قارئین کرام ! جب اہم اور حساس قومی معاملات میں میرٹ اور محاسن کو فوقیت دیتے ہوئے بروقت انتظامی فیصلے کرنے کے بجائے انتظامی امور پر حکمرانوں کے منافقانہ طرز عمل کے سبب ذاتی خودنمائی و خود ستائش اور سب اچھا ہے کی چھاپ لگ جاتی ہے تو جوہر قابل کے پنپنے کے بجائے ریاستی مہارت (state crafts) نہ صرف رُو بہ زوال ہو جاتی ہے بلکہ اِس کے منفی اثرات مجموئی طور پر معاشرے پر بھی ثبت ہوتے ہیں ۔ایسا ہی کچھ حساس قومی سلامتی امور کے حوالے سے ڈان لیکس میں دیکھنے میں آیا ہے اور اب اِسی فکر کی بدترین کارکردگی دی ہیگ کی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں دیکھنے میں آئی ہے ۔ویانا کنونشن واضح طور پر مملکتوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے حوالے سے سفارتی مراعات و تحفظات کے مرکزی نکتہ کے گرد گھومتا ہے جبکہ سفارتی عملے کی دہشت گردی اور جاسوسی کے حوالے سے قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بھی ویانا کنونشن میزبان ملک کے اہل کاروں کو مناسب کاروائی کا اختیار دیتا ہے جس میں سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر میزبان ملک سے نکال باہر کرنا بھی شامل ہے۔ اِیسے حساس معاملات میں ویانا کنونشن مملکتوں کو جیسے کو تیسا کے اصول کیمطابق اِس بات کی اجازت دیتا ہے کہ” جیسا تم ہمارے ساتھ کروگے ویسا ہی ہم تمہارے ساتھ کریں گے” ۔ ویانا کنونشن میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ سفارتی مشن سے ہٹ کر دہشت گردی اور جاسوسی میں ملوث غیر متعلقہ افراد پر بھی ویانا کنونشن لاگو ہوتا ہے ۔ اگر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے اِس نام نہاد موقف کو تسلیم کر لیا جائے کہ دہشت گردی اور جاسوسی کے الزام میں دوہری شخصیت کے حامل زیر حراست دہشت گردوں پر بھی ویانا کنونشن لاگو ہوتا ہے تو پھر دنیا کو امن کا گہوارہ تو کبھی بھی نہیں بنایا جا سکے گا جس کا نوٹس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھی لینا چاہیے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا دی ہیگ کی عالمی عدالت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا یافتہ افراد کے مقدمات سننے کا اختیار حاصل ہے یقیناًایسا نہیں ہے تو پھر پاکستانی وکلاء کی ٹیم عالمی عدالت میں کیا کرتی رہی کہ عالمی عدالت کی فوج ظفر موج میں شامل کسی ایک جج سے بھی اپنا موقف نہیں منوا سکی؟ حیرت ہے کہ عالمی عدالت نے اپنے آپ کو قونصلر رسائی کے مقدمہ تک محدود رکھنے کے بجائے جس کے بارے میں بھارتی موقف یہ تھا کہ پاکستان نے کل بھوشن کے معاملے میں قونصلر رسائی کی 16 بھارتی درخواستوں پر عمل نہیں کیا، تو پھر عالمی عدالت کو اپنے آپ کو قونصلر رسائی تک محدود رکنے کے بجائے کل بھوشن یادیو کی پھانسی کے فیصلے پر حکم امتناہی کس بنیاد پر جاری کیا ہے کیونکہ یہ حق عالمی عدالت کو نہیں بلکہ انٹر نیشنل قانون کیمطابق بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کو حاصل ہے ؟ درج بالا صورتحال کی روشنی میں دنیا بھر میں پاکستانی دانشور یہ محسوس کر رہے ہیں کہ کیا امریکی دفاعی اتحادی ہونے کے ناتے بھارت کی جانب سے پاکستان کیساتھ یہ فکس میچ تھا جس کے متعلق عالمی عدالت کو ممکنہ طور پر پہلے ہی اعتماد میں لے لیا گیا تھا جس کا اظہار عالمی عدالت کی جانب سے فیصلہ صادر ہونے کے فوراً بعد ہی بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج سے ہونے والی گفتگو سے بھی ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے شسما سوراج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اِس فیصلے کو بھارت کیلئے ایک بڑی پریشانی سے نجات قرار دیتے ہوئے بھارتی وکلاء کی ٹیم کے سینئر وکیل ہریش سالو کو زبردست کامیابی پر گرم جوشی سے مبارک باد دی چنانچہ عالمی عدالت سے ایک غیر ممکن عارضی فتح حاصل کرنے پر بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے جیت کی خوشی میں پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔
سوچنے والی بات یہی ہے کہ کیا عالمی عدالت میں بھی یہ فکس میچ تھا کیونکہ بظاہر اِس فیصلے کا مقصد پاکستانی فوجی عدالت کے فیصلے پر کیچڑ اُچھالنا تھا یا پھر ہمارے اربابِ اقتدار کی جانب سے انتہائی حساس معاملات کو بھی روٹین ازم کی نظر سے دیکھنے کے باعث وجود میں آیا تھا ؟ کیا حکمران نہیں جانتے تھے کہ بھارت کل بھوشن کی گرفتاری پر کسی بھی حد تک جانے کیلئے خفیہ سازشوں میں مصروف ہے ؟ جبکہ کل بھوشن کی متوقع سزا کا معاملہ بھارت کیلئے اِس لئے بھی زیادہ پریشان کن تھا کیونکہ کل بھوشن کی گرفتاری کے باعث پاکستان میں بھارتی ریاستی تخریب کاری و دہشت گردی کے ناقابل تردید دستاویزی ثبوت ملے تھے جس میں کل بھوشن کی جانب سے اعترافِ جرم بھی شامل تھا۔ چنانچہ یہاں اِس اَمر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ خفیہ سیاسی سازش کیا ہوتی ہے کیونکہ ایسی کسی بھی سازش میں ملوث قوتوں کی خفیہ کوششوں کے سبب منظر عام پر آنے والے واقعات سے ہی اِس اَمر کی نشان دہی ہوتی ہے کہ متحارب طاقت نے اِس کیلئے منظم اور لمبی تیاری کی ہوئی تھی ۔ چنانچہ دی ہیگ میں پاکستانی وکلاء ٹیم عالمی عدالت کے کسی ایک جج کو بھی متاثر کرنے میں ناکام رہے کیوں؟ کیا یہ وزارت خارجہ کی بدترین ناکامی تھی یا وزارت خارجہ کا چارج وزیراعظم کے پاس ہونے کے سبب کمیونیکیشن گیپ اِس کی وجہ بنی۔
انتہائی حیران کن بات ہے کہ پاکستان 12 ستمبر 1960 سے عالمی عدالت کے دائرہ کار کے اعلان کا دستخطی ہے ۔ اگر 1960 کے اعلان کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ماضی میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب اور وزارت خارجہ کی ریاستی مہارت (state crafts) کے پیش نظر عالمی عدالت کا دائرہ کار تسلیم کرنے کے اعلان کا متن پاکستانی عدالتوں کے دائرہ کار کے حوالے سے بھی انتہائی خوش تراش اور جچا تُلا مختصر متن تھا جسے اچانک بظاہر بِلا کسی وجہ کے منسوخ کرکے 29 مارچ 2017 کو ایک پیچیدہ اور دقیق متن پر مبنی اعلان اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودہی کے دستخطوں کے تحت جاری کر دیا گیا جس کی کسی کلاز کا کل بھوشن کی سزا اور قونصلر رسائی کا جائزہ لیتے ہوئے عالمی عدالت نے نوٹس ہی نہیں لیا۔ حیرت ہے کہ نئے اعلامیہ کو اپوزیشن سے مشاورت، وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمنٹ میں پیش کئے بغیر ہی انتہائی خاموشی سے جاری کیاگیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کے دفترسے متعلقہ میڈیا ذرائع کے مطابق ڈان لیکس کے سزا یافتہ ، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی طارق فاطمی کا نام اِس نئے اعلامیہ کے خالق کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے جس کی البتہ مقتدر ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اِس نئے اعلامیہ میں پُرانے اعلامیہ کی اہم کلاز جس میں کہا گیا تھا : “Provided that the declaration shall not apply to (b) Disputes relating to questions which by international law fall exclusively within the domestic jurisdiction of Pakistan. جسے تبدیل کرکے نئے اعلامیہ میں بین الاقوامی قانون کو سیاق و سباق سے علیحدہ کرکے درج ذیل الفاظ میں جاری کیا گیا ہے : “Provided that the declaration shall not apply to: (b) disputes relating to questions which fall essentially within the domestic jurisdiction of the Islamic Republic of Pakistan.” ۔ اندریں حالات ، ICJ میں تبدیلی مناسب نہیں تھی کیونکہ موجودہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سفارتی اداروں سے ہٹ کر دہشت گردی اور جاسوسی میں ملوث دہشت گرد عناصر کے مقدمات بلا شرکت غیرے مقامی قوانین کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی عملداری میں آتے ہیں ۔ چنانچہ وزارت خارجہ نے قومی معاملے پر کمزور موقف اختیار کیا جس کے سبب انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے تمام جج ہی بھارت کے حق میں چلے گئے ہیں ۔ بھارت میں خوشی کے چراغ جلائے جا رہے ہیں جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ کی بدترین کارکردگی دنیا بھر میں پاکستانیوں کیلئے غم و غصے اور شرم کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کیا یہ بھی ڈان لیکس کی طرح کی سازش تھی ؟ بہرحال عوام الناس سیاسی افواؤں کی زد میں ہیں اور بقول شاعر سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

105
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...