سوات! جس نے سوات دیکھا ہے گھوما ہے وہ جب یہ نام سوچتا بھی ہے تو شفاف جھرنوں کا ترنم خود بخود اسکے کانوں میں رس کھولنے لگتا ہے۔ اس کے سرسبز و شاداب بلند و بالا پہاڑ پھلوں سے لدے باغات کون سا حسن ہے جو اس وادی کو خدا نے نہیں دیا اسی حسن کی گود میں پلنے والے اس وادی کے پرامن لوگوں نے ہمیشہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو خوش آمدید کہا۔ سوات ہوٹل کے کمرے اور سبزہ زار ہمیشہ ان سیاحوں سے بھرپور رہے ۔ یہاں کے لوگ نہ تو تنگ دل تھے نہ تنگ نظر علم اور تعلیم کا سلسلہ بڑے پیمانے پر اور بڑے ذوق و شوق سے چلتا رہا۔ سوات میں پھیلے بے شمار سکولوں میں تمام نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں زور و شور سے انجام پاتی رہیں سکولوں کا وسیع جال وادی سوات کی علم دوستی کا ثبوت تھا اور یہ سکول لڑکے لڑکیوں دونوں کے لئے تھے۔ جہانزیب پوسٹ گریجویٹ کالج پر ہمیشہ سوات کے لوگوں نے فخر کیا اس کا ودودیہ ہال طلباء کی سرگرمیوں اور صلاحیتوں کا گواہ رہا۔ یہ سب کچھ اور سوات کے لوگوں کے پُختہ مذہبی خیالات ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ شریعت پر سختی سے کاربندسوات کے لوگ شریعت کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے تھے اگرچہ نفاذ شریعت کی خواہش ضرور رکھتے تھے کیونکہ اس علاقے میں اسلام پر ہمیشہ سختی سے عمل کیا جاتا رہا لیکن اب تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اسلام کی خواہش نہیں کی جارہی بلکہ شعائر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کوئی ہاتھ اسلام کا نام لیکر اسلام کو بدنام کیے، جارہا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ تو نہیں کہ اسلام امن اور محبت کا مذہب ہے۔ اسکو پھیلانے والوں نے اسے اپنے بہترین اخلاق سے پھیلایا۔ حضور نبی پاکﷺ نے تو اپنے دشمن تک کو معاف کیا اور اسی عفو و درگزر نے عرب اور عرب سے نکل کر عجم کے دلوں کو فتح کیا۔ لیکن سوات میں خود کو داعیان شریعت کہلانے والے عفوودرگزر تو درکنار رحم تک سے نا آشنا ہیں۔ ورنہ سوات میں درختوں سے لٹکی ہوئی لاشیں نہ ملتیں سرکاری اہلکاروں کو ذبح نہ کردیا جاتا کوئی ان سے پوچھے کہ زندگی اور موت جس کا اختیار کلی طور پر خدا نے اپنے پاس رکھا ہے یہ اس اختیار میں کس طرح شریک ہوئے جبکہ اللہ فرماتا ہے’’ جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے گا یعنی بغیر اسکے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہو اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں ﴿سورۃالمائدہ 32 ﴾

خود کو طالبان کہلانے والے ان لوگوں سے اگر پوچھا جائے کہ انکے علم کی بنیاد کیا ہے تو وہ ایک مذہبی کتاب کا نام لے لیتے ہیں اور اگر ان سے اس کی شرح کے بارے میں پوچھا جائے تو انہیں اسکے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا اور وہ اس کی خود ساختہ شرح بیان کر دیتے ہیں۔ خود کو طالبان کہلانے والے یہ لوگ اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے بے خبر ہیں ورنہ یہ لوگ غیر انسانی افعال کو اسلام سے منسوب نہ کرتے اسلام کے بارے میں اگر یہ اتنا وسیع علم رکھتے ہیں تو رحمت عالم ﷺ کے ان عام سے واقعات سے کیوں بے خبر ہیں جو میرے خیال میں غیر مسلم بھی جانتے ہیں اور مانتے ہیں کیا یہ نہیں جانتے کہ فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ نے ہندہ تک معاف کیا جس نے رسولﷺکے پیارے چچا دوست اور دودھ شریک بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلیجہ تک چبا لیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغلوب دشمن کو اس لئے معاف کیا کہ اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منہ پر تھوک دیا تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوچا کہ کہیں ذاتی عداوت اس قتل میں شامل نہ ہوجائے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے طالبان کے نام پر پرانی عداوتیں بھی نبھائی جا رہی ہیں جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ تحریک طالبان کا نام استعمال کرنے والے بہت سے جرائم پیشہ افراد نے اپنے گروپ بنا لئے ہیں جو دہشت گردی کرکے صرف اپناخوف اور دہشت پھیلا رہے ہیں اور یہ بات طے شدہ ہے کہ انہیں غیر ملکی امداد اور سرمایہ وافر مقدار میں فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ طاقتیں پاکستان کو ہر طرف سے گھیرکر اسے مجبور اور طفیلی بنانا چاہتی ہیں۔ اور اسکے لئے انکی لمبی منصوبہ بندی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی 9/11 اور کبھی ممبئی حملوں جیسے ڈرامے رچائے جاتے ہیں انہی واقعات کی آڑ لیکر پاکستان میں امن و امان کے بظاہر لایخل مسائل کھڑے کر دئیے گئے ہیں لیکن دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دشمن کو کارندے پاکستان سے میسر آرہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ لارنس آف عریبیا کی پوری فصل بوئی گئی ہے اگرچہ ان میں بے شمار غیر ملکی بھی شامل ہیں اور خدوخال میں بظاہر کوئی فرق نہ ہونے کی بنا پر بڑی کامیابی سے اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ جن میں سے ایک چال یا ایک بہت بڑا منصوبہ سکولوں کو نشانہ بنانا ہے عورتوں کو اس مقام سے محروم کیا جارہا ہے جو اسلام نے اسے عطا کیا ہے دشمن جانتا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم ایک نسل کی تعلیم ہے ۔ آج کا مرد رزق روزی کے دھندوں میں بچوں کی تعلیم کے لئے وقت کتنا نکال پاتا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں اور دشمن اور ان کے کارندے بھی اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بیس لائن پر ہاتھ ڈالاہے۔ اگر یہ نام نہاد طالبان خود کو دین اور مذہب کے ٹھیکیدار اور علمبردار سمجھ رہے ہیں تو ایک مستند کتاب اٹھا کر دکھا دیں جس میں عورت کے علم کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہو۔ تاریخ اسلام بے شمار خواتین سے بھری پڑی ہے جنہوں نے دینی اور دینوی علم پر عبور حاصل کیا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے فی الحال تو فکر اس بات کی ہے کہ آخر سوات کے حالات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے جس کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ہر ذی شعور شہری ذمہ دار ہے۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ سوات کی اکثریت ان ٹی وی ٹاک شوز کو سننے سے محروم ہے جس میں ان کے مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے کیونکہ ٹی وی کے خلاف فتوے جاری ہوچکے ہیں۔ ملا ریڈیو یعنی مولوی فضل اللہ کے ایف ایم کو اگر بلاک نہیں کیا جاسکتا تو کیا یہ بھی ناممکن ہے کہ اسکے مقابلے میں ہی ایک ایف ایم شروع کیا جائے جو اسلام کو اسکی صحیح روح کے ساتھ پیش کرے اس پر پشتو اور اردو میں ٹاک شوز پیش کئے جائیں اور دیگر دلچسپ پروگراموں کے ذریعے ’’ملا ریڈیو‘‘ کا توڑ کیا جائے۔ فوج کو اگر مسئلے کا حل سمجھا جا رہا ہے تو وہ حکومت کے کہنے پر اپنا فرض پوری تندہی سے پورا کر رہی ہے اگرچہ وہ قیمتی جانی اور مالی نقصان اٹھا رہی ہے لیکن مشکل حالات کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے جس کے لئے اسے کچھ لوگوں کی مخالفت کا سامنا بھی ہے لیکن کیا ہمارے سیاستدان حالات کا ادراک اور پھر تدارک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوات اپنے تمام سیاستدانوں سے اس وقت خالی پڑا ہے اور وہاں کے عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں اگرچہ اس وقت انکے حلقوں کو انکی شدید ضرورت ہے ۔ حکومتی سطح سے ہٹ کر ذاتی، خاندانی یا معاشرتی تعلقات کی بنیاد پر ان شدت پسندوں سے رابطوں اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔اگرچہ میرا خیال ہے کہ جن لوگوں کو بیرونی سرمائے اور بیرونی ہاتھ کی مدد حاصل ہے ان سے کسی خیر کی توقع تو مشکل ہے تاہم اگر پتھر پر قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہے تو شائد کوئی راستہ بن ہی جائے۔ ہاں وہ لوگ جو کم علم عقیدت کی بنا پر اس تحریک میں شامل ہوئے ہیں شائد حقائق جاننے کے بعد راہ راست پر آسکیں۔ کیونکہ مجھے سوات کے لوگوں کی حب الوطنی میں کوئی شک نہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کبھی کوئی پاکستان مخالف تحریک نہ تو چلی اور نہ ہی پنپ سکی۔ بلکہ یہاں سے ہمیشہ پرو پاکستان اور حقیقت میں اسلامی نظریات رکھنے والے لوگ منتخب ہو کر یہاں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اب بھی ان لوگوں کو آگے آکر اپنا فرض ادا کرنا چاہیئے چاہے وہ اسکے لئے جو بھی طریقہ استعمال کریں۔
اٹک سے نوشہرہ جائیں تو جگہ جگہ اسلامی اخلاقیات پر مبنی آیات و احادیث کے بورڈ نظر آتے ہیں جو مستند حوالوں پر مبنی ہیں کیا سوات میں ایسا ہے۔ کیا موبائل کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیا جاسکتا ہے کہ فضول قسم کے میسجز اپنے صارفین کو بھجوانے کی بجائے دہشت گردی اور اسلام میں فساد کے خلاف آیات و احادیث بھیجیں تاکہ لوگ ان سے استفادہ کرسکیں معاشروں میں انقلاب لانے کے لئے خون خرابہ ضروری نہیں اسے پر امن طریقے سے لوگوں کی ذہنیت میں تبدیلی لاکر بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسلام کو اسکی پوری روح کے ساتھ اگر لوگوں میں پھیلا دیا جائے تو دہشت گردوں کو تحریک طالبان جیسی تنظیم کی آڑ لیکر اور نام استعمال کرکے نہ تو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل سکے گا اور نہ ہی سوات کی جنت نظیر وادی کے حسنِ معصوم کو داغدار کرنے کا بہانہ میسر آسکے گا۔

1,470
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...