پاکستان بنا تو بہت سارے مسائل اس کے لیے منہ پھاڑے کھڑے تھے جن میں سے اکثر کا تعلق یا اُن کی وجہ صرف ایک تھی یعنی پڑوس میں بننے والا دوسرا ملک بھارت، اگر اس کے اثاثے روکے گئے تو ایسا کرنے والا یہی بھارت تھا، اگر اس کا پانی روکا گیا تو بھارت کی طرف سے، اس پر جنگ مسلط کی گئی تو اسی کی طرف سے، لیکن پھر بھی اس کے اندازے کے مطابق پاکستان نے اُس کے سامنے گھٹنے سے انکار کر دیا اور بھارت کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا کہ پاکستان بن تو گیا لیکن بہت جلد خدانخواستہ ختم ہو جائے گا مگرجب پاکستان نے اپنا وجود نہ صرف برقرار رکھا بلکہ منوایا بھی تو تب بھارت نے کھلم کھلا جنگ کے ساتھ ساتھ سازشوں کا جال پھیلا کر ایک آسان ٹارگٹ پر بڑی تندہی سے کام شروع کر دیا اور وہ ٹارگٹ تھا مشرقی پاکستان۔ مغربی پاکستان سے اس کا ایک ہزار میل کا فاصلہ اور تین اطراف سے بھارت سے گھرا ہوا ہونا اُس کو دشمن کے لیے ایک آسان ہدف بناتا تھا۔ مشرقی پاکستان کی ہندوآبادی سے مدد لینا بھی بھارت کے لیے بہت آسان تھا لہٰذا اُس نے یہ سب کچھ کیا۔ 1968 میں’’ را‘‘نے اپنے وجود میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی حکومت کے اس منصوبے کو بڑی تیزی سے آگے بڑھایا اور مشرقی پاکستان کے حالات کا خوب فائدہ اٹھایا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان زمینی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے دونوں حصوں کے عوام ایک دوسرے کے حالات سے مکمل طور پر باخبر نہیں تھے اگر چہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو موجود تھے لیکن آج کی طرح تیز نہ تھے اور یوں دشمن جو مشرقی حصے سے زیادہ قریب تھا بڑی آسانی سے منفی پروپیگنڈہ کرتا رہا اور یہ تاثر دیا جا تا رہا جیسے مغربی پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں اور محرومیاں صرف مشرقی پاکستان کے عوام کے حصے میں آئی ہوں بلکہ لائی گئی ہوں،یہی وہ انتہائی موثر ہتھیار تھا جو دشمن نے استعمال کیا ۔شیخ مجیب پاکستانی سیاست میں حصہ ضرور لیتا رہا لیکن بات وہ صرف بنگالی مفادات کی ہی کرتا تھا یوں بظاہر ایک پاکستانی سیاستدان بن کر دشمن کا ایجنڈا پورا کرتا رہا ۔ 1966 میں اُس نے پہلی بار اپنے چھ نکات پیش کیے تو وہ کھل کر سامنے آیا بظاہر یہاں بھی حقوق کی بات کی گئی تھی تا ہم اپنا عکس بہت کھل کر دکھا دیا تھا ۔ کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ اس کا عروج تھا اور جب بھارت نے دیکھا کہ اب مجیب کافی حد تک بنگا لیوں کو پاکستان کا مخالف بنا چکا ہے تو بھارت نے کھلے عام میدان میں آکر پاکستان کے خلاف کام کرناشروع کیا۔ مشرقی پاکستا ن میں مغربی پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا گیا اور بنگالیوں کو باقاعدہ تربیت دی جانے لگی۔ مکنی باہنی کی تربیت کے لیے بھارت نے اپنے سارے وسائل صرف کر دیے اور پھر مکنی باہنی نے مغربی پاکستانیوں کے قتل عام میں اپنا پورا زور صرف کیا اور بہاریوں کو بھی گا جر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ بھارت نے اس بات میں کبھی شرم محسوس نہیں کی بلکہ اُس نے ہمیشہ ببانگ دہل اسے اپنا کارنامہ گردانا اور مودی تو ہر موقع پر بنگلہ دیش کی آزادی میں اپنا حصہ بیان کرتا ہے اور بڑے فخر سے کرتا ہے لیکن دخل اندازی اور دہشت گردی کا الزام وہ پاکستان پر دھرتا ہے۔جب سے شیخ مجیب کی بیٹی بنگلہ دیش کی وزیراعظم بنی ہیں تب سے تو اپنے محسن بھارت کے اشارے پر وہ بھی کسی نہ کسی طرح پاکستان کے خلاف مصروف کار رہتی ہے وہ خود بھی اعتراف کرتی ہے کہ اُسکے ملک کو پاکستان سے الگ کرنے میں بھارت نے مرکزی کردار اد اکیا۔ ابھی حال ہی میں اُس کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو فریڈم فائٹر قرار دیا جائے گا اور اِس کے لیے جو کسوٹی رکھی گئی ہے وہ بھی بھارت کی مداخلت اور دہشت گردی کا ثبوت ہے اس کسوٹی کے مطابق اس خطاب کے وہ لوگ اہل ہوں گے جو 26 مارچ سے 16 دسمبر 1971 تک شیخ مجیب کے ساتھ غداری میں شامل رہے ہوں اور اُس وقت ان کی عمر یں13 سال تک ہوں اور دوسری شق تو خالصتاََ بھارت کی احسان مندی اور اپنے ملک کے اندر اُس کی مداخلت کی حوصلہ افزائی ہے اس شق میں کہا گیا ہے کہ جن بنگالیوں نے اُس وقت سرحد پار کی اور مختلف بھارتی کیمپو ں میں تربیت حاصل کی وہ بھی اپنے ناموں کا اندراج کرائیں اس کے لیے صحافیوں کو بھی خصوصی دعوت دی گئی اور وہ لوگ بھی جو مجیب نگر کی حکومت چلانے میں غداروں کی مدد کرتے رہے اور وہ عورتیں جن پر پاکستانی فوجیوں نے تشدد کیا۔ کاش کہ دنیا کے سامنے ہم بھی وہ اعداد و شمار اِسی تندہی سے لاتے کہ کیسے اور کتنے مغربی پاکستانی مکنی باہنی کے غنڈوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور کتنی بہاری عورتیں ان کا نشانہ بنیں اور کتنی بنگالی عورتیں بھی ان کے ہاتھو ں بے عصمت ہوئیں لیکن الزام پاکستانی فوجیوں پر دھرا گیااور ان تمام الزامات کو لگانے اور اچھالنے میں بھارت نے جو کردار ادا کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں بلکہ خود بھارتی لیڈر بڑے دھڑلے سے اس جرم کا بے شمار بار اقرار کر چکے ہیں ۔ آج بھی اس ملک نے اپنا چلن نہیں بدلا، اُس نے اب بلوچستان کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے اور وہاں کے باغی دہشت گرد اُس کے ہیرو بنے ہوئے ہیں وہ براہمداغ کی شکل میں ایک اور شیخ مجیب کو پال پوس رہا ہے لیکن اُسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلوچستان مشرقی پاکستان نہیں مغربی پاکستان ہے اور اس کے زمینی اور فضائی رابطے کے لیے ہمیں بھارت جیسے سازشی ملک کے اوپر سے نہیں گزرنا پڑتا۔ بہر حال بھارت اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اور سی پیک اور گوادر کی بندرگاہ کے فعال ہونے کے بعد تو اُسے جیسے رات بھر نیند نہیں آتی لیکن یہاں دراصل پاکستانیوں کو انتہا سے زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہے حکومت اور سیاستدان اگر اپنی ذاتی اور پارٹی جنگیں چھوڑ کر ملکی سلامتی پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس وقت’’ را ‘‘نے اپنے بغل بچہ افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس یعنی افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی کو بھی اسی مشن پر لگا رکھا ہے لہٰذا تمام پاکستانیوں کو اس طرف ضرور توجہ دینی چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کی سازشیں ختم نہیں ہوئیں وہ16 دسمبر1971 کو رُکا نہیں بلکہ یہ سفر 16 دسمبر 2014 تک بھی پہنچا جب افغانستان میں بیٹھ کر اِسی بھارت کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے ملافضل اللہ کے درندوں نے اے پی ایس پشاور پر حملہ کیا ایک بار پھر 16 دسمبرکو دشمن نے درندگی کی انتہا کردی اور معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی اور یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ملا فضل اللہ افغانستان میں بیٹھ کر امداد کہاں سے وصول کرتا ہے۔ 16 دسمبر سے 16 دسمبر تک کی کہانی کا خالق ایک ہی ہے اور وہ ہے بھارت اور یہی بھارت ڈھاکا سے کوئٹہ تک کا سفر طے کرنا چاہتا ہے لیکن ہمیں دشمن کے اس وار کو ہر صورت ناکارہ بنانا ہے اور ابتداء میں ہی اس کی جڑوں کو کاٹنا ہے ورنہ اگر جڑیں پھیل جائیں تو خودرو جھاڑیاں آگ ہی آتی ہیں اور ہمیں نفرت کی اس فصل کو ہر صورت روکنا ہے اور 1971 میں بھارت کے بد نما کردار کو دنیا کے سامنے لانا ہے اور یہ فیصلہ دنیا سے کروانا ہے کہ دہشت گرد اور مداخلت کار بھارت ہے۔

291
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...