کابل میں جرمن سفارتخانے کے نزدیک بارود سے بھرا ہوا ٹرک اُڑدیا گیا جس میں تقریباََ سو افراد ہلاک اور 450 زخمی ہوئے اس افسوسناک واقعے پر عالمی برادری کی طرح پاکستان کو بھی افسوس ہے اور حکومت پاکستان نے افغان حکومت سے افسوس کا اظہار بھی کیا اور متاثرہ خاندانوں سے بھی ہمدردی ظاہر کی۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی نمازہ جنازہ کے دوران پھر خود کش دھماکے ہوئے اور خبروں کے مطابق بارہ مزید افراد ہلاک ہوئے۔ ان دھماکوں کے بعد کابل میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور اس وقت صدارتی محل کے ارد گرد بے شمار خیمے لگے ہوئے ہیں اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر اشرف غنی مستعفی ہو جائیں کیونکہ نہ تو وہ عوام کو سیکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو روزگار دے سکے ہیں لہٰذا انہیں حکومت کرنے کو کوئی حق نہیں بات تو اِن مظاہرین کی بھی درست ہے لیکن بات یہ بھی ہے کہ افغان حکومت کا دائرہ اثر بس صدارتی محل کے ارد گرد ہی ہے شاید کابل بھی پورا اس کے زیر اثر نہیں بلکہ یہ دائرہ اثر کہیں صدارتی محل کے آس پاس ہی ختم ہو جاتا ہے لہٰذا وہ پورے افغانستان میں تمام افغانیوں کو کیسے ملازمتیں فراہم کر سکتے ہیں ۔ افغانستان جن حالات سے آج کل گزر رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کے لیے کچھ نئے نہیں ان کی نسلیں اسی ماحول میں پیدا اور جوان ہوئی ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ پچھلے تقریباََ چالیس سال سے پاکستان نے اپنے ملکی حالات کے ہاتھوں تنگ اور جنگ سے بھاگے ہوئے ان افغانیوں کو پناہ دئیے رکھی اور یہ افغان پر سکون ماحول میں پاکستان میں رہے تعلیم حاصل کر کے بہتر شہری بنے اور مہذب دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئے۔ پاکستان اسی افغانستان کی جنگ لڑتے لڑتے دہشت گردی کا شدید ترین شکار بنا۔ اسی روس افغان جنگ میں پاکستان میں بے تحاشا اسلحہ آیا، منشیات عام ہوئیں، کلاشنگوف اور ہیروئن اسی دور کا تحفہ ہے جو ابھی تک ہم بھگت رہے ہیں اور نسل درنسل بھگت رہے ہیں۔ آئے روز دھماکے، دہشت گردی فساد اور خونریزی ہمارے ملک کا ایک مستقل فیچر بن چکا ہے اور یہ سب کچھ’’ افغان بھائیوں کی مدد‘‘ کے عوض ان کی طرف سے پاکستان کے لیے تحفہ تھا اور تاحال ہے لیکن اس کے باوجود یہ’’ افغان بھائی‘‘ بھائی چارے کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرارہے ہیں۔ حالیہ ٹرک دھماکے کے بعد بھی یہی موقف اپنایا گیا اور الزام پاکستان کے سردھر دیا گیا اور امریکہ اور اشرف غنی مردہ باد کے ساتھ ساتھ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے بھی یہ نعرہ لگایا گیا۔ اُس وقت افغانیوں اور افغانستان کے لیے پاکستان کی چالیس سال سے جاری خدمات کو بالکل بھلا دیا گیا۔ بہت بڑی تعداد میں افغانی ابھی بھی پاکستان میں موجود ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے موجود ہیں اور کسی طور جانے کو تیار نہیں تو پھر یہ نعرے لگانے اور لگوانے والے کون تھے اور کس کے زیر اثر تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ٹرک ایرانی سفارتخانے میں رات بھر کھڑا رہا اس بات کا اشرف غنی نے نوٹس بھی لیا کہ یہ ٹرک پوری رات ایرانی سفارتخانے میں کیوں کھڑا رہا اور اس کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی تو کیا ہمارے برادر پڑوسی ملک ایران کا بھی کہیں کوئی کردار تو نہیں اور اگر ہے تو یہ کردار کس کے زیراثر ہے پاکستانی سرحد پر ایران کی چھیڑ چھاڑ بھی اس خیال کو تقویت دیتی ہے۔ افغانستان میں ایران کا کردار بھی سب ہی کو معلوم ہے اور ایران پر بھارتی اثر و رسوخ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تو کیا پھر یہ مظاہرین بلواسطہ یا بلا واسطہ بھارتی ایجنڈ پورا کر رہے ہیں بہر حال جو بھی ہے اس وقت افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی پر ہر پاکستانی کو دکھ اور افسوس ہے یہ اور بات ہے کہ افغانستان کے اندرسے پاکستان سے بدلہ لینے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں۔ کئی دہشت گرد وں کے پاکستان کی طرف نکل آنے کی خبریں بھی آرہی ہیں یعنی پاکستان میں بھی حملے ہونگے اور افغان حکومت کی طرف سے ہونگے ۔اشرف غنی کا لب و لہجہ اور دھمکی آمیز رویہ اور بیانات صرف افغان ذرائع اور قوت کے بل بوتے پر ممکن نہیں وہ افغانستان اور وہ اشرف غنی جو اپنے لاکھوں باشندوں کو پاکستان سے نکال کر افغانستان واپس نہیں لے جا سکتا وہ پاکستان کو دھمکیاں اور آخری موقعہ دینے کی باتیں کیسے کر سکتا ہے۔ خود افغانستان اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتا پاکستان جیسی ایٹمی قوت کو دھمکیاں کیسے دیتا ہے ظاہر ہے کہ اُس کی پُشت پر دوسری بڑی قوتیں موجود ہیں۔اشرف غنی نے اپنے دھمکی آمیز بیان میں پاکستان کو ’’یاد دلایا‘‘ کہ پُر امن افغانستان پاکستان کے حق میں ہے بالکل درست فرمایا انہوں نے لیکن اس نہج پر کام کرنے کی بھی ضرورت ہے وہ افغانستان میں امن بحال کرنے میں تو ناکام ہیں ہی لیکن پاکستان میں بھی وہ مسلسل بدامنی کے مکمل ذمہ دار نہیں تو حصہ دار ضرور ہیں اور پاکستان دشمنوں کے موئثر مہرے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے بھی اپنی خصوصی کور کمانڈر کانفرنس میں افغان حکومت کو بڑا برادرانہ اور مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ بجائے پاکستان کو غیر ضروری طور پر موردِالزام ٹھہرانے کے اپنے اندر کے حالات پر توجہ دے اگر افغان حکومت اس مشورے پر عمل کرلے تو نہ صرف اپنے ملک میں امن بحال کر سکیں گے بلکہ پاکستان میں بھی حالات بہتر ہوں گے۔ افغان حکومت اگر پاکستان کو مطلوب دہشت گرد اور ملا فضل اللہ جیسے درندوں کو پاکستان کے حوالے کر دے اور ان کی مدد کرنا روک دے تو دہشت گردی کی عفریت سے نجات ممکن ہو سکتی ہے اور وہ بھی یاد رکھے کہ دوسروں کے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے وہ نہ صرف دوسروں کا نقصان کر رہا ہے بلکہ اپنا بھی نقصانِ عظیم کر رہا ہے۔اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں لہٰذا ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں اور مسلسل نقصان اٹھاتے رہیں۔دنیا محض یہ کہہ کر ہمیں آگے لگائے رکھے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں سچ یہ ہے کہ ہمیں اس قربانی کے نام پرقتل کیا جارہا ہے ا ور مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان کو مسلمان کے خلاف دین، مذہب اور مسلک کے نام پرلڑایا جا رہا ہے۔پاکستان اور پاکستانی افغانستان میں بدامنی ، دہشت گردی اور افغان بھائیوں کے قتل پر واقعی دکھی ہوتے ہیں لیکن اگر وہاں کے صدر اور حکومت اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کے بعد ،دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے کی بجائے پاکستان کو دھمکیاں دینے کی روش اپنائے تو اسے یہ مان لینا چاہیے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے ملک کے خلاف بھی مجرمانہ رویہ اپنانے کا مرتکب ہورہا ہے۔اُسے بلیم گیم کی بجائے بنیادی وجوہات کو دور کرنے پر کام کرنا ہو گا اور دوست دشمن کی پہچان کرنا ہو گی اور یہ بھی طے کر لینا ہو گا کہ پاکستان کے دشمن اُس کے دوست نہیں ہو سکتے۔افغانستان اور پاکستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں اور یہی مضبوط رشتہ ہے جسے توڑنے کے لیے بھارت جیسے دشمن مسلسل کو شاں ہیں اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افغانستان اُس کی مدد کر رہا ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان حکومت معاملات کی تہہ تک پہنچ کر اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کر لے۔

88
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...