2014 میں جب دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے معصوم بچوں کو شہید کیا تو پوری قوم گویا سکتے میں آگئی، ماں باپ کے دل دہل گئے اور انہی آہوں اور سسکیوں نے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک میز پر آکر بیٹھے اور شدید عوامی دباؤ کے سامنے مجبور ہو کر کچھ فیصلے بھی کئے جن میں ایک فوجی عدالتوں کا قیام بھی تھا۔سزائے موت پر غیر اعلانیہ سہی لگی پابندی کو بھی ختم کیا گیا لیکن ہمیشہ کی طرح دونوں اقدامات کو بہت جلد غیر موئثر کر دیا گیا۔ہمارے حکمران اول تو دلیرانہ فیصلے کرنے سے ڈرتے اور کتراتے ہیں اور جب شدید نقصان اٹھانے کے بعد انجانے میں کچھ درست فیصلے کر لیتے ہیں تو اُسے جذباتی قرار دے کر کچھ ہی عرصے میں اُس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نہ صرف پیچھے ہٹ جاتے ہیں بلکہ اُسے متنازعہ بھی بنا دیا جاتا ہے اور یہی کام اب کی بار بھی ہوا ۔اُس وقت جب پوری قوم ہر دہشت گرد کو کسی بھی طور لیکن پھانسی پر لٹکا ہوا دیکھنا چاہتی تھی ،بچوں کے خون نے انہیں اس حد تک لا پہنچایا تھا کہ ہر ایک کا بس ایک ہی مطالبہ تھا دہشت گردوں کی موت اور خاتمہ جس پر حکومت کو مجبوراََ عمل کرنا پڑا اور فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 168 دہشت گردوں میں سے 12 کوسزائے موت دی گئی لیکن پھر ہم یورپی یونین کے دباؤ میں آگئے وہی یورپی یونین جس کے زمینی حقائق اور مسائل ہم سے قطعی مختلف ہیں اور اگر نہ بھی ہو تو بھی ملک تو ہمارے مختلف ہیں ہی حکومتیں ہماری اپنی ہیں اگر ہم ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تو وہ کیوں کرتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ہم کیوں کرنے دیتے ہیں کیا یہ جرم ضعیفی کی سزا یعنی مرگ مفاجات ہے اور وہ بھی دو طرف سے ایک طرف دہشت گردوں سے مار اور دوسری طرف عالمی قوتوں سے اور اسی مشکل دور میں دشمن اپنا مشن پورا کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کر رہا۔لیکن ایسے حالات میں کیا ہماری پالیساں دشمن مرتب کر ے گا یاہم خودکریں گے،اگر ہم نے خود ایسا کرنا ہے تو پھر ہم کیوں ایک نکتے پرمتفق نہیں ہو رہے۔نیشنل ایکشن پلان بنا لینے سے ہر گز ہم دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکتے جب تک اُس پر مکمل طور پر عمل نہ کر لیں۔منصوبے بنا کر فائلوں میں بند کرنے سے کام چلتا تو آج پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ترین اور محفوظ ترین ملک ہوتا۔طالبان عمل کر رہے ہیں اور ہم صرف باتیں وہ انسانوں کو اپنی جان اڑا دینے پر تیار کر رہے ہیں اور کوئی رحم کوئی ترس نہیں کھا رہے انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو چھوٹی چیز ہے معصوم انسانی خون کو پانی بناکر بہا دینے میں کوئی ہچکچاہٹ اور خوف نہیں لیکن ہم سقہ قا تلوں کو بھی مارنے میں تردد کر رہے ہیں سالہا سال انہیں جیلوں میں پال پوس رہے ہیں وہ چیخ چیخ کر بھی اعلان کریں کہ وہ خودکش ہیں تو بھی ہم گواہ مانگتے ہیں، ثبوت طلب کرتے ہیں اور ثبوت ’’ناکافی ‘‘ہونے پر انہیں آزاد بھی کر دیتے ہیں یعنی اگر وہ خود نہ اڑیں تو ہم انہیں تکلیف دینے کے حق میں نہیں کیونکہ خود ہمارے اندر کے انسانی حقوق کے علمبردار ان انسانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں اگر لاہور کا انوارالحق علی الاعلان کہتا ہے کہ اگر اُسے خبر ہوتی کہ جانی نقصانات کم ہوگا تو وہ خود کو بھی اڑا دیتا وہ ہر جرم تفصیل سے بیان کر رہا ہے تو کیا اب بھی ’’ناکافی‘‘ ثبوت کا بہانہ کافی ہو گا ۔کیا یہ بہتر نہ ہوتاکہ اُس کی یہ خواہش سرعام کسی چوک میں حکومت پورا کر دیتی تا کہ آئندہ کوئی ہیروبننے کے شوق میں یہ خواہش اور تمنا ہی نہ کر تا۔ یہ صرف ایک جذباتی بات یا مشورہ نہیں دہشت گردی جیسے نا سور کو ختم کرنے کے لیے ایسے ہی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ خدانخواستہ ہم ہی خون آلودلاشیں اٹھاتے رہیں گے اور ہر لاش اٹھانے پر آنسو بہاتے خاندانوں اور دلگیر و غمگین قوم کے زخموں پرنمک چھڑکتے ہوئے ہمارے حکمران بیان دیں گے کہ دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور یہ کہ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور آخری آخری وار کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ اور جوان لاش کے سرہانے بیٹھا باپ اپنی ٹوٹی ہوئی کمر کا درد سہتے ہوئے سوچے گا کہ کمر تو اُس کی توڑی گئی دہشت گرد تو ابھی بھی محفوظ ہی ہیں فضل اللہ اور اُس کا گروہ تو ابھی بھی کسی محفوظ ٹھکانے میں بیٹھا اپنے کارندوں کی کامیاب کاروائی پر فخر محسوس کر رہا ہے اور خوش ہے کہ اتنا خون بہہ جانے بھی پراس قوم کے سیاستدان اسی بات پر ہی متفق نہیں ہو سکے کہ دہشت گردوں کو فوری طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔ ہمارے سیاستدانوں، حکمرانوں اور ان کے بچوں کے آگے پیچھے چلتی پروٹوکول کی بے شمار گاڑیوں میں بیٹھے چند ایک سپاہیوں کا مر جانا اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ اُن کی جگہ لینے کے لیے چند اور سپاہی بھیج دیے جائیں گے لیکن وہ خاندان وہ گھر جو تباہ ہوئے وہ اتنے صاحب اختیار نہیں کہ اپنے خون کاحساب مانگ سکیں اور ہمارے حکمران حضرت عمرؓ کی خاک پا بھی تو نہیں کہ جو خود کو اپنے عوام کے لیے جواب دہ سمجھیں اور ان خدا سے بے خوف سیاستدانوں سے دہشت گردوں کے خوف سے ابھی تک فوجی عدالتوں کی حمایت میں فیصلہ نہیں ہو پا رہا ۔انہیں اپنی سیاست اور حکومت عزیز ہے عوام توویسے بھی بھیڑ بکریاں بھی نہیں جن کے مرنے پر انہیں نقصان کا ہی دُکھ ہو بس گاجر مولی ہیں جو کٹتی ہیں تو اور اُگ آئیں گی۔ نیشنل ایکشن پلان بنا ضرور لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا اسی طرح فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر بھی درست طریقے سے عمل نہیں ہوا بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوا۔کیا پاکستان میں صرف بارہ دہشت گرد تھے جنہیں پھانسی دی گئی اگر اُسی وقت جب یہ پلان بنا تھااورا ایک دفعہ جو سزائیں دینی شروع کی گئی تھیں اُسے نہ روکا جاتا تو آج ہم دوبارہ اُسی نکتے پر آکر نہ کھڑے ہوئے ہوتے جہاں ان عدالتوں کے قیام سے پہلے تھے۔ آج پھر وہی دہشت گرد ی وہی قتل عام کیا ہم مزید تباہی کا انتظار کر رہے ہیں یا ہمارے سیاستدان اپنی اپنی انا چھوڑ کر کسی ایک نکتے پر متفق ہو سکیں گے اگر اس وقت معاملہ سول عدالتوں کے فیصلوں، ثبوتوں،قانو نی موشگافیوں سے حل نہیں ہو رہا تو کیا بہتر نہ ہو گا کہ ایک بار پھرفوجی عدالتوں سے ہی کام لیا جائے عوام کو عدالتوں سے زیادہ اپنی حفاظت سے غرض ہے اور اگر ہمارے رہنما اس حفاظت کا بندوبست کرنے سے قاصر ہیں تو پھر برائے مہربانی رہنمائی کا دعویٰ چھوڑ دیں۔

226
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...