قارئین کرام ! بلاآخر بھارتی بلّی تھیلے سے باہر آگئی ہے اور بھارت جو پاکستان کیساتھ تمام حساس معاملات کو دوطرفہ معاملات قراردیکر بات چیت کاڈول کو لٹکا کر نتیجہ خیز بنانے کے بجائے اپنی سیاسی جدوجہد کے تسلسل سے پاکستانی سیاسی رہنماؤں کو نچوڑنے میں ہی لگا رہتا تھا، اپنے تخریب کار انٹیلی جنس ایجنٹ کل بھشن یادیو کو پاکستان ملٹری کورٹ کی جانب سے سزائے موت دئیے جانے کے بعدنام نہاد بھارتی بیگناہی ثابت کرنے کیلئے دی ہیگ میں قائم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) میں جا پہنچا ہے۔ بیشتر دانشور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسئلہ کشمیر جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں نے آج تک قائم رکھا ہوا ہے ICJ کو تو چھوڑئیے بھارت کسی بھی ملک چاہے وہ اُسکا دفاعی اتحادی امریکہ ہی کیوں نہ ہو کا ثالثی کردار ماننے کیلئے بھی تیار نہیں ہے لیکن کل بھشن کا کیس لے کر ICJ میں پہنچ گیا ہے۔ کچھ بھارتی دانشور اور تھنک ٹینکس کل بھشن یادیو کے معاملے میں ICJ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر حیرت زدہ بھی ہیں کہ بھارت نے آخری راستہ کیوں استعمال کیا ہے جبکہ ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کے ذریعے زیر بحث لایا جا سکتا تھا؟ بیرونی میڈیا ذرائع کیمطابق کل بھشن یادیو کی شخصیت بدل کر حسین مبارک پٹیل کے نام سے انتہائی اہم تخریبی خفیہ مشن پر بھارتی سفارتی مشن سے ہٹ کر چاہ بہار بندرگاہ کے تعمیری امور سے متعلقہ معاملات کے کور میں سینئر پوزیشن پر تعینات کیوں کیا گیا تھا جہاں سے وہ افغانستان اور پاکستان میں اہم دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کے علاوہ اہم مقامی اور سفارتی شخصیتوں کیساتھ رابطے میں تھا تاکہ بلوچستان، کراچی اور دیگر پاکستانی علاقوں میں تخریب کاری کو مہمیز دی جا سکے۔ یہ اَمر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے اور افواج پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹاکر مغربی محاذ اور بلوچستان و کراچی کی جانب مبذول کرانے کی نیت سے کل بھشن کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا جس کو بچانے کیلئے بھارت ICJ تک پہنچ گیا ہے۔
کیا نیول کمانڈر کل بھشن یادیو بھارت میں نریندرا مودی کے سیکیورٹی مشیر اجیت کمار ڈول کا قریبی رشتہ دار ہے جسے یقین دلایا گیا تھا کہ اُسے پاکستان میں اہم سیاسی اور سماجی شخصیتوں کا تعاون حاصل رہیگا۔ اجیت کمار ڈول کا تعلق بھارتی پولیس سے ہے جسے انٹیلی جنس کے میدان میں اعلیٰ تربیت حاصل ہونے کے باعث بھارتی انٹیلی جنس بیورو اور ریسرچ اینڈ انیلسز ونگ RAW میں اندورن و بیران ملک اہم پوزیشن سے سرفراز کیا گیا۔ نوے کی دھائی میں وہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے کمرشل سیکشن میں مسلسل چھ برس تک انڈر کور انٹیلی جنس آفیسر کے طور پر اہم پوزیشنوں پر تعینات رہے جہاں اُنہوں نے بل خصوص خیبر پختون خواہ ، بلوچستان ، کراچی اور پنجاب میں اہم سیاسی ،سماجی اور کاروباری شخصیات سے انتہائی دوستانہ تعلقات قائم کئے۔ اِس سے قبل اجیت ڈول کو میزورام ، بھارتی پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں انسداد دہشت گردی کے اہم آپریشن میں کارکردگی دکھانے کو موقع ملا۔ اُن کی انٹیلی جنس صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ اُنہوں نے بل خصوص امرتسر میں گولڈن ٹیمپل پر بھنڈروالے کے خلاف آپریشن بلیو اسٹار لانچ کرنے سے قبل پاکستانی سپائی ماسٹر کا روپ دھار کر خالصتان تحریک کے اہم عسکریت پسندوں سے اہم معلومات حاصل کیں جس کے باعث بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کو منتقی انجام تک پہنچانے کیلئے بھارتی انسداد دہشت گردی کے حلقوں کو اہم کامیابی ہوئی۔ پاکستان میں اپنے تجربات کی روشنی میں کل بھشن یادیو کے بلوچستان میں داخلے کو محفوظ تصور کرتے ہوئے اُنہوں نے اِس آپریشن میں اپنی قریبی شخصیت کو فوقیت دی ۔ یہی وجہ ہے کہ کل بھشن کی گرفتاری اور ملٹری فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے سزائے موت دئیے جانے کے بعد اجیت کمار ڈول بالآخر نریندرا مودی کو ICJ میں لے جانے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ بظاہر فی الوقت اُن کا مقصد کل بھشن کی سزائے موت کو ٹالنا ہے جس کیلئے وہ مستقبل میں کل بھشن کے تبادلے کیلئے ایک ریٹائرڈ پاکستانی کرنل کو بڑی تنخواہ پر ملازمت کے لالچ میں نیپال بلا کر یرغمال بنانے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ جہاں بھارتی انٹیلی جنس ادارے کل بھشن کی گرفتاری کے بعد بین الاقوامی اداروں میں متحرک ہیں وہاں پاکستانی سیکیورٹی امور کے لئے خدمات سرانجام دینے والے اداروں کی کارکردگی کو بے معنی بنانے کیلئے چند پاکستانی دانشوروں کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔چنانچہ بھارتی حکومت کی جانب سے کل بھشن کیس کو ICJ میں لے جانے کے بعد صد افسوس کہ ایک نجی چینل کی اہم ٹاک میں حکومتی حمایت یافتہ اہم شخصیت نجم سیٹھی نے عسکری ایجنسیوں کی کارکردگی کو زیرو بنانے کیلئے یہ پروپیگنڈہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ ” کل بھشن تیز رفتار سماعت سے لگتا ہے ، بھارت کو خوش کرنے کیلئے کی گئی ہے”۔
اندریں حالات ، بھارتی حکومت کی جانب سے کل بھشن کی رہائی اور پاکستانی ادارون سے قونصلر رسائی مانگنے کیلئے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں جانا ایک حیران کن اَمر ہے ۔ درحقیقت ویانا کنونشن واضح طور پر سفارتی مراعات اور تحفظات کو ممکن بناے کیلئے سفارتی قانون کا درجہ رکھتا ہے جس میں سفارتی مراعات سے محروم کل بھشن جیسے تخریب کاروں کیلئے مقامی فوجداری قوانین اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے حوالے سے فیلڈ جنرل کوٹ مارشل سے انحراف ممکن نہیں ہے اور نہ ہی تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو ایسی کاروائی سے تحفظ حاصل ہے۔ بظاہر اقوم متحدہ کے چارٹر کیمطابق سفارت کاروں کو بھی جاسوسی اور تخریب کاری میں ملوث ہونے پرکوئی رعایت حاصل نہیں ہے۔ ویانا کنونشن میں کہا گیا ہے کہ سفارتی مراعات کا مقصد کسی بھی سفارتی مشن کو اپنے سفارتی فرائض مستعدی سے کرنے کے قابل بنانا ہے لیکن اِن مراعات کے پردے میں دہشت گردی کے منصوبہ بندی ، تیاری اور کسی بھی واردات کی اجازت نہیں ہے چنانچہ ایسی کسی بھی سوچ میں شامل سفارت کار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک سے نکالا جا سکتا ہے اور اگر مہمان ملک ایسے غلط کار سفارت کار کو واپس نہ بلائے تو میزبان ملک کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایسے سفارت کار کی سفارتی حیثیت ختم کرے اُسے سفارتی تحفظات سے محروم کردے۔ حیرت ہے اقوم متحدہ کے چارٹر اور ویانا کنونشن کی بدترین خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ چند برسوں میں بھارت کے مقتدر سیاسی حلقے بشمول سابق بھارت آرمی چیف، سیکیورٹی مشیر اجیت کمار ڈول، بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو دھمکیوں سے نوازنے اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے اعلانات کا جو ناپاک سلسلہ جاری ہے انتہائی قابل مذمت ہے ۔ اگر بھارت کل بھشن یادیو کے غیر متعلقہ کیس کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے گیا ہے تو پاکستان کو بھی سمجھوتہ ایکپریس کی تباہی کے کیس کو ICJ میں لے جانے پر غو ر و فکر کرنا چاہیے جس میں درجنوں پاکستانی موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے تھے اور جس کے انتہا پسند بھارتی ذمہ داران کو نریندر مودی سرکار کے آنے کے بعد رہا کرنے سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ جبکہ کل بھشن یادیو نے متعدد حساس نوعیت کے انکشافات کئے ہیں جن میں بلوچستان اور کراچی کی پاکستان سے علیحدگی کے علاوہ پاکستان چین راہداری پروجیکٹ کو ٹارگٹ کرنے کے ناپاک عزائم شامل ہیں۔ حیرت ہے کہ پہلے تو بھارت نے حسین مبارک نامی ایجنٹ کی گرفتاری پر اِسے بھارتی شہری ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد میں بھارت نے اِس ایجنٹ کو بھارتی بحریہ کے سابق آفیسر کے طور پر تسلیم کرنے کیساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ بحریہ سے قبل از وقت ریٹائرڈ اِس آفیسر سے بھارتی حکومت یا انٹیلی جنس ایجنسی کو کوئی تعلق نہیں ہے ۔ البتہ سرونگ کمانڈر کل بھشن یادیو کو سزائے موت کا اعلان ہونے پر بھارتی حکومت انتہائی بوکھلاٹ کا شکار ہو کر ICJ میں پہنچ گئی ہے اور بھارتی حکومت کیلئے کل بھشن بھارت کا عظیم بیٹا بن کر رہ گیا ہے۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت خطے میں امریکہ کا دفاعی اتحادی ہے جبکہ بھارتی نیوی کو ایشیا کی سب سے بڑی نیول فورس ہونے کا اعزاز حاصل ہے چنانچہ موجودہ حالات میں بھارت ایرانی نیوی کیساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں مصروف ہے۔ اگست ستمبر 2015 میں خلیج اور بحیرہ عرب میں بھارت و ایران نے اہم جنگی مشقیں کی ہیں اور اِن بحری جنگی مشقوں کے اختتام پر بھارتی کمانڈر رام کرشن نے اپنے الوداعی پیغام میں ایرانی ریئر ایڈمرل امیر حسین آزاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور بھارت کے درمیان تین ہزار سال پرانا ثقافتی تعلق ہے جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی اشتراک کا متقاضی ہے کیونکہ خطے میں بھارت اور ایران دو اہم بحری طاقتیں ہیں چنانچہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون خطے کی سلامتی کی گارنٹی بن سکتا ہے۔ کیا بھارت خطے کی سلامتی کیلئے کام کر رہا ہے یا کل بھشن جیسے آپریشن لانچ کرکے پاکستان اور ایران کے درمیان ہمیشہ سے ہی دوستانہ تعلقات کو خراب کرنا چاہتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس سے ایران کو اپنے بارڈر کے قریبی علاقے میں بھارتی تخریب کاری سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

61
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...