قارئین کرام ! 1974 کی اسلامی سربراہ کانفرنس میں سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان باہمی مشاورت سے اسلامی دنیا کا جدید ایجنڈہ تشکیل دیا گیا تو جمیل الدین عالی کی قومی فکر ” دین ہمارا دین محمد، ہم مصطفوی مصطفوی ہیں” کی دھنوں نے پاکستان کے طول و عرض کو گرما دیا تھا۔یہی وہ دور تھا جب سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی ایٹمی سائنس دانوں نے بظاہر امریکہ اور کینیڈا سے حاصل کئے ہوئے ایٹمی پلانٹ سے غیر قانونی طور پر حاصل کردہ ہیوی واٹر سے پلوٹونیم بنا کر بھارتی ایٹمی بم بنانے میں استعمال کیا تو ایٹمی قواعد وضوابط کی حامل مغربی قوتوں نے بھارت کی اِس جسارت پر محض زبانی کلامی ردعمل پر ہی اکتفا کیا جس کی تصدیق سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کی کتاب “No Higher Honor” کے مندرجات سے بخوبی ہوتی ہے۔اُنہوں نے اپنی اِس شہرہ آفاق کتاب میں بھارتی غیر قانونی ایٹمی صلاحیت کو قانونی درجہ دینے کیلئے امریکی چالبازیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے “بھارت امریکہ تعلقات کی راہ میں بل خصوص ہائی ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون اور پارٹنر شپ کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اُن امریکی پابندیوں کا جال تھا جن میں بہت سی پابندیوں کا تعلق 1974 میں پہلے بھارتی غیر قانونی ایٹمی دھماکے سے تھا ۔ صدر بش اور میرے (کنڈولیزا رائٹس) درمیان بات چیت کے ادّوار میں اِن پابندیوں سے نکلنے کی تجاویز پر کافی غور و غوث کیا گیا بالآخر نومبر 2002 میں دونوں ملکوں کے درمیان ہائی ٹیکنالوجی گروپ کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے ہمارے اگلے قدم یعنی اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کے حوالے سے بھارت کے جوہری اِسٹیٹس کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کر دی” ۔ حیرت ہے کہ اسلامی دنیا کیلئے اسلامی فوج ، اسلامی بنک اور ایٹمی قوت کے حصول کو ممکن بنانے کے نام نہاد جرم میں تو مغرب نے سیاسی سازشوں کے تحت شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو کو اسلامی ملکوں کی قیادت سے غائب کرنے میں تو دیر نہیں لگائی لیکن بھارت کو نوازنے میں پیش پیش رہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض مفادات کی جنگ تھی۔
درج بالا تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب ” اگر مجھے قتل کر دیا گیا ” میں وضاحت سے لکھا ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان کی جانب سے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کے شدت سے مخالف تھے ۔ دراصل مغرب ، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1974 میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد، ایٹمی قوت کے حصول کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کہوٹہ پروجیکٹ میں تعیناتی ، پاکستان چین سرحدی معاہدے اور فلسطینی تنظیم PLO کو فلسطین کی نمائندہ تنظیم تسلیم کئے جانے کو خطے میں اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا تھا جس کی تصدیق اپریل 1977 میں سابق وزیراعظم بھٹو کے قومی اسمبلی سے خطاب سے بھی ہوتی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ جو ہمیشہ ہی اسرائیلی ریاست کی سلامتی اور فلسطینیوں پر اسرائیلی زیادتیوں کے بلا شرکت غیرے حامی رہے ہیں نے کہوٹہ ایٹمی پروجیکٹ کا چارج ڈاکٹر اے کیو خان کو ملنے کے ایک ماہ کے اندر ہی اگست 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے دوران وزیراعظم پاکستان کو جس وارننگ سے نوازا اُس کی مثال دنیا کی سفارتی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ہنری کسنجر کی اِس وارننگ کی رپورٹ چشم دید مصدقہ ذرائع سے بزنس ریکارڈر میں شائع ہوئی تھی جس کا تذکرہ برطانوی لکھاری طارق علی نے 2008 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ” دی ڈوئل ” میں کیا ہے ۔ طارق علی کتاب کے صفحہ 110 پر وزارت خارجہ کے ایک آفیشل کے حوالے سے لکھتے ہیں جو اِس موقع پر یاداشت لکھنے پر معمور تھے: “…Kissinger waited for a while, and said in a cultured tone, ‘Basically I have come not to advise, but to warn you. USA has numerous reservations about Pakistan’s atomic programe; therefore you have no way out, except agreeing to what I say’. Bhutto smiled and asked, “suppose I refuse, then what?” Henry Kissinger became dead serious. He locked his eyes on Bhutto’s and spewed out deliberately, “Then we will make a horrible example of you!” Bhuttos’s face flushed. He stood up, extended his hand towards Kissinger and said, “Pakistan can live without the the US President.”
اندریں حالات ، اگر تکلیف دہ ماضی کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو ریاض میں حالیہ امریکہ عرب اسلامی کانفرنس جس میں 51 اسلامی ملکوں کی شرکت کی تھی، امریکی صدر ٹرمپ نے اسلامی دنیا سے ڈائیلاگ شروع کرنے کی ضرورت کا تذکرہ تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی اُنہوں نے ایران کو اسلامی دنیا میں تنہا کرنے کی فکر کو بھی مہمیز دی ہے جو احسن بات نہیں ہے۔صدر ٹرمپ نے بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کو مہمیز دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف بھارت اور افغانستان کے کردار کی تعریف کی جبکہ بھارت ہی افغانستان میں انسداد دہشت گردی کی آڑ میں خطے میں دہشت گردی کو مہمیز دے رہا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جسے ہمسایہ ملک چین کی جانب سے بین الاقوامی فورمز پر بھارت کیساتھ برابری کی بنیاد پر جوہری اسٹیٹس دینے کی مسلسل حمایت کی جا رہی ہے لیکن ریاض کانفرنس میں ایٹمی طاقت پاکستان کی خطے میں اہم حیثیت کو نظر انداز کئے جانے کے باوجود سویلین سیاسی قیادت کی امریکی مداح سرائی ناقابل یقین ہے ۔ ریاض کانفرنس میں صدر ٹرمپ کی تضاد بیانی سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں بھارت امریکہ اسرائیل مفادات کو مستحکم بنانے کیلئے مسلم اُمہّ کو تقسیم کرنے کے درپے ہے۔ ویسے تو پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کی ٹرم استعمال کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی بین الاقوامی جنگ میں فرنٹ لائین اسٹیٹ کی حیثیت سے شریک کیا گیا ہے چنانچہ اِسی نام نہاد اِسٹیٹس کے نتیجے میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے ہزاروں پاکستانیوں اور سرکاری اہلکاروں نے قربانیاں دی ہیں جبکہ امریکی اتحادی بھارت کی ایجنسیوں نے ہی پاکستان کو ہی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے ۔ کیا ریاض کانفرنس میں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا تذکرہ کیا گیا ؟ نہیں ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اِس کانفرنس میں ایٹمی پاکستان کے وزیراعظم کو خطاب کی دعوت بھی نہیں دی گئی۔
محترم قارئین ، کیا ہمیں ایٹمی پابندیوں کی خلاف ورزی کے مرتکب بھارتی ایٹمی پروگرام کو تحفظ دینے کی امریکی کوششوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے جبکہ پاکستان ایٹمی پروگرام تو جنوبی ایشیا میں جنگوں کے خاتمے اور پُرامن بقائے باہمی کی فکر کو ممکن بنانے اور پاکستان کی سلامتی کیلئے ایک چھتری فراہم کرنے کی نیت سے کیا گیا تھاتاکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان کی سرزمین پر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا جا سکے چنانچہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کی قیادت میں جوہری ٹیم نے پاکستان کے دفاع کو کسی بھی بیرونی خطرے کے خلاف مستحکم بنا دیا ہے لیکن یہ بات ہمارے پالیسی ساز اداروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت نے ایٹمی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کئے تھے لیکن بھارتی سویلین قیادت نے اپنے ایٹمی سائنسدانوں کو اِس کارکردگی پر منصب صدارت پر سرفراز کرنے سے بھی دریغ نہیں جبکہ ہمارے ارباب اقتدار نے محسن پاکستان کیساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا ہے جس کے مناسب تدارک کی ضرورت ہے ۔ اِس برس 28 مئی 2017 کا یومِِ تکبیر یکم رمضان کو طلوع ہوگا ۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ہماری سویلین اور عسکری قیادت پاکستانی عوام کے جذبہ حب وطنی کو اُجاگر کرنے کیلئے پاکستانی عوام کو یقین دلائے کہ ہم ایک جوہری طاقت ہیں جس کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں بھارت کو اِس اَمر سے ایک مرتبہ پھر آگاہ کرنا چاہیے کہ دین ہمارا دین محمد، ہم مصطفوی ہیں ہم مصطفوی ہیں۔ یومِ تکبیر زندہ باد، ایٹمی اسلامی پاکستان پائندہ باد۔

60
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...