ہماری قومی سیاسی تاریخ کا ایک المناک دن 16 دسمبر 1971ء ہے۔ اس روز وطن عزیز کا مشرقی صوبہ (یعنی مشرقی پاکستان) نے بنگلہ دیش کا نام اور روپ اختیار کیا تھا۔ 1947ء میں آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کے بعد صرف 24 برس کے مختصر عرصے میں سیاسی سطح پر ایسے غیر حقیقی اور غیر منصفانہ فیصلے ہوئے جن کا نتیجہ یوں سامنے آیا کہ تحریک پاکستان میں نمایاں اور کلیدی کردار ادا کرنے والے بنگالی عوام نے اپنی الگ ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک الگ اور طویل داستان ہے کہ اس سلسلے میں اسلام اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اور اس کے حواریوں نے کیا کردار ادا کیا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان بدگمانی، غلط فہمی اور بے یقینی کی فضاء پیدا کرنے اور ذہنی طور پر خلیج کو وسیع کرنے کے باب میں سماجی اشرافیہ، انتظامی بزرجمہروں اور سیاسی مفاد پرستوں نے گھناؤنا کردار ادا کیا۔ اس پس منظر میں یہ امر واقعہ انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں موجودہ کشیدگی اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی ذہنی منافرت کے پیش نظر بھارت نے 16 دسمبر کا دن جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا بظاہر مقصد تو بنگلہ دیش کے یوم آزادی پر مسرت اور جوش و خروش کا اظہار کرکے بنگلہ دیش کے عوام سے یک جہتی کا اظہار کرنا اور دوستی کا پیغام دینا ہے لیکن درپردہ مقصد پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنا، پاکستان کو شکست کی یادد ہانی، اپنی فوجی برتری کے زعم کا احساس پیدا کرنے کی کوشش اورپاکستان میں علاقائی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ’’مجاہد آزادی‘‘ کی اصطلاح کی تعریف اور تشریح کی گئی ہے اور اس کے تحت مندرجہ ذیل افراد کو ’’مجاہد آزادی‘‘ کا درجہ دیا جائے گا۔ (1)وہ افراد جنہوں نے شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر 26 مارچ تا 16 دسمبر 1971ء جنگ میں حصہ لیا اور جو اس وقت یعنی 26 مارچ 1971ء کو 13 برس کے تھے(2)وہ افراد جنہوں نے سرحد پار جا کر مختلف بھارتی کیمپوں میں اپنے نام کا اندراج کرایا اور وہاں پر تربیت حاصل کی۔ (3) صحافیوں سمیت وہ پیشہ ور افراد جنہوں نے بیرون ملک عوام کی حمایت اور تائید حاصل کرنے کے لئے سرگرم کردار ادا کیا۔(4) وہ افراد جو مجیب نگر حکومت کو چلانے میں معاون رہے اور (5)ایسی خواتین جن کو پاکستانی فوج نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ نکات دراصل بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کے ان ذہنی اور خود ساختہ تعصبات کا ثبوت ہیں جو وہ ذاتی طور پر اور ان کی حکومت 1971ء کے واقعات کے حوالے سے رکھتی ہے۔ یہ حقیقت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے سلسلے میں ایک سازش کے تحت بھارتی حکومت نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اس سلسلے میں شیخ مجیب الرحمن اور اس کی سیاسی جماعت عوامی لیگ کا کردار ایسا گھناؤنا رہا جس کو نرم سے نرم الفاظ میں بھی غداری ہی تصور کیا جاتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کی قائم کردہ مکتی باہنی اور بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان میں اس وقت کے محب وطن عناصر اور سیاسی شخصیات کو اپنے تعصب، نفرت اور تشدد کا بہیمانہ انداز میں نشانہ بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ مجیب کی بیٹی (اور اندرا گاندھی کی لاڈلی) حسینہ واجد نے ہنوز جاری رکھا ہوا ہے۔ 45 برس کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی حسینہ واجد کے انتقام کے جذبات سرد نہیں ہوئے لیکن اس نے اس حقیقت کو مجرمانہ حد تک فراموش کر رکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن کو خود اس کی اپنی فوج نے ہی کیفر کردار تک پہنچایا تھا۔
16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ سابق امریکی صدر نکسن اور وزیر خارجہ ہنری کسنجر اس بحران میں ملوث تھے اور ہنری کسنجر نے اپنی کتاب (White House Years) میں واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ تو پاکستان کی جانب تھا لیکن اس کی ہمدردیاں بنگالیوں کی تحریک آزادی کے ساتھ تھیں۔ ہنری کسنجر کا کہنا ہے کہ بھارت نے روس کے ساتھ مل کر پاکستان توڑ دیا اور امریکہ عملی طور پر پاکستان کی مدد نہ کر سکا۔ امریکی ساتواں سمندری بیڑا جس کا ان دنوں بڑا ذکر تھا محض ’’شو آف پاور‘‘ تھا۔ امریکہ ہر قیمت پر مغربی پاکستان کو بچانا چاہتا تھا کیونکہ سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی مغربی پاکستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ چین سے تعلقات استوار کروانے کی وجہ سے صدر نکسن صدر یحییٰ خان کا معترف تھااوراس کے لئے نرم گوشہ رکھتا تھا چنانچہ امریکہ نے روس کے ذریعے بھارت پر دباؤ ڈالا اور اسے مغربی پاکستان پریلغار سے باز رکھا۔ گذشتہ دنوں ایک میگزین ’’انٹلانٹک‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ہنری کسنجر نے دعویٰ کیا کہ نومبر 1971ء میں صدر یحییٰ خان نے امریکی صدر نکسن کی تجویز پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مارچ 1972ء میں مشرقی پاکستان کو آزاد کر دے گا لیکن تین دسمبر 1971ء کو بھارت نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا اور 16 دسمبر کو جب پاکستانی فوج نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیئے تو اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش قائم ہوگیا۔ اس وقت کے سیاسی احوال اور حقائق کا معروضی تجزیہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ ہنری کسنجر نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ معروضی ہرگز نہیں بلکہ یہ تاریخ کے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے ان سے انحراف کے مترادف ہے۔
16 دسمبر کے روز ہی اندرا گاندھی نے اعلان کیا کہ ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ کہنے کو تو اندرا گاندھی نے جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے بڑھک مار دی کہ اس نے انپے بزرگوں کی حماقت کا حساب بے باق کردیالیکن وہ بنگالی لیڈروں کو اپنے آئین میں اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے سے نہ روک سکی اور نہ ہی بنگلہ دیش کو ہندوستان کی کالونی یا صوبہ بنا سکی جو اس کی اصل سازش اور خواہش تھی۔ اسلام آباد میں یکم دسمبر کوپاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے حوالہ سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں ارکان پارلیمنٹ، دانشوروں، سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے کلیدی مقالہ میں عندیہ دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے باہمی تعلقات کو بہتر بنائیں۔ اس موقع پر اظہار خیال کرنے والوں میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ بنگلہ دیش میں جاری جنگی مقدمات، عالمی قوانین، 1974ء میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدہ اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت اور ایک ہمسایہ ملک کے اشتعال انگیز رویہ کے باوجود، اسلام آباد کی طرف سے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام تو ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس کا کیا علاج کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی باغیانہ انتقام کی آگ سرد ہی نہیں ہو رہی اور وہ ہنوز بھارتی راگ الاپ رہی ہیں۔

382
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...