اس حقیقت سے ساری دنیا آگاہ اور باخبر ہے کہ بھارت نے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو عملی طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے اور وہ طاقت کے بل بوتے پر کشمیری عوام کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ یہ کشمیری عوام گذشتہ 68 برسوں سے اپنے حق خودارادیت اور آزادی کے لئے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل شکست عزم اور حوصلے کا مقابلہ کرنے کی بھارتی قیادت میں اب ہمت نہیں رہی چنانچہ وہ حسب روایت اس نے مکاری اور فریب کاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماہ رواں کے دوران بھارتی وزارت داخلہ نے ایک مجوزہ قانون (Geospatil Information Regulation Bill- 2016)کا مسودہ جاری کیا۔ اگرچہ یہ قانون ابھی ابتدائی مراحل طے کر رہا ہے لیکن اس نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی سیاسی اور سفارتی مبصرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس بل کا مقصد بھارت کے بارے میں ایسیInformation Geospatilکی فراہمی، حصول، طباعت اورتقسیم کو ترتیب دینا اور منظم کرنا ہے جو بھارت کی سلامتی، وحدت اور خود مختاری کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس قانون میں یہ بھی تجویز کیا جا رہا ہے کہ بھارت کے اندر یا بھارت سے باہر موجود ایسے افراد کو سخت سزا دی جائے جو بھارت کی سرحدی حدود کی غلط نشاندہی یا تصویر کشی کریں۔ قانونی اور سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دوطرفہ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اورسلامتی کونسل کے ارکان کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ مذکورہ بل کا مقصد ریاست جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کی اپنے طور پر تصویر کشی کرنا اور اس کو بھارت کا علاقہ قرار دیتے ہوئے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو دراصل درست اور حقائق پر مبنی احوال بیان کریں۔
کوئی نہیں جانتا کہ لائن آف کنٹرول کو کشمیر میں سرحدی کنٹرول کے حوالے سے حد بندی کا درجہ حاصل ہے۔ اس کا آغاز 1949ء میں کئے گئے معاہدہ کراچی کے تحت ہوا تھا اور بعدازاں 1972ء میں معاہدہ شملہ کے تحت اس کو دوبارہ نافذ کیا گیا۔ معاہدہ شملہ میں پاکستان اور بھارت نے اس بارے اتفاق رائے کیا تھا کہ 17 دسمبر 1971ء کی فائر بندی کے نتیجہ میں موجود لائن آف کنٹرول کا دونوں جانب یعنی بھارت اور پاکستان کی طرف سے ان کے پہلے سے موجود اور اختیار کئے گئے اپنے اپنے موقف سے قطع نظر احترام کیا جائے گااور اس (لائن آف کنٹرول) کو باہمی اختلافات اور قانونی توجیحات سے قطع نظر کوئی بھی فریق اپنے طور پر تبدیلی نہیں کر سکے گا۔
بھارت کی طرف سے متعارف کرایا گیا نیا مجوزہ قانونی بل دراصل بھارتی حکومت کی اس کوشش (بلکہ سازش) کا ایک مزید ثبوت ہے کہ وہ اپنے طور پر نہ صرف مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کے احوال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ تنازعات کی صورت میں کوئی بھی فریق اپنے طور پر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا جس سے تنازعہ کے حقائق اور احوال میں تبدیلی رونما ہو۔ گذشتہ 68 برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد مرتبہ عسکری تصادم کی نوبت آئی جس کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہی رہا۔ اقوام متحدہ میں عالمی برادری کے سامنے بھارت نے یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو اپنا حق خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گا اور عالمی برادری نے بھی اس وعدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا رکھی ہے لیکن اس کو اب حالات کے جبر یا تاریخ کے سنگین المیہ کے سوا کیا نام دیا جائے کہ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادیں خود اس کے اپنے سرد خانے کی نذر ہو چکی ہیں۔ دوسری طرف مقبوضہ وادی میں بھارت کی کٹھ پتلی ریاستی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں جب بھی مختلف ممالک کی سرحدوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تو مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقے کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ نقشہ جات میں بھی لائن آف کنٹرول واضح طور پر دکھائی جاتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے۔ وطن عزیز میں سروے آف پاکستان کے جاری کردہ نقشہ جات میں بھی اسی صورتحال اور حقیقت کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ بھارت کی طرف سے مذکورہ قانون سازی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کی نقشہ بندی بلکہ حد بندی ایسے حساس معاملے بارے بھی من مانی اور خود غرضی کا مظاہرہ کرے۔ بھارتی حکومت کی بدنیتی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مذکورہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دینے کی نشاندہی کی گئی ہے خواہ ایسے افراد بھارت میں موجود ہوں یا وہ بھارت سے باہر سکونت اختیار کئے ہوئے ہوں۔ اگر بھارتی حکومت کو یہ یقین ہوتا کہ مذکورہ قانون اس کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں اور وہ متنازعہ علاقے کی نقشہ بندی اور حد بندی کرنے میں حق بجانب ہے تو یقینی طور پر ایسا دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے کی اس کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے والی شخصیات اور ادارے ان حقائق کی جانب کسی تاخیر کے بغیر توجہ دے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بلاشبہ بروقت اقدام کے تحت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھارتی سازش سے آگاہ تو کر دیا ہے لیکن سفارتی سطح پر اس ضمن میں یاددہانی ناگزیر ہے۔ اس تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے کہ اسلام آباد میں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں بھارت کی طرف سے کشمیر کی نقشہ بندی کی سازش کو بے نقاب کیا جائے۔ عوام کو بجا طور پر توقع ہے کہ وطن عزیز کی سیاسی و عسکری قیادت اس حساس معاملے کی طرف فوری طور پر توجہ دے گی۔

404
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...