قارئین کرام ! دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق قوموں کو درپیش علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بل خصوص انسدادِ دہشت گردی کیلئے متاثرہ ممالک باہمی مشاورت سے وسائل یکجا کرکے خطے میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مل بیٹھتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا کے ملکوں بل خصوص افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف بند باندھنے اور دہشت گردوں کا زور توڑنے کیلئے خطے کے ممالک غلط فہمیوں کے تدارک اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے جذبے کو مہمیز دینے کیلئے گزشتہ کئی برسوں سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ افغانستان میں امریکہ نیٹو اتحاد کی افواج دہشت گردوں کے خلاف متحرک ہیں جبکہ پاکستانی افواج نے ڈیورنڈ لائین اور وزیرستان میں انسداد دہشت گردی کیلئے مربوط کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کی فکر بھی اِن ہی مربوط کوششوں کو آگے بڑھانے کیلئے ایک مثبت قدم کے طور پر سامنے آئی تھی۔ درحقیقت ، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے پولیس اہلکاروں نے کثیر قربانیاں دیکر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا لیکن بھارت میں منافقت آمیز چناکیہ کوٹلیہ فکر کی حامل نریندرا مودی قیادت انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے خطے کی مشکلات کو سمجھنے اور حالات کی بہتری کیلئے کام کرنے کے بجائے خطے میں اپنے سامراجی مفادات کے حصول کیلئے پاکستان ، افغانستان اور ایران کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ البتہ چناکیہ ہندوازم کی تمام تر منفی کوششوں کے باوجود بھارتی انتہا پسند ریاستی دانشور حیران پریشان ہیں اور وہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مستقبل کے منظر نامے میں ایک مضبوط پاکستان کو اُبھرتا دیکھ کر جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کی سیاسی بالادستی کے خواب کو ٹوٹتا محسوس کر رہے ہیں ۔
درج بالا تناظر میں ایٹمی صلاحیت کی حامل اسلامی جمہوریہ پاکستان کو جنوبی ایشیا میں حاصل قدرتی جغرافیائی پوزیشن کو بے معنی بنانے کیلئے بھارتی دہشت گرد عسکری تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کے سیاسی ونگ کے طور پر شہرت پانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی BJP نے نریندرا مودی کی قیادت میں خطے میں حالات کو بہتر بنانے اور پاکستان چین اقتصادی راہداری سے ہمسایہ ملک ہونے کے حوالے سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے پاکستان چین اقتصادی ترقی کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے سازشی نقطہ نظر اپنایا ہے ۔ چنانچہ بھارت غربت و افلاس کے مارے ہوئے بھارتی عوام کی خوشحالی کے پروگرام کو ترجیح دینے کے بجائے خطیر رقومات خرچ کرکے افغانستان اور وسط ایشیا ئی منڈیوں تک پہنچنے کیلئے مجوزہ متبادل بحری ، زمینی اور ٹرین تجارتی روٹ کو گہرے پانیوں کی ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے منسلک کرکے خطے کی معیشت کو اپنے قبضہ قدرت کو ممکن بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ یہ قدرتی راستے پہلے ہی پاکستان کی سرزمین سے منسلک ہیں اور بھارت و ایران بہت ہی معمولی اخراجات سے اِن تجارتی سہولتوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ خطے میں بھارتی سامراجی منصوبے چونکہ اکھنڈ بھارت کی چوکھٹ سے جُڑے ہیں لہذا بھارت اِن مراعات کو اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ البتہ ایرانی حکا م چاہ بہار بندرگاہ سے منسلک وسیع تر بھارتی منصوبے کی زمینی، معاشرتی اور سیاسی مشکلات کو سمجھتے ہوئے خطے میں گوادر سی پیک تجارتی روٹ کے آپریشنل ہوجانے کے پیش نظر چاہ بہار کی بندرگاہ جسے ابھی افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرنے میں طویل مدت درکار ہے کو پاکستانی گوادر بندرگاہ سے دوستی کی بندرگاہ کے طور پر منسلک کرنے پر غور و فکر کر رہے ہیں۔بہرحال بھارتی منصوبہ ساز ماضی کی مضبوط طالبان حکومت کے مقابلے میں افغان حکمرانوں کی کمزور سیاسی حیثیت کے پیش نظر افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے قدرتی وسائل بشمول گیس، تیل و معدنات کے ذخائر پر اپنی نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں جبکہ بھارتی مودی سرکار افغانستان میں خام لوہے کے تین چوتھائی ذخائر پر مبینہ طور پر بھارتی اِسٹیل ٹائیکون سجن جندال کے ذریعے افغان صدور کے ہاتھ چکنے کرکے قابض ہو چکی ہے۔ دریں اثنا ، مودی حکومت نے چاہ بہار بندرگاہ کے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک سے منسلک ہونے تک اشرف غنی کو افغانستان کیساتھ تجارت اور حساس اسلحہ کی فراہمی کیلئے ہوائی ٹرانسپورٹ راہداری کے قیام کا یقین دلایا ہے اور بظاہر مودی افغان صدارتی امور پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا ہے۔
اندریں حالات ، افغان سیاسی امور پر بھارت کے غالب آ جانے کا ایک بدترین مظاہرہ چند روز قبل امرتسر میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں نریندرا مودی / اشرف غنی گٹھ جوڑ کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آیا جب انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے فورم کو تمام بین الاقوامی ضابطوں اور سفارتی آداب کو پس پشت ڈالتے ہوئے پاکستان کی ہرزہ سرائی کیلئے استعمال کیا گیا۔ حیران کن بات ہے کہ نام نہاد پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کی لیڈرشپ تو افغانستان میں موجود ہے جہاں سے بھارتی ایجنسیوں کی حمایت سے پاکستان کو بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ بلوچستان اور کراچی کا امن و امان تباہ کرنے کیلئے بھارتی ایجنسی را افغانستان حکومت کی جانب سے بہم پہنچائی جانے والی سہولتوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان میں تخریب کاری میں مصروف عمل ہے لیکن بے معنی الزامات کا نشانہ پاکستان کو بنایا جا رہا ہے ۔ امرتسر کانفرنس میں بہرحال اشرف غنی ، نریندرامودی گٹھ جوڑ کی بلی تھیلے سے باہر آہی گئی جب نریندرا مودی نے کانفرنس شروع ہونے سے قبل اشرف غنی کیساتھ دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی اور پھر مشترکہ طور پر نہ صرف اِن دونوں رہنماؤں نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا افتتاح کیا بلکہ ایک ہی زبان میں افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیم کی لیڈرشپ کے زبانی الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو بے جا تنقید کا نشانہ بنانے اور اِسے خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی گئی چنانچہ مودی غنی بے وقت راگنی پر روسی نمائندے کو بھی کہنا پڑا کہ کانفرنس کے پلیٹ فارم پر پاکستان پر تنقید بلا جواز تھی۔
معزز قارئین، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف امریکہ نیٹو اتحاد کی کامیابی اور موجودہ سیاسی حکومت کے قیام کیلئے پاکستان نے غیرمعمولی قربانیں دی ہیں جبکہ ٹی ٹی پی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی تخریب کاری کے سبب پاکستان میں 60 ہزار شہری اور فوج و پولیس کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے؟ کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی اور اُن کی بحالی کیلئے خطیر رقومات خرچ کیں ؟ چنانچہ جب افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کا پروسس شروع ہوا ہے تو اِسی حوالے سے افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور سول اداروں کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے افغانستان کیلئے 50 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کیا گیا ۔ صد افسوس کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے عالمی ادارے اور ویانا کنونشن کے منافی یک زبان ہوکر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کو خطے میں دہشت گری کے الزامات سے نوازنے کی غیر اخلاقی کوشش کی ۔اشرف غنی نے تو پاکستان کی تمام خدمات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہمسائیگی ، اخلاقی اور سفارتی حدوں کو پھلانگتے ہوئے بھارتی اقتصادی امداد اور مودی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے دی جانے والی خطیر امداد کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ بہتر ہے پاکستان یہ امداد خود اپنے اوپر استعمال کرے؟ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بھارت نے پاکستانی مشیر خارجہ کی اِس کانفرنس کے دوران نہ صرف مناسب پزیرائی نہیں کی بلکہ سرتاج عزیز کو دیگر وفود کے ہمراہ سکھوں کے مقدس مقام گوردوارہ گولڈن ٹیمپل جسے ماضی میں خود بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پولیس ایکشن کے دوران تباہ کر دیا تھا جانے سے روک دیا اور نہ ہی پریس کے نمائندوں سے پاکستانی مشیر خارجہ کو خطاب کرنے کی اجازت دی چنانچہ مشیر خارجہ کو نریندرا مودی ،اشرف غنی نامناسب رویہ پر اسلام آباد واپس آکر پریس سے خطاب کرنا پڑا ۔ کیا مشیر خارجہ کو یہ ہرزہ سرائی وزیر خارجہ نہ ہونے کی بناہ پر برداشت کرنی پڑی ہے، اِس پر حکومت کو غور و فکر کرنا چاہیے۔

212
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...