قارئین کرام ! اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نائین الیون کے بعدبھارت افغانستان گٹھ جوڑ کو ممکن بنانے میں امریکی گلوبل پالیسی ساز اداروں کا گہرا تعلق رہا ہے ۔ گو کہ امریکہ نیٹو اتحاد کے افغانستان میں قدم جمانے سے سے قبل بھارت افغانستان تعلقات میں قیام پاکستان کے فوراً بعد کافی قربتیں دیکھنے میں آئی تھیں حتیٰ کہ بھارت نے پاکستان دشمنی کے حوالے سے پختونستان کے نعرے کو ہوا دینے کیلئے بھی افغان حکومت سے خصوصی تعلقات قائم رکھے جس کا تذکرہ چند برس قبل بھارت کے اہم تھنک ٹینک ،سی آر موہن ، نے 2007 میں اپنے مقالے میں یہ کہتے ہوئے کیا ہے : “For sixty years since partition, India has been in favour of a strong Afghan state and Pakistan a weak entity around the Durand Line…Irrespective of where the US policies are headed in Afghanistan, New Delhi needs to evolve its own strategy towards the north-western parts of the sub-continent”. ۔ دریں اثنا ، افغانستان میں سابق سوویت یونین کی افواج کو غلبہ حاصل ہونے کے بعد خطے میں امریکی مفادات کی مدد سے افغان جہاد کا ارتقا ہوا جس کے نتیجے میں سوویت یونین کے ٹوٹنے پر افغانستان میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کے باعث بھارتی مفادات کو کافی زک پہنچی لیکن بھارت افغانستان میں اپنے پنجے گاڑھنے کیلئے موقع کی تلاش میں رہا چنانچہ نائین الیون کے بعد امریکی نیٹو افواج کے افغانستان میں داخلے کے بعد بھارت جو ماضی میں سوویت یونین کا اتحادی تھا نہ صرف امریکہ کا دفاعی اور سیکیورٹی اتحادی بن گیا بلکہ افغانستان کی تبدیل شدہ صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں شمالی اتحاد سے انتہائی قریبی تعلقات قائم کئے اور پھر سیاسی طور پر کمزور صدور بل ترتیب سابق صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر اشرف غنی کو اپنے حلقہ اثر میں داخل کر لیا ۔ بھارت نے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے افغانستان کی تعمیر نو کے حوالے سے افغانستان کے سیاسی، معاشی، تعلیمی و تعمیراتی امور سے لیکر دفاعی اہلکاروں کی تربیت تک کے معاملات میں افغان حکومت سے معاہدے کئے جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے افغانستان کے معدنی وسائل کو بتدریج اپنے قبضہ قدرت میں لینے کے عمل کو مہمیز دینی شروع کی۔
اندریں حالات ، معاشی میدان میں بھارت کو پہلی کامیابی اُس وقت ہوئی جب 2011 میں سجن جندال گروپ کی قیادت میں جندال پرائیویٹ کنسورٹیم نے سرکاری بھارتی اِسٹیل اتھارٹی کی شراکت سے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی مدد سے صوبہ بامیان میں واقع دوسرے نمبر پرموجود دنیا کے سب سے زیادہ خام لوہے کے ذخائر میں چار میں سے تین حصوں کا انتہائی سستے داموں معاہدہ کر لیا۔ بہرحال ، افغانستان میں جاری افغان طالبان کی مزاہمت اور مبینہ طور پر تاحال پاکستان سے منسلک لینڈ روٹ کے ذریعے خام لوہے کے اِن ذخائر کی بھارت منتقلی میں موجود رکاوٹوں کے باعث ابھی تک یہ آپریشن شروع نہیں ہو سکا ہے ۔ سجن جندال گروپ اور انڈین اِسٹیل کی خواہش ہے کہ اُنہیں پاکستانی لینڈ روٹ کے ذریعے یہ سستا خام لوہا اور اِسکریپ افغانستان سے واہگہ یا کراچی پورٹ کے ذریعے بھارت لے جانے کی اجازت مل جائے تو بھارت اِسٹیل کی دنیا پر حاوی ہوسکتا ہے جبکہ بامیان سے متبادل راستوں بشمول ایرانی بندرگاہ چاہ بہار جسے ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اَپ گریڈ کیا جارہا ہے سے بھی اِس خام لوہے کی بھارت ترسیل طالبان مزاحمت کے باعث طویل مدت تک ممکن نہیں ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی حکومت پاکستان کیساتھ تعلقات کو بات چیت کے ذریعے معمول پر لانے کے بجائے کشمیروں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہے اور کشمیر کنٹرول لائین کی تسلسل سے خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل و غارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہے لیکن مودی صاحب پاکستانی سیاسی قیادت سے ذاتی دوستی کو ترجیح دئیے ہوئے ہیں ۔ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے قائدین کیساتھ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے شرکت کی تو دنیا پر سجن جندال کیساتھ وزیراعظم پاکستان کے دوستانہ تعلقات کا بھی انکشاف ہوا۔ نیپال میں سارک کانفرنس منعقد ہوئی تو بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے مبینہ طور پر وزیراعظم نواز شریف سے نیپال میں خفیہ ملاقات کرانے کا ٹاسک بھی سجن جندال کو دیا تھا ۔ جب بھارتی میڈیا میں نواز مودی مبینہ خفیہ ملاقات کا تذکرہ ہوا تو سجن جندال کھٹمنڈو میں موجود تھے اور جب 25 دسمبر 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندو مودی وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کیلئے اچانک کابل سے لاہور تشریف لائے تو بھی سجن جندال اپنی فیملی کے ہمراہ وزیراعظم کی نواسی کی شادی میں شرکت کیلئے لاہور میں موجود تھے۔ سجن جندال چند ماہ قبل کابل سے آکر مری میں وزیراعظم پاکستان سے مری میں خفیہ مذاکرات کر چکے ہیں۔ دراصل نریندر مودی بھارتی انتہا پسند دہشت گرد تنظیم RSS کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کے انتہا پسند ہندو توا ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے افغانستان اور بنگلہ دیش کی سیاسی قیادتوں کو دوستی کی آڑ میں معاہدوں میں جکڑنے میں مصروف عمل ہیں۔ نریندر مودی چند ماہ قبل بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد سے بھی بھارت کیساتھ دفاعی معاہدے کیلئے MOU پر دستخط کرا چکے ہیں۔ کیا افغانستان اور بنگلہ دیش کو طفیلی ریاستیں بنانے کے بعد یہی جال پاکستانی سیاسی قیادت پر ذاتی دوستی کی آڑ میں پھینکا جا رہا ہے اِس کے بارے میں ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ البتہ یہ درست ہے کہ متحارب مملکتوں کے درمیان دوطرفہ مسائل کے حل کیلئے دو طرفہ مذاکرات کو مثبت انداز سے آگے بڑھانے کیلئے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کیلئے آج کی دنیا میں ٹریک ون اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان کی موجودہ قیادت مبینہ طور پر بھارتی قیادت سے قومی امور پر معاملہ فہمی کے پروسس میں تو کامیاب نہیں ہو سکی ہے لیکن ذاتی تعلقات بظاہر اپنی معراج کو پہنچ چکے ہیں ۔ ایک معروف بھارتی صحافی انجیلی اہوجہ نے اپنی 26 دسمبر 2015 کی رپورٹ میں اِس اَمر کا تذکرہ کیا ہے کہ سجن جندال کے لاہور میں قائم اتفاق گروپ کیساتھ تجارتی روابط موجود ہیں جبکہ معروف بھارتی اینکر ، صحافی اور کتابوں کی مصنف برکھا دت کا کہنا کہ سجن جندال کے وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز سے دوستانہ مراسم ہیں ۔ اپنے ایک حالیہ ٹوئیٹ میں مریم نواز شریف کہہ چکی ہیں کہ سجن جندال وزیراعظم پاکستان کے دیرینہ دوست ہیں ۔ یہ مراسم اپنی جگہ اہم سہی لیکن ہمیں بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کے پس منظر میں یہ نہیں بھلانا چاہیے کہ بھارت آج بھی اکھنڈ بھارت کی تحریک کو مہمیز دے رہا ہے اور افغان قیادت کی مدد سے پاک افغان بارڈر کے نزدیکی علاقوں میں قونصل خانے قائم کرکے نہ صرف بلوچستان ، کراچی اور قبائلی علاقوں میں تخریب کاری کو ہوا دے رہا ہے بلکہ افغان فوج کو بھی ڈیورنڈ لائین پر امن کی صورتحال کو خراب کرنے پر اُکسا رہا ہے جس کا پاکستانی افواج موثر جواب دے رہی ہیں۔ بہرحال ہماری سیاسی قیادت کو اِس اَمر کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ بھارتی حکومت چانکیہ کوٹلیہ کے سیاسی وچار کی نمائندگی کرتی ہے جو وقت گزرنے کیساتھ انتہا پسند ہندو سائیکی کا حصہ بن چکے ہیں۔ کوٹلیہ کا سیاسی فلسفہ ہندو ریاست کی موجودہ مودی ویژن کا بخوبی احاطہ کرتا ہے : ” طاقت کی ہوس اور ہمسایہ ممالک کی فتح کے جذبے کو ہمیشہ قائم رکھو ۔ ہمسایہ ریاستوں سے دوستی کے جذبات محض اُنہیں دھوکے میں رکھنے کیلئے استعمال کرو اور ہمسایہ ریاستوں پر دباؤ قائم رکھنے کیلئے اِن ریاستوں کے پار کی حکومتوں سے دوستی اور اشتراک عمل کے سلسلے کو آگے بڑھاؤ تاکہ تمہاری ہیبت قائم رہے ” ۔ کیا ہماری سیاسی قیادت یہ سب کچھ نہیں جانتی ہے۔ البتہ یہ اَمر خوش آئند ہے کہ افواج پاکستان مودی کی کوٹلیہ پالیسی کے خلاف ہردم متحرک ہیں اور ایٹمی پاکستان کے خلاف جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہر دم تیار ہیں ۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔

24
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...