پاکستان میں آنے والی ہر حکومت پنی استطاعت کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہے اور ہر سالانہ بجٹ میں اس میں ایک حد تک اضافہ کیا جاتا ہے مسلم لیگ ن کی حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم اضافہ دیکھنے کو ملتاہے اسی وجہ سے کئی سرکاری ملازمین خائف بھی نظر آتے ہیں مسلم ن کی حکومت سے اکثر سرکاری ملازمین یہ شکوہ کرتے ہیں کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں میں اس طرح اضافہ نہیں کرتی جس طرح مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہوتی ہے لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو مسلم ن کی ہی حکومت ہے جو اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں یکمشت کئی گناہ آضافے کو بڑا اچھا فیصلہ سمجھتی ہیں اور یہ فیصلہ خود کئی اراکین کے لئے حیران کن بھی ہے کیونکہ پاکستان میں خاص طور پر کوئی ابھی رکن اسمبلی ماسوائے جمشید دستی کے غریب نہیں ہے ہر کوئی کروڑں پتی ہے ایسے میں اگر ان کو خوش کرنے کے بجائے ملکی غریب طبقے کو خوش کر لیا جاتا تو بہتر تھالیکن شاید حکومت کو اس اپر کلاس کو خوش کرنے میں کوئی خاص سکون ملتا ہے ان اراکین اسمبلی کے سالانہ گوشواروں کو اگر دیکھا جائے تو حیران کن نتائج سامنے آتے ہیں،دیکھنے کو تو سارے کروڑوں پتی مگر ملکی ترقی میں ان کے ٹیکس گوشوارے عام تاجروں سے بھی کم ہیں یا شاید وہ ملکی تروقی کے لئے ٹیکس دینا ہی نہیں چاہتے ملکی ترقی کے لئے ٹیکس دینا ضروری ہے اگر ان سے ٹیکس دینے سے متعلق سوال کر بھی لیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ جناب ہم اپنی تنخواہ میں سے ٹیکس دیتے تو ہیں اب ان کو کون بتائے کہ جناب آپ تنخواہ بھی تو غریب کے ٹیکس کی لیتے ہیں اور بدلے میں اس غریب سے آپ کو ملتا ہی کیا ہے یہاں کسی سے کیا شکوہ جسے ضرورت ہو اسے ملتا ہی نہیں اور جسے نہیں ضرورت اسے بن مانگے ہی دے دیا جاتا ہے
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بجت میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں بہی ہی معمولی آضافے پر جب سرکاری ملازمین نے اختجاج کیا تھا تو وزیر خزانہ صاحب کا کہنا تھا کہ آضافہ کیا تو ہے پھر بعد ازاں اختجاج کو دیکھتے ہوئے دس فیصد کو پندرہ فیصد کیا گیا تھا پاکستان کے غریب اور مستحق ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافہ کی سمری کابینہ نے منظور کرکے مہنگائی کے باعث پیدا ہونے والی ان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کے کی ہے جسے خود اراکین نے بھی حیران کن قرار دیا ہے ان کی تنخواہوں میں اضافہ صرف ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کر کے سرکاری ملازمین کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ بھی اسی مناسبت سے اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر سکیں ارکان پارلیمنٹ اب ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لیں گے ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اجلاسوں کے دوران باقاعدگی سے شریک بھی ہوں جبکہ سرکاری ملازمین اگر تنخواہ لیتے ہوئے چھٹی بھی کرئے تو اسے تنخواہ میں کٹوتی کروانی پڑتی ہیں چیئرمین سینٹ اور اسپیکر کی تنخواہ دو لاکھ پانچ ہزار روپے کر دی گئی ہے جبکہ وفاقی وزیر کی تنخواہ دو لاکھ اور وزیر مملکت کی ایک لاکھ 80ہزار روپے ہوگی تنخواہوں میں اضافہ یہ یہ اطلاق یکم اکتوبر سے کیاگیا ہے ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی اسپیکر کا مشاہرہ اب ایک لاکھ85 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔تنخواہوں میں اضافہ کی مد میں قومی خزانہ میں سالانہ 40کرور کا مزید بوجھ پڑے گا۔حکومت کی طرف سے تنخواہوں میں اضافہ کے حوالے سے یہ استدلال دیا جارہا ہے کہ گزشتہ دس گیارہ برسوں سے ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا آخری باران کی تنخواہیں 2004ء میں بڑھی تھیں 2004ء کے مقابلے میں اب افراط زر بڑھا ہے اس لئے آضافہ کیا گیاہے کوئی بھی طبقہ ہوحکومت کا یہ استدلال درست نہیں ہے حکومتی موقف تو یہ ہے کہ 2013ء کے مقابلے میں ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے غربت میں کمی آئی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں۔اس موقف کے تناظر میں تو تنخواہوں میں اضافہ کا ہرگز جواز نہ تھا حیرت ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس سے پندرہ فیصد کا ریلیف دیا جاتا ہے نجی شعبہ کے ملازمین کا کوئی پرسان حال نہیں مگر ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو گنا اضافہ کیا گیا ہے اسپیکر اسمبلی’ چیئرمین سینٹ′ ڈپٹی اسپیکر’ ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور وزراء تنخواہوں کے علاوہ لاتعداد مراعات بھی حاصل کرتے ہیں جن میں گاڑیاں’ رہائش’ ملازمین’ گیس′ بجلی اور ٹیلی فون کے بلز′ مہمان نوازی الاؤنس اور گھروں کی آرائش کے اخراجات بھی شامل ہیں غیر معمولی تنخواہیں اور مراعات حاصل کرنے والے ارکان پارلیمنٹ قوم کے لئے کیا خدمات سرانجام دیتے ہیں یہ ایک اہم سوال ہے ایک پارٹی نے ایوانوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اس کے باوجود اس کے ارکان باقاعدگی سے تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ بیشتر ارکان ایوان میں ہوٹنگ’ لڑائی جھگڑے اور واک آؤٹ کی بھی قیمت وصول کرتے ہیں۔جبکہ غریب طبقے کو صرف تسلیاں ہی ملتی ہیں جیسے کہ سابق حکومت نے غریب مزدور کی تنخواہ بارہ ہزارماہانہ مقرر کی تھی مگر اس پر عملدرامد کی شرح دس فیصد سے اوپر نہیں اور جن لوگوں کا کام ہے کہ وہ اس کو چیک کریں وہ ان فیکٹریوں میں آ کر اپنی جیب گرم کر کے اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ پیش کر کے فیکٹری مالکان کی جان خلاصی کروا دیتے ہیں ایسے میں حکومت کی طرف سے اسمبلی اراکین اور ارکان پارلیمنٹ کے تنخواہوں میں سو فیصد آضافہ ان غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف نہیں تو اور کیاہے ضرورت اس امر کی تھی حکومت اسمبلی اراکین اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اتنا ہی اضافہ کرتی جتنا اضافہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا گیا تھا اسطرح تمام طبقات کو برابری کا احساس دلایا جا سکتا تھا۔

353
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...