قارئین کرام ! اسلام آباد جوڈیشل اکیڈمی میں سپریم کورٹ کی جانب سے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی قیادت میں قائم کردہ مقتدر افسران پر مثتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) پانامہ پیپرز کے حوالے سے وزیراعظم میاں نواز شریف کی فیملی اور متعلقہ افراد سے تفتیش کے عمل میں مصروف ہوئی تو بادی النظر میں اِسے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور وزرأ کی ٹیم کی جانب سے دباؤ میں لانے کے حربے بھی عوامی سطح پر محسوس کئے جا رہے ہیں ۔ سب سے پہلے تو وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی جانب سے جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے قبل ہی تفتیشی ٹیم کے دو اراکین پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا جسے عدالت اعظمیٰ نے مسترد کر دیا ۔ یاد رہے کہ جے آئی ٹی میں شامل تمام ٹیم ممبران مقتدر سرکاری افسران ہیں اور ماضی میں مختلف سیاسی حکومتوں کیلئے بخوبی کام کر چکے ہیں چنانچہ حسین نواز کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے باہر مسلم لیگی کارکنوں کا جمع ہو کر نعرہ بازی کرنا کوئی احسن اقدام نہیں تھا ۔اِس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ پانامہ پیپرز کے حوالے سے موجودہ مقدمہ جناب وزیراعظم کی فیملی کے حوالے سے سرکاری نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا مقدمہ ہے جسے ریاستی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے بجائے قانونی اصولوں کیمطابق عدالتی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے حسین نواز کی آئی جے ٹی کے دو اراکین پر عدم اعتماد کی درخواست سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کئے جانے کے باوجود وزیراعظم سے منسلک حکمران جماعت کے اہم رہنما آصف کرمانی کا یہ کہنا کہ جن ممبران پر اعتراض کیا گیا ہے اُنہیں خود ہی جے آئی ٹی سے علیحدہ ہو جانا چاہیے جے آئی ٹی کے سرکاری افسران جو موجودہ حکومت کے دور میں بھی اپنے فرائض منصبی بخوبی ادا کرتے رہے ہیں پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ چنانچہ آئین و قانون کے ایک سینئر ماہر اعتزاز احسن کو کہنا پڑا کہ جے آئی ٹی پر اعتراض اور پیشگی سوالنامہ کسی تفتیش ٹیم سے نہیں مانگا جاتا ہے جبکہ تفتیشی عمل میں ملزم کیساتھ وکیل کو بیٹھنے کی اجازت بھی ایک غلط روایت ہے ۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور چپڑاسی قانون و آئین کی نظر میں ایک ہیں تو جے آئی ٹی کی کاروائی پر اعتراض کیا معنی رکھتا ہے۔
درج بالا منظر نامے میں (15 جون 1948) بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بڑی وضاحت سے کہا تھا : ” نمائندہ حکومتیں اور ادارے بلاشبہ جمہوریت کا لازمی جزو ہیں لیکن اگر لوگ اُنہیں اپنی ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا لیں تو نہ صرف یہ اپنی قدر و قیمت کھو دیتے ہیں بلکہ بدنام بھی ہو جاتے ہیں۔ اِس کا تدارک تب ہی ممکن ہوگا اگر ہم اپنے افعال کا احتساب کرتے رہیں اور اُنہیں انفرادی یا طبقاتی فائدے کے بجائے ملکی فلاح کی کسوٹی پر پرکھیں ۔ کسی اقدام سے پہلے سوچیں کہ آیا یہ آپ کے ذاتی یا علاقائی مفاد کیلئے ہے یا ملک کی فلاح و بہبود کیلئے ہے۔ اگر ہر فرد اِس طرح اپنا جائزہ لے اور کسی خوف اور لالچ کے بغیر اپنے آپ اور دوسروں کیلئے دیانت داری کو لازم قرار دے ، اور اگر سرکاری ملازمین اور عوام انہی اصولوں پر کاربند رہے تو حکومت قوم اور ملک کا معیار بلند ہوگا اور پاکستان دنیا کے عظیم ترین ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے گا” ۔اِس سے قبل قائداعظم نے 11 اگست کو پاکستان کیلئے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کرپشن اور بدیانتی برّصغیر کی بدترین خرابیاں ہیں جو زہر کی مانند ہیں اِنہیں آہنی ہاتھوں سے کچلنا ہوگا ۔ اِس کے علاوہ ناجائز فائدہ اُٹھانے اور اقربہ پروری جیسی لعنتیں بھی موجود ہیں جن کا سختی سے محاسبہ کرنا ضروری ہے ۔ جو کچھ قائداعظم نے فرمایا اُس کی درخشاں مثالیں آج کے جدید بیرونی جمہوری ممالک میں تو بدرجہ اتَم دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن بظاہر پاکستان میں پانامہ پیپرز کے حوالے سے جاری تفتیشی عمل کو ناکام بنانے کیلئے وزیراعظم کے صاحبزادے کے ذاتی نوعیت کے مقدمے میں جے آئی ٹی کی تفتیش کو منتقی انجام تک پہنچنے سے قبل ہی اہم وفاقی وزرأ ، مشیریوں اور اہم ریاستی شخصیتوں کی جانب سے اقربہ پروری کو رواج دینے کا جو بدترین سلسلہ شروع کیا گیا ہے اُس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ درست ہے کہ جمہوری ملکوں میں سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر عمل درامد کیلئے اقتدار میں آتی ہیں اور منشور سے انحراف کرنے پر عوامی رائے عامہ سے محروم ہوکر اقتدار سے علیحدہ ہو جاتی ہیں ۔ لیکن پاکستان میں اقتدار کو قائم رکھنے اور کیلئے مختلف ریاستی اداروں پر دباؤ کا حربہ استعمال کرنے کے جو جدید سیاسی رجحانات سامنے آئے ہیں اُنہوں نے تو آمرانہ فکر کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ ملک میں بیرونی ڈکٹیشن قبول کرنے اور کرپشن و بدعنوانی کو تحفظ دینے کی نیت سے چالبازی کے جس سیاسی ایجنڈے نے جنم لیا ہے اُسے عوامی حلقوں میں ملک کی سلامتی کیلئے سم قاتل ہی سمجھا جا رہا ہے۔ حکمران آئے دن بیرونی ممالک میں بین الاقوامی تجارتی شخصیتوں کی کانفرنسوں میں بیرونی سرمایہ پاکستان میں انوسٹ کرنے کی درخواستیں کرتے نظر آتے ہیں لیکن اپنا سرمایہ تواتر سے بیرون ملک لے جا رہے ہیں، کیا اِس منفی رجحان کے سبب بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ اری کرنے پر قائل ہوسکتے ہیں؟
دریں اثنا ، پاکستان کی سلامتی کے منافی موجودہ بھارتی معاندانہ جنگی عزائم کی روشنی میں پاکستان فوج جو اِس وقت حالت جنگ میں ہے دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھی پاکستانی سرمایہ بیرون ملک جانے سے روکنے کی ضرورت مسلمہ ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے بیشتر نظریاتی کارکن بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ جناب وزیراعظم کو اپنی فیملی سے یہی درخواست کرنی چاہیے کہ وہ پاکستان سے اپنی وفاداری کو کسی بھی شکوک سے بالاتر کرنے کیلئے اپنی بیرون ملک تمام دولت پاکستان واپس لے آئیں ۔ ماضی میں اِس کا مظاہرہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سابق صدر و وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا تھا جس کے مثبت نتائج نکلے تھے۔ اُنہوں نے بطور صدر مملکت قوم سے اپنے پہلے ہی خطاب میں کہا تھا : “میں ملک کے تمام ایسے لوگوں سے جنہوں نے اِس غریب ملک پاکستان کا خون (سرمایہ) بیرون ملک منتقل کیا ہے پاکستان کا سرمایہ واپس لانے کی اپیل کرتا ہوں ، عوام کو اِس خون کی ضرورت ہے ، افواج پاکستان کو اِس خون کی ضرورت ہے ، پاکستان کو یہ سرمایہ واپس لانا ہوگاورنہ بصورت دیگر میں کسی شخص کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں دونگا ، میں اُن لوگوں کے افراد اور خاندان کے خلاف کاروائی کرونگا جنہوں نے یہ سرمایہ پاکستان سے باہر بھیجا ہے ” ۔صد افسوس کہ قائداعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کی جانشین حکمران جماعتوں نے ہی اقربہ پروری اور ملکی سرمایہ باہر منتقل کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی جس کے سبب ملک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر سسک رہا ہے اِن قائدین کی جانشین جماعتوں کے حکمران عوام الناس کو پردے میں رکھ کر باریاں سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ بلاشبہ اسلامی جمہوری نظام ہی پاکستان کا اوّلین نصب العین ہے ۔ جمہوریت کی تعریف اور توضیح عوام کیلئے عوام کی حکومت سے کی جاتی ہے انتخابی منشور عوام اور حکومت کے درمیان ایک موثر رابطے کے طور پر سامنے آتا ہے لیکن صد افسوس کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں پہنچنے کے بعد انتخابی منشور کو لپیٹ کر کارپٹ کے نیچے رکھ دیاجاتا ہے اور تمام تر ریاستی امور عوامی رائے کے بجائے حکمرانوں کی ذاتی خواہشات پر طے کئے جانے لگتے ہیں جس سے جمہوریت کی روح کسی حد تک مجروح ہو جاتی ہے۔ عوامی خواہشات اور اُمنگوں کو ترجیح دئیے بغیر ایک ایسے ملک میں جمہوریت کیونکر پنپ سکتی جہاں اقتدار سویلین اور عسکری حلقوں کے درمیان گردش کرتا رہا ہو ۔ صد افسوس کہ پاکستان میں جمہوریت کو باپ بیٹا ، سمدہی ،بہن ، بھانجا بھتیجا انجمن بنا کر رکھ دیا گیا ہے جہاں عوام کی آواز صدا بصحرا بن کر رہ گئی ہے ۔ حقیقت یہی کہ جمہوریت محض مطلق العنان حکمرانی کا نام نہیں ہے بلکہ جمہوریت نام ہے ملکی امور کو مساوات ، عدل و انصاف ، قانون کے دائرے میں شخصی آزادی اور کرپشن و بدعنوانی کے حوالے سے حکمرانوں کی جوابدہی کو مقدم ترین درجہ دینے کا نام ۔کیا ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں ، یقیناً ایسا نہیں ہے کیونکہ پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کے بعد سب کچھ اُلٹ ہوتا نظر آ رہا ہے جسے درست کرنے کی ضرورت مسلمہ ہے۔ بقولِ شاعر
کانٹا ہے تو کلیوں کی ادا بنتا ہے… کچھ اپنی حقیقت سے سوا بنتا ہے
بندہ تو نہ بنتے کوئی دیکھا ہم نے… جو شخص بھی بنتا ہے خُدا بنتا ہے

56
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...