بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اب اس حقیقت کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور پرامن کشمیری عوام کے لئے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ نئی دہلی کی طرف سے اسلام آباد پر یہ بے بنیاد الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کو خراب کرنے کے لئے عسکری مداخلت کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ اصولی موقف اختیار کیا ہے کہ کشمیری عوام کو ان کا وہ حق خودارادیت دیا جائے جس کا وعدہ خود بھارتی قیادت نے اقوام متحدہ کے فورم پر کیا تھا۔ اسی تناظر میں اسلام آباد کی طرف سے کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے حالات خود بھارتی قیادت کی عاقبت نااندیشی کے نتیجے میں انتہائی دگرگوں مشاہدہ کئے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی یہی کوشش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن کی فضاء کو فروغ میسر آئے اور اس سلسلے میں اسلام آباد اپنا کردار نہایت سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کا 14 رکنی وفد 2 روزہ دورے پر 25 جولائی کو پاکستان پہنچا۔ لاہور میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل شری کرشن کمار شرمانے بھارت اور ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل عمر فاروق برکی نے وطن عزیزکی نمائندگی کی۔ مذاکرات میں سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں، منشیات، سمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت اور سرحد پر غیر قانونی تعمیرات پر بات کی گئی۔ اجلاس میں بارڈر کے دونوں جانب مارے گئے سمگلروں کی تعداد اور تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا گیا تاہم بعدازاں اس بات پر اتفاق ہوا کہ آئندہ سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ اس حوالے سے ایک دوسرے سے رابطے بڑھانے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران بی ایس ایف نے پٹھانکوٹ کے واقعہ کو ایجنڈا کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی جسے ڈی جی رینجرز پنجاب نے مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پٹھانکوٹ حملہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان واقعہ کی تحقیقات کے لئے اپنی ٹیم بھارت بھیج کر تعاون کا عملی مظاہرہ کر چکا ہے اور اس واقعہ کا سرحدی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قبل ازیں رینجرز ہیڈکوارٹرز آمد پر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل کرشن کمار شرما کا استقبال ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل عمرفاروق برکی نے کیا۔ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے سربراہ نے رینجرز ہیڈکواٹرز میں شہداء کی یادگار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے سرحدی محافظوں کے دوران سالانہ مذاکرات ہوتے ہیں اور گذشتہ سال یہ مذاکرات 5 تا 9ستمبر نئی دہلی میں ہوئے تھے۔
مہذب دنیا خوب مشاہدہ کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ہٹ دھرمی اور ظلم و تشدد کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن کشمیری عوام اس صورتحال کا انتہائی جرأت مندی اور صبر و تحمل کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ نئی دہلی کو یہ بات بھی گوارہ نہیں کہ کشمیری عوام کو پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے یکجہتی کا عندیہ دیا جائے۔ گذشتہ دنوں یوم الحاق پاکستان کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزاد ہوں گے اور بعدازاں آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہمارے دل، مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وزیراعظم کے ان بیانات پر بھارتی قیادت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ بھارتی وزیرمملکت برائے خارجہ امور وی کے سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان اپنی سر زمین یا اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے تمام طرح کی دہشت گردی اور بھارت مخالفت سرگرمیاں روکے، آزاد کشمیر میں چین کی جانب سے جاری انفراسٹرکچر پراجیکٹس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اس سے آگاہ ہے۔
موصوف نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیاں روکے، قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ دہشت گردی کی سرگرمیاں پاکستان سے ہو رہی ہیں جو بھارت کے لئے تشویش کی بنیادی وجہ ہے، پٹھانکوٹ واقعہ اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں حملوں سے سرحد پار سے دہشت گردی کے جاری خطرے اور مداخلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خاموشی سے ا ن تمام صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور قومی مفادات پرہمارے برداشت کی ایک حد ہے اور اسے محفوظ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت چین کی جانب سے تبتی فوجی کمانڈ کے سیاسی رینک کو ان کی صوبائی سطح کی ملٹری کمانڈر کے مقابلے میں ایک درجہ بڑھانے کے حوالے سے رپورٹس سے بھی آگاہ ہیں ا ور یہ کہ اس کے بعد یہ کمانڈ براہ راست چینی فوج کی قیادت کے زیر اثر آ جائے گی۔چینی سرحدی علاقوں کے قریب بھی تعمیراتی منصوبوں سے آگاہ ہیں۔ حکومت نے اس حوالے سے بھی غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں کہ چین اپنے ریل منصوبے کو نیپال تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے اس منصوبے میں ماؤنٹ ایورسٹ کے نیچے سے ایک سرنگ کی تعمیر بھی شامل ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل بھارت میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کچریوال نے الزام عاید کیا کہ بھارتی وزیراعظم اس قدر مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ مجھے مروانا چاہتے ہیں ۔کچریوال کی عام آدمی کے کئی ارکان کے خلاف بی جے پی حکومت انتظامی کارروائیاں کر چکی ہے ۔عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی کرتارسنگھ کے گھر پر انکم ٹیکس کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور اس کے خلاف کئی مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ اروند کچریوال کا کہنا تھا کہ میری پارٹی کے ارکان ہوشیار رہیں آنے والے دن زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔مبصرین کا یہ خیال بڑی حد تک درست محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے باب میں زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے جس گریز اور اجتناب سے کام لے رہی ہے وہ اس کی ذہنی شکست کے مترادف ہے۔

549
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...