دوسری جنگ عظیم کے بعد یوں تو دنیا کے کئی ممالک اور علاقوں میں آزادی کے لئے جدوجہد کی گئی جن میں سے کئی کامیاب اور ناکام رہیں لیکن ان میں مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کی تحریک اس اعتبار سے منفرد اور نمایاں ہے کہ یہ تحریک نہ صرف گذشتہ 7 عشروں سے جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ بھارت کی غاصب ریاستی حکومت نے کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ان کشمیریوں کا جذبہ حریت اور آزادی بدستور متحرک اور فعال ہے۔ ساری مہذب دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ اور باخبر ہے کہ امن اور جمہوریت کے خود ساختہ دعویدار بھارت نے مقبوضہ وادی کشمیر کے بے قصور اور نہتے عوام کو نہ صرف عملی طور پر گذشتہ 70 برسوں سے اپنا غلام بنا رکھا ہے بلکہ ان پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے ہیں جو انسانی تاریخ میں شرمناک حوالے سے محفوظ رہیں گے۔اس تناظر میں یہ امر واقعہ اب تاریخی حیثیت اختیار کر گیا ہے کہ 19 جولائی کو کشمیری عوام بھارت کے ظلم و ستم اور ریاستی قبضے کے خلاف ’’یوم سیاہ‘‘ مناتے ہیں۔ اس موقع پر دنیا بھر میں موجود کشمیری اور پاکستانی باشندے جب بھارت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو مہذب دنیا کے باشعور اور باضمیر عوام خاص طور پر سکھ برادری، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔
مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کا یہ عالم ہے کہ وہاں پر ریاستی سکیورٹی فورسز نوجوانوں کو اغواء کرتی ہیں، بزرگوں کو اپاہج بنا دیتی ہیں، خواتین کی عصمت دری کرتی ہیں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، غرض اپنی آزادی کے لئے آواز بلند کرنے والے ہر فرد کی زندگی چھین لی جاتی ہے۔ صورتحال کی سنگینی اورنئی دہلی کے احساس جرم کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ وادی میں کسی غیر ملکی صحافی، سیاسی شخصیت ، انسانی حقوق کی تنظیم کے نمائندے یا مبصر کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ انسانی اور شہری حقوق کی پامالی کا یہ عالم ہے کہ اب وادی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کرنا بھی جرم بن گیا ہے بلکہ بعض سیاسی اور سرکاری شخصیات کی جانب سے تو یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں پاکستان کا پرچم یا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والے شخص کو موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔
مقبوضہ وادی کشمیر کے عوام اس اعتبار سے ساری دنیا کی داد و تحسین اور حوصلہ افزائی کے بجا طور پر مستحق ہیں کہ وہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنے سیاسی حقوق کے لئے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ مکمل طور پر غیر مسلح ہیں اور ان کی سرگرمیوں میں روایتی جلسہ اور جلوس شامل ہیں۔ وہ عالمی رائے عامہ کی توجہ بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرانے کے لئے پرامن اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کی کوشش رہتی ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کو قابض بھارتی حکمرانوں کے جبر و تشدد سے آگاہ کیا جائے۔ ساری دنیا کو بخوبی معلوم ہے کہ مقبوضہ وادی کے کشمیری عوام کی جدوجہد کا تعلق تشدد یا دہشت گردی سے نہیں ہے بلکہ ان کی جدوجہد کا محور اس حق خودارادیت کا حصول ہے جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے ان سے کر رکھا تھا اور جس کے لئے خود بھارتی قیادت نے عالمی ادارے کے دروازے پر جا کر دستک دی تھی۔
مقبوضہ وادی میں یوں تو کئی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں متحرک ہیں لیکن ان میں حریت کانفرنس سب سے نمایاں اور فعال ہے۔اس حوالے سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیریوں کو اقتصادی طور پر مفلوج اور محتاج بنانا اور انہیں دانے دانے کیلئے ترسانا روز اول سے بھارت کی پالیسی ر ہی ہے۔ بھارت نے کبھی کشمیری عوام کو خود کفیل بننے کا موقع نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کشمیریوں کی سیاسی و اقتصادی آزادی اور خود کفالت کے لیے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔سیلاب سے ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی طرف سے جو وعدہ کیا گیا ہے وہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے بلکہ یہ ستم رسیدہ کشمیریوں کے ساتھ سیاسی انتقام کا بدترین مظاہرہ ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔کشمیریوں کے پاس وافر مقدار میں قدرتی وسائل اور ذخائر موجود ہیں اگر ان کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو کشمیری عوام نہ صرف مالی لحاظ سے خود کفیل بلکہ دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہونگے۔ اس کے برعکس کشمیریوں کے تمام تر وسائل پر نئی دہلی کا قبضہ ہے اور ہر سطح پر ان کا بدترین معاشی استحصال جاری ہے۔ ریاستی ظلم و تشدد کے حوالے سے یہ نشاندہی کافی ہے کہ ایک طرف تو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے اس سوچی سمجھی سازش پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ان ہندوؤں کو دوبارہ آباد کیا جائے جو 1947ء، 1965ء اور 1971ء میں پاک بھارت عسکری تصادم کے باعث وادی سے اپنے طور پر نقل مکانی کر گئے تھے۔ موجودہ بھارتی حکومت نے ان کی دوبارہ آبادکاری کے لئے ’’پنڈت بستیوں‘‘ کا منصوبہ تیار کیا ہے اور مذکورہ افراد کو واپس آکر آباد ہونے اور کاروبار کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس سلسلے میں انہیں پرکشش ترغیبات دی گئی ہیں۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ وادی کشمیر کے مسلمان باشندوں کو محض مسلمان ہونے اور آزادی کا نعرہ بلند کرنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔
سری نگرمیں بڑے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں لوگوں نے ضلع کولگام میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے شہید کئے گئے تین نوجوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ کولگام اور اسلام آباد کے اضلاع کے تمام علاقوں سے لوگ ریڈونی اور یاری پورہ پہنچے جہاں انہوں نے جاوید احمد، ادریس نیگرو اور آصف احمد تانترے کی تدفین میں شرکت کی۔ تینوں نوجوانوں کو آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعروں کی گونج میں سپرد خاک کیا گیا۔ دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں کولگام جھڑپ کے دوران دو مجاہدین کے ساتھ ایک عام شہری کی ہلاکت کے خلاف عام ہڑتال رہی۔ ہڑتال کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے دے رکھی تھی۔ اس موقع پر بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کی ریلیوں کو روکنے کے لئے ان پر تشدد کیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کا قتل عام بند کرائے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی پرامن سیاسی جدوجہد کا سلسلہ نہ صرف وادی کے طول و عرض میں جاری ہے بلکہ دنیا بھر میں اس سلسلے میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران ایک سیمینار میں برطانیہ اور یورپ کے انسانی حقوق کے کارکنوں نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ساتھ بھارت کے ظالمانہ سلوک کی مذمت کی اور کشمیری خواتین کی بے حرمتی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک طرف تو بھارتی حکومت کی طرف سے ظلم و تشدد اور جبرو استبداد کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف مظلوم کشمیری عوام اپنی سیاسی جدوجہد کو پرامن انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان عوام کو دنیا بھر کے امن پسند عوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت حاصل ہے اور وہ بلاشبہ تاریخ کا ایک انتہائی اہم باب اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام بلاشبہ بھارتی طاقت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں لیکن ان کا عزم اور حوصلہ ناقابل شکست ہے ۔ یہ صورتحال مہذب دنیا کو یہ دعوت فکر دیتی ہے کہ ’’ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے، تم ہی کہو‘‘۔

95
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...