قارئین کرام ! گزشتہ ماہ 26 اپریل 2017 میڈیا میں سجن جندال کی دو ساتھیوں سمیت اچانک کابل سے بذریعہ طیارہ اسلام آباد آمد اور مری ہل اسٹیشن میں وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف کی رہائش گا ہ پر دوپہر کے کھانے پر خفیہ ملاقات کی خبریں اور تیس گھنٹے کی پُراسرار خاموشی کے بعد جناب وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے ٹوئیٹ کے ہاتھوں یہ عقدہ کھلا کہ ” سجن جندال جناب وزیراعظم کے پُرانے دوست ہیں اور اِس میٹنگ میں کچھ بھی خفیہ نہیں تھا اور نہ ہی اِسے سیاق و سباق سے ہٹ کر اُبھارا جائے” ۔ اِس سے قبل گزشتہ برس نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر بھارتی میڈیا کی جانب سے سجن جندال کی سہولت کاری کے پس منظر میں نوازا۔مودی خفیہ ملاقات کا بھر پور چرچا کیا گیا تو مشیر خارجہ کی جانب سے ایسی کسی بھی خفیہ ملاقات کی تردید کر دی گئی لیکن جناب وزیراعظم کی نواسی کی شادی کے موقع پر سجن جندال کی موجودگی میں بھارتی وزیراعظم کی اچانک لاہور آمد اور شادی کی تقریب میں شرکت سے یہی تاثر اُبھر کر سامنے آتا ہے کہ ذاتی تعلقات کی یہ لہر تردیدوں کے سائے میں ہی آگے بڑھتی رہی ہے باوجود اِس کے کہ بظاہر بھارت پاکستان تعلقات میں سرکاری سردمہری کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ، کشمیر کنٹرول لائین پر بھارت نرم سرحدوں کو گرماتا رہا اور افواج پاکستان کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر بدترین پروپیگنڈہ جاری رہا جو کافی معنی خیز بات تھی۔ البتہ بھارتی میڈیا میں محترمہ مریم نواز کے ٹوئیٹ کے بعد بھی مری ہل اسٹیشن میں سجن جندال۔نواز شریف ملاقات کو نہ صرف ٹریک ون ڈپلومیسی سے تشبیہ دی جاتی رہی بلکہ اِسے نئی دہلی میں نریندر مودی کی حلف برداری کے موقع پر سجن جندال کی رہائش گاہ پر وزیراعظم نواز شریف کی چائے کی دعوت کا متبادل ہی قرار دیا جاتا رہا ۔ چنانچہ مریم نواز شریف کے ٹوئیٹ کے برعکس 11 مئی کو بی بی سی اُردو نشریات میں بریک کی جانے والی رپورٹ میں یہ کہا جانا کہ پاکستانی سویلین لیڈرشپ نے ہائی لیول پر پاکستان فوج کو بتایا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی بھارتی اسٹیل ٹائیکون سے مری میں ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی ۔ گو کہ اِس رپورٹ کے مندرجات کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن اِس رپورٹ میں اعلیٰ مقتدر ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ جناب وزیراعظم نے ایک حالیہ ملاقات میں جندال ملاقات کے حوالے سے سپہ سالار کو بھی اعتماد میں لیا ہے ۔ البتہ یہ اَمر حیران کن ہے کہ ماضی میں نیپال میں جندال۔ نواز مجوزہ دوستی کے پس منظر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کے حوالے سے مشیر خارجہ اور اب جناب وزیراعظم کی صاحبزادی کی جانب سے بیک چینل ڈپلومیسی کے حوالے سے نواز۔جندال ملاقات کے خفیہ ایجنڈے کی تردید کی گئی تھی؟ جبکہ بی بی سی رپورٹ کی تردید اس مرتبہ محترمہ مریم نواز کے بجائے مریم اورنگزیب نے یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ جندال وزیراعظم کے دوست ہیں اور ذاتی حیثیت میں ملے تھے جبکہ بھارتی میڈیا ذرائع بی بی سی رپورٹ کی تائید میں پیش پیش ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا ذاتی حیثیت کی اِس ملاقات کیلئے سجن جندال کا اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ خصوصی طیارے میں اسلام آباد آنا اور مبینہ طور پر سیکیورٹی ذرائع کو بائی پاس کرتے ہوئے پھر مری ہل اسٹیشن پر ذاتی ملاقات کیلئے جانا، کیا معنی رکھتا تھا اِس کا مصدقہ جواب ابھی کسی کے پاس نہیں ہے۔ البتہ بیرونی میڈیا ذرائع کیمطابق بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال جن کا لندن میں بھی ذاتی گھر ہے جناب وزیراعظم سے قبل اُنکے لندن میں مقیم صاحبزادے سے دوستی قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کیمطابق اسلام آباد میں سجن جندال کی آمد پر اُن کا استقبال بھی وزیراعظم کے صاحبزادے نے کیا تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ سجن جندال نئی دہلی میں نریندر مودی کی تقریب حلف برداری اور نیپال میں سارک کانفرنس کے دوران بھی وزیراعظم کے صاحبزادے کی میزبانی میں مصروف دیکھے جاتے رہے ہیں جبکہ وزیراعظم پاکستان کے بارے میں بھارتی میڈیا میں یہ کہا جاتا رہا کہ اُنہوں نے سجن جندال کی چائے میں شرکت کیلئے پاکستان ہائی کمیشن میں کشمیر حریت کے رہنماؤں سے ملاقات ملتوی کر دی تھی۔حقائق یہی کہتے ہیں کہ سجن جندال بھارتی حساس ایجنسی RAW اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں بھارتی مخصوص تجارتی مفادات کی بحالی کیلئے کام کر رہاہے چنانچہ نریندر مودی کی پشت پناہی میں سجن جندال کے وزیراعظم پاکستان سے 2014 مین شروع ہونے والی دوستی کی غرض و غائت کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ سجن جندال بھارتی سرکاری اسٹیل کیساتھ مل کر دنیا میں سب سے زیادہ افغان خام لوہے کے ذخائر کے تقریباًتین چوتھائی کے کنٹریکٹ مالکان میں شامل ہیں جسے افغان ٹریڈ کی آڑ میں بہت ہی سستے داموں چمن بارڈر کے ذریعے بھارت منتقل کیا جا سکتا ہے یا پھر خام لوہے کو بہت ہی سستے داموں پروسس کرنے کیلئے پاکستان اسٹیل کی ایک نایاب ترین علاقے میں موجودگی بھارت کیلئے انتہائی اہمیت کی حامی ہے جسے نواز شریف انتظامیہ اِسٹیل کی دنیا میں مہارت رکھنے کے باوجود منافع بخش طریقے سے چلانے میں ناکام رہی ہے چنانچہ سجن جندال ،نریندر مودی کی سرپرستی میں مبینہ طور پر پس پردہ رہتے ہوئے ایرانی کنسورٹیم کے ذریعے خاموش پارٹنر کے طور پر پاکستان اِسٹیل کے حصص خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ 2016 میں نریندر مودی دورہ ایران کے موقع پر ایرانی اور افغان صدور کے ہمراہ دیگر اہم اِسٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں ۔
درج بالا تناظر میں جناب وزیراعظم کو سجن جندال سے معنی خیز دوستی کی عوامی سطح پر وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان بھارت اُلجھے ہوئے تعلقات کی روشنی میں جبکہ بھارت دنیا بھر میں افواجِ پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے اور ملک میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کیلئے نہ صرف کشمیر کنٹرول لائین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے میں مصروف عمل ہے بلکہ پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائین) پر افغان فوج میں اِسٹریٹجک معاہدوں کی بنیاد پر اثر و رسوخ رکھنے کے سبب کو افغان فوج کو پاکستان سے تصادم کی پالیسی کیلئے ہموار کر رہا ہے چنانچہ موجودہ صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارتی ایجنسی RAW بلوچستان ، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے تو ایسے میں مقابل پاکستانی اور چانکیہ کوٹلیہ شہرت یافتہ چالاک بھارتی سیاسی لیڈرشپ کے سہولت کاروں کیساتھ پاکستانی اداروں سے ہٹ کر وزیراعظم پاکستان کا براہ راست بیک چینل یا ٹریک ون ڈپلومیسی میں ملوث ہونا کیا معنی رکھتا ہے ۔ کیا پاکستانی ریاستی امور میں حساس اداروں کی شمولیت کے بغیر تجارتی مخصوص مفادات رکھنے والی بھارتی شخصیت سجن جندال دونوں ملکوں کے درمیان حالات کو معمول پر لا نے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ موجودہ بھارتی لیڈرشپ پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرکے پاکستان کو مزید ٹکروں میں تقسیم کرنے کی بھارتی پالیسی پر قائم ہے جسے افواج پاکستان اور سول لیڈرشپ کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرکے مہمیز دی جا رہی ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا بھارت کو بلا امتیاز تجارتی سہولتیں فراہم کرنے اور یکطرفہ طور پر بھارت افغانستان تجارتی روٹ کھولنے سے پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔ مخصوص مفادات کے حامل بھارتی تاجر تجارتی سطح کے مختلف فورمز پر پاکستانی تاجروں کو اِسی بات کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں ہیں کہ ہم پہلے بھی ایک تھے اور آئندہ بھی ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوسکتے ہیں لیکن پاکستانی مذہبی اور قومی فکر رکھنے والے دانشورجب تک دو قومی نظریۂ پر قائم ہیں دونوں ملکوں کے درمیان حالات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ حالانکہ پاکستان بھارت کلچر کو ایک بتانے والوں سے ہمرے تاجروں کو یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جو پاکستان بھارت کے درمیان کرکٹ میچ نہیں ہونے دیتے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیف کا منہ کالا کر نے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں، پاکستانی گلوکاروں کی محفلوں پر حملہ کرتے ہیں، تعلیمی دورے پر بھارت جانے والے پاکستانی طلبا کو واپس بھجوا دیتے ہیں، بھارت میں علاج کیلئے جانے والوں پر پابندیاں عائید کر دی گئیں ہیں جبکہ گائے کی حفاظت کی تحریک کی آڑ میں بھارت میں بیگناہ اقلیتوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارتی ڈِش انفارمیشن سے متاثر مخصوص مفادات کے حامل کچھ تاجر اور بکے ہوئے دانشور ناسمجھی کے باعث بھارتی سہولت کاروں کے ڈِس انفارمیشن کا شکار ہو کر کسی حد تک پاکستان کی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہو جاتے ہیں جس کا ایک رُخ ڈان لیکس سے متعلقہ معاملے میں بھی دیکھنے میں آیا ہے ۔ پاکستانی دانشوروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کیا بھارت ایران اور افغانستان میں اپنے اثرات کو قائم کرتے ہوئے پاکستان بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں مسلح تخریب کاری میں ملوث نہیں ہے جسے بھارتی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی خفیہ مسلمان نام سے بلوچستان میں گرفتاری اور ایران میں کئی ماہ سے روپوش طالبان چیف کو حال ہی میں ایرانی سرحدوں سے بلوچستان کے علاقے میں دھکیل کر چالاکی سے فریم کئے گئے ڈ رون حملے میں ہلاک کراکے دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کو ہوا نہیں دی گئی تھی۔کیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی بہترین کوششوں اور ہزاروں قربانیوں کے باوجود امریکہ، افغانستان ایران اور بھارت کو زیب دیتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف منفی آوازوں کو مہمیز دیں اور کیا بی بی سی کی رپورٹ بھارت کی جانب سے لیک نہیں کی گئی ہے۔حیرت ہے کہ بیرونی ممالک اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے متحرک ہیں جبکہ ہمارے چند مقتدر سیاسی رہنما بھارت کے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جس کا تدارک کرنے کیلئے ہمارے اداروں کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ۔

90
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...