دہشت گردی کی لہر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے ہر روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی ملک میں کبھی دھماکہ کبھی حملہ، کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن پاکستان نے جتنا نقصان اس جنگ میں اٹھا یا ہے شاید ہی کسی اور نے اٹھا یا ہوگا ۔ پاکستان کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہ دوسرے کی جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور مارا جا رہا ہے۔ اس کے عوام غیروں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں یہاں اگر طالبان بنے تو سب جا نتے ہیں کہ یہ طالبان کون ہیں یہ اُنہی مجا ہدین کے بچے اور اولاد ہیں جو افغان روس جنگ کے وقت پوری دنیا سے لاکر یہاں بسائے گئے، روس افغانستان سے چلا گیا لیکن یہ لوگ نہ گئے بلکہ ادھر ہی رہ گئے اور اپنا نکتۂ نظر پھیلاتے رہے بات یہاں تک بھی قابل قبول تھی لیکن ہوا یہ کہ دوسرے کے مسلک کو کفر قرار دینا وطیرہ بنتا گیا اور آج نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ مارکیٹ ، نہ بازار ، نہ ہسپتال نہ مسجد نہ جنازے ،کوئی بھی محفوظ نہیں ۔ابھی حال ہی درگاہ شاہ نورانی خضدار پر ہونے والے حملے کی بھی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے یہ دہشت گردی کہیں لسانی روپ میں ہیں کہیں سیاسی انداز میں اور سب سے خوفناک صورت فرقہ پرستی ہے پاکستان میں فرقہ پرستی کی دہشت گردی کو اس دوران جتنا فروغ ملا اتنا پہلا کبھی نہیں ملاتھا ۔ دہشت گردوں نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے مسالک کے ماننے والوں کا بھی قتل عام کیا ایسا کسی ایک فرقے کی طرف سے نہیں ہوا بلکہ کسی طرف اور کسی فرقے میں ایسے شرپسندوں کی کمی نہیں ان لوگوں کو دشمنوں نے خوب استعمال کیا ۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں اگر سو فیصد نہیں تو ستراسی فیصد حصہ تو بھارت اور را کی طرف سے ہی ہے۔ ان دشمنوں نے پہلے تحریک طالبان پاکستان بنائی جب آپریشن ضرب عضب میں اس تنظیم کی کمر ٹوٹی تو اُس نے افغانستان کے محفوظ ٹھکانوں کواستعمال کر کے اس خطے میں داعش اور آئی ایس آئی ایس کے قدم جمانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آج کل کے رواج مطابق تمام دھماکوں اور حملوں کی ذمہ داری داعش یا آئی ایس آئی ایس قبول کر لیتے ہیں۔ اگر تو یہ سازش ہے کہ پاکستان کو بد نام کیا جائے کہ یہاں یہ تنظیمیں موجود ہیں تو یہ بھی یاد رکھا جائے کہ سب سے زیادہ متاثر بھی پاکستان ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ کاروائیاں یہ تنظیمیں کروا رہی ہیں تو پھر ان سے پوچھا جائے کہ یہ سب اُن سے کروا کون رہا ہے اور کیا ایسا اُن سے مفت میں کروایا جا رہا ہے ،یقیناًنہیں بلکہ اسکے لیے بہت بڑی رقم خرچ کی جا رہی ہے ۔ دوسری طرف افغانستان میں ایک اور کھیل بھی کھیلا جا رہا ہے اور وہ ہے پشتونوں اور غیر پشتونوں کی تفریق۔ عبدالرشید دوستم اس وقت سخت شاکی ہیں کہ افغان اتحاد ی حکومت میں صرف پشتونوں کو نمائندگی دی جا رہی ہے اور ازبک اور تاجک اقتدار میں حصہ نہیں پا رہے یعنی بات یہ ہے کہ افغانستان میں وہاں کے لوگوں سے اپنا ملک نہیں سنبھل رہا لیکن بھارت کی ایماء پر پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے، بے شمار افغان طلباء کو بھارتی یونیورسٹیوں میں بے تحاشا داخلے دئیے جا رہے ہیں اور یوں اپنی ایک طفیلی ریاست تیار کرنے کی مکمل کوشش ہو رہی ہے اور مکمل منصوبہ بندی کے تحت ہورہی ہے۔ افغانستان میں بھارت کا ہاتھ حامد کرزئی کے زمانے سے ہی بہت مضبوط ہے اس نے بھارت کی یونیورسٹی سے پڑھنے کا حق نمک خوب ادا کیا اور نہ صرف بھارت کو افغانستان میں خوب دخیل کیا بلکہ اسی کے مقاصد کے حصول کے لیے اُس نے اس کا بھر پور ساتھ دیا اور پاکستان میں اُس کے تخریب کاری اور دہشت گردی کے مشن کو پورا کرنے میں اس کی ہر طرح مدد کی۔ اشرف غنی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد لگتا تھا کہ اب حالات میں بہتری آئے گی اور ایسا ہوا بھی لیکن را پھر اپنا کام کر گئی اور نئی حکومت نے بھی پراناوطیرہ اپناکر اپنے کئی مسائل کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا لیکن را نے چھوڑا افغانستان کو بھی نہیں اور وہاں پشتون اور غیر پشتون کے مسئلے کو ہوا دینا شروع کی۔ بھارت نو ے کی دہائی ہی سے شمالی اتحاد کی حمایت کرتا رہا ہے اور اب بھی وہ یہی کر رہا ہے اُس نے جب افغان طلباء کو بھارت بھیجنا شروع کیاتو ایک بار پھر غیر پشتون قبائل کا ہی اکثریت سے انتخاب کیا گیا اور صرف آٹھ فیصد پشتون طلباء کو شامل کیا گیا۔ افغانستان میں بھی پشتون آبادی مسلسل حملوں اور مسائل کی زد میں ہے پشتون افغانستان کی آبادی کا تقریباََ ساٹھ فیصد ہیں لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے پاکستان سے واپس جانے والے پشتون افغان جب اپنی زمینوں پر واپس پہنچتے ہیں اور ان پر کام شروع کرتے ہیں تو اصل کاغذات نہ ہونے کو وجہ بنا کر انہیں وہاں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اس وقت افغانستان میں بیس لاکھ سے زائد آئی ڈی پیز موجود ہیں جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے جن میں یہی کسان افغان بھی شامل ہیں، افغانستان میں اس بات پر شدید ناراضگی اور غصہ پایا جا رہا ہے اور انہی حالات میں مزید خرابی اور دباؤ تب پیدا ہوا جب صرف 2016 میں 16000 افغان سپاہی اور افسر مارے گئے، 2600 طالبان داعش کے ساتھ جا شامل ہوئے، فوج میں اندرونی خلفشار کے نتیجے میں 300 سپاہی اور افسر ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے اگر چہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف بھارت کا ساتھ بڑے زورو شور سے دیا گیا ہے اوردیا جا رہا ہے لیکن اُس کی حکومت کو یہ بھی ضرور سوچ لینا چاہیے کہ اپنے ملک میں بھارت کو ا س قدر با اختیار بنا لینے سے وہ اپنے لیے بھی مصیبت مول لے رہے ہیں ۔بھارت مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے اور وہ اپنی خصلت سے مجبور بھی ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں کو دبائے گا بلکہ وہ جو اُن کے مددگار ہیں ان کو بھی موقع ملتے ہی تباہی کے دہانے تک پہنچائے گا لہٰذا افغانستان کو سوچ سمجھ کر بھارت سے تعلقات رکھنے چاہیے اُسے پاکستان اور بھارت میں فرق کو سمجھ لینا چاہیے اور یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے انہیں دہائیوں تک مہمان بنائے رکھا اور بھارت وہ ملک ہے جو اُس کے لوگوں کو اپنے ہی ملک میں ایک دوسرے کا دشمن بنا رہا ہے فیصلہ ترا تیرے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔۔۔لہٰذا سمجھ بوجھ ضروری ہے۔

180
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...