کشمیر وہ حسین لیکن بد قسمت ترین خطہ ارض ہے جو صدیوں سے کبھی ایک اور کبھی دوسرے کے زیر تسلط ہے کبھی یہ پورے ہندوستان کا حصہ بن کر غلام ہوا اور کبھی اپنی جدا گانہ حیثیت میں ۔ اس کی خرید و فروخت بھی تاریخ کا سیاہ باب ہے لیکن اس کی تاریخ کا روشن حصہ یہ بھی ہے کہ اس کے باشندوں نے آزادی کی جدوجہد کبھی چھوڑی نہیں ،کبھی ماند نہیں پڑنے دی۔ آزادی کی اس طویل جدوجہد میں لاکھوں جانیں گئی لیکن شوقِ آزادی کم نہ ہوا اور ایک کے بعد ایک مجاہد اس تحریک کا حصہ بنتا رہا ،شہادتوں کا سلسلہ بھی چلتا رہا لیکن پچھلے سال 8 جولائی 2016 کو اس میں ایک ایسے نوجوان خون کا اضافہ ہوا جس کی شہادت پر ہر کشمیر ی کا سر فخر سے بلند ہوا اگر چہ اس کے آنسو بھی چھلک پڑے لیکن ہر کشمیری شیر کی طرح بپھربھی اٹھا اور غاصب بھارت کے خلاف سڑکوں پر دنیا کی دوسری بڑی فوج کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا اور یہ شہادت نوجوان کشمیری رہنما اور مجاہد برہان مظفر وانی کی تھی۔ یہ بائیس سالہ نوجوان بھارت کے خلاف بڑے ٹھوس اور اپنی عمر سے بڑھ کر پختہ اور مؤثر انداز میں بر سر پیکار تھا ۔اُس نے عام نوجوانوں سے ہٹ کر انٹر نیٹ کو اپنے مقصد آزادی کے حصول کے لیے استعمال کیا اور کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوان تحریک آزادی کشمیر میں جوق در جوق شامل ہوئے ۔بھارتی میڈیا اور بھارتی فوج دونوں حزب المجاہدین کے اس نوجوان لیڈر سے انتہائی خوفزدہ تھے کہنے کو تو وہ اسے پوسٹر بوائے کہتے تھے لیکن وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اس نے وادی کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں آزادی کے حصول کا جو جوش پیدا کیا ہے وہ ایک حقیقی ہیروہی کر سکتا ہے اور اسی خوبرو پوسٹر بوائے نے چھ سال تک بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوائے وہ 2010 میں گھر سے نکلا اور پھر واپس نہیں آیا ۔اُس کے والد جو ایک ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں سے جب پوچھا گیا کہ برہان نے ایک اچھا طالب علم ہونے کے باوجود پڑھائی چھوڑ کر جدوجہد آزادی میں شمولیت کیوں اختیار کی تو انہوں نے اس کی جو وجوہات بتائیں وہ دنیا کی آنکھیں کھول دینے کو کافی ہیں بقول بھارت کے کشمیر میں مجاہدین پاکستان بناتا اور بھیجتا ہے لیکن برہان کے والد نے کہا کہ اُس نے جب کئی بار کئی لوگوں کو پولیس اور فوج کے ہاتھوں بلاوجہ پٹتے دیکھا دو بار اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتے دیکھا اور جب خود بھی پولیس سے مار کھائی تو وہ یہ سب ہضم نہ کر سکا اور یوں اُس نے پڑھائی اور گھر کو چھوڑا اور بھارت سے انتقام لینے نکل کھڑا ہوا ۔اس وقت اُس کی عمر صرف سولہ سال تھی لیکن اس چھوٹی سی عمر میں ہی اُس نے بڑی سنجیدگی سے سے اپنے مشن پر کام کرنا شروع کیا اور چھ سال میں وہ اپنے ہم وطن پڑھے لکھے نوجوانوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر بھارت سرکار اور فوج کے خلاف لانے میں کامیاب ہوا اور یہ بھارت سرکار کو کسی طور قبول نہ تھا لہٰذا اُس نے اس نوجوان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی اس کے خاندان کی بھی خفیہ نگرانی کی جانے لگی اور جب بھارتی رپورٹس کے مطابق اُس کا بھائی خالد وانی اُس سے ملنے گیا تو اُسے شہید کر دیا گیا۔بھارتی فوج برہان کی تلاش میں رہی اور8 جولائی 2016کو اس بہادر نوجوان نے بھارتی فوج کے ساتھ ایک مقابلے میں جام شہادت نوش کیا۔ اپنے اس محبوب کم عمر ہیرو کی شہادت کشمیریوں سے برداشت نہ ہوئی اور وہ سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی فوج کی گولیوں کی پرواہ کیے بغیر سراپا احتجاج بن گئے اور تب بھارت نے کشمیر میں مظالم کی ایک ایسی تاریخ رقم کی کہ انسانیت اور انسان دونوں شرمندہ ہوئے۔دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی فوج نے انسانوں پر شکار کے لیے استعمال ہونے والی پیلٹ گن استعمال کی سینکڑوں لوگ جن میں بچے بھی شامل تھے کی آنکھیں متاثر ہوئیں اور بہت سوں کی بینائی جاتی رہی ان کے جسموں پر ان بندوقوں سے نکلے ہوئے ہزاروں چھروں کے نشانات بھارت کے منہ پر ایک طمانچہ تھا خود بھارت کے متعصب میڈیا نے بھی اقرارِ جرم کیا ،کئی چینلز نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا اور بھارت میں پائے جانے والے کچھ انصاف پسندوں نے بھی اس ظلم پر شرمندگی کا اظہار کیا ۔یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن کشمیریوں کے حوصلے پست نہ ہوئے وہ دیوانہ وار میدان میں آتے رہے اور آزادی کا علم سنبھالتے رہے ۔بھارت سرکار نے وادی میں کرفیو لگا دیا برہان وانی شہید کے جنازے میں دو لاکھ افراد نے شرکت کی اور اس مجاہد کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کر دیا گیا لیکن کشمیری نوجوان ،بچے ،بوڑھے آزادی کے اس متوالے کی شہادت پر احتجاج کرتے رہے، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی اور وادی میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی بلکہ مفلوج ہو کر رہ گئی ۔سر کاری ملازمین اور عام شہری سب ایک نکتے پر متفق ہو گئے نہ صرف دفاتر بند ہو گئے بلکہ شاہرائیں اور سڑکیں بھی بند کر دی گئیں،سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء پڑھائی چھوڑ کر بھارت سرکار اور فوج کے خلاف ڈٹ گئے اور یوں کشمیر کا بچہ بچہ برہان وانی بن گیا۔سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی اپنے ا س خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے برہان کو مار کر اُسے کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا ہے اور کشمیری اب اس کو اپنا لیڈر ماننا شروع کر دیں گے اگرچہ کشمیری اسے پہلے بھی لیڈر مان رہے تھے اسی لیے اس کی آواز پر لبیک کہتے تھے ۔
جدوجہد تو عرصہ دراز سے جاری ہے لیکن اب کشمیری زیادہ عرصہ تک غلامی برداشت نہیں کریں گے انہیں اب دنیا سے کوئی اُمید نہیں نظر آرہی اور اسی لیے وہ پُر تشدد بھی ہو جاتے ہیں اور بھارت کا رویہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس سال بھی بھارتی مظالم کے مارے ہوئے کشمیری اپنے اس نو عمر شہید ہیرو کی پہلی برسی بڑے زور و شور سے منائیں گے اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ جمہوریہ بھارت کی جمہوری فوج پھر ان پر مظالم کے پہاڑتوڑے گی۔ حقِ آزادی مانگتے ہوئے ان کشمیریوں پر پروگرام کے مطابق پھر ہر قسم کا ظالمانہ اسلحہ اور حربہ آزمایا جائے گا لیکن اب بہت سارے برہان وانی پیدا ہو چکے ہیں ۔ خالد وانی اور برہان وانی کی شہادت کشمیری شہیدوں کی فہرست میں اضافہ تو ضرور ہے لیکن پچھلی تمام شہادتوں سے بڑھ کر اس شہادت نے تحریک آزادی کو مہمیزلگائی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع پر ہماری کشمیر کمیٹی اگر فعال ہوجائے اور کشمیریوں کی کم از کم اخلاقی مدد ہی کرلے تو ہم بھی اپنا قرض اُتار سکیں گے۔ ہم کشمیر کے مسئلے پر سیاست بہت کرتے ہیں اور برہان وانی کی شہادت پر بھی پاکستان نے مضبوط موقف اپنایا لیکن سیاسی اور سفارتی سطح پر ٹھوس بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے ورنہ ہم اسی طرح ایام شہداء مناتے رہیں گے اور بھارت ایک قدم آگے بڑھ کر ان مجاہدین آزادی کو دہشت گرد قرار دلواتا رہے گا جیسے اس نے اب کی بار سید صلاح الدین کے ساتھ کیا جن کی جدوجہد صرف حصولِ آزادی کے لیے ہے اور آزادی ملتے ہی یہ اپنے ملک کی ترقی میں فعال رُکن کی حیثیت سے شامل ہو جائیں گے تو پھر کیسے انہیں دہشت گرد کہا جا سکتا ہے ہاں بھارت میں ایسی بے شمار تنظیمیں اور شخصیات ہیں جنہیں فوری طور پر دہشت گرد قرار دے دینا چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا تاکہ بھارت کو خوش رکھا جاسکے ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں مغرب کے مفادات وابستہ ہیں لیکن دوسری وجہ بالائی سطح پر ہماری عدم دلچسپی یا سرسری یا صرف سیاسی دلچسپی بھی ہے۔اب ہم جوابی کاروائی کے طور پر ایسا کر سکتے ہیں لیکن ظاہر ہے دنیا بھی جوابی کاروائی اور تقدم کا فرق جانتی ہے اور اسی لیے پھر اسے وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔برہان وانی شہید نے ایک نئے طرزِجدوجہد کی ابتداء کی تھی اُس نے انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کی سکرین پر تحریکِ آزادی کو پوری دنیا میں اُجاگر کیا ہمیں بھی اس انتہائی موئثر ذریعے کی طرف ضرور توجہ دینی چاہیے۔کشمیری اپنے اس کم عمر ہیرو کو بھولے نہیں ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی سینکڑوں شہید ہوئے ہزاروں زخمی ہوئے اور ہزاروں ہتھیار بند غاصب اور درندہ صفت فوجیوں کو بھی زخمی کیا انہیں نقصان پہنچایا، دہ ماہ کر فیو کی پابندیاں برداشت کیں تو اس بار بھی وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے تو ایسے میں کم از کم ہماری اخلاقی اور سیاسی مددان کے ساتھ ضرور ہونی چاہیے۔

58
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...