افغانستان ان دنوں بھارت کے سِحرمیں گرفتار ہے اور اُس کی حکومت بغیر سوچے سمجھے اس کی ہدایات پر نہ صرف عمل کر رہی ہے بلکہ اس کی غلطیوں کو معاف بھی کر رہی ہے اور چُھپا بھی رہی ہے وہ جانتا ہے لیکن سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ بھارت اس کا دوست نہیں بلکہ اس کے راستے پاکستان تک پہنچنے اور اسے نشانہ بنانا اس کا مقصد ہے اور افغانستان میں ترقیاتی کام کرنے نہیں بلکہ تجارت کرنے آیا ہے اس کی بے تحاشا آبادی کو نوکریاں ، روزگار اور ملازمتیں درکار ہیں اور وہ افغانستان میں حاصل ہو رہی ہیں۔ تعمیراتی ٹھیکے، تعلیمی منصوبے، رسل ورسائل کی تعمیروہ افغانیوں کے لیے نہیں کر رہا بلکہ خود اپنے لیے کر رہا ہے بہر حال وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کا جوازبنائے رکھنا چاہتا ہے۔ اُس نے افغان حکومت کومکمل طور پر قابو کیا ہوا ہے اس لیے اکثر اوقات ایسا محسوس ہو تا ہے کہ بھارت افغانستان سے بول رہا ہے۔وہ بھارت کی کاروائیوں پر نہ صرف پردہ ڈال رہا ہے بلکہ اُس کو پاکستان تک رسائی دے کر باقائدہ اس کی مدد کر رہا ہے اور افغان حکومت اس پر بھی غور نہیں کر رہی کہ پاکستان اُس کا دشمن نہیں بلکہ یہی پاکستان ہے جس نے کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہوئی ہے اور بڑی حفاظت میں رکھا ہو ہے جب کہ بھارت جس کو وہ دوست سمجھتا ہے اس کے ملک میں بیٹھ کر بھی اس کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتا اور بھارتی دفاعی اتا شی نے ایسی ہی ایک حرکت سے ثابت کر دیا کہ وہ افغانیوں کا مالک ہے۔ بھارت نے آج کل اپنے تعلیمی اداروں کے دروازے افغان طلبہ کے لیے کھولے ہوئے تو ہیں لیکن اصل مقصدانہیں بھارت کا وفادار بنا ناہے تاکہ اترپردیش کے پڑھے ہوئے حامد کرزئی کی طرح وہ بھی بھارتی مفادات کا دفاع کر سکیں۔تباہ شدہ افغانستان کے طلبہ اسے ایک بڑا موقع سمجھ کر ان یونیورسٹیوں کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں ان میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے جو جب بھارتی سفارت خانے پہنچی تو بھارتی افسروں کے ہتھے چڑھ گئی۔ بھارت کے این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق بھارت کے دفاعی اتاشی ایس کے نارائن نے ایسی ہی ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ یہ کوئی اکیلا کیس نہیں ہے لیکن اس طالبہ نے ہمت کر کے اس واقعے کی رپورٹ کر دی اور تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ وقوعہ کئی بار ہو چکا ہے لہٰذا بڑی خاموشی سے ایس کے نارائن کو افغانستان سے نکال دیا گیا نہ افغان میڈیا اور نہ ہی بھارتی میڈیا نے شور مچایا اور ہمارے ہر دم اور ہر خبر سے باخبر میڈیا کو بھی اس کی کوئی خبر نہ ہوئی کہ وہ دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھاتا اور وہ افغان جو اُسے اپنا دوست سمجھتے ہیں اور اُس کے کہے میں آکر پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی دوست دشمن کی پہچان کر پاتے۔ بھارتی ا فواج کے بارے میں یہ کوئی پہلی ایسی خبر نہیں جو سامنے آئی ہے اس سے پہلے بھی وہ ایسی ہی حرکات کی مرتکب ہوتی رہی ہے۔کشمیر میں تو یہ اس کے لیے ایک عام سی بات ہے کہ وہ کشمیری عورتوں کو اپنا مفتوح سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ زیادتی کرے اور اپنے فاتح ہونے کے احساس سے سر شار ہو مگر صرف کشمیر ہی نہیں اگر وہ یو این امن مشن پر جائیں تو وہاں بھی ان کا یہی وطیرہ رہتا ہے۔ 2008 میں کانگو کی ایک عورت نے ان کے خلاف ایسی ہی شکایت درج کرائی اور جب انڈین نقوش والے کچھ بچوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے تو بھی یہ ثابت ہو گیا کہ بھارتی فوجی جن میں افسران بھی شامل تھے نے یہ قبیح فعل کیا لیکن حیرت ہے کہ ان خبروں کو بڑے طریقے سے محدود رکھا گیا اور جب بھارتی فوج کے تر جمان سے ان معاملات کے بارے پوچھا گیا تو اُس نے کہا کہ فوج کا مورال بلند رکھنے کے لیے ایسی خبریں عام نہیں کی جاتیں۔ بھارت کے تو یہ حق میں ہے کہ وہ ایسی خبریں عام نہ کرے لیکن یہی بھارت جب پاکستان اور پاک فوج کے بارے میں ایسا پروپیگنڈا کرتا ہے تو ہم اس کے جرائم کو دنیا کے سامنے کیوں نہیں لاتے۔جب اسی بھارت نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا کیا بلکہ ابھی بھی کر رہا ہے اور اس نے بنگالیوں کے ذہنوں کو بھی پراگندہ کیا ہوا ہے تو کیوں نہ اس کے یہ افعال دنیا کو دکھائے جائیں تاکہ اُس پر بھی حقیقت آشکار ہو کہ خود اس کی فوج سے لے کر عام بھارتی بلکہ اب تو اس فہرست میں کھلاڑیوں کے نام بھی آنا شروع ہو گئے ہیں اس فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔زمبابوے کے دورے کے دوران جس طرح بھارتی کرکٹر کے خلاف خبر آئی کہ اُس نے ایک مقامی خاتون کے ساتھ بد سلوکی کی لیکن خبر کو ایک عام سی خبر بنا کر چند ایک بار پیش کیا گیا اور بس قصہ ختم ،جبکہ خدانخواستہ ایسا سانحہ پاکستان کی طرف سے پیش آتا تو بھارتی تو بھارتی اپنی میڈیا ریٹنگ بڑھانے کے لیے اسے مسلسل اُچھالتا۔میں ہر گز یہ نہیں کہتی کہ بھارتی میڈیا جیسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے لیکن اگر دنیا کے اور خاص کر پڑوسیوں کے سامنے ہماری سبکی اس نیت سے کی جاتی ہے کہ پاکستان کو تنہا کیا جائے تو کم از کم ہمارا اپنا میڈیا بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھائے اور بتائے کہ مجرم کون ہے کیونکہ جب تک پہچانا نہ جائے جُرم ختم نہیں کیا جاسکتا اور بھارت سے تو افغانستان میں اور افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کا جُرم بھی وابستہ ہے جس کو ختم کر کے ہی دنیا میں امن بحال کیا جا سکتا ہے اور اس کا یہ روپ اگر افغانستان کو سمجھ میں آگیا تو یقیناًوہ اسے اپنے ملک میں یوں کُھل کھیلنے نہ دے گا اسے اپنی ایک بیٹی کی شکایت کو ضرور اہمیت دینی چاہیے لیکن ہو ا یہ کہ اُس نے بھارت کی عزت رکھ لی چاہے ایسا اُس نے اپنی عزت کی قیمت پر کیا۔بہرحال افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ اپنے دشمن کو اُس نے خود گھر میں جگہ دی ہے اور جب دشمن گھر میں بیٹھا ہو تو وہ اپنی دشمنی کا ثبوت تو دیتا رہے گا۔

432
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...