قارئین کرام ! سقوط ڈھاکہ کے بعد 1972 میں ہندوستان کی مشہور سماجی و سیاسی شخصیت جے پرکاش نرائین نے ہندو تواکی پرچار کرنے والی شدت پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے مسلح تربیتی کیمپ کے آخری اجلاس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی نگاہ میں سنگھ پرئیوار کی جماعت RSS ہی وہ واحد تنظیم ہے جس کے پاس دس لاکھ تربیت یافتہ مسلح رضاکار ہیں اور جو بنگلہ دیش ، بھارت اور پاکستان کو ملا کر پھر سے اکھنڈ بھارت بنا سکتی ہے۔ جب جے پرکاش نرائین نے یہ پیش گوئی کی اُس وقت تک پاکستان ایٹمی قوت نہیں بنا تھا۔ 1972 ہی میں RSS کے سیاسی ونگ بل ترتیب جن سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدرکے ایل ایڈوانی نے مشہور پاکستانی صحافی محمود شام کو نئی دہلی میں انٹرویو دیتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ اُن کی جماعت کا مقصد اکھنڈ بھارت بنانا ہی ہے۔ اِس سے قبل قیام پاکستان کے موقع پر ہندوستان کے طول و عرض اور جموں و وادئ کشمیر میں RSS انتہا پسند سکھوں کیساتھ مل کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے مسلمانوں کو عظیم نقصان سے دوچار کیا تھا ۔ بابری مسجد کی تباہی بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جبکہ بھارتی انتہا پسند لیڈر سردار پٹیل پاکستان کو بننے سے پہلے ہی ختم کرنے کی سازش میں ملوث تھے جب اُنہوں نے ہندو مہاسبھا کے شدت پسند ہندوؤں کو یقین دلایا تھا کہ ہندوستان کو برطانوی حکومت ہند سے واگزار کرانے کیلئے عارضی طور پر تقسیم ہند کے پروگرام کو تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ ہندوستان کی آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی پاکستان شب کی شبنم کی طرح ختم ہو جائیگا جس کی کڑی یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں آزادی کے جلوس پر بموں کے حملے سے قائداعظم کو قتل کرنے کی سازش سے بھی ملتی ہے۔ اِس سازش کا انکشاف قیام پاکستان سے قبل پنجاب پولیس کے ایک باضمیر انگریز پولیس افسر نے کیا تھا جس کی بازگشت وائسرائے ہند اور قائداعظم تک پہنچی چنانچہ اِس انکشاف کے بعد ہندو سکھ سازشی عناصر قیام پاکستان سے قبل ہی تھر پارکر سرحد عبور کرکے بھارت چلے گئے اور یہ سازش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ قائداعظم ہندوازم کی ساحری اور سیاسی گورکھ دھندوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ ہندو اکثریت اپنی سیاسی جدوجہد کے زور پر مسلم جماعتوں خدائی خدمتگار تحریک ، جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار وغیرہ کو ساتھ ملا کر برٹش انڈیا کے مقتدر اہلکاروں کو ہندوستان میں بسنے والی ہندو مسلم قوموں کو ایک قوم قرار دیکر اقتدار اکھنڈ بھارت یا متحدہ ہندوستان کے حامی ہندوؤں کے حوالے کرنیکے مطالبات کرنے میں مصروف ہیں لیکن اپنے مخصوص مفادات کے حصول یعنی بھارت کی آزادی کے بعد ہندوازم کا دوسرا وار جبر و تشدد کے ذریعے مسلمانوں کو ہندو سماج میں جذب کرنے کی شدہی اور سنگھٹن کی شدت پسندانہ تحریکوں کے ذریعے کیا گیا جس کا اظہار ماضی میں RSS کے مسلح رضاکاروں کی جانب سے گیؤ رکھشا سبھاؤں کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دیکر کیا گیا اور جس کی باز گشت آجکل نریندر مودی حکومت میں گؤماتا تحریک کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر کے کیا جا رہا ہے۔
درج بالا تناظر میں اگر تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھا جائے تو ہندوازم کی اِس پالیسی کا پس منظر تو بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے لاہور میں 23 مارچ 1940 قرارداد لاہور (قرارداد پاکستان) کے تاریخی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے برٹش انڈیا میں مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کے حوالے سے برطانوی حکومت ہند کی تجویز کردہ متحدہ ہندستانی فیڈریشن یعنی اکھنڈ بھارت کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت سے کر دیا تھا اُنہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا : ” بّرصغیر ہندوستان میں مسلمان اور ہندو ایک ہزار برس تک اکھٹے رہنے کے باوجود ماضی کی طرح آج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو برطانوی پارلیمانی نظام کی مصنوئی فکر کو یکجا کرکے اُنہیں ایک قوم کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔اسلام اور ہندو دھرم محض مذہب ہی نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف معاشرتی نظام ہیں ۔یہ محض ایک خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک قوم بن سکتے ہیں ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کا مذہبی فلسفہ ، معاشرتی طور طریقے اور آداب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اِن کا تعلق دو مختلف تہذیبوں سے ہے جبکہ اِن تہذیبوں کی بنیاد ایک دوسرے سے متضاد نظریات و تصورات پر قائم ہیں” ۔ دراصل قائداعظم کی فکر برطانوی حکومت ہند کے مقتدر حلقوں کی سمجھ سے بالا تر ہی رہی اور وہ بدستور متحدہ ہندوستان کے حامی رہے ۔ چنانچہ قائداعظم کے نظریات کو سمجھنے کیلئے 18 دسمبر 1943 میں برطانوی صحافی بیورلے نکولس نے انٹرویو کے دوران قائداعظم سے سوال قائم کیا (یاد رہے کہ یہ انٹرویو بیورلے نکولس کی کتاب ورڈکٹ آن انڈیا میں تقسیم ہند سے قبل تفصیل سے شائع ہو چکا ہے) نکولس کا سوال تھا : ” جب آپ مسلمانوں کو ایک قوم کہتے ہیں توکیا آپ کے پیش نظر مذہب ہوتا ہے ” ؟ قائداعظم نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا : ” کسی حد تک آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے اسلام صرف مذہبی عبادات یا اعتقادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل طریقِ حیات ہے ۔ جب میں مسلمانوں کو ایک قوم کہتا ہوں تو زندگی کے تمام شعبے اور زندگی کی تمام ضروریات میرے پیش نظر ہوتی ہیں ۔مسلمان ہر اعتبار سے ایک علیحدہ قوم ہیں ، ہماری تاریخ علیحدہ ہے، ہمارے ہیروالگ ہیں ، ہمارا آرٹ مختلف ہے ہمارا فن تعمیر ، ہماری موسیقی ، ہمارے قوانین اور ہمارا آئین سب کچھ یکسر مختلف ہیں۔ دراصل ہم ہندوؤں سے الگ وجود ہیں ، زندگی میں ہماری کوئی قدر مشترک نہیں ہے ۔ ہمارے نام ، ہمارا لباس، ہمارے کھانے ، ہماری معاشی زندگی ، ہمارے اصول تعلیم ، ہمارا خواتین کیساتھ رویہ اور جانوروں سے متعلق نظریہ اور دیگر متعدد چیزوں میں ہمارا ہندؤوں سے واضح اختلاف ہے ۔ قائداعظم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گائے کا جھگڑا ہندوستان میں مسلمانوں کی تباہی کا ایک مسئلہ بن چکا ہے ، ہم گائے کا گوشت کھاتے ہیں جبکہ ہندو گائے کو مقدس مانتے ہیں چنانچہ گائے کا مسئلہ اکثر و بیشتر امن و امان کا مسئلہ بن جاتا ہے۔یہ بھی یاد رکھیئے کہ ہمارے آپس کے ہزاروں اختلافات ہیں جن میں گائے صرف ایک وجہِ اختلاف ہے” ۔دراصل قائداعظم برٹش انڈیا کی پارلیمانی سیاسی فکر کو اچھی طرح سمجھتے تھے لہذا اُنہوں نے مسلم اقلیتی صوبوں میں تحریک پاکستان کیلئے منظم سپورٹ ہونے کے باوجود فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے ہندوستان میں مسلم اکثریتی صوبوں کے مسلمانوں کو ہندوؤں کی دائمی غلامی میں جانے سے روکنے کیلئے ایک علیحدہ مسلم مملکت کی تحریک شروع کی جس کا آغاز قرارداد پاکستان سے لاہور کے جلسے میں کیا گیا۔ قائداعظم یہ سمجھتے تھے کہ بّرصغیر میں ایک مسلم ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے بھارتی مسلمانوں کیلئے بھی بھارت میں معاشرتی توازن قائم کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔ لہذا قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد بھی بھارت کو امن و سلامتی کا پیغام دیتے ہوئے دیگر آزاد ملکوں کی طرح تجارتی اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی بات کی لیکن ہندوازم نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو چانکیہ کوٹلیہ کی پالیسیوں سے ہمکنار کرتے ہوئے پاکستان کو دشمنی کے صیغے میں ہی رکھا ہے۔ بھارت کی پہلی مرکزی حکومت کے بانی چندرگپت موریہ کے وزیر چانکیہ کوٹلیہ کی فلاسفی یہی کہتی تھی کہ اپنے ہمسایہ ملک کو ہمیشہ دشمنی کے صیغے میں رکھو اور موقع ملتے ہی وار کرو۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ایسی ہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب بھارت نے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کے بجائے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔1965 کی جنگ کے بعد بھارت نے 1966 میں پاکستان کیساتھ باہمی تعلقات میں بہتری لانے کیلئے تاشقند معاہدہ کیا جس میں ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو اپنایا گیا لیکن دو برس کے بعد ہی اگرتلہ سازش کیس کے ذریعے سابق مشرقی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی گئی جسے بھارتی حکومتیں نہیں مانتی تھیں لیکن نریندر مودی نے اپنے گزشتہ دورۂ بنگلہ دیش میں ببانگ دہل قبو ل کرنے کا اعلان کیا۔ حیرت ہے کہ پاکستان کو توڑنے کے حوالے بھارت کی دونوں بڑی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کا موقف ایک جیسا ہی ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ اُنہوں نے بھارت پر مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے۔ یہی فکر اب بھارت کی شدت پسند مودی حکومت کی پالیسی میں بھی موجزن نظر آتی ہے بلکہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مسز اندرا گاندہی سے بھی ایک قدم آگے چلے گئے ہیں وہ پاکستانی وزیراعظم سے د وستی کا دم تو بھرتے ہیں لیکن اِس دوستی کی آڑ میں افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے کو ہوا دینے میں پیش پیش ہیں۔چناکیہ کوٹلیہ کی ایسی ہی مہم جوئی نریندرمودی کی ہمسایہ ملک پاکستان سے پار کی حکومتوں سے دوستی کا راگ الاپنے میں نظر آتے ہیں ۔ چابہار بندرگاہ اور افغانستان کیلئے مہنگے اور مشکل ترین تجاری راستے کو بنانے کیلئے بھارت ، ایران ،افغانستان نے مل کر سہہ فریقی معاہدے کو جنم دیا گیا ہے جبکہ امریکہ نیٹو اتحاد کی مدد سے افغانستان کیساتھ بھارت نے اِسٹرٹیجک معاہدہ کیا گیا ہے۔ اِسی طرح بھارت نے افغانستان میں نئے آئین کے تحت 2014 کے صدارتی انتخابات میں بھارت نواز شمالی اتحاد کے نمائندے عبداللہ عبداللہ کی شکست کے باوجود اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں عبداللہ عبداللہ کو افغانستان کا چیف ایکزیکٹو بنائے جانے تک رکاوٹ ڈالی چنانچہ اشرف غنی بھارتی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔لیکن اِن تمام سیاسی حربوں اور 15 برس سے زیادہ عرصہ پر محیط نیٹو امریکہ اتحادی افواج کی موجودگی اور بھارت کو افغانستان میں اہم کرادار دئیے جانے کے باوجود افغانستان کے بیشتر صوبوں میں افغان پشتون طالبان بدستور مضبوط پوزیشن میں ہیں جس کا اظہار گاہے گاہے عبداللہ عبداللہ بھارتی حمایت سے پاکستان پر الزامات لگا کر کرتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ بھارتی پشت پناہی میں چمن پر افغان فوج کا موجودہ حملہ بھی بلوچستان میں بھارتی مدد سے جاری تخریب کاری کو مہمیز دینا تھا جس کا پاکستانی افواج نے چمن کے علاقے میں افغان افواج کو دندان شکن جواب دیکر کسی حد تک ناکام بنا دیا ہے۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پاکستان کی سولین حکومت بھی خطے میں پاکستان مخالف بھارتی پالیسی کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کرے۔

112
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...