بھارت میں40 فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور وہاں پر تقریباً 50 کروڑ لوگوں کوپورے دن میں بڑی مشکل سے صرف ایک وقت کا کھانا ہی میسر آتا ہے۔ اس کے باوجود، اپنے جنگی جنون کی تسکین کیلئے بھارتی حکومت مسلسل نئے عسکری معاہدوں کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی خریداری پر 1200 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا یا گیا ہے۔ بین الاقوامی ادارے جینز کے مطابق، بھارت اپنی فضائیہ میں مزید 150 لڑاکا طیارے شامل کرنے کا اتنی شدت سے خواہشمند ہے کہ وہ ایک طیارے پر ساڑھے 5 کروڑ سے 8 کروڑ ڈالر تک خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس بارے میں بھارتی حکومت نے مختلف ممالک کی لڑاکا طیارے بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کرکے عندیہ دیاہے کہ لڑاکا طیاروں کی خریداری کا ایسا کوئی بھی معاہدہ صرف اسی صورت میں کیا جائے گا جب طیارے فروخت کرنے والی کمپنی اپنا پروڈکشن پلانٹ بھارت میں لگائے گی۔ اس کی ایک مثال ہے کہ بھارت نے محدود مقامی شراکت کی بنیاد پر ڈسالٹ سے 36 عدد رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا۔ بھارت کو مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بنیاد پر لڑاکا طیارے فروخت کرنے میں سویڈن اور امریکہ کی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فوج کے لئے مودی سرکار عالمی اسلحہ مارکیٹوں سے جدید رائفلوں اور ہیلمنٹ کی خریداری کر رہی ہے چنانچہ 250 بلین ڈالر سے بھارتی فوج کے لئے جدید اسالٹ رائفلیں اور ہیلمنٹ خریدے جائیں گے اور رائفلیں بھارت کے اندر امن و امان قائم رکھنے کے لئے استعمال ہوں گی۔ فوج کے لئے بلٹ پروف جیکٹیں خریدی جا رہی ہیں۔ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے مطابق بھارتی فوج اس وقت ملک میں تیار کی گئی رائفلیں استعمال کر رہی ہے لیکن انہیں ناکارہ اور ناقابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت اس وقت اپنی فوج کے لئے 65 ہزار رائفلیں خریدنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
دوسری طرف بھارت میں عوام اور خاص طور پر غیر ہندو اقلیتیں ایسے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل کا شکار ہیں جن کا کوئی حل دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ مودی سرکار کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے نتیجے میں انتہاپسند ہندو عناصر نے غیر ہندو باشندوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ غیر ہندو باشندوں کو زبردستی اپنا مذہب اور عقائد تبدیل کرکے ہندو بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے بھارت میں غیر ہندو باشندوں کے لئے کوئی جائے اماں موجود نہیں ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا کہ گذشتہ دنوں بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں ایک 22 سالہ نوجوان منہاج انصاری کو گائے کے گوشت پر واٹس ایپ تبصرہ کرنے کے الزام میں پولیس تحویل میں رات بھر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق تارپارتولہ، ڈھیگاری ضلع جامترا کا رہائشی منہاج انصاری ایک موبائل شاپ چلاتا تھا جسے 3 اکتوبر کو گائے کے گوشت پر واٹس ایپ پیغام پھیلانے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ دوران حراست پولیس نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شدید زخمی حالت میں رانچی کے ایک ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔منہاج انصاری کی موت سے اس کے والدین عمر میاں، اچھولہ بی بی، 5 بھائی اور ایک بہن اور ان کی بیوہ اور ایک شیرخوار بیٹی بے سہارا ہوگئے کیونکہ وہ خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ تھے۔
بھارتی حکومت نے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اپنے ظلم و ستم کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ وہاں پر قابض ریاستی ادارے امن و امان قائم کرنے کے نام پر ان کشمیری عوام کے خلاف بہیمانہ اور ظالمانہ انداز میں مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں جو اپنے سیاسی بنیادی حقوق کے لئے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کشمیری عوام کے لئے 24 اکتوبر کا دن ایک لازوال اور تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب نہتے اور بے بس مظلوم کشمیریوں نے بھارت کے خلاف بغاوت کی لاٹھیوں، کلہاڑیوں اور دیسی بندوقوں کے ساتھ لڑتے ہوئے ہندو سامراج کو مار بھگایا۔ اس دوران ہزاروں کشمیری شہید ہوئے اور ساڑھے چار ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد ہوا جسے آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے پہلے صدر غازی ملت بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان بنے ۔ آزاد حکومت کا پہلا دارالحکومت چونجال ہل تھا جہاں سے انتظامی امور چلائے جاتے تھے ۔ اس وقت مہاراجہ کے خلاف سردار ابراہیم خان نے صدر کا منصب چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور آزاد کشمیر کو بیس کیمپ قرار دیا گیا تاکہ یہاں سے تحریک آزادی کشمیر کو منظم کیا جا سکے بعد میں دارالحکومت مظفرآباد منتقل کیا گیا کیونکہ وہاں سے سرینگر صرف 75 میل تھا۔ کشمیریوں نے جدوجہد آزادی کو ہر دور میں جاری رکھا، 1832ء کا تسلسل تھا کہ جب ڈوگرہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے انسانی تاریخ میں سب سے بڑی اور انوکھی قربانی دی گئی۔
1989ء میں باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا گیا۔ 2012ء تک کی ہیومن رائٹس رپورٹ کے مطابق جنوری 1989ء سے 93831 کشمیری شہید ہوئے۔ زیر حراست شہادتیں 6996 گرفتار شہری ایک لاکھ 20ہزار، املاک و مکانات کی تباہی ایک لاکھ پانچ ہزار، بیوہ عورتیں 22766 یتیم بچے 107448 عصمت دری 1044 اس طرح لاکھوں افراد بے گھر ہوئے 2012ء کے بعد سے آج تک ہزاروں اور شہید ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت سے تحریک آزادی نے نئی کروٹ لی۔ بھارت کی درندگی کا یہ عالم ہے کہ وہ نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر انتہائی مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر رہا ہے جس سے سینکڑوں کی تعداد میں کشمیری شہید اور اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں لیکن وہ پھر بھی بڑی بے جگری سے بھارت کی سفاک فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔وہاں پر گذشتہ تین ماہ سے زیادہ کرفیو نافذ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے 24 اکتوبر کو ہی اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج کشمیر پر موجود قراردادوں پر عمل درآمد نہ کروا سکا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے احوال مہذب دنیا کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

395
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...