مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اُنیسوں صدی عیسوی برّ صغیر ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی باہمی چپقلش اور بے راہ روی ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی شکست و ریخت کا پیغام بن کرآئی نتیجتاً ہندوستان میں مسلمان ، انگریزوں اور ہندو سماج کے گٹھ جوڑ کے سبب محمد بن قاسم ، محمد غوری اور ظہیر الدین بابر کے تاریخی ورثہ کو کھو بیٹھے ۔ غلامی اور زوال کی تاریکیوں میں گو کہ سرسید احمد خان اور حکیم الااُمت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے مسلمان قوم کو خواب غفلت سے جگانے کیلئے بیدارئ فکر کی شمع روشن کی لیکن حصول پاکستان کو ممکن بنانے میں جو ہائی پروفائل کردار بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے ادا کیا اُس کی مثال بّرصغیر جنوبی ایشیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ چنانچہ تحریک پاکستان کے حوالے سے ایک منتشر و شکست خوردہ قوم میں آزادی کی اُمنگ کو مہمیز دینے اور برّصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ اور آزاد مملکت کے حصول کو ممکن بنانے کا کریڈیٹ قائداعظم محمد علی جناح کی فکری اور بے لوث عملی جدوجہد کو ہی جاتا ہے۔ اِسی بے مثال جدوجہد کے حوالے سے عوامی سطح پر پہلے ہی محمد علی جناح کو قائداعظم کے نام سے ہی پکارا جانے لگا تھا چنانچہ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے آزادی سے چند روز قبل ہی 12 اگست 1947کو محمد علی جناح کو متفقہ طور پربانئ پاکستان (Father of the Nation) تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ 15 اگست 1947سے گورنر جنرل کی حیثیت سے تمام سرکاری دستاویزات ، آفیشل ایکٹس اور بیرونی ممالک کو لکھے گئے خطوط میں بانئ پاکستان کو ” قائداعظم محمد علی جناح ” کے نام سے ایڈریس کیا جائیگا۔ یہی وجہ ہے کہ بانئ پاکستان کی حیثیت سے مملکت کے تمام اہم امور اور بل خصوص خارجہ امور میں قائداعظم کی ویژن کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ۔اِس اَمر کو بھی ملحوض خاطر رکھنا چاہیے کہ اگست 1947 میں تقسیمِ ہند سے قبل دو سو برس تک بّرصغیر ہندوستان کی باگ دوڑ برطانوی حکومت ہند کے ہاتھوں میں تھی جسے ایک تسلسل سے ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی حمایت حاصل رہی لیکن بیسویں صدی عیسوی میں یورپ میں دو عالمگیر جنگوں میں برطانیہ کی معاشی حالت کمزور ہو جانے اور مقامی ہندو مسلم سیاسی تحریکوں کے زور پکڑ جانے کے سبب برطانوی حکومت ہند، ہندوستان میں اقتدارِ اعلیٰ ایک اکائی کے طور پر ہندو اکثریتی جمہوری حکومت کو منتقل کرکے واپس جانا چاہتی تھی لیکن قائداعظم کی فکری اور عملی سیاسی جدوجہد کے سبب برطانوی حکومت ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ، قائداعظم کی مضبوط تحریک پاکستان کے سامنے اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے چنانچہ 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے معاہدے پر عمل درامد کیلئے تینوں فریق یعنی ہندو ، مسلمان اور انگریز ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست کے قیام پر متفق ہوئے۔اِس اَمر کی تائید لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کو متحد رکھنے میں ناکامی کے حوالے سے ایک برطانوی صحافی ڈینس ٹو ہائے کے سوال کے جواب میں یہ کہتے ہوئے کی کہ ” جناح کی شخصیت بہت نمایاں اور ممتاز تھی ، وہ چٹان کی طرح اٹل اور مستحکم مگر انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ کے انسان تھے چنانچہ میرے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہوا کہ میں اُن کے سینے کی گہرائیوں میں اُتر سکوں اور اُنہیں متحدہ ہندوستان پر قائل کر سکوں لہذا مجھے جناح کے موقف کے سامنے جھکنا پڑا “ْ ۔اِس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگست 1947 میں ہندوستان میں مسلمانوں کی ریاست کسی جنگ میں فتح کے سبب نہیں بلکہ قائداعظم کی فکری اور عملی سیاسی جدوجہد کے باعث ہی وجود میں آئی تھی ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کامیابی قائداعظم کی جانب سے 1937 میں شروع کی جانے والی دس سالہ تحریک پاکستان کی مرہون منت تھی جب بلآخر برطانوی حکومت ہند کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان میں بسنے والی ہندو اور مسلمان قومیتوں کی نمائندہ لیڈرشپ جواہر لال نہرو، گاندہی جی اور محمد علی جناح کے درمیان 3 جون 1947 کا معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ اِس معاہدے میں طے پایہ تھا کہ ہندوستان کو ہندو اکثریتی اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مثتمل دو آزاد ریاستوں میں تقسیم کیا جائیگا جبکہ اقلیتوں کو دونوں ممالک کے جمہوری نظام میں برابر کے حقوق حاصل ہونگے ۔ قائداعظم جانتے تھے کہ ہندو لیڈروں نے تقسیم ہند کے پروگرام کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے جس کا اظہار کانگریس پارٹی کی جانب سے 3 جون کے معاہدے کو منظور کرتے ہوئے بھی کیا گیا جبکہ جواہر لال نہرو ریاست جموں و کشمیر میں اپنے جارہانہ عزائم کی تکمیل کیلئے آخری وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھارت کا نیا گورنر جنرل بنانے کا عندیہ دے کر پاکستان کو سیاسی و معاشی مشکلات سے دوچار کرنے کے منصوبے پر کام کرتے رہے ۔ اِس موقع پر ہندوستان کی عبوری حکومت کے داخلہ امور کے وزیر سردار پٹیل کا انتہا پسند ہندوؤں کے نام یہ خفیہ پیغام معنی خیز تھا جس میں اُنہوں نے انتہا پسند ہندوؤں سے کہا کہ ہندو کانگریس نے تقسیم ہند کے پروگرام کو عارضی طور پر اِس لئے تسلیم کیا ہے تاکہ برطانیہ سے جلد از جلد آزادی حاصل کی جائے کیونکہ برطانوی حکومت ہند کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد پاکستان رات کی شبنم کی طرح بھارت کی صبح آزادی سامنے ختم ہو جائیگا ۔
حقیقت یہی ہے کہ جب ہندوستان کو مسلم پاکستان اور ہندو بھارت میں تقسیم کیا گیا توہندوبھارت کے دارلحکومت دہلی کے مقابلے میں پاکستان میں مرکزی دارلحکومت کا کوئی انفرا سٹرکچر موجود نہیں تھا۔مزید برآں برطانوی حکومت ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوستان کے عبوری وزیراعظم جواہر لال نہرو کے گٹھ جوڑ کے باعث پنجاب باؤنڈری کمیشن میں ریڈ کلف ایوارڈ کے ذریعے کی جانے والی بدیانتی جس میں کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی راہ ہموار کی گئی تھی ، کے علاوہ مشرقی پنجاب ، دہلی اور کشمیر میں سرداد پٹیل کی درپردہ حمایت سے ہندو سکھ انتہا پسند تنظیموں جن میں ماسٹر تارہ سنگھ اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے مسلح دہشت گرد شامل تھے کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام اور پختونستان کے نام نہاد مسئلہ کی آڑ میں ہمسایہ ملک افغانستان کی جانب سے پاکستان کی اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست پر منفی ووٹ کا دیا جانا ایک نئی قائم ہونے والی مملکت کیلئے ایسے مسائل تھے جن پر آزادی کی سیاسی جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد قابو پانا نہایت ضروری تھا ۔ اِن تمام تر مشکلات کے باوجود قائداعظم کی ویژن پاکستان کے مستقبل سے جڑی رہی اور وہ پاکستان کو ترقی کی منزلوں پر گامزن کرنے کیلئے خطے میں امن کیلئے کوشاں رہے ۔ اُنہوں نے نہ صرف قانون ساز اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے 11 اگست 1947 کو اپنی شہرہ آفاق تقریر میں میثاقِ مدینہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے نئی قائم ہونے والی مسلم مملکت میں ہندوؤں کو برابر کے حقوق دینے کی بات کی بلکہ اِس سے قبل بحیثیت نامزد گورنر جنرل پاکستان 14 جولائی 1947کو دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے ہندو ؤں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ قیام پاکستان کے حوالے سے انتہا پسند ہندوؤں کے پراپیگنڈے کا شکا ر نہ ہوں کیونکہ پاکستان میں ہندوؤں کی مذہبی ثقافت ، پراپرٹی اور زندگی کا تحفظ کیا جائیگا لیکن قائداعظم کی مثبت سوچ کا مثبت جواب دینے اور دونوں ممالک کے یوم آزادی پر حالات کو خوشگوار بنانے کے بجائے بھارت نے اکھنڈ بھارت کی فکر کو فوقیت دیتے ہوئے 3 جون 1947 کے معاہدے کی کلی طور پر پاسداری نہیں کی۔
یہ درست ہے کہ جب مشرقی پنجاب اور دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا گیا تو بھارتی کانگریسی رہنما مولانا ابولکلام آزاد جنہیں آزادی سے قبل حکمران کانگریس پارٹی کی صدارت سے ہٹا دیا گیا تھا ،نے فرقہ وارانہ فسادات ختم کرانے کیلئے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور وزیر داخلہ سرداد پٹیل سے یہ کہتے ہوئے بار بار مداخلت کی اپیل کی پاکستان کے بننے میں نیشنلسٹ مسلمانوں کا کیا قصور ہے جنہوں نے کانگریس کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اُن کی تمام اپیلیں بے اثر ثابت ہوئیں ۔اِس سے قبل جب ابولکلام آزاد ہندو کانگریس کے صدر کے طور پر کام کر رہے تھے تب اُنہوں نے 14 مئی 1947کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کانگریس کے صدر کی حیثیت سے ملاقات کی اور تقسیم ہند کے موقع پر متوقع ہندو مسلم فسادات کی روک تھام کیلئے اُن پر موثر انتظامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی تقسیم کے منصوبے کا اعلان نہیں ہوا ہے تو کلکتہ ، نواکھالی ، بہار ، بمبئی اور پنجاب میں فسادات کی ہوا زور پکڑتی جا رہی ہے ۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ابولکلام کو یقین دلایا کہ تقسیم ہند کا منصوبہ منظور ہو نے پر وہ اِس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی جگہ کوئی فساد نہ ہونے پائے ۔ لیکن انتظامی اقدامات لینے کے بجائے وائسرائے سے ملاقات کے بعد چند ہفتوں کے اندر ہی ابولکلام کو کانگریس کی صدارت سے فارغ کرکے جواہر لال نہرو نے کانگریس کی صدارت بھی خود سنبھال لی ۔اِس کے برعکس فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کیلئے انسانی حقوق کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کا رویہ انتہائی مختلف رہا۔ چنانچہ جب بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام کے ردعمل کے طور پر پنجاب میں محدود پیمانے پر فسادات ہوئے تو اِنہیں روکنے کی نگرانی کیلئے قائداعظم خود ایک ماہ تک لاہور میں مقیم رہے ۔ اِسی طرح جب 9 جنوری 1948 میں کراچی میں فسادات ہوئے تو قائداعظم نے فوری طور پر فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور چند گھنٹوں کے اندر نہ صرف اِن فسادات پر قابو پا لیا گیا بلکہ لوٹا ہوا سامان بھی قائداعظم کی اپیل پر ہندو اقلیت کو واپس کر دیا گیا ۔ دریں اثنا قائداعظم نے ایک تسلسل کیساتھ 11 اور 15 اگست کی تقاریر کے علاوہ 11 اکتوبر 1947کو کراچی میں پاکستانی انتظامیہ کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر اِس اَمر کا پُر زور اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اپنی طے شدہ پالیسی کیمطابق مساویانہ طور پر اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت کریگی اور ہماری ہرگز یہ پالیسی نہیں ہے کہ اقلیتوں کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا جائے ۔
اندریں حالات ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی ویژن کا احاطہ متعدد پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے ۔ آزادی کے فوراً بعد ہی ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے کشمیر میں انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے مسلح رضاکاروں کی آڑ میں فوجی مداخلت اور بھارتی حوصلہ افزائی پر ستمبر 1947 میں صوبہ خیبر پختون خواہ میں آزاد پختونستان اور سابق مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کے مسئلہ پر تحریک کا بیک وقت آغاز اور پھر افغانستان کی جانب سے نام نہاد پختونستان مسئلے پر پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کے خلاف منفی ووٹ دینے کے حوالے سے پاکستان کی سیکورٹی کو درپیش خطرات کا تدارک کرنا قائداعظم کی پہلی ترجیح تھی۔ قائداعظم اِس اَمر کا بخوبی ادراک رکھتے تھے کہ بین الاقوامی دنیا سرد جنگ کے حوالے سے دو بلاکوں میں منقسم ہے لہذا پاکستان کو اپنی سیکیورٹی ترجیحات کے حوالے سے عالمِ تنہائی میں رہنے کی نہیں بلکہ سرد جنگ میں لپٹی آزاد دنیا کیساتھ ہی تعلقات بڑھانے میں مضمر تھی چنانچہ قائد کی ویژن پاکستان کے موثر دفاع کیلئے امریکہ سے دفاعی تعلقات بڑھانے کیلئے کوشاں رہی جبکہ عرب دنیا سے تعلقات استوار کرنے کی غرض سے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کی اصولی حمایت کے علاوہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درامد اور اسلامی دنیا کی حمایت کا حصول قائد کی ویژن کے دیگر مثبت پہلو تھے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں قائداعظم نے گورنر جنرل ہونے کے باوجود بانئ پاکستان ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو درپیش مشکل ریاستی مسائل سے عہدہ برآ ہونے کیلئے متعدد بار کیبنٹ میٹنگز کی صدارت کی اور اِسی طرح ابتدائی دور میں خارجہ امور سے متعلقہ فائلیں بھی فیصلے کیلئے قائداعظم کو پیش کی جاتی رہیں ۔ چنانچہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ہمسایہ ممالک کی مداخلت کے حوالے سے پاکستان نے خارجہ امور پر ایک کامیاب اصولی حکمت عملی کو اپنایا۔ بھارت کی جانب سے مسلمان اکثریتی ریاست جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو روکنے اور نئی مملکت کے اقتصادی مسائل پر قابو پانے کیلئے قائداعظم نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے فوج کو واپس بلایا چنانچہ RSS کے مسلح رضاکاروں اور ڈوگرہ فوج کی جانب سے کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے پاکستانی قبائلیوں نے مداخلت کی جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا کچھ علاقہ آزاد کرایا گیا ۔افغانستان کے معاندانہ رویہ کے مقابلے میں قائداعظم نے اسلامی فکر کے حوالے سے در گزر سے کام لیا اور تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری رکھیں جس کے نتیجے میں 8 مئی 1948 میں افغانستان کیساتھ سفارتی تعلقات بحال ہوئے اور افغان شاہی خاندان کی ایک اہم شخصیت شاہ ولی خان افغانستان کے پہلے سفیر کی حیثیت سے پاکستان تشریف لائے اور اِسی دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف دیا جانے والا افغان ووٹ واپس لے لیا گیا ۔
15 دسمبر 1947 گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے حلف اُٹھانے کے بعد قائداعظم نے ریاستی پالیسی اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا : ” اندرون اور بیرون ملک ہمارا نصب العین امن ہی ہونا چاہیے ۔ ہم ہمسایہ ممالک اور بیرونی دنیا کیساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کیساتھ کھڑے ہیں اور کسی ملک کے خلاف ہمارے جارہانہ عزائم نہیں ہیں لہذاہم دنیا میں امن اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے “۔اِسی طرح مختلف قوموں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے پیش نظر فروری 1948 میں قائداعظم نے امریکی عوام سے ایک ریڈیو براڈکاسٹ میں خطاب کرتے ہوئے اِس اَمر کا اعادہ کیا کہ دنیا کی تمام قوموں کیلئے ہماری خارجہ پالیسی دوستانہ اور خوشگوار تعلقات پر مبنی ہوگی ۔ کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف ہمارے جارہانہ عزائم نہیں ہیں کیونکہ ہم قومی اور بین الاقوامی لین دین میں ایماندارانہ اور شفاف اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور تمام قوموں کے درمیان امن و خوشحالی کیلئے اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں ۔ لہذا ، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر یقین رکھتے ہوئے دنیا بھر میں زیادتیوں کے شکار لوگوں کی اخلاقی اور مادی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہیگا ۔ یہ قائداعظم کی پالیسی جدوجہد کا ہی ثمر تھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لال نہرو کی منظم سازشوں کے باوجود آزادکشمیر اور گلگت و بلتستان کے علاقے آزاد ہوئے اور اقوام متحدہ میں کشمیر پر بھارت کے حق حکمرانی کو نہ صرف مسترد کیا گیا بلکہ پاکستان یا بھارت میں شمولیت کے حوالے سے کشمیر میں حق خودارادیت کشمیری عوام کو دیا گیا جس پر عملدرامد سے بھارت آج تک گریزاں ہے ۔ بھارتی مورخ ایچ ایم سیروائی ریڈ کلف ایوارڈ میں پنجاب کی سرحدوں میں ردوبدل میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سیاسی بددیانتی پر اپنی کتاب Partition of India: Legend and Reality میں لکھتے ہیں کہ ” فلپ ذیگلر کی کتاب اور ہندوستان میں اقتدار کی منتقلی کی اہم برطانوی دستاویزات کی بارہویں جلد کی اشاعت نے کیریکٹر ، کنڈکٹ اور وائسرائے کی حیثیت سے ماؤنٹ بیٹن کی پوزیشن کو بہت نیچے گرا دیا ہے ۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی وائسرائے شپ کے آخری پانچ دن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ بدنامی اُن کا مقدر ہوگی اور تاریخ اُن کیلئے سزائے موت لکھے گی” ۔ یہ درست ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے جواہر لال نہرو کی خواہش پر 26 اکتوبر 1947 کو گورنر جنرل بھارت کی حیثیت سے مہاراجہ کشمیر کی متنازع الحاق کی دستاویز کو عارضی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا جس پر دنیا بھر میں بھارت کی رسوائی ہوئی چنانچہ اِس منفی صورتحال سے بچنے کیلئے بھارتی وزیراعظم نہرو نے 31 اکتوبر 1947 کو ایک ٹیلی گرام کے ذریعے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کو مطلع کیا کہ جونہی کشمیر میں امن قائم ہوگا بھارتی فوجیں کشمیر سے واپس بلا لی جائیں گی اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا موقع دیا جائیگا جس کا اظہار اُنہوں نے 2 نومبر 1947 کو آل انڈیا ریڈیو کی براڈکاسٹ میں دنیا کی ڈِس انفارمیشن کیلئے دھرایا لیکن قائداعظم نہرو کی چانکیہ صفت کو سمجھتے ہوئے اُن کے 31 اکتوبر کے ٹیلی گرام کے مندرجات کے پیش نظر یکم نومبر کو لاہور میں بھارتی گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات میں پنڈت نہرو کے ٹیلی گرام کے جواب میں فکر و دانش پر مبنی ایک تین نکاتی تجویز پیش کی۔ (1) دونوں ملکوں کے گورنر جنرل ایک مشترکہ اعلامیہ میں دونوں متحارب قوتوں (بھاتی فوج اور قبائلیوں) کو 48 گھنٹوں میں جنگ بندی کا نوٹس دیں اور قبائلیوں کو وارننگ دی جائے کہ اگر وہ حکم عدولی کرتے ہیں تو پھر دونوں ملکوں کی فوجیں اُس سے جنگ کریں گی۔ (2)کشمیر سے بھارتی فوجیں اور قبائلی لشکر بیک وقت واپسی اختیار کریں گے ۔ (3) دونوں گورنر جنرلوں کو امن قائم کرنے ، ریاست کا انتظام چلانے اور استصواب رائے کا مکمل اختیار دیا جائیگا لیکن وزیراعظم نہرو نے اِن امن تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں قائداعظم نے جموں و کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام روکنے کیلئے پاکستان فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا ۔
گو کہ قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے خارجہ پالیسی کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے محض ایک برس کا وقت ہی مل سکا تھا لیکن بیماری کے باوجود اِس چند روزہ زندگی میں بھی اُن کی کارکردگی بے مثال رہی ۔ قائداعظم بھارتی اکھنڈ بھارت کی ذہنیت کو پاکستان کیلئے بڑا خطرہ گردانتے تھے ۔ اُنہوں نے 14 اگست 1948 کو پاکستان کی پہلی سالگرہ پر قوم کے نام پیغام میں کہا کہ ” ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ حوصلے اور عزم سے کیا ہے ۔ دشمن کے وار جن کا تذکرہ بار بار کیا جا چکا ہے، خصوصاً مسلمانوں کو بحیثیت قوم ختم کرنے کی منظم سازش کے خلاف ہم نے جو کامیابی حاصل کی وہ حیرت انگیز ہے ۔ اِس نوزائیدہ مملکت کو پیدا ہوتے ہی دیگر طریقوں سے گلا گھونٹے کی ناکام کوشش میں ہمارے دشمنوں کو اُمید تھی کہ اُن کی دلی منشا اقتصادی چالبازیوں سے پوری ہو جائیگی۔ اِن تمام دلائل سے کام لیکر جو بغض و عداوت سے تراشی جا سکتی تھیں ، پیش گوئیاں کی گئیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائیگا ۔ دشمن کی شمشیر و آتش جو مقصد حاصل نہ کر سکی وہ مقصد اِس مملکت کی مالی تباہی سے حاصل ہو جائیگا مگر ہماری برائی چاہنے والے تمام پنڈتوں کی پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ہمارے پہلے ہی بجٹ میں بچت ہوئی اور ہماری تجارت کا توازن ہمارے حق میں رہا ۔کسی بھی ملک کے مستقبل اور اقتصادی ترقی کے متعلق قطعی اور یقینی اندازہ لگانے کیلئے ایک سال کی مدت بہت ہی قلیل ہے لیکن جس طرح ہم نے زبردست مشکلات کے باوجود گذشتہ ایک برس میں ترقی کی ہے اُس کی بنا پر ہم مستقبل کیلئے خوش آئند تصورات قائم کر سکتے ہیں “۔اِس سے قبل ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے ایک تسلسل کیساتھ کئے جانے والے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے جواب میں رائٹر کے نمائندے ڈنکن ہوپر سے گفتگو کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ ” میں بار بار یہ کہہ چکا ہوں کہ ایک باضابطہ سمجھوتے کیمطابق ہندوستان تقسیم ہو چکا ہے ۔ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کبھی اِس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ دونوں آزاد مملکتیں ایک مشرکہ مرکز کے تحت آئینی طور پر ایک ہو جائیں۔ پاکستان قائم ہو چکا ہے اور قائم رہیگا لیکن ہم ہندوستان کیساتھ دو آزاد ، مساوی الحیثیت اور خودمختار مملکتوں کی طرح ہمیشہ سمجھوتے اور مفاہمت کیلئے تیار ہیں، بالکل اِسی طرح جیسے ہم کسی اور غیر قوم سے معاہدہ دوستی یا سمجھوتہ کر لیں” ۔ لہذا ہمیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے قائداعظم کی ویژن کو سمجھنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ابتدائی دور میں ہی ہندوستان کے معاندانہ عزائم کو سمجھنے کیلئے قائد کی ویژن ہمارے لئے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتی ہے ۔ہم نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوستان سے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول کی بنیاد پر 1966 میں تاشقند سمجھوتہ کیا اور سمجھ لیا کہ بّرصغیر جنوبی ایشیا اب امن کا گہوارہ بن جائیگا لیکن چند برس کے اندر ہی بھارت نے مشرقی پاکستان میں منظم تخریب کاری اور طاقت کے استعمال سے 1971 میں پاکستان کو دولخت کر دیا۔ قائداعظم نے 21 مارچ 1948میں اپنے ڈھاکہ کے خطاب میں کہا تھا کہ ” میں صاف طریق پر آپ کو اُن خطرات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے قیام کو روکنے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد اپنی شکست سے پریشان ہو کر پاکستان کے دشمن اب مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اِس مملکت میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اوراِن کوششوں نے اب صوبہ پرستی کو ہوا دینے کی صورت اختیار کر لی ہے جس کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے”۔ چنانچہ آج ہمارے رہنماؤں کو فکر و نظر کے دھاروں کو کھولنا چاہیے کہ کیا ہم پھر ایسی ہی صورتحال سے نبردآزما تو نہیں ہیں؟ بہرحال قومی سلامتی کو لاحق اِن خطرات کے پیش نظر آج کا پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیم کے جذب و کمال کی بدولت پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن چکا ہے جبکہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں پاکستان فوج قومی سلامتی کو لاحق ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے چاق و چوبند ہے ۔ قائداعظم نے 21 فروری 1948 میں افواج پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : ” ہم نے پاکستان کی جنگ آزادی جیت لی ہے مگر اُسے برقرار رکھنے اور مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کی سنگین ترین جنگ ابھی جاری ہے اور اگر ہمیں ایک بڑی قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو اِس جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہو گی ۔آپ نے فاشسٹ نظام کے خطرات سے دنیا کو بچانے کیلئے کرّہ ارض کے دور دراز علاقوں میں جا کر داد شجاعت حاصل کی ہے اب آپ کو اپنے وطن کی سرزمین پر اسلامی جمہوریت ، اسلامی معاشرتی عدل و انصاف اور مساوات انسانی کے اصولوں کی پاسبانی کرنی ہے ۔ آپ کو اِس مقصد کے حصول کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا ۔ ابھی سستانے کا وقت نہیں آیا ہے ، یقین محکم ، ضبط و نظم اور ادائیگی فرض کے ایسے اصول موجود ہیں کہ اگر آپ ان پر کاربند رہیں تو کوئی شہ ایسی نہیں ہے جسے آپ حاصل نہ کر سکیں “۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو ۔

328
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...