بلاشبہ بھارتی سیاسی لیڈرشپ چناکیہ کوٹلیہ سیاسی جادوگری کے حوالے سے اپنے قول و فعل کے اعتبار سے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بھی پاکستان اور مسلم دشمنی میں پیش پیش رہی ہے ۔بل خصوص تقسیم ہند کے بعد انتہا پسند ہندو مہا سبھا تنظیم سے لپٹی سردار پٹیل ، گاندہی و جواہر لال نہرو کی جماعت کانگریس پارٹی اور گزشتہ دو عشروں میں انتہا پسند فاشسٹ ہندو تنظیم ، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ جو 1925 میں برٹش انڈیا میں میں سیکولر ازم کے بجائے آریا ہندو سماج کی فاشسٹ فکر پر مبنی ہندو ریاست کے قیام کیلئے جرمن نازی ازم کے اصولوں پر قائم کی گئی تھی اور عرف عام میں (آر ایس ایس) کے نام سے مشہور ہے، کے سیاسی ونگ کے طور پر بھارت میں اقتدار کی غلام گردشوں میں جنم لینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی)، دونوں ہی پاکستان دشمنی میں یکتا نظر آتی ہیں۔ ہندو کانگریس پارٹی نے دسمبر 1971 میں سابق مشرقی پاکستان میں سیاسی سازشوں اور فوجی طاقت کے بل بوتے سقوط ڈھاکہ میں تبدیل کر دیا تو سابق وزیراعظم اندرا گاندہی نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اُنہوں نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو کر بھارت ماتا پر مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے ، یہ علیحدہ بات ہے کہ بنگلہ دیش آج بھی اقوام متحدہ کی رکنیت کے حوالے سے مسلم اکثریت پر مبنی ایک آزاد مملکت ہے۔اِسی طرح آر ایس ایس نے تقسیم ہند کے موقع پر دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے طول و عرض میں نہ صرف فرقہ وارانہ فسادات میں کشمیری و بھارتی مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ لیا بلکہ ظلم و بربریت کے اِس نہ ختم ہونے والے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی تباہی کے موقع پر بھارتی مسلمانوں کے قتل عام میں ببانگ دہل حصہ لیا۔ آر ایس ایس کے عسکریت پسندوں نے یہی طریقہ کار نریندرا مودی کی قیادت میں گجرات احمد آباد میں گودھرا ٹرین آتشزدگی کا مسلمانوں پر الزام لگا کر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو بے دریغ قتل کرنے سے گریز نہیں کیا۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نریندرا مودی بھارتی سیاست میں آر ایس ایس کے حلف یافتہ فدائی کے طور پر ہی سامنے آئے تھے جس کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ ایسا حلف اُٹھانے کے بعد کسی بھی فدائی کا مرنا اور جینا صرف تنظیم کے چیف کی مرضی پر ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ نریندرا مودی کی چناکیہ کوٹلیہ شخصیت کو مہمیز دینے میں آر ایس ایس کے موجودہ چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی فکر کا ہاتھ ہے۔ نریندرا مودی کو بھارتی سیاسی منظر نامے میں آگے لانے کا مقصد بنیادی طور پر دہشت گرد فاشسٹ تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل درامد کرنا ہی ہے۔اِس لئے نریندر مودی اور آر ایس ایس کے کردار کو سمجھنے کیلئے اِن کے بارے میں جاننا انتہائی ضروری ہے۔ درحقیقت، آر ایس ایس بھارت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی دہشت پسند فاشسٹ تنظیم ہے۔ اِس تنظیم کے دس لاکھ سے زیادہ مسلح رضاکار ہیں اور اِس تنظیم کے بارے میں سابق مشہور بھارتی سماجی شخصیت آنجہانی جے پرکاش نرائن نے 1972 میں آر ایس ایس کے عسکری کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ یہی وہ تنظیم ہے جو بھارت ، بنگلہ دیش اور پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے اکھنڈ بھارت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ یہی وہ تنظیم ہے جسے بھارت میں دہشت گرد تنظیم کے طور انتہائی موثر مسلح تنظیم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کے موجودہ چیف ڈاکٹر موہن بھگوت جو ایک طویل مدت سے تنظیم کے سیکریٹری کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں نے سابق پارٹی چیف سدھرشن جی کی جگہ پارٹی چیف بننے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی میں تبدیلیاں لانے کا عندیہ دیا تھا چنانچہ اُنہوں نے سابق آر ایس ایس چیف سدھرشن جی کے دور میں باجپائی ، ایڈوانی اور جسونت سنگھ پر مثتمل بی جے پی کی سابقہ قیادت کی لوک سبھا کے 2004 کے انتخابات میں شکست کو جواز بناتے ہوئے اپنے وفادار ساتھی راج ناتھ سنگھ جنہیں بھارت میں سیاسی طور پر زیادہ نہیں جانا جاتا تھا کو بی جے پی کی قیادت سونپ دی۔ بھارت میں لوک سبھا کے 2014 کے انتخابات سے قبل ڈاکٹر موہن بھگوت نے آر ایس ایس کے فدائی نریندر مودی کو مرکز میں لانے کیلئے ٹرائل کیس کے طور پر گجرات احمد آباد میں پاکستان مخالف انتخابی مہم کے ذریعے مسلمان ووٹ بنک کو روند ڈالا جہاں نریندر مودی کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 2004 کے لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کو واجپائی، کے ایل ایڈوانی اور جسونت سنگھ نے گجرات میں نریندرا مودی کی مسلم کش پالیسی کو قرار دیا تھا۔ لیکن آر ایس ایس کے سیکریٹری اور پھر چیف کے طور پر ڈاکٹر موہن بھگوت جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہے اور بی جے پی مسلم اور پاکستان دشمن پالیسی کی بناہ پر ہی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر بھگوت کی تائید ماضی میں ویکلی نیوز ویک انٹرنیشنل کی رپورٹر کارلا پاور نے گجرات احمد آباد کے انتخابات کے حوالے سے 2003 میں اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کر چکی تھیں۔ اُنہوں نے لکھا تھا کہ نریندر مودی ہٹلر کی طرح کی شخصیت ہے جسے عوامی جلسوں میں شیطان کی طرح پیش کیا جاتا ہے اور پھر بھی وہ مقامی ووٹوں کو جیت لیتا ہے ۔فروری 2002 میں گودھرا ٹرین میں آتشزدگی کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا جس کے نتیجے میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر منظم حملے کئے اور آتشزدگی، لوٹ مار ، ریپ اور مسلح حملوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیالیکن گجرات میں فسادات کے ختم ہونے پر بھی نریندرا مودی کا غصہ ختم نہیں ہوا چنانچہ اُس نے اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان منافرت کے جذبات سے کھیلتے ہوئے انتخابی جلسوں میں کہا کہ کانگریس کو ووٹ دینا پاکستان (میاں مشرف) کو ووٹ دینے کے مترادف ہے جوابی طور پر گجرات کے انتخابات میں کانگریس کے رہنما بھی اکھنڈ بھارت کے حوالے سے پاکستان مخالف جذبات سے کھیلتے رہے لیکن گجرات احمد آباد میں تواتر سے ہونے والے انتخابات میں منافرت آمیز پاکستان اوراینٹی مسلم انتخابی مہم کے سبب نریندرا مودی ہی کامیاب ہوئے ۔ چنانچہ پاکستان مخالف انتخابی تجربات کی روشنی میں آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت نے 2014 کے مرکزی انتخابات کی قیادت بھی نریندر مودی کو سونپ دی گئی جن کی ریاست گجرات میں اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان پالیسی کو واجپائی اورایڈوانی نے مرکز میں بی جے پی کی شکست کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ حیرت ہے کہ چناکیہ کوٹلیہ صفت نریندرا مودی ڈاکٹر موہن بھگوت کے امتحان میں پورے اُترے اور اینٹی پاکستان و اینٹی مسلم انتخابی مہم کے ذریعے لوک سبھا کے انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرکے 2014 میں بھارت کے نئے وزیراعظم بن گئے۔ لیکن یہ سب کچھ ڈاکٹر بھگوت کی منظم حکمت عملی کے بغیر نہیں ہوا۔ اُنہوں نے آر ایس ایس کے چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نہ صرف آر ایس ایس کے مسلح رضاکاروں کو بھارت کے طول و عرض میں ہندو یوتھ کو دیوی دیوتاؤں کے ثقافتی پروگرموں کے ذریعے منظم کیا بلکہ انتخابات 2014 سے قبل ہندو توا کی فلاسفی میں یقین رکھنے والی سنگھ پریوار کی تمام جماعتوں بشمول وشوا ہندو پریشد، شیو سینا، بجرنگ دل، ہندو توا سولجرز، زعفرانی ٹائیگرزوغیرہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ پاکستان اور کشمیر میں اکھنڈ بھارت کے حوالے سے نئی جارہانہ ڈاکٹرائین تیار کی گئی اور اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو نریندرا مودی کی انتخابی مہم کی پشت پر کھڑا کیا گیا۔ درج بالا تناطر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کون ہیں؟ پیشے کے لحاظ سے موہن بھگوت کا تعلق اینیمل ہسبنڈری کے شعبے سے ہے چنانچہ 9 مارچ 2017 میں اُنہیں مہاراشٹر اینیمل انڈ فشریز یونیورسٹی کی جانب سے گائے کے پیشاب سے بننے والی ادویات پر ریسرچ اور سماجی خدمات کے حوالے DSc کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز گیا جس میں مہاراشٹر کے گورنر اور وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تعریفی سند (citation) میں جو الفاظ اُن کیلئے استعمال کئے گئے وہ قطعی مختلف اور انتہائی حیران کن ہیں: “with his unique qualities like intellect, determination, dedication and cohesiveness, he reached the heighest position of a very important social organization, which has laid foundation of staunch patriotism, cultural heritage and nationalism of great social excellence”. ۔
اندریں حالات ، ڈاکٹر موہن بھگوت نے مستقبل میں بھارت کی سیاسی جدوجہد کو اکھنڈ بھارت کی ویژن سے جوڑنے اور کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بناے کی پالیسی کو بڑھاوا دینے کیلئے نریندرا مودی کی لوک سبھا کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعظم مودی کی حلف اُٹھانے کی تقریب کو سارک ممالک کی قیادت تک محدود کرنے کی پالیسی کو ترجیح دی۔ جس کیلئے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کے لندن میں مقیم اُن کے صاحبزادے سے تعلقات کو خصوصی طور پر استعمال کیا گیا۔چنانچہ جناب وزیراعظم نواز شریف کی نریندرا مودی کی بطور وزیراعظم حلف اُٹھانے کی تقریب میں شرکت اور پہلی ملاقات نے ہی دونوں وزرأ اعظم کے تعلقات کو ذاتی دوست میں تبدیل کر دیا لیکن ذاتی دوستی کے باوجود بھارت کی جانب سے پاکستان کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے بات چیت کا پروسس اعلانات کے باوجود آگے نہیں بڑھ سکا جبکہ بھارت نے اِس دوستی کی آڑ میں نہ صرف کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا ہے بلکہ کشمیر کنٹرول لائین، بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھارتی تخریب کاری اور دہشت گردی کو جنگی بنیادوں تک آگے بڑھا دیا ہے۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگست 1947 میں جنوبی ایشیا میں بھارت و پاکستان کی دو آزاد ریاستوں کے وجود میں آنے پر گزشتہ 68 برس میں بھارتی قیادت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو انتہائی ڈھٹائی سے آگے بڑھانے اور کشمیر اٹوٹ انگ پالیسی کو کشمیری عوام پر انتہائی ظالمانہ انداز میں لاگو کرنے کے باوجود چناکیہ کوٹلیہ صفت کے حامل موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی دنیا کے وہ واحد وزیراعظم ہیں جنہوں نے پاکستانی سلامتی کے مفادات کو روندتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے انتہائی برق رفتاری سے ذاتی تعلقات قائم کرنے پر وہ اعزاز حاصل کیا ہے جس کی مثال جدید دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔بھارتی وزیراعظم کی نیپال میں سجن جندال کی سہولت کاری سے سارک کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف سے مبینہ خفیہ ملاقات کے بعد سجن جندال ہی کی لاہور موجودگی میں وزیراعظم کی نواسی کی شادی میں شمولیت کیلئے نریندرا مودی کا اچانک لاہور پہنچنا اور اِسی پیرائے میں سجن جندال کی مری میں وزیراعظم نواز شریف سے مبینہ خفیہ ملاقات ایسے واقعات ہیں جن کی وضاحت کیلئے پاکستانی عوام آج بھی منتظر ہیں۔دریں اثنا ، دنیا بھر کے سیاسی دانشور حیرت زدہ ہیں جبکہ پاکستانی قومی دانشور سکتے کے عالم میں ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ دورے میں مسلم اُمہّ اور پاکستان دشمنی میں حد سے آگے بڑھ جانے والے نریندرا مودی نے پاکستانی وزیراعظم کو ایسی کونسی گیڈر سِنگھی سونگھائی تھی کہ مبینہ طور پر جو فکر اسلام آباد سے ڈان گیٹ کی شکل میں لیک ہوئی اور جس کے ذمہ داران کو ڈان لیک کمیشن کی رپورٹ کیمطابق اُن کے منصبوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے، تقریباً وہی فکر نریندر مودی کے امریکہ اور اسرائیل میں دئیے گئے بیانات میں جھلکتی نظر آتی ہے۔ اِسی طرح پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نامزد کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کے میڈیا میں منظر عام پر آنے کے بعد مقتدر بھارتی میڈیا میں جو ردعمل سامنے آیا ہے اُس سے بھی اِسی فکر کا عکس جھلکتا نظر آتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا اور دیگر بھارتی میڈیا میں نواز فیملی پاناما کیس کے حوالے سے سامنے آنے والی جے آئی ٹی رپورٹ پر بھارتی سیکیورٹی کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ بھی کافی معنی خیز ہیں۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان میں میاں نواز شریف حکومت ختم ہوجاتی ہے تو ایسی صورتحال میں سلامتی امور کے حوالے سے بھارتی پریشانیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔حیرت ہے کہ بھارتی دانشور سمجھتے ہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ سے نواز فیملی کا موقف کافی کمزور ہوا ہے اور پاکستان فوج پھر سے سیاسی طور پر طاقت ور ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں کشمیر میں آزادی کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز حکومت کے جانے پر خاص طور پر خارجہ ریاستی امور میں پاکستان فوج کا اثر رسوخ کافی حد تک بڑھ سکتا ہے۔ اِن مبینہ بھارتی خدشات کی روشنی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ پاکستانی حکومت بھارتی حکومت کیلئے سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے تو پھر سیاسی قیادت کی جانب سے بھارتی ڈِس انفارمیشن کا ابھی تک سنجیدہ جواب کیوں نہیں دیا گیا ؟
درج بالا تناطر میں اگر تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی چناکیہ کوٹلیہ فکر کی جدوجہد کے تسلسل سے موجودہ پاکستانی قیادت کو نچوڑنے میں لگا ہوئے ہیں۔ جبکہ ماضی میں بھارتی سیاسی چالبازیوں کو سمجھنے میں کسی اور سیاسی قیادت نے اتنی دیر نہیں کی۔بلاشبہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح تقسیم ہند کے بعد بھارت کیساتھ ہمسائیگی کے خوشگوار تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے جس کا اظہار ہندو اقلیت کیساتھ برابری کے تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے اُن کی 11 اگست کی تقریر میں بخوبی جھلکتا ہے ۔اُنہوں نے پاکستان میں پہلے امریکی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کو دوستی کی میز پر لانے کیلئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا کہ بھارت کو پیغام دیجئے کہ وہ ممبئی میں اُن کی رہائش گاہ کو اچھی کنڈیشن میں قائم رکھے کیونکہ وہ گورنر جنرل پاکستان کے عہدے کی مدت پوری کرنے کے بعد ممبئی میں ہی رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں۔لیکن قائداعظم نے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے بھارتی سیاسی قیادت کی بدنیتی اور آزادی کے فوراً بعد کشمیر ، مشرقی پنجاب ، بہار، بنگال اور دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام اور ستمبر 1947 میں بیک وقت زبان کے مسئلے پر مشرقی پاکستان اور سابق صوبہ سرحد میں پختونستان تحریک میں بھارت کے ملوث ہونے پر اِس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ اُنہوں نے مارچ 1948 میں زبان کے مسئلے پر بنگالی عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے بیماری کے باوجود جب ڈھاکہ اور چٹاگانگ کے دورے کا قصد کیا تو اُنہوں نے بھارتی سرزمین پر قدم رکھنا گوارا نہیں کیا اور ڈکوٹا طیارے میں اضافی فیول کین رکھ کر بھارتی سرزمین پر اُترے بغیر ڈھاکہ کا سفر کرنے کو ترجیح دی۔ قائداعظم کے 14 اگست 1948 کو قوم کے نام پیغام میں بھی بھارتی چالبازیوں کا تذکرہ بخوبی ملتا ہے جس میں اُنہوں نے کہا کہ” اِس نوزائیدہ مملکت (پاکستان) کو پیدا ہوتے ہی دیگر طریقوں سے گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش میں ہمارے دشمنوں کو یہ اُمید تھی کہ اُن کی دلی منشا اقتصادی چالبازیوں سے سے پوری ہو جائیگی۔اِن تمام دلائل اور براہین سے سے کام لیکر جو بغض و عداوت کی بنیاد پر تراشی جا سکتی ہیں پیش گوئیاں کی جانے لگیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائیگا اور دشمن کی شمشیر و آتش جو مقصد حاصل نہیں کر سکی وہ اِس مملکت کی مالی تباہی سے حاصل ہو جائیگی مگر ہماری بُرائی چاہنے والے اِن نجومیوں کی تمام پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ہمارے پہلے ہی بجٹ میں تجارت کا توازن ہمارے حق میں رہا اور اقتصادی میدان میں بھی مجموعی طور پر ترقی ہوئی ہے” ۔
اندریں حالات ،کیا موجودہ سیاسی قیادت نہیں جانتی کہ بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے بھی بھارت کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔بھارت جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو قبول کرنے کے باوجوداُن پر عمل درامد سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے نئی دہلی جا کر بھارت کیساتھ دونوں ممالک میں اقلیتوں کے تحفظ کیلئے لیاقت نہرو معاہدے پر اپریل 1950 میں دستخط کئے، پاکستان اِس معاہدے پر آج تک عمل پیرا ہے جبکہ بھارت میں اِس معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے تھے۔ رن آف کچھ کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بھارت وعدوں کے برخلاف آج بھی مسئلے کو لٹکائے ہوئے ہے۔ 1965 کی جنگ کے بعد 1966 میں بھارت نے تاشقند میں روسی وزیراعظم کی موجودگی میں تاشقند معاہدے کے ذریعے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا معاہدہ کیا لیکن چند برس کے بعد ہی اگرتلہ سازش کے ذریعے مشرقی پاکستان کے اندرونی معاملات میں تخریب کاری شروع کر دی جس کا اختتام 1971 میں بھارتی فوج کے حملے میں سقوط ڈھاکہ کی شکل میں نکلا۔ 1972 میں بھارت نے شملہ معاہدے کے تحت مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا وعدہ کیا جس کا اعادہ اعلان لاہور کی شکل میں بھی کیا گیا لیکن بھارت آج بھی مسئلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے کے بجائے مختلف مفروضوں کو بنیاد بنا کر کشمیر ی عوام پر ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے اور کشمیر کنٹرول لائین کی خلاف ورزی کو روزمرہ کا معمول بنا لیا ہے۔ دراصل بھارت ہر دور میں پاکستان کو طفیلی ریاست بنانے کے ایجنڈے پر گامزن رہا ہے تاکہ اِسے اکھنڈ بھارت میں بتدریج ضم کر سکے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد 1974 میں بھارتی ایٹمی فکر کو محسوس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا تاکہ بھارت کو بتایا جائے کہ پاکستان کی پشت پر تمام اسلامی ممالک ہیں۔ جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو یہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یورپ سے بلایا اور بھارتی ایٹمی بلیک میل ختم کرنے کیلئے پاکستان کو ایٹمی ریاست بنانے کا ٹاسک دیا چنانچہ آج پاکستان ایٹمی ریاست ہے اور پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں ضم کرنے کے بھارتی عزائم کا ہمشہ کیلئے خاتمہ ہو چکا ہے۔ تو موجودہ دور میں پاکستانی سیاسی قیادت نریندرا مودی کی ذاتی دوستی میں کیا تلاش کر رہی ہے جبکہ مودی کے حالیہ امریکا اور اسرائیل کے دورے میں پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کھل کر سامنے آ چکے ہیں ۔حیرت ہے کہ خطے میں بھارت کے ناپاک عزائم کا بھرپور جواب دینے کے بجائے اور پاکستانی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے بجائے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے موجودہ دور میں پاکستان کو غیر معمولی بیرونی قرضوں کے جال میں جکڑ کر رکھ دیا ہے معاشی ماہرین کیمطابق جس کی ادائیگی مبینہ طور پر آدھے ملکی سالانہ بجٹ تک پہنچ چکی ہے لیکن جناب وزیر خزانہ مُصر ہیں کہ پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کیا ایسا ہی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گالیکن ملک میں بڑھتی ہوئی غربت تو یہی پکارتی ہے کہ ملک کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے سسک رہی ہے۔ اِس صورتحال کا مداوا کون کریگا جبکہ بقول شاعر۔۔۔۔

اِک لاش وفا پھولوں میں کفنائی ہوئی ہے
کہتے ہیں بہار آئی بہار آئی ہوئی ہے

62
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...