پاکستان میں باقی کی مشکلات تو اپنی جگہ،غیروں کی دخل اندازی بھی مصدقہ ہے اور ان کی دشمنی بھی ڈھکی چھپی نہیں لیکن خود ہم میں ایسے بہت سارے موجود ہیں جو اپنی روشن خیالی اور غیرجانبداری کا سکہ جمانے کے لیے دانستہ یا نادانستہ ان کوششوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔سول ملٹری تعلقات پاکستان میں اکثر زیر تبصرہ رہتے ہیں اوراکثر اوقات ان کو غیر ضروری ہوا دے دی جاتی ہے حالانکہ فوج ہو یا سیاست اور حکومت سب کا فرض اپنی اپنی جگہ پر پاکستان ہی کے لیے کام کرنا ہے۔ملک سب کے لیے مقدم ہے فوج حکومت میں نہیں لیکن اُس کے بغیر ملک کی بقاء ناممکن ہے اور وہ بھی جب آپ کے پڑوس میں بھارت جیسا خونی دشمن موجود ہو ایسے میں تو احتیاط مزید لازم ہو جاتی ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں ایسی کیسی احتیاط کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جا رہی ۔فوج کو تو میڈیا پر آکر اس طرح کی بات کرنے کی اجازت نہیں لیکن ہمارے سیاستدان کھلے عام بھی بہت کچھ فرما جاتے ہیں اور میڈیا کو ایک گرما گرم خبرمل جاتی ہے اور ایسی ہی کسی غیر ذمہ داری سے جوڑتے جوڑتے بڑی بڑی کہانیا ں بنا لی جاتی ہیں جو عوام کو یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہوتی ہیں کہ خود پاکستان کے اندر ریاست کے دو بڑے ستونوں میں اختلاف موجود ہے اور اگر ایسا ہے تو دشمن کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا ۔انگریزی روزنامہ ڈان پاکستان کے چند سرکردہ اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخباروں میں سے ہے اس کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس کے بانی محمد علی جناح ہی اس ملک کے بانی ہیں لیکن یہ اکثر غیر ذمہ داری کا ثبوت دے دیتا ہے اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ 6اکتوبر کے’’ ڈان‘‘میں سیرل المنڈا کا ایک مضمون شائع ہو جس میں سول ملٹری تعلقات کو بڑے ڈرامائی انداز میں کشیدہ بتایا گیا اوراس پر مضمون یا کالم سے زیادہ جاسوسی کہانی کا گمان ہوتا ہے۔اس میں وزیر اعظم کی موجودگی میں شہباز شریف،ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع اعزاز چوہدری کے درمیان بحث اور تنقید کو مزے لے لے کر بتایا گیا ہے جس میں کمر ے میں خاموشی چھاجانے، ابرو تن جانے اورحیرت زدہ ہو جانے تک کا منظر بیان کیا گیا ہے ۔شہباز شریف کی گفتگو کو یوں غیر متوقع بیان کیا گیا ہے جیسے جاسوسی کہانی میں ا نسپکٹر بااثر مجرم کے سامنے اچانک اس کا کوئی جُرم رکھ دیتا ہے ایسے ہی وزیراعلیٰ پنجاب یعنی وزیراعظم پاکستان کے’’ سگے چھوٹے بھائی ‘‘نے ڈی جی آئی ایس آئی کا جُرم ان کے سامنے رکھ دیا اور کمرے میں پُر اسرار خاموشی چھا گئی ایسے میں وزیراعظم نے مداخلت کرکے معاملہ سنبھال لیا۔مضمون نگار نے یہ بھی لکھا بلکہ انکشاف کیا کہ یہ سب کچھ منصوبے کے عین مطابق ہوا اور وزیر اعظم نے اپنی بات شہباز شریف اور اعزاز چوہدری کے ذریعے فوج اور آئی ایس آئی تک پہنچادی۔ یاد رہے اخبار ’’را‘‘ اور بھارت سرکار کی کہانی نہیں سنا رہا بلکہ یہ پاکستان کی ہی بات ہے لیکن کشیدگی کو ہوا دے کر بلکہ اس کو پیدا کرنے کی کوشش کر کے صحافت کے میدان میں اپنا بہت بڑا کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی کسی کوڈ آف کنڈکٹ یا ضابطہء اخلاق کا پابند ضرور ہونا چاہیے اگر صحافیوں اور مالکان کی سمجھ میں یہ دستاویز نہیں آتی تو پھر اُن کی ٹریننگ کا ہی بندوبست کیا جہاں پہلے تو انہیں قومی مفاد کے معنی سمجھائے جائیں اور پھر ان سے دست بستہ درخواست کی جائے کہ قومی مفاد کا کیسے خیال رکھاجائے اور کہا ں کہاں اور کون کون سا عمل قومی مفاد کے خلاف جا سکتا ہے۔پاکستان کے دروازے پر کھڑے ہو کر بھارت طبل جنگ بجا رہا ہے اور اُس کا جواب دینے کی بجا ئے ہم آپس میں ایک دوسرے کو اُلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ایسی کوئی گفتگو ،ایساکوئی واقعہ ہو بھی جائے تو اس کو معمول کا واقعہ سمجھ لینا چاہیے اگر چہ اب تو اس تمام کہانی کی تردید وزیر اعظم کے ترجمان ، وزارت اطلاعات اور وزیر اعلیٰ پنجاب سب کر چکے ہیں اورخو د ’’ ڈان‘‘ نے بھی یہ تردید شائع کی لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا لوگوں کے ذہن میں شہباز شریف کا حوالہ دے کر یہ بات ڈال دی گئی کہ فوج حالات کو خراب کر رہی ہے۔مضمون نگار نے عوام کو یہ یقین دلانے کی پوری کوشش کی ہے کہ بھارت میں ہونے والی تمام دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان ہی ہے اور اس بات کا یقین حکومت کو بھی ہے اور وہ فوج کو اس کا ذمہ دار سمجھ رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ حکومت جب بھی کسی دہشت گرد ی کے اصل ذمہ دار کو پکڑتی ہے تو پردے کے پیچھے سے اسے چھڑا لیا جاتا ہے جس پر نواز شریف نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جو بھی ہوا وہ حکومتی پالیسی تھی اور اسی بات کو عنوان بنا کر وزیر اظم ہاوس نے تردید بھی جاری کی جسے ’ڈان‘‘ نے شائع بھی کیا۔اسی گفتگو کے دوران اعزاز چوہدری کے امریکی مطالبات پہنچانے کی بھی بات ہوئی کہ مسعود اظہر اور اُن کی جیش محمد اور حافظ سعید اور ان کی لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کی جائے۔اندرون خانہ کہانی تو جو بھی تھی یہ سب کہا گیا یا نہیں کہا گیا لیکن کیا امریکہ اور بھارت کو مطالبات کرنے کا حق ہے خیر ان باتوں کی تردید آچکی ہے لہٰذاہمیں مان لینا چاہیے کہ یہ ڈرامہ صرف لکھا گیا ہے ہوا نہیں لیکن یہاں حکومتِ پاکستان کو بھی سبق سیکھ لینا چاہیے کہ ممبئی پھر پٹھان کوٹ اور اب اُڑی کو جو ہوا دی گئی کیا پاکستان کو مہران ایئر بیس پر بھارتی دواوءں کے شواہد نہیں ملے تھے،بلوچستان میں بھارت کھلی مداخلت نہیں کر رہا اور کیااُسے کشمیر سے نہیں جوڑ رہا جبکہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور بلوچستان پاکستان کا صوبہ، براہمداغ بگٹی پاکستان کو مطلوب ہے لیکن بھارت کی آنکھ کا تارا ہے پاکستان ان معاملات کو عالمی سطح پر کیوں اُسی زور و شور سے نہیں اُٹھا تا،کل بھوشن کو مہمان بنا کر کیوں رکھا گیا ہے اُس کی گرفتاری کے وقت ہی بھارت کو اسی شدومد سے مجرم بنا کر نہیں پیش کیا گیا جیسے بھارت بغیر ثبوت کے پاکستان کے بارے میں کرتا ہے۔پڑسیوں کی دوستی قابل ستائش ہے لیکن اس کے لیے بے غیرتی کی حد تک نہیں جا نا چاہیے۔ہماری حکومت کو بھی سفارتی سطح پر بین الاقوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں اسی زور اشور سے کرنا چاہیے جیسے بھارت کر رہا ہے اور ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیادونوں کو اس مشن کو آگے بڑھانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے ایسا بہت حد تک ہو بھی رہا ہے لیکن چندایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے آپ کو بے باک ثابت کرنے کے لیے ان حالات کو کیش کر رہے ہیں ۔ اس وقت ہمیں قومی یکجہتی پر کام کر کے دشمن کو اپنے اتحاداور مضبوطی کا پیغام دینا ہے لیکن اس عاقبت نا اندیشی کو کیا نام دیا جائے جو ’’ڈان‘‘ نے کی اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اکثر ایسے مضامین اور کالموں کو اس اخبار میں جگہ دے دی جاتی ہے ابھی حال ہی میں جنگ ستمبر 1965 کے بارے میں بھی ایسا مواد دیا گیا جس میں پاکستان کو بُری طرح شکست خوردہ کہا گیا تھا۔
’’ڈان‘‘ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اُس کے بانی نے اُسے ہندوستان کے مسلمانوں کی آواز کے طور پر بنایا تھا اور اُس نے پاکستان بنانے میں ایک اہم ترین کردار ادا کیا اُسے مسائل کو سامنے بھی لانا ہے اور غلطیوں کی نشاندہی بھی کرنا چاہیے لیکن قومی معاملات اور مفاد پر اتفاق رائے اس کا اولین مقصد ہونا چاہیے نا کہ اداروں میں اور اداروں کے بیچ دراڑیں ڈالے اور نہ ہی اسے قومی مقاصد پر کوئی سمجھوتہ کرنا چاہیے ۔ ڈان پاکستان کے اہم ترین انگریزی اخباروں میں سے ہے اور پڑھے لکھے طبقے میں انتہائی مقبول بھی ،اگر وہ اس طرح کے مسائل کو چسکہ لینے کے لیے اُچھالے گا تو یقیناًپاکستان کے پڑھے لکھے لوگوں خاص کر نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرے گا اور سنجیدہ اور باشعور طبقے میں اسے جو عزت حاصل ہے وہ نہیں رہے گی۔ اسے اپنی اشاعت کا مقصد یاد رکھ کر لبرازم کے شوق میں ملک کو نقصان پہنچانے سے احتراز کر نا چاہیے۔

386
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...