1979 میں سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا اور اس کی فوجیں افغانستان کے اندر داخل ہو گئیں تو ہزاروں لاکھوں افغان مہاجرین ہجرت کرکے پاکستان میں داخل ہوئے اور پشاور میں پشاور کی اپنی آبادی سے زیادہ افغانی نظر آنے لگے۔ پاکستانیوں نے انتہائی کھلے دل سے ان افغان مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور در حقیقت ہجرت مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ افغانیوں کی تین نسلیں یہاں جوان ہوئیں اور پچھلے اڑتیس سال میں پیدا ہونے والے بچے اپنی نوجوانی کی حدود سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ افغانستان کی یہ تین نسلیں پاکستانی تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ ہوئیں ا ور اس وقت بھی بہت سارے افغان بچے بیکن ہاؤس، روٹس اور سٹی جیسے دوسرے مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نجی پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں بھی ان کی ایک بہت بڑی تعدادزیرتعلیم ہے۔ پشاور کی حد تک تو یہ بڑے نجی ہسپتالوں اور دوسرے اداروں میں اچھی تنخواہوں پر کام بھی کر رہے ہیں۔ جہاں تک تجارت کا تعلق ہے تو یہ بڑی بڑی دکانوں کے مالک ہیں حیات آباد پشاور کی مشہور کارخانو مارکیٹ میں کروڑوں کے سامان سے بھری دکانوں میں بھی افغان مالکان آپ کو ملیں گے اور کثرت سے ملیں گے۔ پشاور ، اسلام آباد ، پنڈی، لاہور، کراچی، کوئٹہ ہر جگہ افغان مہاجرین اپنے چھوٹے سٹالوں سے ہی سہی اپنا رزق کُھلاکمار ہے ہیں اس کے علاوہ مہاجرین کو ملنے والی سہولیات بھی حاصل کر رہے ہیں لیکن اس کے بدلے میں پاکستان مسلسل دہشت گردی کی زد میں ہے۔ ان افغان مہاجرین میں اکثرپُر امن بھی ہیں لیکن پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے اکثر واقعات میں یہ لوگ بلا واسطہ یا بلواسطہ ملوث ہوتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے نہ صرف پاکستان مخالف گروہوں کو افغان حکومت نے پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں بلکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بھی بھر پور مدد اور سہولت دی جارہی ہے اس کے قونصل خانے افغانستان میں پاکستان کے سرحدی علاقوں سے پاکستان کے اندر بڑی آسانی سے دہشت گردوں کی مدد کررہے ہیں۔افغان حکومت یہ سب کچھ جانتی ہے لیکن اس کے باوجود اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہے بلکہ مسلسل اُسکے ساتھ تعاون بھی کر رہی ہے افغان حکومت تو افغانستان سے یہ سب کچھ کروا رہی ہے لیکن میں نے تو پاکستان میں نسلوں سے رہنے والے افغان مہاجرین کو پاکستان کے خلاف بولتے اور اپنے ملک کی بدامنی کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرائے ہوئے سنا ہے۔ اپنے ان تمام مسائل کے باوجود ان کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کی مدت میں اکتیس دسمبر 2017 تک توسیع کر لی ہے اس کا اعلان وزیراعظم نواز شریف نے 7 فروری کووفاقی کا بینہ کے اجلاس میں کیا ۔افغان مہاجرین نے پاکستان میں کئی دہائیاں گزاری ہیں لیکن اب صورت حال اس حد تک آپہنچی ہے کہ سنجیدہ اقدامات کی متقاضی ہے یہ وقت کا تقاضا بھی ہے اور عوام کا مطالبہ بھی ۔حکومت پاکستان نے انہی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ اقدامات کیے اور ان مہاجرین پر امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ،اُن کی شناختی دستاویزات اور موبائل سموں کی جانچ اور ویزہ کی پابندی بھی ان اقداما ت میں شامل ہیں جو کہ یقیناًبہت پہلے ہو جانا چاہیے تھے لیکن 2007 سے مسلسل ان کے قیام کی مدت میں توسیع کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود اپنے دفاع کے لیے کیے گئے ان پاکستانی اقدامات کو ہیومن رائٹس واچ نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور ان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں اور یہ بھی کہ یہ دنیا میں سب بڑی زبردستی کی واپسی ہوگی اور رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان پر زور ڈالے کہ وہ مہاجرین کی اس واپسی کو روکے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو جس طرح کئی دہائیوں تک اپنے ہاں پناہ دی اس کے بعد اس کے خلوص پر شک کرنا کسی طرح جائز نہیں اور اسے یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے اقدامات اٹھائے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے پیچھے بھی افغانستان کا ہی ہاتھ ہے اگر اس کی حکومت براہ راست یہ کاروائیاں نہ بھی کر رہی ہو تو ایسا کرنے والوں کو اُس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ حالیہ ہفتے کے دوران ہونے والے دھماکوں اور تخریب کاری کے لیے بھی افغانستان کی ہی زمین استعمال ہوئی تمام تر تربیتی مراحل ادھر ہی طے ہوتے ہیں اور پھر ان خودکش بمباروں کو پاکستان میں استعمال کر لیا جاتا ہے ایک خود کش کی جان جاتی ہے اور دسیوں بیسیوں پاکستانی شہید ہو جاتے ہیں تو کیا ایسے میں بھی افغان مہاجرین کی واپسی نہیں ہونی چاہیے ۔ ہیومن رائٹس واچ کو انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ افغانی جو مہاجر بن کر پاکستان آئے تھے لیکن یہاں وہ کیمپوں تک محدود نہیں رہے بلکہ جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا کہ معاشرے کے ہر شعبے میں کام کر رہے ہیں لہذا اب ان کو مہاجر کہنا بھی مناسب نہیں ان میں سے کئی عالیشان گھروں میں رہ رہے ہیں جن میں سے کچھ تو کرایے پر لیے گئے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ تو غیر قانونی طور پر کسی نہ کسی طرح خریدے گئے ہیں ان کی محنت کشی پر اعتراض نہیں اور قانونی طور پر کی گئی تجارت بھی درست ہے لیکن انہی میں موجود پاکستان کی مخالفت کرنے والے اور یا پاکستان کے مخالفین کے مدد گار ضرور قابل اعتراض ہیں اور انہیں پاکستان مین یوں کھلے عام بغیر اجازت اور ضروری قاعد ے قانون کے بغیر داخلے کی اجازت دنیا کسی طور قابل قبول نہیں۔یہ جب چاہتے ہیں افغانستان جاتے ہیں اور جب چاہتے ہیں واپس آتے ہیں جبکہ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ یہ جاتے ہوئے اپنا پی او آریعنی پروف فار رجسڑیشن پاکستانی حکام کے حوالے کریں اور باقاعدہ ویزہ کے لیے درخواست دیں دراصل یہی آنا جانا ہی خطرناک اور دہشت گردی کی جڑ ہے۔ یہاں سے جاتے ہوئے تمام مطلوبہ معلومات لے کر جانا دہشت گردوں تک پہنچانا اور وہاں سے کسی کا بھی پاکستان آنا کسی بھی کاروائی میں استعمال ہونا انتہائی آسان ہے اور یہی ہورہا ہے لہذا ہو من راٹس واچ کو اعدادو شمار میں ان افغانی خودکشوں ان کے مدد گاروں اور سہولت کاروں کی تعداد کو بھی شامل کر لینا چاہیے جو پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں استعمال ہوئے اور ہورہے ہیں تو انہیں معلو م ہوجائے گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہاں ہو رہی ہے اور کون کر رہا ہے اور بات تو تب ہے جب تحقیقات کا دائرہ بڑھتے بڑھتے بھارت تک جا پہنچے اور اُس سے باز پرس کی جائے کہ وہ دو برادر اسلامی ملکوں کے درمیان نہ صرف مسائل پیدا کر رہا ہے، ان کے صدیوں کے رشتے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ انتہائی خونر یزی کروا رہا ہے مسجد،سکول،جنازے،مزار ،نماز جمعہ،نماز عید کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ مذہب میں مسجدوں،نماز جمعہ ،نماز عید پر تو کوئی اختلاف نہیں تو پھر کون سا مسلک کون سا فرقہ کون سا طبقہ ء فکر ان پر حملہ کرتا ہے خون بہاتا ہے دہشت پھیلاتا ہے آخر خود کشوں کی ایک کھیپ ختم ہو کر دوسری کیسے اتنی جلدی تیار ہو جاتی ہے ظاہر ہے ان کو اتنے وسائل مہیا کیے جارہیں کہ وہ یہ سب کچھ کر ر ہے ہیں اورانہی مہاجرین کی صورت میں انہیں پھر یہاں بھیج دیا جاتا ہے۔اس وقت ہمیں اپنے ملک اور عوام کو محفوظ کرنا ہے چاہے اس کے لیے ہمیں مہاجرین کو واپس بھیجنا پڑے یاافغان سرحد کو بند کرنا پڑے ہمیں یہ کرنا ہوگا اور ہومن رائٹس واچ،اس جیسے دوسرے اداروں یا بین الا قوامی قوتوں اور بڑی طاقتوں کسی کی رپورٹ کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ورنہ خدانخواستہ ہم لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے مزید حملوں سے دوچار ہو سکتے ہیں جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔

214
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...