یہ حقیقت دنیا بھر میں علمی اور فکری سطح پر کسی بحث اور دلیل کے بغیر ہی تسلیم کی جاتی ہے کہ سچ کا ہمیشہ بول بالا ہوتا ہے اور سچ کو کبھی بھی جھوٹ کے پردے میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ اس کی ایک مثال گذشتہ دنوں بھارت کے شہر علی گڑھ میں اس وقت سامنے آئی جب وزیر برائے قانون و انصاف ڈی وی سادا نندا گودا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کو اس بات پر سخت تشویش ہے کہ مسلمان نوجوانوں پر دہشت گردی کے بے بنیاد اور غلط الزامات عاید کیے جا رہے ہیں اور ان کو کسی ثبوت کے بغیر ہی قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سلسلے میں اصلاح و احوال کے لئے اصلاحات کی تیاری کا کام جاری ہے۔ وزیر موصوف جو مودی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریب میں شریک تھے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت مسلمان نوجوانوں کی گرفتاری باعث تشویش ہے۔ ہم جو اصلاحات لا رہے ہیں ان میں قانونی طریقہ کار، ضمانت کی فراہمی، عدالتی کارروائی کے طریقے وغیرہ کے حوالے سے اہم امور شامل ہوں گے۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ حکومت تفتیش کے سلسلے میں بہتر طریقہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے بتایا کہ گذشتہ دنوں نئی دہلی پولیس نے جیش محمد کی سرگرمیوں میں ملوث 10 مشتبہ گرفتار شدہ افراد میں بھی 7 کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس صورتحال سے خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت کو اپنے یہاں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی خاطر کن مشکلات کا سامنا ہے۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ انتہاپسندی کا راستہ ترک کرکے زمینی حقائق کی روشنی میں اقدامات کرے۔ بھارتی قیادت عالمی برادری میں اپنی ریاست کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ازام کی علمبردار قرار دیتی ہے۔ سیکولرازم اور جمہوریت کے نام پر بھارت دنیا سے بے پناہ فوائد بھی سمیٹ رہا ہے تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ داخلی سطح میں بھارت کی اقلیتیں انتہائی کسمپرسی کے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جہاں تک جمہوریت کی بات ہے تو انتخابات کے تسلسل کی حد تک جمہوری روایات کی پاسداری کرنے والے بھارت میں اکثریتی ہندو آبادی کے سوا دیگر شہریوں کو بنیادی حقوق تک حاصل نہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں گائے کو ذبح کرنے کے معاملے پر انتہاپسند ہندو اکثریت مسلمانوں کو ظلم و تشدد اور قتل غارت گری کا نشانہ بنا رہی ہو، اسے سیکولر یا تمام مذاہب کا احترام کرنے والا قرار دینا دیوار پر لکھی حقیقت سے آنکھیں چرانے کا دوسرا نام ہی ہو سکتا ہے۔ مذہبی بنیادوں پر تعصب کی اس صورتحال کو 2002ء میں گجرات فسادات کے دوران قتل ہو جانے والے مسلمان رکن پارلیمان احسن جعفری کی بیٹی نسرین جعفری نے ان الفاظ میں واضح کیا کہ بھارت میں اس وقت اقلیتیں بہت مشکل دور سے گزر رہی ہیں۔
گذشتہ سال ریاست اترپردیش میں ایک مسلمان اخلاق احمد کو گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں جنونی ہجوم نے تشدد کرکے قتل کر ڈالا۔ پولیس تحقیقات میں ثابت ہو جانے کے باوجود کہ اخلاق کے گھر بکرے کا گوشت تھا گذشتہ روز ہندو مظاہرین مقتول کے خلاف اس بنا پر مقدمے کا مطالبہ کرتے رہے کہ اس کی لاش کے پاس سے گائے کا گوشت ملا تھا۔ اس طرح کے واقعات بھارت کی سماجی زندگی کا ایسا چہرہ ہیں جسے چھپایا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی ہندو اکثریت پورے معاشرے کو اپنے ڈھنگ اور مذہب میں ڈھالنے کے ایسے جنون میں مبتلا ہے جو آئے روز تشدد، تصادم، ماردھاڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کا باعث بنتا ہے۔ نریندرا مودی طویل عرصے تک بی جے پی کے تشدد پسند ونگ کے متحرک لیڈر رہے۔ ماضی میں جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ان کے دور حکومت میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو انتہاپسند ہندوؤں نے دن دیہاڑے تہہ تیغ کر دیا جس کی ساری دنیا نے مذمت کی تھی۔ اس وقت بھی بی جے پی اور مودی کی انتہاپسند سوچ کی شہ پر شیوسینا جیسی شدت پسند تنظیمیں بھارت کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے عذاب بنی ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کو دوٹوک الفاظ میں ہندومت قبول کرنے یا ملک چھوڑنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔
دریں اثناء مقبوضہ کشمیر کئی عشروں سے خاک اور خون میں ڈوبا ہوا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں سرینگر میں عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ آزادی کے پروانوں کو جیلوں اور اذیتوں سے خوف زدہ کرکے زیر کرنا کسی کے بس میں نہیں اور بھارتی حکومت اور اس کی کٹھ پتلی انتظامیہ چاہے جو بھی ظلم و جبر کر لیں ہم اپنے حق پر مبنی جدوجہد سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔حکمرانوں کو آر ایس ایس منصوبے عمل میں لانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اس کی کٹھ پتلی انتظامیہ کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ دھونس، دباؤ، جیلوں اور پابندیوں سے ہمیں ڈرا یانہیں جا سکتا۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے طول و عرض میں سماجی تقسیم، مذہبی منافرت اور علاقائی کشمکش نے پنجے گاڑ رکھے ہیں جبکہ علاقائی سطح پر پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت کا جمہوری ریاست اور سیکولر معاشرے کا دعویٰ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں اور یہ دھوکہ دہی زیادہ دیر تک چل بھی نہیں سکے گی۔بھارت میں طبقاتی، مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کے عمل سے تشدد کی جو کیفیت پیدا ہو چکی ہے، اسے علاقائی اور عالمی سطح پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وقت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے یعنی خود بھارتی وزراء اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ بھارتی مسلمان نوجوانوں پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات عاید کئے گئے اور یہ سلسلہ اس انتہا تک پہنچا کہ اب بھارتی حکومت کے پاس اس سلسلے میں اصلاحات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

486
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...