جمہوریت کا مطلب یوں تو خود اختیاری ہے یعنی اپنے فیصلے خود کرنا اور عوام کا ہر ریاستی فیصلے میں شامل ہونا ،اور اس میں عوام کی تخصیص نہیں ہوتی وہ کسی بھی طبقے،مکتبہء فکر،اور مذہب کے ہوں سب کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے د نیا میں تو اسی کو جمہوریت کہتے ہیں لیکن ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ایسا نہیں ہے اگر چہ وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے لیکن یہ جمہوریت مخصوص لوگوں کے لیے تو ہو سکتی ہے جن میں زیادہ تر ہندو شامل ہیں لیکن تمام ہندو بھی اس زمرے میں نہیں آتے۔یہی بھارت ہر چھبیس جنوری کواپنا یوم جمہوریہ مناتے ہوئے یہ تمام باتیں بھول جاتا ہے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے اُس وقت اُس کی نظروں سے دلت اور اچھوت کا تصور ایک دم ہٹ جاتاہے،اُسے اپنے مسلمان عوام بھی یاد نہیں رہتے جن کو جب چاہے ہندو اکثریت اپنی نفرت کا نشانہ بنا دیتی ہے اور جمہوری حقوق میں سوائے اس کے کہ اعلیٰ ذات کے ہندؤں کو ووٹ دے کر انتخابی نتائج کو ان کے حق میں کر دیں باقی حقوق سے یا تو اُن کا واسطہ ہے ہی نہیںیا اگر ہے بھی تو یہ انہیں خیرات کے طور پر دیے جاتے ہیں، پھر ان پر سیاست بلکہ خوب سیاست کی جاتی ہے اور اگلے الیکشن کی تیاری کے طور پران سے نئے نئے وعدے کر لیے جاتے ہیں لیکن ہزاروں سال سے نفرت ،ظلم اور کمتری کے احساس میں جینے والے یہ کم ذات کے ہندو ویسے کے ویسے ہی رہ جاتے ہیں۔بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور دوسروں کے رحم و کرم پر رہنے والے دلت صدیوں بعد بھی اچھوت ہیں لیکن بھارت پھر بھی ہر سال بڑے طمطراق سے یوم جمہوریہ منا لیتا ہے۔
بھارت کہنے کو تو سیکولر جمہوریت ہے لیکن یہاں اقلیتوں کو ان کے جائز حقوق بھی فراہم نہیں اور کشمیر اس کی زندہ اور منہ بولتی تصویرہے جہاں کشمیریوں کو صرف اس لیے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور انہیں آزادی جیسابنیادی حق بھی نہیں دیا جارہا ہے وہ پچھلے ستر سال سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ہم سے پوچھ لو کہ ہم کیا چاہتے ہیں کیا ہم بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ہیں لیکن جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے بھارت کے پاس کشمیریوں کو دینے کے لیے صرف ایک ہی جواب ہو تا ہے اور وہ ہے بندوق کی گولی اور اس گولی کے آگے چاہے جو بھی آئے اس سے بھی کو ئی غرض نہیں۔کشمیریوں کی آواز کو ہمیشہ ہر ممکن طریقے سے دبانے کی کوشش کی جا تی رہی ہے۔کشمیر میں کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے انتخابات کرواکے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کشمیر میں جمہوری عمل جاری ہے اور کشمیریوں کو ووٹ کا حق حاصل ہونے کی وجہ سے وہ عملی طور پر حکومتی فیصلوں میں شامل ہیں جبکہ ایسا نہیں ہیں ایسا ہوتا تو وہ یوں گلی محلوں میں اپنا حق مانگتے نہ پھرتے اور یوں بھارت اُن کے سر نہ کاٹتا ۔بھارت کشمیر میں الیکشن تو کراتا ہے لیکن یہ اور بات ہے کہ رہنماؤں سے لے کے عام کشمیری تک کوئی ان انتخابات کو قبول نہیں کرتا ۔ اب تک ہونے والے آخری یعنی2014 کے انتخابات میں بھی جمہوریت اور جمہوری اقدار کی دھجیاں بکھیری گئیں ان انتخابات کو کشمیری رہنماؤں نے مکمل طور پر مسترد کیا اور اِن کا بائیکاٹ کیا ۔لیکن اِن انتخابات میں بی جے پی اچانک سے کشمیر کی بڑی پارٹی بن گئی جس کی صاف صاف وجہ مرکز میں اس کی حکومت تھی اور یوں بھارت کی جمہوریت کے ڈھول کا پول مکمل طور پر کھل گیا۔انتخابات کے بعداپنی مرضی کی مخلوط حکومت بنائی گئی اور بی جے پی یعنی ایک شدت پسند ہندو پارٹی ایک مسلمان اکثریتی ریاست کی حکومت تک پہنچ گئی اور بھارت سرکارکے اشاروں پرناچنے لگی۔ یہ تو کشمیر میں بھارتی جمہوریت کا ایک چہرہ ہے دوسرا چہرہ تو اس سے بھی بھیانک ہے اور وہ ہے ہاتھ میں مسلسل آگ اُگلتی بندوقیں پکڑے بھارتی فوجی جو جمہوری بھارت میں 77% مسلم اکثریتی ریاست میں گھومتے ہیں اور انسانوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ آٹھ لاکھ فوج صرف ایک ریاست میں تعینات ہے اور اُن کا کام صرف اور صرف یہاں کی مسلمان آبادی کو نشانہ بنانا ہے۔خودکو سب سے بڑی جمہوریت کہنے والے اس ملک میں یہ مسلم اکثریتی ریاست کئی طرح سے بھارت سرکار کے نشانے پر رہتی ہے۔تقریباََ ایک کروڑ سے زائد آبادی والی اس ریاست کو بھارتی جمہوریت کی طرف سے کئی قسم کی آمریتوں کا سامنا ہے چاہے تعلیم ہے یا ملازمتیںیہ ریاست پیچھے ہی پیچھے ہے۔رپورٹس کے مطابق1کروڑ پچیس لاکھ آبادی میں سے صرف 43لاکھ کے پاس نو کریاں ہیں جب کہ82لاکھ بے روزگا رہیں۔2011 کی مردم شمار ی کے مطابق 65% افراد بے روز گار ہیں۔انہی 43 لاکھ میں زرعی اور صنعتی مزدوربھی شامل ہیں۔تعلیم کے میدان میں بھی ’’جمہوریت کے ثمرات‘‘ یوں نظر آئے ہیں کہ اپنی پڑوسی ریاستوں کی نسبت کشمیر بہت پیچھے ہے اور یہ اُن سب دعووں کے باوجود ہے جو بھارت سرکار کشمیر کی محبت کے بارے میں کرتی ہے۔اسی جمہوری بھارت میں جگہ جگہ شہر شہر سے ہندو لا کر جموں اور کشمیر میں بسائے جارہے ہیں تاکہ اس طرح اس مسلم اکثریتی علااقے میں مسلم اکثریت کو کم کرتے کرتے اقلیت میں تبدیل کیا جائے اور جموں و کشمیر کو اس دوسرے انداز میں فتح کیا جائے اور اس کے باوجود اپنی جمہوریت پسندی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔بھارت اگر اپنا رویہ ایسا ہی رکھتا ہے تو میرے خیال میں اُسے اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں ۔کشمیری ہر سال بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ اُنہیں بھارت سے ہر صورت آزادی چاہیے، پورے کشمیر میں پاکستانی پرچموں کا لہرانا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ کشمیر واقعی پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔کشمیری خود کو عظیم جمہوریت کہنے والے بھارت میں اپنے بنیادی حقوق حاصل نہیں کر رہے ۔ جمہوریت کے’’ سایے‘‘ میں اُن کے اوپر لاکھوں بھارتی فوجی مسلط ہیں۔لہٰذابھارت اپنا یوم جمہوریہ منانے سے پہلے اپنے رویے پر غور کرے ورنہ کشمیری کیا رفتہ رفتہ دیگر نظر انداز طبقے بھی کشمیریوں کے قافلے میں شامل ہوتے جائیں گے اور بھارت بہت عر صہ تک دنیا کو عظیم جمہوریت ہونے کا دھوکہ نہیں دے سکے گا۔

237
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...