بھارت مسلسل سرحدوں پر اشتعال انگیزی کر رہا ہے یوں تو آئے روز سرحدی خلاف ورزی اس کا معمول ہے لیکن آج کل مودی ذرا زیادہ جذباتی ہو رہا ہے اور اپنی افواج کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر نا چاہ رہا ہے لہٰذا وہ سرحدوں کے اس پار نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں برت رہا کہ اُس کے بہادر سورما عام سول آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں،بکریاں چراتی بوڑھی عورتوں کو، مریض لے جاتی ہوئی ایمبولینس کو یا معصوم بچوں سے بھری ہوئی سکول وین کو۔ دنیا میں ان تمام حرکات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتاہے اور یہ سب کچھ جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتا ہے لیکن و ہ یہ سب کچھ بڑی دیدہ لیری سے کررہا ہے اورمسلسل کر رہا ہے اس نے حالیہ جنگی دہشت گردی کے لیے بہانہ اُڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کو بنایا ہے یہ اُس کا پُرانا حربہ ہے وہ جب حا لات خراب کرنا چاہتا ہے تو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بڑی چالاکی، مکاری اور عیاری سے اپنے ملک میں ایک بڑا واقعہ کروا دیتا ہے اور وقوعہ کے شروع ہوتے ہی الزام اپنے میڈیا کے ذریعے پاکستان پر دھر دیتا ہے۔اُس نے 2008 میں ممبئی حملوں کو پاکستان سے منسوب کیا حالانکہ بہت ساری گواہیاں اور واقعات اُس کے خلاف جاتے تھے لیکن اس وقعے کی آڑ لے کر اُس نے اپنی فوجیں سرحد پر بیٹھا دیں اپنے ارمان پورے کرنے کی بھرپور کوشش کی، بے شمار سرحدی خلاف ورزیاں ہوئیں اور پھر فوجیں اپنی اپنی پوزیشنوں پر چلی گئیں لیکن بھارت ممبئی حملوں کا راگ مسلسل الاپتا رہا اور الزام پاکستان کو دیتا رہا۔ یہ واحد واقعہ نہیں تھا بلکہ وہ اپنے کرائے ہوئے واقعات کے لیے پاکستان کو الزام دیتا ہے اور دنیا کو دھوکہ دے کر اس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اُس نے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی اس کے خلاف سازشیں شروع کر دی تھیں اس کے اثاثے روکے ،اس کا جنگی سامان روکا ،اس کا پانی روکا اور ابھی تک پانی کا ہتھیار استعمال کر رہا ہے اس نے کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑا جب اُس نے پاکستان کو شدید ترین نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کی ہو۔کھلی جنگیں تو اپنی جگہ ،سازشوں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ چل رہا ہے ماضی بعید کے ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ماضی قریب میں بھی وہ ایسے ہی اقدامات میں ملوث ہے بلکہ وہ اپنے ملک میں دہشت گردی کی ایسی ہی وارداتیں کرتا ہے اور پھر پاکستان کو ان میں ملوث قرار دیتا ہے ایسے ہی ایک واقعے یعنی ممبئی حملوں کا ذکر میں کر چکی ہوں اگر چہ ایسے واقعات کی ایک لمبی زنجیر ہے لیکن میں چند ایک واقعات کا ذکر کروں گی۔سمجھوتہ ٹرین کا واقعہ انتہائی افسوس ناک تھا جس میں زندہ انسانوں کو جلایا گیا تھا اس ٹرین میں اڑسٹھ پاکستانی مسافروں کو جس بے دردی سے زندہ جلایا گیا اور بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ19 فروری2007 کو انہوں نے سمجھوتہ ٹرین میں دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں یہ انسان زندہ جل مرے۔ شدت پسندہندوتنظیم آر ایس ایس کے سوامی آسیم آنند نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا اعترافی بیا ن ریکارڈ کرایا۔میڈیا نے بھی اس کیس کا ذمہ دار بی جے پی اور آر ایس ایس کو ہی ٹھہرایا۔
اسی طرح مسلم اکثریتی شہر حیدرآباد کی مکی مسجد پر بھی دہشت گرد حملہ ہوا تھا۔18 مئی2007 کو ہونے والے اس دھماکے میں 16افراد جاں بحق ہو گئے تھے،اس کے لیے بھی ابتداء میں پاکستان کا نام لیا گیا تھالیکن بعد میں بی جے پی اور آر ایس ایس ہی اس کے ذمہ دار نکلے اور وجہ جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ نظام حیدر آبادنے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھاجو انتہا پسند ہندؤں کے لیے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں تھا۔اس طرح اجمیر شریف میں درگاہ خواجہ معین الدین چشتی میں بم دھماکہ کیا گیا،سوامی آسیم آنند نے اس حملے کا بھی اعتراف کیااور وجہ یہ بتائی کہ ہندو اس درگاہ پر آنا چھوڑدیں۔ لکھنو کی عدالت میں اسی طرح23نومبر 2007کو ورناسی اور فیض آباد کی عدالتوں میں 25منٹ کے اندر اندر کئی دھماکے ہوئے جن میں 15افراد ہلاک اور 57زخمی ہوئے ،الزام جیش محمد پر رکھ دیا اور فوراََ پاکستان کو ان کی مدد کے لیے مورد الزام ٹھہرادیا گیا۔تاہم خودبھارتی ایجنسیوں نے بعد میں اعتراف کیا کہ ان دھماکوں میں حرکت الجہاد اسلامی بنگلہ دیش کے بھارتی مجاہدین ملوث تھے۔2008 میں جے پور میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھی یہی گروپ تھا جن میں ترسیٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2008کے بنگلور اور دہلی دہشت گرد حملوں میں بھی زبر دستی پاکستان کو ملوث کیا گیا اور بعد میں ثابت ہوا کہ یہ ساری کاروائی بھارت کی سر زمین پر بھارتی باشندوں نے ہی کی۔لیکن بھارت کئی بار شرمندگی اٹھانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آ رہا اور حالیہ دہشت گرد واقعات کے لیے اُس نے پھر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔میڈیا کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی بھار ت سرکار یا سرکار کا ترجمان میڈیا بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کا نام لینا نہیں چھوڑ رہااور پٹھان کوٹ اور اُڑی حملوں کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈالی گئی اور اسی کو بہانہ بنا کر اپنی فوجیں سرحدوں پر لابٹھائیں اور مودی کے دہشت گرد ذہن کی تسکین ہونے لگی لیکن باوجود سر توڑ کوشش کے وہ پاکستان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکایہ اور بات ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے لیکن کسی بھی ثبوت کے بغیر ۔دراصل بھارت کا المیہ ہی یہ ہے کہ اپنے مجرم اپنے اندرتلاش نہیں کرتا بلکہ ہر جرم کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا کر سمجھتا ہے کہ اُس کی حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری کر لی ہے اور یوں مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے ایک آسان حل تلاش کر لیا جاتا ہے اور اپنے عوام کا منہ بند کر دیا جاتا ہے لیکن کیا ہی بہتر ہوتا اگروہ حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اصل مجرم پکڑتا اور خود ہی ایسے منصوبے نہ بناتا اور پاکستان کو بد نام کرنے کے لیے اپنے عوام کا قتل عام نہ کرتا تو حظے کو دہشت گردی سے زیادہ بہتر اور زیادہ جلدی نجات مل جاتی۔ بھارت اگر اس حقیقت کا ادراک کر لے کہ الزام تراشی اوراشتعال انگیزی مسائل کا حل نہیں بلکہ اُسے اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا اور پاکستان کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا توجس دن اُس نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کر لیا اُسے خود محسوس ہوگا کہ امن کی بحالی نا ممکن نہیں اور جب امن قائم ہو جائے تو وہ دیکھے گا کہ خطہ ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل جائے گا لیکن اس خوش کُن صورت حال کے لیے بھارت کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔

323
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...