16 دسمبر 2014ء کا دن وطن عزیز کی تاریخ میں اس حوالے سے ہمیشہ سوگ، ملال اور تعزیت کی علامت بنا رہے گا کہ اس روز آرمی پبلک سکول پشاور میں 7 دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 141 بے گناہ اور نہتے افراد کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔ اس سانحہ کا نہایت دردناک پہلو یہ رہا کہ شہید ہونے والے افراد میں سے 132 اس سکول کے طلباء تھے جن کی عمریں 8 سے 18 برس کی تھیں۔ حملے میں 114 افراد زخمی ہوئے تھے۔ 2007ء میں کراچی میں کارساز کی بیس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد یہ حملہ اپنی شدت اور نقصان کے اعتبار سے نہایت قابل ذکر اور نمایاں تصور کیا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سکول مذکورہ پر حملے کی واردات کا انداز اس حملے سے حیرت انگیز حد تک مماثلت رکھتا ہے جس کا ارتکاب 2004ء میں رشین فیڈریشن کے علاقہ الینیہ میں شمالی اوسیشیا میں بیسلن کے مقام پر سکول کے بچوں کو یرغمال بنا کر کیا گیا تھا۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردوں نے یہ حملہ صبح ساڑھے 10 بجے کیا اور سکول کے طلباء اور اساتذہ کو اپنا ہدف بنایا۔ اس حملے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کے جوان حرکت میں آگئے اور انہوں نے کسی تاخیر کے بغیر موقع پر پہنچ کر دہشت گردوں کو دبوچ لیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے تمام دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا اور 960 افراد کو ان کے غلبہ سے نجات دلائی۔
دہشت گردوں کی طرف سے آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنانے کا ایک سبب یہ بھی بتایا گیا کہ وطن عزیز کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی تھی جبکہ دوسری طرف حکومت نے سزائے موت کو موقوف کرنے کا سلسلہ ختم کر دیا تھا۔ یہ دونوں اقدامات یقینی طور پر دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کے لئے موت کا پروانہ ثابت ہو رہے تھے۔ 2 دسمبر 2015ء کو حکومت نے پشاور کے سانحہ میں ملوث 4 دہشت گردوں کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا جبکہ اس کا مرکزی کردار عمر خراسانی 9 جولائی 2016ء کو افغانستان کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون حملے کے دوران مارا گیا۔ 29 اگست 2016ء کو وطن عزیز کی سپریم کورٹ نے مذکورہ حملے میں ملوث 2 مزید مجرموں کو دی گئی سید زمان خان بنام فیڈریشن مقدمہ میں سزائے موت کو بحال رکھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جون 2014ء میں پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں موجود ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی جو نہ صرف اس علاقے بلکہ ملک بھر میں امن و امان کے لئے خطرات کا سبب بنے ہوئے تھے۔ پاک فوج کی طرف سے شروع کیا گیا آپریشن ضرب عضب اس پس منظر میں بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل تصور کیا گیا کہ کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کئے گئے حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی تھی۔ اہل وطن جانتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے تحت کی گئی مسلسل اور مؤثر کوششوں کے نتیجے میں اب شمالی وزیرستان کا 90 فیصد سے زائد علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرایا جا چکا ہے اور اس دوران کم و بیش 1200 دہشت گرد واصل جہنم کئے گئے ہیں۔
عوام کے دل و دماغ میں مذکورہ المیہ کی یادیں ہنوز محفوظ ہیں۔ ان کو یاد ہے کہ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں نے پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی وردیاں پہن رکھی تھی اور وہ سکول کی عقبی جانب واقع ایک قبرستان کی طرف سے سکول میں داخل ہوئے۔ سکول مذکورہ پشاور کینٹ کے نزدیک وارسک روڈ پر واقع ہے اور یہ اس آرمی پبلک سکولز و کالجز سسٹم کا حصہ ہے جو ملک بھر میں 146 سکول چلاتا ہے۔ دہشت گردوں نے سکول کے احاطہ میں داخل ہونے سے پہلے اس گاڑی (سوزوکی بولان ST41) کو نذر آتش کر دیا جس میں سوار ہو کر وہ یہاں تک پہنچے تھے۔ حملہ آور دہشت گردوں نے خودکار ہتھیار اٹھا رکھے تھے اور وہ سیدھے سکول کے احاطہ کے عین درمیان واقع آڈیٹوریم میں جا پہنچے جہاں پر طلباء ابتدائی طبی امداد کی تربیت حاصل کرنے کے لئے جمع تھے۔ بدبخت حملہ آوروں نے کسی وارننگ، امتیاز اور انتباہ کے بغیر طلباء پر انتہائی بیدردی اور سفاکی کے ساتھ فائرنگ شروع کر دی۔قتل و غارت کا یہ بہیمانہ سلسلہ شروع ہوا تو کئی طلباء آڈیٹوریم سے فرار ہو کر باہر نکل آئے لیکن وہاں پر بھی سفاک دہشت گرد ان کے منتظر تھے چنانچہ کئی طلباء کو آڈیٹوریم کے باہر باغیچے میں شہید کر دیا گیا۔ ان دہشت گردوں کی سنگدلی (بلکہ حیوانیت) کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے سکول کی پرنسپل (طاہرہ قاضی) کو شہید کیا تو کئی طلباء کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی استاد کی شہادت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ دہشت گردوں کے حملے کے صرف 15 منٹ کے بعد پاک فوج کے کمانڈوز ان دہشت گردوں کو عبرت کی مثال بنانے کے لئے موقع پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے عسکری مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا اور یرغمال بنائے گئے نہتے افراد کو آزاد کرایا۔ اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی طرف سے مزاحمت کے دوران 2 افسروں سمیت 7 کمانڈوز زخمی ہوئے۔ کمانڈوز نے ایک طرف موقع پر موجود دہشت گردوں کو اپنا ہدف بنایا تو دوسری طرف انہوں نے اس مواصلاتی رابطے کی شناخت کو بھی یقینی بنایا جو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے درمیان موجود تھا۔ اسی شناخت کے باعث بعدازاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کا پتہ چلانے سمیت ان کے سہولت کاروں کی شناخت کے سلسلے میں خاطر خواہ مدد میسر آئی۔ اس المناک واقعہ کے بعد ہونے والی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں ابوشامی (عرف عبدالرحمان) کا تعلق چیچنیا سے تھا اور وہ حملہ آور گروپ کا لیڈر بھی تھا جبکہ دیگر دہشت گردوں میں افغان باشندہ، نعمان شاہ ہلمند، افغان باشندہ وزیر عالم ہرات، مصری باشندہ خطیب الزبیدی، مراکو کا باشندہ محمد زاہدی اور سعودی عرب کا باشندہ جبران السعیدی شامل تھے۔
سانحہ 16 دسمبر 2014ء کے بعد جب 12 جنوری 2015ء کو آرمی پبلک سکول کے دروازے دوبارہ کھولے گئے تو ساری دنیا کے یہ مشاہدہ ناقابل یقین رہا کہ مذکورہ سکول کے طلباء، اساتذہ اور سٹاف کے دیگر ارکان سمیت طلباء کے والدین اور شہریوں کے حوصلے بدستور سلامت اور بلند تھے۔ خاص طور پرسکول کے طلباء نے اپنے اس عزم کا ولولہ انگیز انداز میں اظہار کیا کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مہذب دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک امن پسند اور پرامن ملک ہے جو دہشت گردوں کا ہدف بنا ہوا ہے لیکن وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ان دہشت گردوں کا قبرستان ثابت ہو گا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے طلباء کا یہ عزم صمیم ساری پاکستانی قوم کے دل آواز ہے جو دہشت گردوں کے لئے ان کی موت کا پیغام بن چکی ہے۔

275
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...