قارئین کرام ! چند روز قبل راقم کو عالمی کالم نگار فورم کی دعوت پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر شاہد صدیقی کی جانب سے اسلام آبادکیمپس میں منعقد کی گئی یونیورسٹی آگاہی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں راولپنڈی اسلام آباداور دیگر شہروں و کراچی سے آئے ہوئے کالم نگاروں، قومی فکر و نظر کے حوالے سے کتابیں لکھنے والے مصنفین ، اساتذہ کرام اور ممتاز دانشوروں نے شرکت کی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام 1974 میں پیپلز اوپن یونیورسٹی کے نام سے عمل میں آیا تھا جس کا نام 1977 میں حکیم الااُمت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے نام سے موسوم کر دیا گیا تھا ۔ عوامی فکری حوالے سے اِس یونیورسٹی کا شمار دنیا کی اپنی نوعیت کی دوسری بڑی عوامی یونیورسٹی کے طور پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر پروفیسر شاہد صدیقی کو دو برس قبل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اِس سے قبل 13 برس تک یونیورسٹی میں مختلف پوزیشنوں پر کام کیا تھا شاید یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اِن گزشتہ دو سالوں میں اوپن یونیورسٹی کو اپنے تجربے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یونیورسٹی میں ٹیکنیکل اور دیگرشعبہ جات بل خصوص ریسرچ کے شعبے میں کام کو محض فائلوں میں بند رکھنے کے بجائے اِس کے فوائد ریاستی و نجی اداروں ، طلباء و طالبات، دانشوروں ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ہر خاص و عام تک آن لائین ذریعے سے پھیلانے (dissemination) کا ایک بہت بڑا کام کیا ہے جو یقیناًقابل تحسین ہے۔ آگاہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی نے بہت ہی سہل اُردو زبان میں یونیورسٹی کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ویژن کو بخوبی بیان کیا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یونیورسٹی سے تعلیمی فوائد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد اب 13 لاکھ تک جا پہنچی ہے جبکہ یونیورسٹی ہر عمر اور ہر مذہب کے لوگوں اور طلباء و طالبات کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پاکستان بھر میں بشمول دیہاتی علاقوں میں طلباء و طالبات کیلئے انتہائی قابل برداشت فیسوں کیساتھ تعلیمی ماحول فراہم کرتی ہے جس کا بنیادی ویژن یہی ہے کہ علم کے متلاشی ہر عمر کے لوگوں اور ریگولر کالجوں اور یونیورسیٹیوں میں داخلے سے محروم طلباء و طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرکے اُنہیں نہ صرف ذمہ دار شہری بنایا جائے بلکہ اُن کیلئے سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمت کے حصول کیلئے بھر پور مواقع بہم پہنچانے کا دروازہ بھی کھولا جائے۔ملک بھر میں یونیورسٹی کی جانب سے 44 علاقائی دفاتر ، 1200 اسٹڈی سینٹر اور 900 امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں کے طلباء و طالبات کی سہولت کیلئے یونیورسٹی کے تعلیمی امور اور امتحانات کے متعلق تمام اطلاعات آن لائین مہیا کر دی گئی ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے ایک اہم کام حالات کے سبب تعلیم سے محروم رہ جانے والی بچیوں اور جرائم میں مبتلا جیل جانے والے نوجوانوں کی اصلاح احوال کیلئے مفت تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ اُنہیں معاشرے کا اہم شہری بننے میں مدد کی جائے۔بہرحال گزشتہ دو برس میں ڈاکٹر شاہد صدیقی کی انتھک کاوشوں کے باعث علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تعلیم کے متلاشی افراد کو تعلیمی ماحول فراہم کرنا اور یونیورسٹی میں آرٹس میں تعلیمی ڈگریوں کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی میدان کو سائنسی و ٹیکنیکل علوم اور ریسرچ کی تعلیم کو ایم فل و ڈاکٹریٹ تک وسیع تر کرنے میں ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور دنیا بھر کے دانشور بھی اِس اَمر پر متفق ہیں کہ تعلیم ہی ترقی کا زینہ ہے جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی دنیا بھر میں تعلیم سے محروم لوگوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ایک بڑی یونیورسٹی ہے ۔ فرمانِ رسول ﷺ بھی ہے کہ تعلیم حاصل کرو خواہ اِس کیلئے تمہیں چین جانا پڑے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالے سے اگر حقائق کے آئینے سے جھانک کر دیکھا جائے تو پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 25A کیمطابق پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچوں کیلئے مفت تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر ہونے کے باوجود سرکاری تعلیمی ادارے تمام بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے سے نہ صرف قاصر ہیں بلکہ عام تعلیمی میدان میں لیاقت سے آگے بڑھنے کے بجائے نقل اور کرپشن کے ذریعے امتحانی کاپیاں تبدیل کرانے اور نمبر بڑھوانے کی دوڑ کے سبب معیار تعلیم کافی حد تک زبوں حالی کا شکار ہے ۔ حقیقت یہی ہے اور بل خصوص اُردو میڈیم اسکول و کالج جو کبھی پاکستان کی آن و شان ہوتے تھے آجکل ریاستی عدم دلچسپی کے سبب زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اُردو قومی زبان ہے اور اُردو زبان کو سرکاری اداروں میں بخوبی رائج کرنے کے عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کے باوجود ریاستی اور نجی تعلیمی اداروں میں اُردو زبان اور دیگر مقامی زبانوں میں یکساں تعلیمی نظام رائج کرنے میں دشواریاں حائل ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ہونے اور بنیادی تعلیم سے طلبأ و طالبات کو کسب کمال کے درجے تک پہنچانے کے مشن پر آئینی طور پرپابند ہونے کے باوجود مملکتِ پاکستان طبقاتی کشمکش کا شکار ہے۔ طاقت کے ایوانوں کی طرح نجی تعلیمی میدانوں میں انگریزی میڈیم اِسکولوں پر بھی چندفی صد اشرافیہ کا قبضہ ہے جن کی نگاہ میں سپریم کورٹ کے اُردو زبان کے حق میں فیصلے کے باوجود انگریزی ذریعہ تعلیم ہی اہمیت رکھتا ہے ۔ گو کہ سفارتی، تیکنیکی اور مغربی سائنسی امور میں مہارت حاصل کرنے کیلئے انگریزی زبان کی تعلیم اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے چنانچہ مخصوص تعلیمی میدانوں میں یہ مہارت حاصل کرنے کیلئے انگریزی زبان ماضی کی طرح ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جا سکتی ہے البتہ تمام مضامین کی انگریزی زبان میں تعلیم ناقابل فہم اور سروسز میں محض انگریزی اسکولوں و کالجوں سے پڑھی لکھی اشرافیہ کے آنے کے بعد مقامی ثقافت اور سماجی و اخلاقی قدروں سے پہلو تہی کرتے ہوئے محض بیرونی انتظامی امور میں مہارت حاصل کرنا اِس لئے بھی بے فائدہ اَمر ہے کیونکہ بیرونی دنیا اور پاکستان کے حالات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔چنانچہ ریاستی طاقت کے ستونوں میں کیونکہ انگریزی نواز بیوروکریسی چھاچکی ہے لہذا وقت گزرنے کیساتھ عوام اور جمہوریت بھی انگریزی سے معمور بیوروکریسی کے ہاتھوں یرغمال بنے نظر آتے ہیں ۔حیرت ہے کہ تمام تر اختیارات اور عملی تربیت کے حصول کے باوجود انگریزی نواز ریاستی انتظامیہ مکمل طور پر بد انتظامی اور کرپشن کے گھیرے میں آ چکی ہے جس سے بہتری کی توقع رکھنا ایک مشکل تر اَمر بن چکا ہے۔
معزز قارئین ، درج بالا تناطر میں انگریزی میڈیم اسکولوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بیشتر طلبأ و طالبات ہی سول سروس کے مقابلے کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے ریاستی نظم و نسق کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور تربیت سے لیس ہونے کے باوجود ملکی انتظامیہ نہ صرف ریاستی بدانتظامی کا شکار ہے بلکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی کرپشن نے بھی عوام الناس کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے۔یہ بھی درست ہے کہ انگریزی میڈیم اسکولوں کی فیسوں اور سالانہ فنڈز کی مد میں لی جانے والی خطیر رقومات متوسط طبقے اور عوام الناس کے بس سے باہر ہے۔ اگر موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ سول سروس میں آنے والے بیشتر افسران یعنی ایک کلاس ون سیکشن آفیسر ، ایک انکم ٹیکس آفیسر ، ایک اے ایس پی پولیس ، ایک الیکشن آفیسر ، ایک جونیئر میڈیکل آفیسر ، ایک اسسٹنٹ کمشنر ، ایک سول جج ، ایک تحصیل دار، ایک تعلقہ آفیسر ، ایک درجہ اوّل مجسٹریٹ اور ایک کسٹم آ فیسر وغیرہ اپنی سروس کے ابتدائی مرحلے میں اِس اَمر کو اچھی طرح جان جاتے ہیں کہ وہ اپنی ماہانہ تنخواہ میں اپنے ایک بچے کو بھی کسی اچھے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرانے اور پڑھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے لیکن پھر بھی اُن کے تمام بچے انہی اِسکولوں میں تعلیم حاصل کرکے ریاستی انتظامیہ میں اچھے منصبوں پر فائز ہوتے ہیں۔ گو کہ سروسز کوڈ کیمطابق اپنی آمدنی سے ہٹ کر اخراجات کرنا سزا او جزا کے دائرے میں آتا ہے لیکن بیوروکریسی سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ کرپشن کیا ہے یا پھر ملک بھر میں کرپشن اور بدانتظامی کیوں سرعت سے پھیل رہی ہے؟ کیا ملک میں بدانتظامی کی یہ لہر اِس لئے ہے کہ بیشتر انتظامی افسران انگلش میڈیم فکری تعلق رکھنے کے سبب مقامی زبانوں اور اُردو میڈیم اِسکولوں کے تعلیمی نظام سے بخوبی مزّین اعلیٰ سماجی ، اخلاقی اور مذہبی اقدار کے حامل عوام الناس کی فکر سے نہ تو اپنے اپنی پالیسیوں کو ہم آہنگ کر پاتے ہیں اور نہ ہی اُن کے روزمرہ مسائل کو سمجھ کر اُنہیں حل کر پاتے ہیں۔ چنانچہ عوامی فکر اور ریاستی فکر میں در آنے والی اِس فکری بُعد کے سبب انتظامی افسران انگریزوں کی چھوڑی ہوئی غلامانہ ذہنیت پر عمل درامد کرتے ہوئے عوام الناس کو ہی ظلم و ستم اور لوٹ مار کا نشانہ بنانے میں لگے رہتے ہیں ؟ اندریں حالات ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ سیاسی جمہوری انتظامیہ عوامی راج کو ملک میں مستحکم بنانے کیلئے تیزی سے بگڑتی ہوئی بدانتظامی اور کرپشن کی اصلاح احوال کی طرف توجہ دے۔ یہی وہ بحث تھی جس پر محترم وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی کے حوالے سے اُردو زبان میں دی جانے والی دلنشین بریفنگ کے بعد اوپن یونیورسٹی کی قومی خدمات سے حوالے سے ملک میں تعلیم کے میدان میں کرپشن اور بدانتظامی ختم کرنے کیلئے فکری بحث نے جنم لیا ۔ اُمید واثق ہے کہ حکومتی ادارے اِس صورتحال کا نوٹس لیں گے اور علامہ اقبال جیسی عوامی یونیورسٹیوں کے عوامی کردار کو بڑھانے پر غور و فکر کریں گے ۔

257
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...