حالیہ دنوں میں بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون اور سفارتی قربت کے چند ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کسی نہ کسی طور اور کسی نہ کسی انداز میں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ وطن عزیز میں اس پیش رفت پر بجا طور پر تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہریوں، سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں (بشمول فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی) کی جانیں اور اربوں روپے کی مالی قربانیوں، امریکہ کی دوستی میں دنیا کی بڑی طاقت سوویت یونین روس سے دشمنی مول لے کر نقصان اٹھانے،افغانستان میں سوویت قبضے کے خلاف امریکی ایماء پر جنگ میں ہزاروں پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے،امریکی خواہش پر 35لاکھ افغان باشندوں کو اپنے ملک میں پناہ دے کر پاکستان کی معیشت و معاشرت تباہ کرانے، پاکستان میں ہیروئن و کلاشنکوف کلچر متعارف کرانے کا صلہ اوربدلہ امریکہ نے یہ دیا ہے کہ9 دسمبر کو اسکی کانگریس نے پاکستان کی 40 کروڑ ڈالر امداد کو بھی روک دیا۔ یہ رقم کوئی امریکی امداد یا احسان نہیں ہے بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈ (اتحادی تعاون فنڈ) کے 90 کروڑ ڈالر کا وہ حصہ ہے جو افغانستان میں کارروائیوں کے لیے امریکہ کو سہولتیں، پاکستانی بندرگاہ اور سر زمین استعمال کرنے کا معاوضہ اور افغان سرحد کے ساتھ قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے عوض دی جانے والی رقم ہے یعنی یہ امداد نہیں بلکہ امریکہ کے لئے خدمات کی فراہمی کی ادائیگی یا معاوضہ ہے جو اس کو معاہدے کے مطابق لازماً ادا کرنی ہے لیکن جس کی ادائیگی سے کانگریس نے بہانہ بنا کر انکار کر دیا ہے۔
امریکی سینیٹ نے جمعرات کی شب نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) 2017ء کو منظوری دے دی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو 400 ملین (40 کروڑ) ڈالر کی امداد اس وقت تک جاری نہ کی جائے جب تک وزیر دفاع یہ سرٹیفکیٹ نہ دے دیں کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف نمایاں اقدامات کر رہا ہے جو امریکی کانگریس کے دعوے کے مطابق امریکی مفادات کو ہدف بنا رہا ہے۔ اس قانون کے حق میں 92 اور مخالفت میں صرف 7 ووٹ آئے۔ واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان گذشتہ ہفتہ این ڈی اے اے 2017ء کو 375 اور 34 ووٹوں سے منظور کر چکا ہے۔ کانگریس کی منظوری کے بعد یہ ایکٹ اب امریکی صدر کی منظوری کے لئے جائے گا اور امریکی صدر کی طرف سے دستخط کئے جانے کے بعد یہ ایکٹ قانون بن جائے گا۔ این ڈی اے اے میں پاکستان کو اتحادی تعاون فنڈ کی فراہمی کے لئے چار شرائط عائد کی گئی ہیں، وزیر دفاع کے اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوگی کہ پاکستان فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے جس کے باعث پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہیں ختم ہو رہی ہیں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ کہ اسلام آباد حقانی نیٹ ورک کو اپنی سر زمین کے استعمال سے روکنے کے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کو تحریری طور پر باور کرانا ہوگا کہ پاکستان افغان سرحد پر جنگجوؤں بشمول حقانی نیٹ ورک کی نقل و حرکت روکنے کے لئے پاکستان، افغانستان کے ساتھ فعال طور پر تعاون کر رہا ہے اور یہ کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے سینئر اور درمیانی درجے کے رہنماؤں کی گرفتاری اور مقدمات میں پیش رفت کی ہے۔
قبل ازیں امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی سر زمین استعمال کر رہا ہے اور اس سے متعلق ہم پاکستانی حکام کو امریکی تشویش سے آگاہ کر چکے ہیں۔ ایک سوال پر مارک ٹونر نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے واشنگٹن میں امریکی نائب وزیر خارجہ ٹونی بلکن سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور اور خطے میں انسداد دہشت گردی کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان کے مطابق پاکستان اور کابل کو انسداد دہشت گردی میں تعاون کرنا چاہئے۔ دریں اثناء بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر سے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے ملاقات کی جس میں امریکہ کی جانب سے بھارت کو اہم دفاعی اتحادی قرار دیا گیا اور دو طرفہ تعلقات، دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایشٹن کارٹر نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کا اسٹریٹجک پارٹنر بننا تقدیر میں لکھا ہے اور انہیں یقین ہے کہ بھارت اور امریکہ کی دفاعی شراکت 21 صدی کی اہم شرکت داری ہوگی۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر نے امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعلقات دو طرفہ تعلقات کے لئے بہت اہم ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دفاعی اتحاد کا درجہ بھارت کے لیے منفرد ہے۔ دہشت گرد عناصر کو کسی بھی ریاست کی طرف سے سرپرستی نہیں دی جائے گی اور بھارت ،امریکہ کا بڑا دفاعی شراکت دار ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بھارتی ریاست راجستھان کے شہر بیکانیئر اور گنگا نگر میں اسرائیلی موساد کے 140 سے زائد اہلکاروں نے بھارتی خفیہ ادارے کے اہلکاروں کے ہمراہ دورہ کیا۔ اپنے ایک ہفتہ کے دورے کے دوران وفد کے ارکان راجستھان کے علاوہ پنجاب اور ہریانہ بھی جائیں گے جبکہ دورے کے اختتام پر اسرائیلی وفد کے اعزاز میں وزیراعظم نریندرا مودی ایک عشائیہ کا اہتمام بھی کریں گے۔ اسرائیلی وفد نے راجستھان کمانڈز کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل اور بھارت کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ ہوگیا۔ اسرائیلی وزیر ٹیکنالوجی نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کی اور معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت دونوں ممالک مشترکہ سائنسی منصوبوں پر اگلے سال 10 لاکھ ڈالر خرچ کریں گے، اسرائیلی وزیر نے بتایا کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ دیگر شعبوں میں بھی تعاون بڑھا رہا ہے، گذشتہ ماہ اسرائیلی صدر نے بھارت کا دورہ کیا تھا، اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان متعدد معاہدے طے پائے تھے۔
ادھر بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے راشٹر پتی بھون (ایوان صدر) میں بھارتی افواج کے تینوں سربراہوں سے طویل ملاقات کی جس میں صدر کو فوجی تیاریوں کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ بھارتی آرمی چیف نے صدر کو جموں و کشمیر کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سری نگر میں نافذ کئے گئے کرفیو میں اب وقفہ اور نرمی کی جا رہی ہے جس کے تحت مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کی اجازت ہے۔ بھارتی ایئرفورس کے چیف نے مختلف پہلوؤں سے ایئرفورس کی کارکردگی کی رپورٹس پیش کیں۔ سفارتی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا یہ تجزیہ اور سوال نہایت فکرانگیز ہے کہ کیا امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعاون اور قربت کی صورت میں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

407
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...