قارئین کرام ! بھارتی ایجنٹ ہینڈلر کل بھشن یادیو کی بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتاری کے بعد چند روز قبل سفارتی پشت پناہی میں بھارتی دہشت گردی کے 8 رکنی نیٹ ورک کی پاکستان میں تخریب کاری کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف نہ صرف بین الاقوامی سفارتی مراعات و تحفظات کے ناجائز استعمال کی نشان دہی کرتا ہے بلکہ پاکستانی سول سوسائیٹی کیلئے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ جہاں کل بھشن یادیو کے خفیہ مشن سے بھارتی تخریب کاری کے دائرہ کار میں افغانستان اور ایران کی سرزمین کے ناجائز استعمال ہونے کا انکشاف ہوتا ہے وہاں سفارتی مراعات و تحفظات سے مزّین بھارتی ہائی کمیشن میں وسیع پیمانے پر قائم دہشت گردی کے سفارتی ایجنٹوں کی نشان دہی بھی بخوبی ہو جاتی ہے۔ سفارتی تحفظات کی آڑ میں8 سفارتی نمائندوں کی موجودگی تو محض برف کے تودے کی چوٹی کے مترادف ہی ہے کیونکہ معتبر سفارتی ذرائع کیمطابق بھارتی سفارتی مشن کے سہولت کاروں کے طور پر کثیر تعداد میں اسٹاف ممبران بھی بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد میں تعینات ہیں ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کے سفارتی نمائندوں اور سٹاف ممبران کی کل تعداد اگر 100 ہے تو اِن میں سروسز نمائندوں کے علاوہ کم از کم 50 کا تعلق بھارتی ایکٹرنل ایجنسی ” را”، بھارتی انٹرنل ایجنسی ” سینٹرل انٹیلی جنس بیورو” اور بھارتی باڈر سیکیورٹی فورس سے ہوتا ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن میں اتنی زیادہ تعداد میں سفارتی انٹیلی جنس اسٹاف ممبران کی تعیناتی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کوئی بھی بھارتی سٹاف ممبر اگر مقامی کاؤنٹر انٹیلی جنس سٹاف کو ڈاج دیکر ہائی کمیشن سے باہر کسی ناجائز مشن کیلئے نکل جاتا ہے تو اِسے تلاش کرنا مشکل ہو جاتا کیونکہ عام آدمی شکل و صورت کے لحاظ سے اُسے پاکستانی ہی سمجھے گا۔
درحقیقت ، ویانا کنونشن کیمطابق سفارتی مراعات و تحفظات کا مقصد سفارتی نمائندوں کو میزبان ملک میں دوستانہ فکر اور سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دینا مقصود ہوتا ہے ، دہشت گردی یا تخریب پھیلانا نہیں ۔ اِن سفارتی مراعات اور تحفظات میں سب سے اہم کلاز آرٹیکل 29 ہے جس کے تحت کسی بھی سفارت کار کو ذاتی تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ اُسے نہ تو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی حراست میں لیکر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یعنی سفارتی نمائندے میزبان ملک کے تعزیراتی حلقہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔دیگر مراعات میں محفوظ سفارتی پیغام رسانی ، سفارتی ڈاک کا تحفظ اور سفارتی عمارت میں میزبان ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی سفارتی مشن کے چیف کی اجازت کے بغیر داخلے پر پابندی ہونا وغیرہ شامل ہیں چنانچہ یہی وہ سفارتی مراعات اور تحفظات ہیں جن کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے سفارتی نمائندے خفیہ سفارتی بیگ یا حمایت یافتہ ممالک کے سفارت خانوں کے ذریعے چھوٹے حساس ہتھیار ، گولہ بارود وغیرہ میزبان ملک میں لا سکتے ہیں جنہیں مقامی ایجنٹوں یا سہولت کاروں کے ذریعے دہشت گردوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ بھارت اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے سفارتی ذرائع کے علاوہ ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کی سرزمین کو ناجائز طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں مقامی و بیرونی تخریب کار ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف عمل ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی سفارتی نمائندے کی ناجائز سرگرمیوں پر بغیر کوئی وجہ بتائے میزبان ملک اُسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک سے باہر نکال سکتا ہے لیکن پاکستان میں تعینات اتنی بڑی تعداد میں سفارتی نمائندوں کی موجودگی میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیوں کا مکمل طور پر قلع قمع کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔البتہ جب ازلی دشمن کی ناجائز سفارتی کاروائیاں حد سے گزر جائیں تو پھر اُس کیلئے رِسک لینے کے بجائے ایسے سفارتی مشن کا سائز بہت ہی چھوٹا کر دینا چاہیے ۔
معزز قارئین، اِس اَمر کا اقرار تو مغربی جمہوری ممالک بھی کرتے ہیں کہ پاکستانی افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسدادِ دہشت گردی میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نہ صرف بدترین دہشت گردی کا شکار ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں بھی پاکستانی عوام ، افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں نے ہی دیں ہیں چنانچہ اب تک ایک ابتدائی اندازے کیمطابق تقریباً ساٹھ ہزرار پاکستانی دہشت گردی کی کاروائیوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی ہمارے وزیراعظم نواز شریف سے ذاتی دوستی میں پیش پیش ہیں لیکن دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے بھارتی ایجنسیاں چور مچائے شور کے مصداق انتہائی مہارت سے خود ہی بنائی اور ترتیب دی گئی بیشتر دہشت گردی کی کاروائیوں کے ذریعے جن میں سے کچھ کاروائیوں بشمول سمجھوتہ ایکسپریس ، مالیگاؤں ، مکہ مسجد، بھارتی لوک سبھا و دہلی دھماکوں کی دہشت پسند کاروائیوں میں RSS سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور انتہا پسند ہندوتنظیموں کے ملوث ہونے کا انکشاف خود بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند باضمیر اہلکار بشمول ہیمنت کراکرے اور ستیش ورما وغیرہ کی تفتیش و تحقیق میں کیا جا چکا ہے جبکہ بھارت میں کانگریس حکومت کے ایک سابق وزیر داخلہ سیشل کمار شندے ماضی میں اپنے ایک میڈیا خطاب میں اِس اَمر کا باقاعدہ اعتراف کر چکے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ RSS کے تربیتی کمپوں میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں بھارتی دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی RSS کانگریس پارٹی کے تعاون سے یہ سب کچھ کرتی تھی لیکن 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی سیاسی بساط پر اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی ونگ کے طور پر آگے بڑھانے کے بعد مودی سرکار نے بھارتی دہشت گردی کا دائرہ اب افغانستان اور ایران کی سرزمین کو ناجائز طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی قدر آگے بڑھا دیا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے خلاف کسی بھی منفی اقدام کیلئے بھارتی سیاسی جماعتیں اور دفاعی ادارے ایک ہی سوچ کے حامل ہیں۔
درج بالا تناظر میں بھارتی ایکسٹرنل ایجنسی را کی تشکیل ہی جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کے عزائم کو ممکن بنانے کیلئے کی گئی تھی جس کا تجرباتی طور پر پہلا مظاہرہ سکم کی آزاد ریاست کو بھارت میں ضم کرکے کیا گیا تھا، دوسرا مظاہرہ سقوط ڈھاکی شکل میں سامنے آیا جب اگرتلہ سازش کیس میں سیاسی رہنماؤں کے دباؤ پر مجیب الرحمن کو آزاد کر دیا گیا اور بھارتی تخریب کاری کی راہ ہموار ہوئی چنانچہ مکتی باہنی کی تربیت دیرہ دون میں چکراتہ بھارتی کمانڈو پوسٹ پر کی گئی جہاں اب مبینہ طور پر متحدہ اور بلوچ لبریشن آرمی کے متنفر یوتھ کو بھارت اور افغانستان میں موجود بھارتی اداروں کے محفوظ اور مراعات یافتہ مقامات پر تربیت دی گئی ہے ۔ تیسرا نشانہ سری لنکا کے خلاف تامل باغیوں کی مدد کرکے کیا گیا تھا لیکن سری لنکا کو حاصل بین الاقوامی حمایت کے سبب بھارتی عزائم محدود کامیابی سے ہی ہمکنار ہو سکے تھے۔چوتھا نشانہ نیپال میں شاہ بریندرا کی آزاد حکومت کو ختم کرنے کیلئے جمہوریت کی بحالی کے نام پر شاہ بریندرا کے جانشین پرنس ڈپیندرا کو شاہ بریندرا سے متنفر کرکے شاہی خاندان کے قتل عام کے بعد نیپال میں بھارتی کٹ پتلی حکومت کے قیام کے ذریعے پورا کیا گیااور اب بھارت پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کی نئی تاریخ رقم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ درحقیقت ،ماضی میں بھارتی ایجنسی راکی خفیہ تخریب کاری اور حکمرانوں کی سیاسی غفلت ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنی تھی جبکہ آجکل کراچی اور بلوچستان میں بھارتی سفارتی پشت پناہی میں تخریب کاری پیش پیش نظر آتی ہے۔ کراچی کی حیثیت ،سندھ و بلوچستان ہی نہیں بلکہ پنجاب ، خیبر پختون خواہ ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی عوام کیلئے بھی ایک مستند لائف لائین ہے جبکہ گوادر سے شاہراہ ریشم تک پاکستان چین تجارتی راہداری منصوبہ جسے چاروں صوبوں کے اہم شہروں سے لنک شاہراہوں کے ذریعے ملایا جائیگابھی پاکستان کیلئے متبادل لائف لائین کی حیثیت رکھتا ہے جسے ہمارا ازلی دشمن جنوبی ایشیا میں اپنے مخصوص مفادات کیلئے اپنی جدوجہد کے تسلسل سے دوستی کی آڑ میں ہمارے حکمرانوں کو بدستور نچوڑنے میں مصروف ہے ۔ چنانچہ پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی پھیلانے میں بھارتی سفارتی پشت پناہی کے انکشاف کے بعد ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ بھارتی سفارتی مشن کی تعداد کو محدود کر دیا جائے کیونکہ بھارت اچھائی کی کسی بین الاقوامی آواز میں یقین نہیں رکھتا ہے ۔

313
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...