دنیا بھر میں موجود کشمیری عوام اور خاص طور پر مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام ہر سال 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر مناتے ہیں۔ یہ دن ان 22 کشمیریوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جن کو 13 جولائی 1931ء کو کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمرانوں نے شہید کر دیا تھا۔ یہ سانحہ سری نگر کی سنٹرل جیل کے سامنے پیش آیا تھا ۔ شہادت کے رتبے پر فائز ہونے و الے اور 100 کے قریب زخمی ہونے والے افراد کا جرم یہ رہا کہ وہ اذان اور نماز کے حوالے سے اپنا بنیادی حق طلب کر رہے تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ انہی کشمیری عوام کی قربانی کا صلہ ہے کہ آزادی کی تحریک گذشتہ 75 برس سے جاری ہے ۔ بھارتی حکومت نے اس عرصے میں ظلم و ستم کے شرمناک مظاہرے کئے ہیں اور اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ کہ سال رواں یعنی 2016ء میں یکم جنوری سے یکم جون تک 54 کشمیریوں سے زندگی کا حق چھین لیا گیا۔ ان میں سے 9 افراد کو حراست کے دوران شہید کیا گیا جبکہ 6 ماہ کے اس عرصے میں 3438بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار اور 34 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ قبل ازیں جنوری 1989ء سے جون 2016ء تک دہلی کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 93984 معصوم کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔ 7014 افراد حراست کے دوران جاں بحق ہوئے اور اس عرصے کے دوران 122771 کشمیریوں کو جرم بے گناہی میں گرفتار کیا گیا اور کشمیری قوم کے معاشی قتل کے خاطر 105996 مکانات اور دکانوں کو یا تو نذرآتش کیا گیا یا ان کو مکمل مسمار کر دیا گیا۔ قابض بھارتی فوج کی سفاکی کے نتیجے میں 107466 بچوں سے ان کے والدین کی شفقت کا سایہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا گیا جبکہ 22776 کشمیری خواتین بیوہ ہو گئیں ۔ اس مدت کے دوران 10086 خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے شرمناک واقعات پیش آئے۔
گذشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں حزب کمانڈر برہان وانی سمیت 3 مجاہدین کی شہادت کے خلاف وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد شہر سرینگر اور جنوبی کشمیر میں بڑے پیمانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا جس کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر اور جنوبی کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیالیکن مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے، پولیس افسر نے بتایا سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، جھڑپوں میں 9 مظاہرین شہید، اہلکاروں سمیت 200 زخمی ہوگئے۔ مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی سرینگر شہر کے کئی علاقوں میں نوجوان سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے لگے اور اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کرنے لگے۔ دوسری طرف پولیس نے برہان وانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے حریت کے کئی سینئر رہنماؤں علی گیلانی، یاسین ملک، شبیر شاہ کو بدستور نظر بند رکھا گیا۔ وانی کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر تھی اور ان کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا۔ چند سال قبل برہان نے اپنے 10 ساتھیوں کے ہمراہ فوجی وردی میں ملبوس اور مسلح ہو کر سوشل میڈیا پر تصویریں پوسٹ کرکے وادی میں ایک نئی قسم کی مزاحمت کو متعارف کیا۔ سابق وزیراعلیٰ اور حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ افسوس برہان نہ تو کشمیر میں بندوق اٹھانے والا پہلا شخص تھا اور نہ آخری ہوگا۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اس کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
اتوار کے روز کشمیری نوجوان کرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے وادی کے کئی شہروں میں بھارت کے خلاف مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ اس موقع پر بعض مظاہرین نے پاکستانی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ بھارتی فورسز نے سفاکی اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان نہتے اور پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجہ میں مزید 5کشمیری شہید ہوگئے اور یوں صرف دو روز میں شہید کشمیریوں کی تعداد 20 ہوگئی۔ قابض ریاستی فوج کی فائرنگ، شیلنگ اور لاٹھی چارج سے 250 سے زائد کشمیری زخمی بھی ہوئے۔ کشمیری رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق ،یاسین ملک سمیت درجنوں حریت رہنما گھروں میں نظربند رہے چنانچہ انہوں نے شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرامن عوامی احتجاج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں کے عوام اپنی جائز جدوجہد کے ساتھ کس قدر غیر معمولی وابستگی رکھتے ہیں۔ نہتے اور پرامن مظاہرین پر بھارتی فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھول کر بربریت اور دہشت گردی کا مظاہرہ کیا۔
ساری مہذب دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ اور باخبر ہے کہ بھارت نے مقبوضہ وادی جموں و کشمیر پر طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جما رکھا ہے۔ وادی کے عوام گذشتہ 68 برسوں سے انتہائی پرامن طریقے سے یہ مطالبہ کئے جا رہے ہیں کہ ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ ان کے اس مطالبے کی بنیاد خود بھارتی حکومت کا وہ وعدہ ہے جو اس نے اقوام متحدہ کے ایوان میں کیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ خود اس عالمی ادارے نے اپنی منظور کی گئی قراردادوں میں یہ یقین دہانی کرا رکھی ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے گا۔ بین الاقوامی حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ کار خوب جانتے ہیں کہ دو ایٹمی طاقتوں یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ہی وہ حل طلب مسئلہ ہے جس کے باعث ان دونوں ممالک کے درمیان 3 مرتبہ باقاعدہ جنگ کی نوبت آئی ۔ بھارتی حکومت نے مہذب دنیا کو دھوکہ دینے اور مقبوضہ وادی کشمیر میں اپنے مکروہ جرائم کی پردہ پوشی کے لئے یہ پراپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ مقبوضہ وادی کے عوام کو ریاستی انتظامیہ کے خلاف متحرک کرنے کے لئے پاکستان کی طرف سے عسکری معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کے ظلم و ستم اور جبرو تشدد کا سلسلہ لامتناہی ہے جس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے اور غیر جانبدار مبصرین کو مقبوضہ وادی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی سبب بجا طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر نے عملی طور پر ’’بھارتی چھاؤنی‘‘ کی صورت اختیار کر رکھی ہے۔ 13 جولائی کے روز یوم شہدائے کشمیر کے حوالے سے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا اور مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں حقیقی آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔

416
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...