دہشت گردی یوں تو اب پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اور وہ جو اس کا پیچھا کرنے کے بہانے ہمارے خطے میں آئے تھے اب اس کے آثار بلکہ شروعات ان کے ہاں یعنی یورپ اور بہت دفعہ امریکہ میں بھی نظر آرہے ہیں، وہ جو امن کے چیمپئن بنتے تھے اور دنیا کو دہشت گردی سے نبٹنے کے طریقے بتاتے تھے وہ خود اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔مجھے اس بات کی کوئی خوشی نہیں ہے جیسے مغرب کو ہمارے ہاں ہونے پر تھی کیونکہ جنگل میں لگنے والی آگ کے لیے ہوا کا ایک جھونکا کافی ہوتا ہے اور وہ چہار دانگ پھیل جاتی ہے۔ یہی حال برائی کا ہے کہ ایک دفعہ شروع ہوجائے تو پھر بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور اگر یہ چنگاری بھڑک کر شعلہ بنی تو بھی دنیا میں موجود بے قصور لوگ ہی اس آگ کا ایندھن بنیں گے لہٰذا یہ دکھ ہی کی بات ہو گی لیکن کاش یہ آگ نہ لگائی گئی ہوتی اور اگر اب بھی اس میں ایندھن جھونکنا بند کر دیا جائے تو شاید نقصان کی رفتار اور مقدار کچھ کم ہو جائے مگرمسئلہ یہ ہے کہ ایک اکیلے پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف لڑ کر انہیں ختم کرے کیونکہ اُن کی پُشت پر ایک نہیں کئی کئی مدد گار موجود ہیں لیکن پاک فوج اور عوام کی مسلسل ہمت اور کوشش سے یہ دہشت گردکمزور ضرور پڑے ہیں اور اسی لیے وہ گروپس جو ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے زیادہ سے زیادہ قتل عام کی ذمہ داری قبول کرتے تھے اور اپنی سفاکی کی دھاک بٹھانے کے لیے وہ دوسروں کے گناہ بھی سر لے لیتے تھے اب ٹھوٹ پھوٹ اور نا اتفاقی کا شکار ہو رہے ہیں اگرچہ وہ اب بھی وارکر رہے ہیں لیکن ان کاروائیوں میں پاکستان میں کچھ کمی آئی ہے اور بھارت ، افغانستان، ایران،سعودی عرب وغیرہ کی ان گروپوں کے ساتھ تعاون و مدد کے باوجود پاک فوج کی انتھک اور بے مثال جد وجہد اور قربانیوں کی وجہ سے ان کی دہشت گرد کاروائیاں پہلے سے کم ہیں لیکن ان کے مختلف مدد گارمسلسل ان کے ساتھ ہیں جن میں سے کچھ تو مذہب یعنی اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ مسلمان، فرقے اور مسلک کی بنیاد پر خود دوسرے مسلمانوں کے خلاف اِن کی مدد کرتے ہیں ۔ یہ دہشت گرد کہتے خود کو مسلمان ہیں اور ظاہراََ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی بات بھی کرتے ہیں لیکن دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم کے سب سے بڑے مخالف ہیں یہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے یہ انسانوں کا قتل بلکہ قتل عام کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺکو حکم دیا کہ اِن کافروں سے کہوکہ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین لیکن یہ دہشت گرد سب کو اپنے مسلک پر لانا چاہتے ہیں وہ مسلک جو انہوں نے خود وضع کیاہے جس کے اصول بھی انہوں نے خود بنائے ہیں اور احکامات بھی اور حقیقت یہ ہے کہ ایک کا نظریہ دوسرے سے مختلف ہے اور اسی بنا پر مختلف گروپس بنے ہوئے ہیں۔ ان کا صرف ایک نظریہ متفق ہے کہ اسلام کا نام لے کر دہشت گردی کرو اور اسلام کو بدنام کرو کیونکہ ظاہر ہے اسی کے لیے انہیں بھارت، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک سے پیسے ملتے ہیں۔ خود پہاڑوں میں روپوش رہنے والے ان دہشت گردوں کے گھروالے فراوانی سے زندگی گزارتے ہیں اور کسی مالی تنگی ترشی سے نہیں گزرتے کیونکہ انہیں ہر طرح سے خوش رکھا جاتا ہے اور دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ کچھ مسلمان بھی اپنے مقاصد کے لیے ان کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں ۔یہ مددگار ہر گروپ کی الگ الگ معاونت کرتے ہیں لیکن در پردہ یہ سب کی امداد کرتے ہیں اس کا مظاہرہ دنیا روس افغان جنگ میں دیکھ چکی ہے جب بہت سے گروہ اس جہاد میں الگ الگ حصہ لے رہے تھے جبکہ لڑ سارے روس کے خلاف رہے تھے اب بھی یہی ہو رہا ہے اور اس بات کو تقویت یوں بھی ملی کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ نے تمام دہشت گرد گروہوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سب آپس میں مل جائیں یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاک فوج کے مختلف آپریشن اس حد تک ضرور کامیاب رہے ہیں کہ یہ گروپ بطور الگ الگ گروہوں کے اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ انہیں اب ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے۔ ان کے کچھ سر کردہ رہنماؤں کی گرفتاری اور ان کے بیانات نے ان کے مذموم عزائم اور دشمن کی طرف سے ملنے والی امداد کو ان لوگوں پر مزید واضح کر دیا ہے جو دین کے بارے میں اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کے جھا نسے میں آجاتے تھے۔احسان اللہ احسان جس کے سرخود جرائم ،ظلم ،تشدد اور دہشت گردی کی ایک لمبی فہرست ہے اُس نے اقرار کیا کہ اُنہیں بیرونی اور خاص کر بھارت سے امداد مل رہی ہے اس نے غیر اسلامی کا روائیوں کا اعتراف بھی کیا ۔ اُس کے اِن اعترافی بیانات نے دہشت گردوں کو مزید پریشان کر دیا اور انہی انکشافات نے درندہ صفت فضل اللہ کو بھی اتحاد کی اپیل کرنے پر مجبور کر دیا۔دہشت گردوں کے کمزور ہونے کے اگرچہ کافی شواہد اورثبوت مو جو د ہیں تا ہم یہ سمجھ لینا کہ ان کا زور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے بھی غلط ہو گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی طاقت مجتمع کرنے کی بالکل بھی مہلت نہیں ملنی چاہیے کیونکہ اس وقت وہ خود اور ان کے مدد گار ہر صورت اور ہر قیمت پر خود کومجتمع کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر خدانخواستہ وہ اس میں کا میاب ہوگئے تو یہ ہزاروں جانوں اور خون کی رائیگانی ہوگی جو اس جنگ کی نظر ہو چکے ہیں لہٰذا اس وقت شدید اور کاری ضرب کی ضرورت ہے تا کہ ان کی جڑ کاٹی جا سکے اور سفارتی سطح پر بھی انتہائی منظم کام کرنا ہوگا تا کہ مدد گا روں کو بھی دنیا کے سامنے لا یا جا سکے اور اس معاونت سے انہیں روکا جاسکے اور دنیا کے امن کو دوبارہ سے بحال کیا سکے۔

128
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...