مودی ہے تو بھارت کا وزیراعظم لیکن لگتا ہے کہ اُس کے دماغ میں بھارت سے زیادہ پاکستان کے بارے میں منصوبے بنتے ہیں حتٰی کہ اپنے یوم آزادی پر بھی وہ بھارت کی بجائے پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اس بار بھی اپنے خبث باطن کا اظہار کرکے کھلم کھلا ہمارے معاملات میں مداخلت کی اور یوں اپنی زبان سے پاکستان کے دعووءں کی تصدیق کی کہ بلوچستان میں بگاڑ کا ذمہ دار بھارت ہے، وہ گلگت بلتستان میں بھی سازش کرنے کی کوشش کر رہا ہے فاٹا تو ویسے اس کے نشانے پر ہے اور دکھ اس بات کا ہے کہ افغانستان تیس لاکھ افغانیوں کے میزبان برادر اسلامی ملک پاکستان کے خلاف اُس کا حامی بنا ہوا ہے نہ صرف حمایت کر رہا ہے بلکہ عملی طور پر مدد فراہم کر رہا ہے اور اسی مودی کا دست راست بنا ہوا ہے جس نے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اپنے مکروہ کردار کی بدولت ہندو ریاست کے شدت پسند ہندؤں کا وزیراعظم بن کر بیٹھ گیا ہے۔ ایسا نہیں کہ بھارت میں پہلی بار شدت پسند اور سازشی ذہن رکھنے والا شخص وزیراعظم ہے۔ وہاں کی حکومت روز اول سے اپنے ملک سے زیادہ پاکستان کے بارے میں پریشان رہتی ہے مودی نے اپنے یوم آزادی پر پاکستان کے معاملات کے بارے میں زیادہ بات کی اُس نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے بارے میں اپنے غلیظ خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اُسے اِن پاکستانی علاقوں سے مدد کے لیے فون آتے ہیں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اُسے کیوں فون کیے جاتے ہیں آخر ان لوگوں سے مودی کا تعلق کیا ہے اور براہمداغ کیوں اُ س کی مدد کی تعریف کر رہا ہے ظاہر ہے اپنے مربی اور محسن کی ہی تعریف کی جائے گی اور اپنے آقا سے ہی مدد مانگی جائے گی۔ مودی ان کی مدد کیوں نہیں کرتا جنہیں اس کی فوجیں کشمیر میں کچل رہی ہیں بے دردی اور سفا کی کی انتہا وہ جھلسے ہوئے چہرے ہیں جو اس کی حالیہ بر بریت کا شکار بنے اگر چہ بھارت نے سمجھا کہ میڈیا پر پابندی لگا کر وہ کشمیر میں اپنے گھنا ونے کردار کو چھپا سکے گا اُس نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے عملے کو بھی کشمیر سے بے دخل کیا اور یوں سمجھا انسانی حقوق کی تنظیموں کی آنکھوں پر پٹی بندہ جائے گی اور وہ دیکھ نہ سکیں گی لیکن ظلم تو ظلم ہے نظر آہی جاتا ہے لہٰذا کشمیر کے چیختے بلکتے عوام کا دکھ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی سہی دنیا تک پہنچ رہا ہے اور اُسے بھارت کی اصلیت معلوم ہو رہی ہے۔ بھارت نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق جیسے کشمیری رہنماؤں کو گرفتار کرکے سمجھ لیا کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو دبا سکے گا لیکن ہوا یہ کہ یہ آواز یں مزید بلند ہو گئیں اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والی بھارت سرکار نے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی یوں دھجیاں بکھیریں کہ بھارت کے اندرسے بھی اس ظلم کے خلاف آوازیں اٹھیں لیکن خود کو سیکولر کہنے والی بھارت سرکار بھارت میں ہندؤں کے علاوہ کسی کو کوئی حق دینے کو تیار نہیں بلکہ انسان سمجھنے کو بھی تیار نہیں چند مسلمانوں کو چند ایک عہدے دے کر وہ دنیا کو یہ باور نہیں کراسکتا کہ بھار ت میں مسلمان ہندو اکثریت کی طرح آزاد ہیں۔ بالی وڈ کے نامور اور نام کے مسلمان اداکاروں کے بارے میں تو اکثر سننے میں آتا ہے کہ کیسے ہندو شدت پسندی کا شکار ہو رہے ہیں اب کی بار ڈاکٹر ذاکر نائیک کی باری آئی ہے اور ان کے سر کی قیمت لگائی گئی ہے اور ویشو ا ہندو پریشدکی سدھوی پراچی نے اعلان کیا کہ جو ڈاکٹر نائیک کا سر لائے گا اُسے 50 ملین روپے دیے جائیں گے مسئلہ ڈاکٹر نائیک کا نہیں مسئلہ ہندؤ شدت پسندی کا ہے جو کشمیر سے لے کر اُس کی دیگر اُن تمام ریاستوں تک پھیلی ہوئی جہاں مسلمان موجود ہیں اسی شدت پسندی کی نظر بابری مسجد ہوئی ،اسی کے زیر عتاب گجرات کے مسلمان آئے اور اسی کی نذر آج کی مسلمان نوجوان نسل ہو رہی ہے جنہیں ہر دہشت گردی کی واردات میں ملوث کر دیا جاتا ہے ۔مودی بلوچستان ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی فکر چھوڑ کر اپنی فکر کرے تو زیادہ مناسب ہوگا اور بلوچستان میں اپنے بیان کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو اپنے منہ پر ایک طمانچہ سمجھ لے تو شاید اُسے دوبارہ منہ کھولنے کی ہمت نہ ہو۔
دنیا بھی اگر اُس کی اصلیت کو جان لے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت ہے اور پاکستان کی طرف سے لگائے الزامات کی اُس نے خود تصدیق کر دی ہے۔ بان کی مون کا یہ کہنا کافی نہیں کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے حل کرے تعاون کی صرف پیشکش ہی کافی نہیں اقوام متحدہ خود اپنی ہی قراردادوں پر عمل کروائے اور اگر ضرورت پڑے تو بزور طاقت کرائے۔ بھارت کو کھلی چھٹی دینے کی بجائے اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور دوسرے ملک یعنی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دہشت گرد کا روائیاں کرنے کی پاداش میں پابندیاں عائدکرے ۔ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے تربیتی اڈے چلا رہا ہے ،بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردوں کی باقاعدہ فنڈنگ کر رہا ہے اور اُس کا وزیراعظم اپنے منہ سے اس بات کا اعتراف بھی کر رہا ہے تو پھر کیوں نہ اُسے دہشت گرد ملک قرار دیا جائے اور اگرعالمی طاقتیں بھارت کو خطے میں دہشت گرد تیار کرنے سے روک دے تو حالات کو قابو کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔

389
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...