بھارت کو لگام دینے والا کیا کوئی نہیں یا دنیا نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں وہاں سے مسلسل پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے اور علیٰ الاعلان کی جا رہی ہے کبھی ان کا وزیراعظم بڑے دھڑلے سے مشرقی پاکستان کی علحدگی کو اپنا کار نامہ کہتا ہے کبھی کھلم کھلا بلوچوں کی مدد کا اعلان کرتا ہے۔ بھارت اپنی دہشت گرد ہندو ذہنیت سے ہمیشہ مجبور رہا ہے چاہے کانگریسی اندراگاندھی ہو یا بی جے پی کا مودی سب کا ایجنڈا ایک ہی ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچا ؤ اور اس کے لیے وہ ہمارے اندر سے ایسے کردار ڈھونڈلیتا ہے جن کا نام کبھی شیخ مجیب الرّحمان ، کبھی الطاف حسین، کبھی ہراہمداغ بگٹی اور کبھی ملا فضل اللہ ہو جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک کردار اُس نے نائلہ قادری کا بھی ڈھونڈنکالا ہے اوراُسے بھارت میں کسی قومی ہیرو کا درجہ مل رہا ہے وہاں کے ٹی وی چینلز بڑے شوق سے اُس کے انٹرویو کر رہے ہیں ۔ یہ نائلہ قادری جو کہ بلوچ ہے ہی نہیں اس کے آباواجداد کا تعلق حیدر آباد بھارت سے ہے وہ بھلے لوگ تو پاکستان بننے کی خوشی میں اس مسلمان ملک کی طرف ہجرت کر کے آئے ہوں گے لیکن اس عورت نے بلوچستان کے ایک پختون شخص سے شادی کی اور خود کو بلوچ کہنا شروع کر دیا لیکن نہ تو بلوچ اور نہ ہی پختون اُس کو اپنی برادری کا ماننے کو تیار ہیں اُن کا کہنا یہی ہے کہ یہ عورت صرف بیاہ کر بلوچستان آئی ہے لہٰذا اُس کو بلوچوں کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں لیکن ظاہر ہے کہ اُسے پڑوسی ملک سے بھاری معاوضہ مل رہا ہے اور ایمان فروشوں کی کسی دور میں کسی ملک میں کمی نہیں رہی اور پاکستان کی تو بد قسمتی ہی یہی ہے کہ یہاں کچھ ہی سہی ایسے کردار ضرور مل جاتے ہیں جو مالی فائدے کی خاطر اپنے ملک اپنی قومی شناخت کو بیچنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اوپر دیے گئے چند نام ایسے ہی لوگوں کے ہیں نائلہ قادری انہی میں ایک نیا اضافہ ہے جو بڑی تند ہی سے اپنے آقا مودی کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور بظاہر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ وہ بھارت سے مدد کی بھیک مانگ رہی ہے اور یہ تاثر بھی دے رہی ہے جیسے بلوچستان میں خدانخواستہ کوئی بہت بڑا قتل عام چل رہا ہے یا پورا بلوچستان جلایاجا رہا ہے۔ جب بھارت کی پی این ٹی وی کے پروگرام فیس ٹو فیس کی اینکر نے بظاہر بڑی دلسوزی سے اُس سے پوچھا کہ بھارت کی اور مودی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آپ کو بہت محنت کرنا پڑی ہوگی تو اپنے آقا کا حق نمک ادا کرتے ہوئے اُس نے بھارت کو غیر جانبدار ثابت کرنے کی مکمل کوشش کی اور کسی طوطے کی طرح رٹے رٹائے جملے ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چار سال سے بھارت آرہی ہے اور یہ حمایت حاصل کرنے کے لیے اُس نے بہت محنت کی ہے وہ مودی ، بھارت کے وزیروں اور مشیروں سب سے ملی تھنک ٹینکس سے ملاقاتیں کیں تو اُسے تب یہ حمایت ملی لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی بول گئی کہ اُسے بھارت میں شیواجی کی تلوار اور چادر تحفے میں دی گئیں یعنی اُسے شروع ہی سے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس عورت کو بھارت بلایا گیا تھا اور اُسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا اور دیا جا رہا ہے ۔ خود کو بلوچ کہنے والی یہ عورت مسلسل دقیق اردو محاورے بولتی رہی اور ہندی الفاظ کو اپنی گفتگو کا حصہ بناتی رہی ایک جگہ پلان کے مطابق اُس نے بھارت کے دہشت گرد وزیراعظم مودی اور اُس کی حکومت کو یوں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مجھ سے کہا گیا کہ اگرہم بلوچوں کو مدد فراہم کریں گے تو یہ تو ہمارے اوپر الزام لگ جائے گا وغیرہ وغیرہ اپنے انٹرویو میں اُس نے پاکستان اور بھارت بننے کی بات کی تو گاندھی جی اور جناح جی کہنے کے بعد اپنے دل کا کالا پن ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خیر جناح کو توجی نہیں کہیں گے وہ یہ بھول گئی کہ جناح کو اس جیسے لوگوں کے منہ سے جی کہلانا پسند بھی نہیں اس کو اپنا محسن اورقائدکہنے کے لیے کروڑوں لوگ موجود ہیں اور اِن میں ایک کروڑ سے زیادہ تو بلوچستان میں ہی موجود ہیں۔ نائلہ قادری اور اس جیسے لوگ اپنے منہ میں اپنی زبان تو ہر گز نہیں رکھتے وہ اس زبان کی بہت بڑی قیمت وصول کر چکے ہوتے ہیں لہٰذا وہ اسے دشمن کی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور دشمن نے بھی ایسے غداروں کی غداریاں خریدنے کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول رکھے ہیں ۔مودی اور اس کی سرکار بلکہ بھارت کی ہر حکومت کے ایجنڈے پر پہلا نکتہ ہی پاکستان کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اور بلوچستان یوں تو ہمیشہ ہی اس کی سازشوں کی زد میں رہا لیکن جب سے گوادر کی بندرگاہ پر کام شروع ہوا تو بھارت کو اپنی نیاّ ڈولتی نظر آئی اور اُس نے اپنا مکروہ مشن تیز کر دیا لیکنCPECمعاہدہ ہونے کے بعد تو جیسے بھارت نے اپنی تمام تر مکروہ کوششوں کو تیز تر کر دیا ہے اور اس نے اس مشن کے لیے لوگوں کو خریدنا شروع کیا اور اسی خریداری میں اُسے نائلہ قادری بھی ہاتھ لگی تب ہی تو اُس نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ چین بلوچستان سے سینڈک کا سونا چوری کر رہا تھا اُس کا یہ الزام خود بخود گواہی بن جاتا ہے کہ اُسے اصل میں بلوچستان کی ترقی سے تکلیف ہے۔ اُس نے بھارت جا کر اپنے آقاؤں سے بلوچستان کی جلا وطن حکومت قائم کرنے کی بھیک بھی مانگی ظاہر ہے وہ اس قابل توہے نہیں کہ اپنے ملک میں جائز طور پر کوئی قابل ذکر مقام حاصل کر سکے لہٰذا اُس نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہیں ہوگا کے مصداق ملک سے غدراری کا راستہ چنا میر جعفر اور میر صادق نے بھی تاریخ میں اپنا نام لکھوایا چاہے نفرت انگیز انداز میں لکھوایا۔ اس عورت اور اس جیسے دوسرے کرداروں سے ہمیں یقیناًبا خبر رہنا ہوگا اور بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کے ٹھوس ثبوت جو ہمارے پاس ہیں انہیں قوم، بھارت اور بین الاقوامی برادری کے سامنے کھلم کھلا رکھ دینا چاہیے تا کہ ہم نہ صرف دنیا کو اس کی سازشوں سے باخبر رکھ سکیں بلکہ اس کا بین الاقوامی سطح پر بھی تو ڑ کر سکیں۔

212
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...