قارئین کرام ! اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان میں مسلم کش نسلی امتیاز کی حامی اور اینٹی پاکستان پالیسیوں کی علمبردار دہشت گرد ہندو تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی RSS کی کوکھ سے جنم لینے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں RSS حلف یافتہ فدائی کی شہرت رکھنے والے نریندرا مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوبی ایشیا میں تہذیبی ٹکراؤ کی کیفیت کو پھر سے ممیز ملی ہے۔ یہ درست ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کیساتھ بین الاقوامی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے الاؤ نے خطے کی امن و امان کی صورتحال کو بھی متاثر کیا حتیٰ کہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کیمطابق بات چیت سے حل کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے آزادی کی تحریک کو طاقت سے دبانے کی ظالمانہ روش نے خطے کی ایٹمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کی شکل اختیار کر لی ہے جس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔چنانچہ برّصغیر جنوبی ایشیا میں صدیوں پر محیط ہندو مسلم تہذیبی کشمکش کے پس منظر میں خطے میں پُرامن بقائے باہمی کی جتنی ضرورت آج ہے اِس سے قبل نہیں تھی۔یہ بھی درست ہے کہ تاریخی طور پر ہزاروں برس قبل ہندوستان میں ایک ممتاز دراوڑی انسانی تہذیب نے جنم لیا تھا جس کا مطالعہ موہنجو دارو اور ہڑپہ کے آثار قدیمہ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کیمطابق پُرامن دراوڑی تہذیب کا میل جول ماضی میں دنیا کی قدیم ترین ہم عصر مصری، عراقی ، ایرانی و چینی تہذیبوں سے رہا ۔ لیکن جب 1700 سے 1500 قبل مسیح کے زمانے میں جنگوں اور فتوحات کا زمانہ شروع ہوا تو وسط ایشیا میں بحیرۂ کیسپین کے ارد گرد کے علاقوں سے آریا ہندو ویدک سماج کے ماننے والے جنگجو فاتحین کے طور پر افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے تو پھر آریا ہندو سماج نے ہندوستان میں دراوڑی ہندی تہذیب کو تباہ و برباد کرکے ہندوستان کو اپنے اندر اِس طرح سے سمو لیا کہ بعد میں ہندوستان پر بے شمار بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوکر عروج و زوال سے گزرتی رہیں لیکن آریا ہندو سماج کو مسخر کرنے میں ناکام رہیں اور وقت گزرنے کیساتھ ہندو سماج کے نچلے طبقے کا حصہ بن کر ہندو تہذیب میں جذب ہوتی چلی گئیں۔لیکن جب ساتویں صدی عیسوی سے ہندوستان میں مسلمان حملہ آور فاتحین کے طور پر داخل ہوئے تو آریا ہندو سماج اسلامی تہذیب کو ہندو سماج میں جذب کرنے میں ناکام ہوگیاچنانچہ ہندوستان پر ایک ہزار برس تک اقتدار کی غلام گردشوں میں قائم و دائم رہنے کے بعد بہتر بحری قوت رکھنے والی انگریز قوم نے تجارتی تعلقات کی آڑ میں مسلمانوں سے اقتدار چھین لیا لیکن آریا ہندو تہذیب انگریزوں کیساتھ شریک اقتدار ہونے کے باوجود مسلم تہذیب کو ہندوازم میں جذب کرنے میں ناکام رہی۔
معزز قارئین ، درج بالا تناظر میں ہی 1940/1947 میں قائداعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران مسلم امہّ کو یہ کہتے ہوئے جگانے کی کوشش کی تھی کہ مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں اور اُنہیں دنیا کی کوئی طاقت مطالبۂ پاکستان سے نہیں روک سکتی۔ قائداعظم ہندوستان کی تاریخ کے اِس بنیادی نکتہ کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ آریا ویدک ہندو سماج اگر کسی دوسری تہذیب سے خوفزدہ ہے تو وہ صرف مسلم تہذیب ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلم اثرات کے آنے سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ ہندو سماج نے کسی ہندو کے مذہب بدلنے پر اُس کا مجلسی یا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا ہو ۔ چنانچہ محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران جب دو قومی نظریۂ کی بات کی تو اُس کی دلیل اِسی ہندو شدت پسندی کے سبب پیدا ہوئی تھی۔ قائداعظم نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں مارچ 1944 میں دئیے گئے ظہرانے میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو بّرصغیر جنوبی ایشیا کے اندر ہی موجود تھا ، فقط ہم اُس سے آگاہ نہیں تھے ۔ہندو اور مسلمان اگرچہ صدیوں سے مشترکہ دیہات اور شہروں میں رہتے تھے لیکن وہ کبھی گھل مل کر ایک قوم نہیں بنے بلکہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے ہمیشہ جداگانہ تشخص کے حامل رہے ۔چنانچہ پاکستان اُسی لمحے وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلے غیر مسلم (ہندویا بودھ) نے اسلام قبول کیا تھاکیونکہ جونہی ایک ہندو مسلمان ہوا تو وہ ” جات یا جاتی ” کے حصار سے باہر ہو گیا ، صرف مذہبی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ معاشرتی تہذیب و تمدن اور اقتصادی اعتبار سے بھی ” ۔ لہذا، اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر اُنہیں ہندوازم میں جذب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا بلکہ بھارت کے بیشتر علاقوں میں جہاں پہلے ہی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں بھارت یونین کی سرحدیں سکڑ سکتی ہیں جبکہ بھارتی انتہا پسند وزیراعظم کے ہاتھ بھارتی مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے ہندو شودروں/ دلتوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ کیا وزیراعظم نریندرا مودی، سنگھ پریوار کی دہشت گردی کے باوجود آئندہ بھارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر پائیں گے ، ممکن نہیں ہے۔آج کی دنیا ایک گلوبل دنیا بن چکی ہے جہاں بین المذاہب امن ڈائیلاگ پر زور دیا جا رہا ہے چنانچہ بھارت کی بہتری بھی اِسی میں ہے کہ وہ اقلیتوں اور کشمیری عوام کیساتھ ریاستی شدت پسندی اور پاکستان مخالف پالیسیاں اختیار کرنے کے بجائے پُرامن بقائے باہمی کی راہ اختیار کرے ۔
دریں اثنا ، مودی صاحب کو یہ حقیقت اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں سے نسل انسانی کو مٹانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ بقول محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، پاکستان نے ایٹمی صلاحیت جنوبی ایشیا میں تہذیبی توازن قائم کرنے اور آئندہ کیلئے جنگ کے خدشات کو ختم کرنے کیلئے حاصل کی تھی چنانچہ نریندرا مودی جو ایک طرف تو پاکستانی سویلین قیادت کو دوستی کے جال میں پھنسا کر کشمیریوں کی آزادی کی اُمنگ کو دائمی غلامی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے اور ایٹمی جنگ سے خوفزدہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کو حقائق کا سامنا کرتے ہوئے یہ جان لینا چاہیے کہ ایٹمی جنگ سے مسلم قوم خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ 60ہزار پاکستانی تو دہشت گردی کے واقعات میں پہلے ہی اپنی جانیں دے چکے ہیں جبکہ ایسی کسی جنگ میں بڑے ہمسایہ ملک کا بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے جو بھارت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ لہذا خطے کی سلامتی اور اقتصادی ترقی کیلئے جنوبی ایشیا میں ہمسایہ ممالک بل خصوص پاکستان اور بھارت کیلئے کشمیر کور ایشو اور دیگر معاملات کو حل کرنے کیلئے پُرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کو اپنانے کی ضرورت مسلمہ ہے۔ (1) خطے میں عدم جارحیت کی پالیسی اپنانے اور ہمسایہ ممالک پر ناجائز غلبہ اور طاقت کے استعمال سے پرہیز (2) خطے کے ممالک کو اپنا سیاسی ، تہذیبی اور اقتصادی نظام کا انتخاب کرنے کی آزادی (3) ہمسایہ ممالک کی خود مختاری اور سرحدوں کا احترام (4) بین الاقوامی اور دوطرفہ تنازعات کا پُرامن حل (5) مسلم اور ہندو دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنا۔ اندریں حالات بھارت کو منافقانہ طرز عمل ختم کرتے ہوئے دوطرفہ بات چیت کے پروسس کو پُر خلوص طریقے سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو اِس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے چنانچہ بھارت کو اٹوٹ انگ کی تکرار ختم کرتے ہوئے اِس مسئلے کو کشمیری عوام کی اُمنگوں کیمطابق حل کرنے پر تیار ہو جانا چاہیے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں 6/7 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے سبب بھارتی عوام بھی غربت و افلاس کا شکار ہیں اور غربت دور کرنے کیلئے بھارت بھی دیگر ممالک کی طرح پاکستان چین تجارتی شاہراہ سے بے مثال فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ یورپی ممالک اور روس نے بھی اِس تجارتی راستے سے فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں تک دہشت گرد تنظیموں کا تعلق ہے ، پاکستان میں پہلے ہی انتہا پسند مسلم تنظیموں پر پابندی لگائی جا چکی ہے لیکن بھارت میں ہندو دہشت گرد تنظیموں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ بھارت کی جانب سے یہی نامعقول رویہ سارک اقتصادی تنظیم کی جانب بھی دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے ہمسایہ ممالک کو دھونس دھاندلی اور طاقت کے زور پر اپنا ہمنوا بنانے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے جس کا موثر تدارک کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر بھارت خطے میں پُرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر گامزن نہیں ہوگا جس کی اُمید بظاہر پوری ہوتی نظر نہیں آتی تو پھر جنوبی ایشیا میں تہذیبی ٹکراؤ کو نہیں روکا جاسکے گا ۔

142
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...