گزشتہ روز بھارتی وزیرداخلہ اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ نے بھارتی دہشت گرد تنظیم RSS کا لبادہ اُوڑھتے ہوئے پاکستان کو ماضی میں دو حصوں میں تقسیم کرنے کا دعویٰ دھرایا ہے اور مزید دس حصوں میں تقسیم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ درحقیقت ، بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے لائین آف کنٹرول اور ورکنگ بأونڈری پرگولہ باری کرنے کیساتھ ساتھ پاکستانی سیاسی اور فوجی قیادت پر دباؤ بڑھانے کیلئے نفسیاتی جنگ کے حربے استعمال کر رہی ہے۔اِس سے قبل سابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ جو ماضی میں کانگو میں اقوام متحدہ امن مشن میں نئے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی قیادت میں کام کر چکے ہیں نہ صرف جنرل باجوہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں بلکہ بھارتی سیاسی اور فوجی قیادت کو نئی پاکستانی فوجی قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے خبردار رہنے کی تلقین کر چکے ہیں ۔اُن کا موقف تھا کہ جنرل باوجوہ کشمیر کنٹرول لائین اور پاکستان بھارت سرحدی امور سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ وہ سرحد سے ملحق بھارتی علاقے کی زمینی صورتحال کی باریکیوں کو بخوبی جانتے ہیں ۔ بھارتی چینل پر پاکستان کے خلاف ایک حالیہ سخت گفتگو میں اُنہوں نے یہ انکشاف کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کیلئے قائم مبینہ لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے دہشت گردی کے اڈوں کو تباہ کرنے کیلئے سہولت کاروں کی مدد لی جا سکتی ہے اُن کے بقول پاکستان میں ایسے سہولت کاروں کی کمی نہیں ہے ۔ جنرل بکرم سنگھ کی گفتگو کا مفہوم یہی تھا کہ بھارت جب چاہے سرحد پار کئے بغیر پاکستانی سہولت کاروں کی مدد سے مبینہ دہشت گردی کے اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ چنانچہ ماضی کی طرح بھارتی میڈیا ریاستی شہہ پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف ڈِش انفارمیشن پھیلانے میں پیش پیش ہے ۔بھارتی میڈیا اِس سے قبل بظاہر بھارتی ایجنسیوں کی حمایت سے وزیراعظم پاکستان کے دفتر میں منعقد ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس کی مبینہ کاروائی ایک پاکستانی صحافی کی ریاستی بے حکمتی کے سبب آشکار کئے جانے کے بعد دنیا بھر میں افواجِ پاکستان کے خلاف بدترین پروپیگنڈے کیلئے استعمال کر چکا ہے ۔بھارت کے شہر امرتسر میں منعقد ہونے والی حالیہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارت کی جانب سے پاکستانی مشیرِ خارجہ کے خلاف توہین آمیز سلوک اور اِس سے قبل راجناتھ سنگھ کا اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کانفرنس سے واک آؤٹ کئے جانے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کو دنیا بھر میں منفی پروپیگنڈے کا شکار بنانا اور خطے کی معاشی تنظیم سارک کو بے عملی کی کیفیت میں ڈالنا بھی ریکارڈ پر موجود ہے ۔ دریں اثنا ، بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا سنگھ ایک تسلسل کیساتھ پاکستان کے خلاف لاف و گزاف بکنے میں مصروف ہیں جبکہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل ایک آزاد و خودمختار مملکت پاکستان کی سلامتی کے خلاف ماضی کے جارحانہ عزائم کا اعتراف اور کھلم کھلا مزید ٹکڑے کرنے کا اعلان ریاستی دہشت گردی نہیں ہے تو کیا ہے اور کیا اقوام عالم کو اِن دھمکیوں کا نوٹس نہیں لینا چاہیے ؟ کیا ملک میں لسانی بنیادوں پر کام کرنے والی ایک سیاسی جماعت کی لندن میں موجود سیاسی قیادت کے خلاف بھارتی ایجنسیوں سے روابط رکھنے اور سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی متفقہ قرارداد منظور ضرور کی گئی ہے لیکن ایکشن لینے سے گریز کیا گیا ہے جس کے باعث بھارتی حمایت یافتہ ایم کیو ایم لندن نے عوامی سطح پر پھر سے زور پکڑنا شروع کیا ہے۔ چنانچہ، ایک ایسے مرحلے پر جبکہ بھارتی قیادت پاکستان کے خلاف برادر ملک افغانستان کو بھی متحرک کر چکی ہے ، وزیراعظم پاکستان کے پاس وزارت خارجہ کا چارج ہونے کے باوجود سفارتی محاذ پر بھارتی منظم پروپیگنڈا مہم پر ہماری خاموشی کیا معنی رکھتی ہے۔ درج بالا تناظر میں عوام الناس اور سول سوسائیٹی کیلئے یہ ایک لمحہ فکریہ ضرورہے بھارتی اور افغان ایجنسیوں کے گٹھ جوڑ اور پاکستان میں بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں منظم بھارتی تخریب کاری کی روداد موثر طور پر سامنے آنے کے باوجود سفارتی محاذ پر خاموشی اور بھارتی سہولت کاروں کے خلاف موثر حکمت عملی اختیار کرنے سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے جبکہ بھارت آج بھی پاکستان میں گرفتار اپنے ایک اہم ایجنٹ ہینڈلر کو قونصلر رسائی دینے کیلئے مُصر ہے۔ یاد رہے کہ کل بھوشن یادیو محض ایک جاسوس نہیں ہے بلکہ ، را، کا سرونگ سنیئر ایجنٹ ہینڈلر ہے جس کے زیر سایہ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے عزائم کیساتھ ملک میں معاشی عدم استحکام اور سیاسی خلفشار پیدا کرنے کیلئے درجنوں مقامی ایجنٹ کام کر رہے تھے۔کل بھوشن یادیو محض را کا ایجنٹ نہیں ہے بلکہ اُسے بھارتی نیوی سے منتقل کرکے را میں سنیئر آفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے جو ایران میں قائم بھارتی تجارتی دفتر کی آڑ میں افغانستان اور پاکستان میں بھارتی انڈر کور انٹیلی جنس بیس کے سنیئر کمانڈر کے حیثیت سے مبینہ طور پر مقامی سہولت کاروں کو منظم کر رہاتھا ۔ حقیقت یہی ہے کہ سفارتی ذرائع سے باہر ایسے خفیہ ادارے جنگ عظیم اور امریکہ سویت یونین سرد جنگ کے دوران مختلف ملکوں میں قائم کئے جاتے تھے یا پھر دیگر ممالک میں ایسے ٹھکانے قائم کرنے میں اسرائیلی موساد کو شہرت حاصل تھی۔ چنانچہ کل بھوشن یادیو کے دائرہ کار میں درجنوں خفیہ ایجنٹوں کی ورک فورس شامل ہے جس کا انٹیلی جنس جال بلوچستان ، کراچی اور دیگر علاقوں تک پھیلا ہوا ہے جبکہ ایسے ہی دیگر سہولت کار افغانستان ، لندن ، اور یورپی ممالک میں ڈالروں اور پاؤنڈ اسٹرلنگ کی طاقت سے تجارتی اور ہم خیال ارکانِ میڈیا کے پردے میں پاکستان کے مقتدر تجارتی، صحافی اور انتظامی حلقوں میں بھارتی تخریب کاری کو ممکن بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔کلبھوشن یادیو دراصل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈول کی ڈاکٹرائین پر عمل کر رہے تھے جس کی تشریح اجیت کمار ڈول پاکستان کے خلاف اپنے جنگوآنہ فکر کی توضیح کر کے متعدد مواقع پر کر چکے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ بھارتی ایجنٹ ہینڈلر کافی عرصہ سے پاکستانی تجارتی حلقوں میں کام کر رہے ہیں اور جس کا اظہار اب راج ناتھ سنگھ اور سابق جنرل بکرم سنگھ کی جانب سے کیا گیا ہے۔
اندریں حالات ، خطے میں اکھنڈ بھارت کے حصول کیلئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف بھارت کی دونوں بڑی جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس پارٹی ایک ہی ایجنڈہ رکھتی ہیں جس کا اظہار کانگریس پارٹی سے منسلک سابق بھارتی وزیر خارجہ نتور سنگھ جو پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں ماضی میں متعدد مرتبہ کر چکے ہیں کہ بھارت کشمیر میں فوج رکھنے اور سرحدوں کی تبدیلی کے حوالے سے کبھی رضامند نہیں ہوگا۔ مئی 1990 میں ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مقالے میں دھمکی آمیز الفاظ میں اُنہوں نے لکھا : The Pakistani establishment should find no comfort in what is happening in Estonia, Latvia, and Lithuania. For these three, read Sindh, Balochistan and the NWFP – all three can one day ask for self determination and more. Not a reassuring picture for Pakistan, recalling what happened in East Pakistan”. ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کے دس ٹکڑے کرنے کی جو ہرزہ سرائی کی ہے اُسے بھارت کے ایک اور سابق کانگریسی وزیر اور سفارتکار مانی شنکر آئر جو کراچی میں بھارت کے قونصل جنرل بھی رہ چکے ہیں پاکستان میں اندرونی سیاسی خلفشار کے حوالے سے 1994 میں اپنے مقالے میں لکھتے ہیں : ” دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم پاکستان میں موجود اُن قوتوں کی مدد کریں جو پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں ۔ دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ جمہوری تجربے کی ناکامی کے باعث اقلیتی صوبوں کے عوام مطمئن نہیں ہیں اور وہ پاکستان سے علیحدگی اور چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانے پر تیار ہو جائیں گے ۔ بہادر بلوچ جنہیں بار بار اُن کی اپنی حکومت نے جارحیت کا نشانہ بنایا ، ، خدائی خدمتگار تحریک کے پٹھان بھی یاد رکھنے چاہیے جن کی خودمختاری کی انتھک جدوجہد دھرائی جا سکتی ہے جن کے افغانوں کیساتھ نسلی رشتے ہیں جنہیں ایک انگریز نے مصنوئی لائین کھینچ کر تقسیم کر دیا تھا ۔اِن عوامل سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے،،اِسی طرح نئے (MQM) اور پرانے سندھیوں (G.M.Syed Group) کو پاکستان کی دیگر مظلوم قومیتوں کیساتھ مل کر پنجابی حکمرانوں کو شکست دے کر کراچی سے قراقرم تک متعدد ریاستیں تشکیل دینی چاہییں ۔ یہ ریاستیں آپس میں مل کر ایک کنفیڈریشن قائم کر سکتی ہیں جس میں بھارت شامل ہو سکتا ہے۔ دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ جب پاکستان کے لوگ ہی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں تو بھارت کو یہی کرنا چاہیے کہ وہ اِس ناگزیر عمل کو مکمل کرنے کیلئے ہر ممکن مدد کرے” ۔چنانچہ ، موجودہ صورتحال میں راجناتھ سنگھ کی دھمکیوں کو محض سیاسی حاشیہ آرائی سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی کے اداروں کو سنجیدگی سے غور و فکر کے دائروں کو آگے بڑھانا چاہیے کیونکہ تواتر سے آنے ولی حکومتوں نے کرپشن اور پاکستان کی دولت ملک سے باہر منتقل کرنے میں کافی ڈھٹائی سے کام لیا ہے جس کے سبب غربت و افلاس میں اضافہ ہوا ہے اور حکمران جماعت کے خلاف عوامی تحریکیوں کا نعرہ بلند کئے جانے کے باعث ملک سیاسی خلفشار کی گرفت میں ہے ۔ ابلیس کی عرضداشت کے حوالے سے علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔۔۔۔
جمہور کے ابلیس ہیں ، اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک

245
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 6
Loading...