ اس سازش میں وہ مسلمان بھی شامل ہوتے گئے جو صرف خود کو مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ دوسروں کے خلاف کفر کا فتویٰ ہی اُن کے دین کی ابتداء اور انتہا ہوتی ہے۔ انہی لوگوں نے ان دہشت گردوں کو سپورٹ کیا اور اِن کی قوت اور طاقت کا باعث بنے۔ اسی طرح میڈیا نے بھی انہیں حد سے زیادہ اہمیت دے کر ایک مخصوص ذہنیت کے لیے پُر کشش بنا دیا۔ہماری اسلامی سیاسی جماعتوں نے بھی نہ صرف یہ کہ اِن کی کھل کر مذمت نہیں کی بلکہ بسا اوقات اِن کو بلواسطہ یا بلاواسطہ تعاون فراہم کیا اور جب معاملات ہاتھ سے نکل گئے تو کبھی کبھار علماء کے فتوے بھی سامنے آنے لگے کیونکہ ایسا نہیں تھا کہ تمام علماء اسی نکتہء نظر کے حامی تھے جس نے اس ذہنیت کو پیدا کیا اور ترویج دی۔فتووں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس سازش کا مقابلہ صرف فتووں سے ممکن نہیں بلکہ آگے بڑھ کر ان پر عمل کرنے سے ہے۔ایسی ہی ایک نئی کوشش کی گئی ہے اور 20 جولائی کو پاکستان علماء کو نسل کی جانب سے ایک پر لیس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستانی قوم کومذہب یا فرقہ کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور ہمیں پاکستان سے مذہب اور مسلک کے نام پر دہشت گردی کر ختم کرنا ہوگا۔ اس بار علماء کے اس گروپ نے اگست کے مہینے کو ’’ماہِ پاکستان‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے ۔یکم سے 31 اگست تک’’تحفظ پاکستان‘‘کے عنوان سے عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی اور لوگوں کو انتہا پسندی کے خلاف اور باہم متحدکرنے کے لیے سیمینار اور تقریبات منعقد کی جائیں گی ۔اگر یہ تمام کوشش ،مربوط اور منظم طریقے سے کی جائیں ا ور اس میں خلوص نیت شامل ہو تو یقیناًایک اہم کوشش ہوگی اور یہ بھی نہ ہو کہ اگست ختم ہوتے ہی یہ مہم یکسر ختم کر دی جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ معاشرے کی ذہنیت بدل دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سمینار اور کانفرنس سے زیادہ اہم عام آدمی تک اپنی بات پہنچاناہے اور کانفرنسوں اور سمیناروں میں بھی مختلف مکاتیبِ فکر کے علماء کی شرکت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے اپنے مسلک کے لوگوں کے اوپر کام کر سکیں۔ یہاں مقصد کسی کا مسلک تبدیل کروانا نہ ہو بلکہ دوسرے مسلک اور مکتبہء فکر کے لیے صبر اور برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہو ۔ وہ اختلافی مسائل جو تنازعات کا باعث بنتے ہیں اُن پر بحث مباحثے اور عوامی مقامات پر اُن کے تذکرے سے مکمل اجتناب کیا جا نا چاہیے بلکہ اس عمل پر مکمل پابندی لگا دینی چاہیے تا کہ دوسرے فرقے یا مسلک کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ بجائے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے اسے اسلام کی عالمگیریت مان لینا چاہیے کہ اِس میں مختلف مسائل پر مختلف رائے موجود ہیں لیکن اس اختلاف کے باوجود ہم مسلمان ہیں اور اس کی وجہ وہ بنیادی عقائد ہیں جن پر کوئی اختلاف نہیں یعنی ایک خدا ایک رسولﷺ اورایک قرآن ہی مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔سب کا وہی ایمانِ مفصل اور وہی ایمانِ مجمل ،وہی روزِجزا و سزا ، اُسی نماز ،روزہ ،زکوۃاور حج پر سب کے دین کی عمارت ایستادہ، تو اِن میں اونچ نیچ یا تھوڑے بہت فرق پر دوسرا کافر کیسے بن جا تا ہے۔معاشرے میں مذہبی عدم رواداری نے ہی بہت سارے مسائل کو جنم دیا ہے اور دہشت گردی بھی اسی کا شاخسانہ ہے جس نے ایک مسلمان کو دوسرے سے لڑایا ہوا ہے اگر چہ اس لڑائی میں عام آدمی کی شراکت بہت کم ہوتی ہے وہ اپنے غم روزگار سے ہی فارغ نہیں اور اپنے روز مرہ کے معاملات میں دین کے بنیادی عقائد و فرائض ہی ادا کر پاتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی دین کے بارے میں کم معلومات کا فائدہ ہر ایک بہت آسانی سے اُٹھا لیتا ہے اور بڑی آسانی سے اُسے استعمال کر لیتا ہے اور پھر فرقہ وارنہ دہشت گردی کے وہ واقعات جنم لیتے ہیں جو ہمارے لیے باعثِ شرم ہیں اور ہمارے دشمن کے لیے کامیابی ۔وہ بڑے آرام اور تحمل سے اپنا کام کر رہا ہے سچ یہ ہے کہ ہمیں اُس سے شکایت کا کوئی حق بھی نہیں کیونکہ دشمن تو دشمن ہے اُس نے تو اپنا کام کرنا ہے اور ہمارے خلاف ہی کرنا ہے اور اگر ہم اسی طرح اپنی کمزوریوں کو اُس کے ہاتھ میں دیتے رہیں گے تو وہ ان کا فائدہ اُٹھا تا رہے گا اور ہمیں نہ صرف مزید کمزور کرتا رہے گا بلکہ زخمی کرتا رہے گا ۔ہمارے بوڑھے، بچے، جوان،مرد اور عورتیں اسی طرح دہشت گردی کی نظر ہوتے رہیں گے دشمن کامیاب ہوتا رہے گا اور ہم اپنی خفت مٹانے کو بہادر قوم ہونے کا اعلان کرتے رہیں گے یہ بتاتے رہیں گے کہ ہمارے حوصلے جوان ہیں ہماری ہمت بلند ہے یہ بہتا ہوا خون ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا اور یہ کہ ہم دشمن کی کمر توڑ چکے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مان لیا یہ سب درست ہو گا کیونکہ مجبوری ہے اس ملک کے عام شہری کو بہر حال اسی ملک میں رہنا ہے اپنے رہنماوں کی طرح اُسے راہ فرار اختیار کرکے دوسرے ملکوں میں پناہ نہیں لینی لہٰذاوہ بیچارا مجبوراََبہادر ہے لیکن سٹیج پر کھڑے ہو کر بلند بانگ دعوے کرنے کی بجائے اگر ہمارے فوجی، سیاسی اور مذہبی رہنما ٹھوس اور عملی اقدامات کر کے دہشت گردی سے نجات کی سنجیدہ کوشش کریں تو زیادہ بہتر ہو گا اور قوم ان کی زیادہ مشکور ہو گی بہ نسبت اس کے کہ وہ صرف خالی خولی دعوے کریں۔پاکستان علماء کونسل نے جس طرح مسئلے کا احساس کیا ہے وہ یقیناًقابلِ تحسین ہے لیکن اسے نہ تو ہالوں ، کانفرنسوں اور سمیناروں تک محدود ہو نا چاہیے اور نہ ہی اسے وقت کا قیدی ہونا چاہیے ۔اگست کے مہینے سے آگے بھی انہیں اپنے فرائض کا احساس رہنا چاہیے اور ’’تحفظ پاکستان‘‘ کی اس مہم کو پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک ہر صورت جاری رہنا چاہیے ایک محفوظ اور مضبوط پاکستان کے حصول تک۔

50
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...