کل بھوشن یادیو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے لیکن یہ اس کا مکمل اور صحیح تعارف نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ شہرت یہ نہیں کہ وہ نیوی آفیسر ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک جاسوس اور دہشت گرد ہے ایک ایسا دہشت گرد جو پکڑا گیا اور اُس نے نہ صرف علی اِلاَعلان اعتراف جرم کیا بلکہ اپنے جرم کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ وہ پاکستان کے سب سے وسیع صوبے بلوچستان میں چھپتا رہا اس صوبے کی وسعت اور مخصوص حالات اسکو چھپنے میں سہولت دیتے رہے لیکن پھر آخر کار وہ اِدھر ہی سے پکڑا گیا اور اُس نے کئی وارداتوں کا اعتراف کیا۔ اُس کے سر بہت سارے پاکستانیوں کا خون ہے اور خون کا بدلہ خون ہی ہوتا ہے۔ دنیا کے بہت سارے ترقی یافتہ ممالک بھی جو سرکاری سطح پر تو سزائے موت کے خلاف ہوتے ہیں مگر اعلانیہ یا غیر اعلانیہ اس پر عمل در آمد کرتے ہیں اور ملک کے معاملے میں تو وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستانیوں کے خون کا بدلہ خون نہ ہو اور کل بھوشن جیسے مجرم اور قاتل کو جو خود اپنے جرم کا اقرار کر رہا ہے کو کیسے معاف کیا جائے لہٰذا پاک فوج کی عدالت نے اُسے پھانسی کی سزا سنائی اور بجا سنائی جس پر بھارت عالمی عدالت انصاف میں گیا اور مغرب نے پھر اپنا دوہرا معیار بر قرار رکھا اور کل بھوشن کی سزا پر عملدرآمد روک دینے کا فیصلہ دیا اس پر بھارت کا اکڑ جا نا قدرتی تھا اور اسی اکڑ میں اب وہ جو چاہے الزام لگا رہا ہے لہٰذا تازہ الزام اُس نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کے حوالے سے لگایا کہ انہوں نے بقول اُن کے یہ اقرار کیا کہ کل بھوشن بلوچستان سے پکڑا نہیں گیا بلکہ اُسے ایران سے اغوا کیا گیا ہے ویسے تو چاہے جو بھی ہوا مجرم اقرار جرم کر چکا ہے اور اب وہ قابل سزا ہے لیکن ریٹائر ڈجنرل امجد شعیب نے اس الزام کی سختی سے تر دید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا بلکہ اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہ بہار ایران سے آپر یٹ کر رہا تھا اور پکڑا بلوچستان سے گیا، ان کے انٹرویو سے آپریٹڈ کا لفظ حذف کر دیا گیا۔ریٹائر ڈجنرل امجد شعیب ایک ذمہ دار پاکستانی اور سابق فوجی افسر ہیں لہٰذا ان کی طرف اس طرح کی غیر ذمہ داری کی توقع کرنا بھی نہیں چاہیے اور نہ کوئی ایسا سوچتا ہے لیکن بھارت ہر قسم کا جرم کرنے کا عادی ہے اورجھوٹ اور الزام تراشی تو ایک چھوٹی سی بات ہے جو وہ بڑے تو اتر سے کرتا ہے اور اپنے ہاں ہونے والے ہر چھوٹے بڑے واقعے کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے چاہے اُس کا دور دور تک پاکستان سے کوئی تعلق بنتا ہی نہ ہو وہ بھی پاکستان کا جرم بنا دیا جاتا ہے لیکن یہاں ایک مجرم خود اقرار جرم کر چکا ہے مختلف واقعات تک کی نشاندہی تک کر چکا ہے جس میں وہ ملوث رہا ہے اس کے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک موجود ہیں بھارت اس کو بے گناہ ثابت کر نے کی احمقانہ کوشش کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بھی یہ مہم چلا کر اُس کو بچانے کی سعی کر رہا ہے ایک عالمی مجرم کو جس نے ایک دوسرے ملک کی سرحدوں کو غیر قانونی طور پر عبور کیا اور جعلی نام سے کیا تو کیا یہ بذات خود جرم نہیں اور کیا بھارت اس طرح سے اپنے ملک میں آنے والوں کو معاف کرے گا یا کرتا ہے وہ تو غلطی سے سرحد پار کرنے والے بچوں کو بھی سالوں تک قید رکھتا ہے انسان تو انسان وہ تو کبوتر اور دیگر پرندوں کو بھی گرفتار کر لیتا ہے تو کل بھوشن تو جیتا جاگتا بالغ انسان اور بھارتی افواج کا حاضر سروس افسر ہے اور ظاہر ہے حاضر سروس افسر کو حکومتی حکم سے ہی دوسرے ملکوں میں بھیجا جاتا ہے بلکہ اُنہیں کسی بھی دوسرے ملک کا سفر کرنے کے لیے بھی اپنی حکومت اور فوج سے اجازت لینا پڑتی ہے پھر کل بھوشن کیسے پاکستان پہنچا اور وہ بھی جعلی نام سے ۔ اُس نے سانحہ صفورا جیسے دلدوز واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کی تو کیا ان تمام لوگوں کا خون معاف کر دیا جائے اور جب یہ مرنے والے پاکستانی تھے تو مقدمے کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف میں بیٹھا ہواجج کیسے کرسکتا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج جب پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اعلان کرتی ہے کہ کل بھوشن بھارت کا بیٹا ہے اور ہم اُس کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور وہ کر رہے ہیں منطقی اور غیر منطقی کی بحث میں پڑے بغیرکر رہے ہیں تو یہ تو ثابت ہے کہ وہ بھارت سر کار کے لیے خاص اور اہم ہے لہٰذااس بار انہوں نے ریٹائرڈجنرل امجد شعیب کو چُنا ہے اور ان کے حوالے سے یہ خبر دے کر اپنے خیال میں بہت بڑی نیوز بریک کی ہے لیکن اس سے پہلے پاکستان نے اس جاسوس کو پکڑ لیا تھا اور اصل خبر یہ تھی کہ اُس نے اقرار کیا کہ وہ بھارتی نیوی کا افسر ہے اور ’’را‘‘ کے لیے کام کرتا ہے اور مزید یہ کہ بھارت ہی ہے جو پاکستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے اور پاکستان کا یہ الزام بھی درست ہے کہ بلوچستان میں علحدگی پسندوں کی پشت پناہی بھی بھارت ہی کر رہا ہے کیونکہ اُس نے کئی علحدگی پسندوں سے روابط کا بھی اقرار کیا۔
کل بھوشن کی گرفتاری بذات خود پاکستانی نکتہ ء نظر کا ایک بڑا ثبوت تھا لہٰذابھارت کی بوکھلاہٹ ضروری تھی لیکن افسوس حکومت پاکستان کی طرف سے یہ کیس اس طرح سے دنیا کے سامنے نہیں لڑا گیا جیسا لڑا جانا چاہیے تھا لیکن پاک آرمی کی عدالت نے اسے وہ سزاسنائی جس کا وہ حقدا ر تھا اُس کا جرم قابل معافی نہیں ہے اور اُسے معافی نہیں ملنی چاہیے وہ پاکستان سے پکڑا گیا ہے جعلی نام اورجعلی پاسپورٹ پر پاکستان آتا جاتا رہا ہے جیسا کہ ریٹائرڈ جنرل امجد شعب نے کہا وہ اگرچہ ایرا ن کے شہر چاہ بہار سے آپریٹ کر رہا تھا لیکن پکڑا وہ بلوچستان سے گیا ہے اور اس کے جرائم کی فہرست پاکستان کے اندر خاصی طویل ہے لہٰذاوہ پاکستان کا مجرم ہے اور اُس کی سزا بھی پاکستانی قوانین کے مطابق ہونی چاہیے اور بھارت اُسے بچانے کے لیے جس غلط بیانی سے کام لے رہا ہے دنیا کو اُسے سمجھنا چاہیے اور ایک مجرم کے ساتھ مجرم کا ہی سلوک کر ناچاہیے تاکہ دوسروں کے لیے باعث عبرت ہو۔
103
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...